|
|
|
27 May
2008 / 22 Jamadi-ul-Awwal 1429 |
|
|
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
تنگ آمد بجنگ آمد
وہ موسم بہار کی ایک گرم سہ پہر تھی۔ قندھار کے دکاندار اپنی دکانیں بند کررہے تھے،
اگلے روز چھٹی تھی۔ تنو مند اور باریش قبائلی پٹھان، کالی پگڑیاں باندھے ، تنگ اور
گرد آلود گلیوں میں سے ہوتے ہوئے شہر کے فٹ بال اسٹیڈیم کی طر ف جارہے تھے۔ اسٹیڈےم
مین بازار کے عقب میں تھا، بچے اور نو عمر لڑکے شور مچاتے، اچھلتے کودتے، بھاگم
بھاگ گلیوں میں سے گزر رہے تھے۔ لگتا تھا وہ کوئی بہت بڑا تماشا دیکھنے جارہے
ہیں۔یہ 1997ءاور مارچ کا مہینہ تھا۔ گزشتہ ڈھائی برس سے قندھار پر طالبان کا قبضہ
تھا۔ طالبان نے اسلامی شرعی قوانین کی تشریح اور نفاذ کے لئے سخت اقدامات کئے، جس
پر افغانوں سمیت پوری اسلامی دنیا ششدر رہ گئی۔ چند ہفتے پہلے طالبان نے قندھار میں
فٹ بال کھیلنے سے پابندی اٹھالی تھی۔ اقوام متحدہ اور دوسرے اداروں نے موقع غنیمت
جانا اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسٹیڈیم میں بمباری کے سبب سے، ٹوٹ پھوٹ جانے
والی نشستیں اور اسٹینڈ پھر سے تعمیر کردئےے۔ جمعہ کے روز ہونے والی اسٹیڈےم کے
افتتاح کی تیاری، جمعرات کی سہ پہر کو ہونے لگی، لیکن اس دن فٹ بال کا میچ نہیں
ہونا تھا، ایک مجرم کو گول کے پولوں سے باندھ کر سرعام گولیاں مارنی تھیں۔ اسی کا
تماشا دیکھنے لوگ اسٹیڈےم کی طرف جارہے تھے۔
اسٹیڈےم میں اسّی ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، نصف سہ پہر تک تمام نشستیں
پُر ہوچکی تھیں، لوگ فرش پر بھی بیٹھے تھے، بچے کچھ دیر تو بے قابو رہے اور کھیلتے
کھیلتے آگے تک چلے گئے لیکن محافظوں نے انہیں بھی پیچھے ہٹنے کی تاکید کی۔ ایسا
لگتا تھا کہ شہر کے تمام مرد وہاں موجود تھے، اچانک شور شرابہ تھم گیا، دو درجن کے
لگ بھگ طالبان کالی پگڑیاں باندھے، شلوار قمیض پہنے، میدان میں اترے۔ انہوں نے
لوگوں کو خاموش ہونے کی تلقین کی، اب چاروں طرف سناٹا تھا۔ اگر کوئی آواز آتی تھی
تو وہ طالبان کے قدموں کی چاپ تھی۔ اسی اثناءمیں دو دروازوں والی ڈاٹسن پک اپ
گاڑیاں میدان میں آگئیں۔ ایک پک اپ پر لاﺅڈ اسپیکر نصب تھا۔ سفید ریش بزرگ، طالبان
کی سپریم کورٹ کے جج قاضی کلیم اللہ فیروزی نے کھڑے ہوکر تقریر کرنا شروع کی، انہو
ں نے اسلامی سزا کے اثرات و نتائج کی وضاحت کی، جس مقدمے کا فیصلہ ہونے والا تھا اس
کی پوری روداد سنائی۔ ایک شخص عبداللہ افغان نے جس کی عمر 20بر س سے کچھ ہی زیادہ
ہوگی، قندھار کے نواح میں اپنے گاﺅں کے ایک کاشت کار عبدالولی کے گھر سے کوئی چیز
چرانا چاہی، عبدالولی نے مزاحمت کی تو عبداللہ نے اسے گولی مار کر ہلاک کردیا اور
فرار ہوگیا۔ عبدالولی کے رشتہ دار اس کی تلاش میں رہے، آخر ایک روز اسے پکڑ کر
طالبان کے پاس لے آئے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کریں۔
عبداللہ پر پہلے قندھار کی اسلامی ہائی کورٹ میں مقدمہ چلا، اسے موت کی سزا کا حکم
سنایا گیا۔ اس نے سپریم کورٹ کی سزا کے خلاف اپیل کی، لیکن وہ مسترد ہوگئی اور موت
کی سزا بحال رہی۔ طالبان کی عدالتوں میں کوئی وکیل پیش نہیں ہوتا تھا، ملزموں کو
خود اپنا دفاع کرنا اور صفائی پیش کرنا ہوتی تھی۔ طالبان کے مطابق اسلامی شرع میں
مقتول کا خاندان قاتل کو سزائے موت دینے کے لئے کہتا ہے۔ مقتول کا خاندان منصف کے
کہنے پر قاتل کو معاف کردے تو قاتل کو مقتول کے ورثاءکو خون بہا دینا پڑتا ہے۔
عبدالولی کے رشتہ دار بھی اسی سلسلے میں قاضی کے سامنے پیش ہوئے، قاضی صاحب نے اپنے
ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور ان سے کہا کہ وہ مجرم عبداللہ کو معاف کردیں اور بدلے
میں خون بہا لے لیں لیکن مقتول کے رشتہ داروں نے انکار میں سر ہلادئےے۔ قاتل
عبداللہ اس دوران ایک دوسری پک اپ میں بیٹھا رہا، اس کے سر پر زرد رنگ کی ٹوپی تھی،
اس نے زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس کے پاﺅں میں بیڑےاں اور ہاتھوں میں
ہتھکڑیاں تھیں۔ اسے اسٹیڈےم کے دوسرے سرے پر لگے گول پوسٹ تک چلنے کو کہا گیا، ڈر
کے مارے اس کی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں، اس کے لڑ کھڑاتے قدموں سے چلنے کی وجہ سے
بیڑیاں بجنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ جب وہ گول تک پہنچا تو اسے گھٹنوں کے بل بیٹھنے
اور اپنا منہ ہجوم کی طرف سے پھیر لینے کو کہا گیا۔ ایک محافظ نے اس کے کان میں کہا
کہ وہ اپنی آخری دعا کرسکتا ہے۔ ایک دوسرے محافظ نے مقتول کے ایک رشتہ دار کو
کلاشنکوف دی، اس نے بڑی تیزی سے کلاشنکوف بھری اور مجرم کی پشت پر یکے بعد دیگرے
تین فائر کردئےے۔ چند لمحوں بعد مجرم کی نعش ایک گاڑی میں ڈال کر لے جائی گئی، ہجوم
خاموشی کے ساتھ منتشر ہوگیا۔
دس سال پہلے کی یہ عدالتی کارروائی اخبار میں نظر آنے والی ایک بڑی خبر اور اس کے
ساتھ نشر کی گئی چند تصاویرکو دیکھ کر یاد آگئی۔ یہ خبر اور تصاویر تین افراد کو
زندہ جلائے جانے کی تھیں، جن میں دو تو موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ تیسرے نے
اسپتال پہنچ کر جان دے دی۔ یہ جلائے جانے والے تین افراد ڈاکو تھے جو کراچی کے
علاقے رنچھوڑ لائن میں ڈکیتی کے بعد فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے کہ انہیں دھر لیا
گیا اور زدو کوب کرنے کے دوران ہی مشتعل افراد نے انہیں پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔
اگرچہ اس واقعے کے فوراً بعد پولیس ایکشن میں آگئی جو کہ اگر ڈکیتی کامیاب ہوجاتی
تو پولیس کی ایسی پھرتی شاید دیکھنے میں نہ آتی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے
دسیوں افراد کو گرفتار کرلیا جو اس واقعے میں ملوث پائے گئے تھے اور پھر چند ہی روز
بعد انہیں23مئی تک ریمانڈکے لئے بھجوادیا گیا۔ اہل محلہ نے ان گرفتاریوں پر احتجاج
بھی کیا لیکن گرفتاروں کی رہائی عمل میں نہ آسکی۔ اخبارات سے پہلے ہی اس واقعے کی
ایک تصویر جس میں اوپر تلے لدے تین اشخاص آگ کی لپٹوں میں تھے، مجھے کسی نے ای میل
کرکے اس واقعے کو انسانیت سوز قرار دیا تھا۔
ابھی اس واقعے کی بازگشت بھی نہ تھمی تھی کہ کراچی ہی میں ایک دوسری واردات میں
جوکہ بس میں کی جارہی تھی، لوگوں نے دو ڈاکوﺅں کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر انہیں بھی تیل
چھڑک کر آگ لگادی جس سے وہ دونوں بھی موقع پر دم توڑ گئے۔ اس موقع پر ایک پولیس
افسر نے انہیں بچانے کی کوشش کی تو مشتعل ہجوم نے انہیں بھی زدو کوب کرتے ہوئے تیل
میں بھگو دیا جس سے وہ کافی زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کو بھی چند ہی گھنٹے گزرے ہوں گے
کہ کراچی اورنگی میں ایک گھر میں گھسنے والے دو ڈاکوﺅں کو اہل محلہ نے پکڑ کر خوب
مارا اور ان پر تیل چھڑک کر آگ لگانے ہی والے تھے کہ موبائل پر گشت کرنے والے پولیس
اہلکاروں نے انہیں چھڑالیا جبکہ اس سے اگلے روز ہی سبزی منڈی میں پکڑے جانے والے
تین ڈاکوﺅں کو جلانے کے لئے عوام بیتاب رہے ، جس کی وجہ سے انہوں نے پولیس چوکی کا
بھی کافی دیر تک گھیراﺅ کےے رکھا۔
کراچی میں اس طرح کی کارروائیاں ہوتی دیکھ کر لاہور میں بھی ایک واردات کے دوران
اہل محلہ نے ایک ڈاکو کو پکڑ کر اس کی اس حد تک پٹائی کی کہ وہ ادھ موا ہوگیا جبکہ
لاہور اسلام پورہ میں موبائل فون کی دکان میں گھس کر ڈکیتی کرنے والے دو ڈاکوﺅں کو
بھی علاقے کے لوگوں نے پکڑ کر مارا پیٹا اور آگ لگانے ہی والے تھے کہ پولیس پہنچ
گئی اورڈاکوﺅں کو بحفاظت تھانے لے گئی۔
موقع واردات پر موجود لوگوں کے جذبات دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں کہ ہر کوئی ڈاکوﺅں پر
ٹوٹا پڑ رہا ہوتا ہے، اس سے قبل بھی کئی واقعات میں ڈاکو پکڑے جاتے ہیں لیکن عوام
انہیں ”مناسب“ مار پیٹ کے بعد پولیس کے حوالے کرتی رہی ہے لیکن رنچھوڑ لائن میں
ہونے والے واقعے کے بعد سے عوام کو ایک نئی راہ مل گئی ہے۔ چند ہی دنو ں میں یکے
بعد دیگرے ہونے والے واقعات پر جب ہم نے مختلف الخےال لوگوں سے ان کی ڈاکوﺅں کو
جلانے کے بارے میں رائے جانی تو اکثریت نے اس عمل کو درست قرار دیا۔ سٹی گورنمنٹ
میڈیا منیجمنٹ کے طارق عرفان کا کہنا تھا جہاں قانون نہ ہو، جہاں انسان غیر محفوظ
ہو، قانون ہوتے ہوئے بھی قانون نہ ہو تو وہاں اسی طرح کے واقعات ہوجانا کوئی حیرت
کی بات نہیں، اگر کسی جگہ ڈکیتی ہو تو پولیس کافی دیر بعد آتی ہے یا پھر آتی ہی
نہیں جبکہ اگر کوئی ڈاکو پکڑ لیا جائے تو پولیس فوراً پہنچ جاتی ہے، اس کا مطلب ہے
قانون خود ان جرائم پیشہ افراد سے ملا ہواہے۔
ایک طالب علم جاوید علی نے انتہائی درشت لہجے میں کہا کہ انسانی حقوق کی تنظےمیں اس
وقت کہاں ہوتی ہیں جب کراچی میں روزانہ تین چار سو موبائل چھین لئے جاتے ہےں، کئی
فراد کو مزاحمت پر جان سے مار دیا جاتا ہے، میرے خیال میں ایسے اقدامات سے ڈاکوﺅں
کے دل میں خوف ضرور پیدا ہوگا اور وہ ڈکیتیوں سے اجنتاب کرنے لگے لگیںجبکہ انسانی
حقوق کے بین الاقوامی ادارے انصار برنی ٹرسٹ کے وائس چیئرمین سید صارم برنی نے ان
واقعات پر شدید مذمتی انداز میں اظہار خیال کیا کہ انسانوں کو زندہ جلانا قطعی درست
نہیں لیکن یہ واقعہ جس بنا پر رونما ہوا ان حقائق کو پس پشت نہیں رکھا جاسکتا
کیونکہ شہر بھر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی اور مبینہ دہشت گردی کی
وارداتوں اور اس پر پولیس کی ان واقعات سے لاتعلقی سے تنگ آچکے ہیں، اس طرح کے
واقعات سے پولیس کی نااہلی ثابت ہوتی ہے لہٰذا پولیس کو شہریوں کو ہراساں کرنے کی
بجائے انہیں تحفظ فراہم کرنا ہوگا لیکن آئی جی سندھ محمد شعیب سڈل نے امن وامان کی
صورتحال میں خرابی کو کرمنل جسٹس سسٹم کی زبوں حالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سالہا
سال کی خرابیوں پر قابو پانے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی۔
لوگوں کی اکثریت نے ڈاکوﺅں کو زندہ جلانا درست قرار دیا ہے لیکن کئی افراد کا کہنا
ہے کہ ڈاکوﺅں کو مناسب و عبرت ناک تو سزا تو دی جانی چاہئے لیکن انہیں زندہ جلانا
قطعی درست نہیں۔ ایک پرائیویٹ اسکول کی ایڈمنسٹریٹر نائلہ جاوید کے مطابق کسی انسان
کو زندہ جلانا توہینِ انسانیت ہے، یہ حق کسی کو حاصل نہیں کہ کسی انسان کو ایسی
وحشت ناک سزا دے لیکن یہ ردِ عمل ان جرائم کا نتیجہ ہے جس میں اسٹریٹ کرائم کی
بدولت بے شمار لوگ صرف ایک معمولی موبائل کی وجہ سے اپنے پیاروں کے سامنے بے رحم
ڈاکوﺅں کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔ اگر اہل علاقہ کسی ڈاکو کو پکڑ لیتے ہیں تو اسے
عبرت ناک سزا ضرور دیں لیکن ایسی سفاکیت کا مظاہرہ نہ کریں۔
دو طالب علموں بلال پاشا اور شفیق قادری کے خیال میں اتنا ظلم نہیں ہونا چاہئے،
انسانیت کے دائرہ کار میں رہ کر جو سزا ہو وہ ضرور ملنی چاہئے لیکن کسی زندہ انسان
کو نہ جلایا جائے کیونکہ یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، سب
پولیس والے ایک جیسے نہیں ہوتے، ان ڈاکوﺅں کو پکڑ کر قانون کے حوالے کرنا چاہئے تھا
یہ سب تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہورہا ہے ، اگر قانون پر ٹھیک طرح سے عمل کیا جائے تو
بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں لیکن چند کالی بھیڑوں نے ہی اسے پامال کیا ہے۔ اس مسئلے
کا مستقل حل یہ ہے کہ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں میں تعلیمی شعور اجاگر کرنا ہوگا۔
ایک اور صاحب احمد منیب کے مطابق، عوام کا یہ رد عمل ناقابل برداشت مظالم، غنڈہ
گردی اور عدم تحفظ کی بنا پر ہے، بلاشبہ شرعاً کسی انسان کو جلانا جائز نہیں ہے،
ہونا تو یہ چاہئے کہ عدلیہ سزا دے لیکن جہاں خود عدلیہ پابند سلاسل ہو وہاں عوام کا
اس طرح اقدام کرنا ان کی مجبوری ہے۔
ڈاکوﺅں کو زندہ جلانے پر ایک حافظ قرآن استاد صابر راجپوت کی رائے یہ ہے کہ جب
انسان کے اندر دین نہیں ہوگا تو وہ شیطان سے بڑھ کر کام کرے گا کیونکہ دین اسلام
میں زندگی گزارنے کے راستے بہت آسان ہیں لیکن لوگوں نے اسے سمجھا ہی نہیں اگر وہ
سمجھ لیتے تو اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوتے۔ یہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے
کیونکہ ہم اس نبی کی امت ہیں جو رحمت اللعالمین ہے۔ اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد
کو قانون کے مطابق سزا دی جائے جبکہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے ان واقعات پر اپنا رد
عمل ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ ڈاکوﺅں کو زندہ جلانے کی کارروائیاں
کرکے قانون اپنے ہاتھ میںنہ لیں ورنہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
اگرچہ یہ بات درست ہے کہ کسی زندہ انسان کو جلانا انسانیت سے گرا ہوا عمل ہے لیکن
یہ عوام میں دبی ہوئی وہ چنگاریاں ہیں جو کئی سالوں سے انہیں اندر ہی اندر سلگا تی
ر ہی ہیں اور پھر یکدم یہ چنگاریاں ایک خوفناک آگ کی شکل میں بھڑک اٹھیں جس کا
مظاہرہ پچھلے کئی دنوں سے ہورہا ہے جس کی آگ میں ڈاکو جلائے جارہے ہیں اور مزید
جلانے کے لئے لوگ بے تاب ہیں۔ لوگ اس طرح کے واقعات کو انسانیت سے گرا ہوا عمل تو
کہتے ہیں لیکن موقع پر موجود تمام ہی لوگوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر اس
کام میں اپنا ”حصہ“ ملائیں۔ یہ سب کیوں ہوا ؟ یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہےں ....جہاں
قانون بکاﺅ مال کی طرح ہو، جو چاہے چند روپے دے کر قانون خرید لے وہاں اس طرح کے
واقعات جنم لینا واقعی کوئی انوکھی بات نہیں ہوتی۔ سروے کے دوران لوگوں کی بات چیت
میں یہی بات مشتر ک تھی کہ ملک میں انصاف نہ ہونے کی وجہ سے، قانون کے رکھوالوں کی
طرف سے قانون کی دھجیاں اڑانے کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد قانونی اداروں اور قانونی
رکھوالوں سے اٹھ گیا ہے۔ دراصل حکومتی تفتیشی نظام انتہائی سست اور عدالتی نظام بھی
ناکارہ ہے، جس کی وجہ سے معاشرے کو امن و امان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ عوام ایڑیاں
رگڑ رگڑ کر مایوس ہوجاتے ہیں یا اگلے جہاں سدھار جاتے ہیں مگر انصاف پھر بھی نہیں
ملتا جبکہ ایک چور، ڈکیت، قاتل جونہی قانون کی گرفت میں آتا ہے تو مجرم کے پشت پناہ
یا ان کے قریبی عزیز کی جانب سے نوٹوں کی جھلک دیکھ کر قانون نوٹوں کو گرفت میں لے
کر جرائم پیشہ افراد پر گرفت ڈھیلی کردیتا ہے یا پھر اس کیس کو اتنا لٹکایا جاتا ہے
کہ مجرم کچھ سالوں بعد مظلوم بن جاتا ہے۔ اسی قسم کے ایک واقعے کا میں خود چشم دید
گواہ ہوں کہ ایک موبائل چھیننے والے ڈاکو کو پکڑ کر تھانے پہنچایا گیا تو کچھ ہی
دیر بعد وہ ڈاکو تھانے سے ہی ”باعزت“ بری ہوگیا تھا۔ لوگ کئی مرتبہ قانون کو آزما
چکے ہیں لیکن ہر بار انہیں صرف یہی دیکھنے کو ملا کہ ڈاکو اور قاتل کچھ وقت بعد پھر
اسی شان سے دندناتے پھرتے ہیں۔
یہ فطری قانون ہے کہ ہر عمل کے طور پر رد عمل ضرور ہوتا ہے ، جس طرح کی لاقانونیت
کئی سالوں سے کراچی میں دیکھنے میں آتی رہی وہ کوئی نئی بات نہیں۔ گھروں میں
ڈکیتیوں ، کاریں اور موٹر سائیکل چھیننے کے علاوہ روزانہ سینکڑوں موبائل چھیننے کے
دوران کئی افراد کی ہلاکت سے روزانہ کے اخبارات کالے ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال ہی
ڈاکوﺅں نے ناظم آبادپر ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان کو زبردستی روک کر لوٹ مار کے
دوران اس کی اہلیہ کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا، جس کی گود میں چند ماہ
کی معصوم بچی بھی تھی جبکہ لانڈھی کے علاقے میں ایک نوعمر لڑکے کو موبائل چھیننے کے
دوران اس کے گھر کے باہر گولیاں مار کر ڈھیر کردیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ابھی تقریباً
تین ماہ قبل کی بات ہے کہ بنارس عبداللہ کالج کے پاس ہی ایک گھر کے واحد کفیل
نوجوان کو انہی ڈاکوﺅں نے چھریاں مار کر نہ صرف قتل کردیا بلکہ دوسرے دن اس قتل کے
خلاف احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلائیں گئیں بلکہ مسافر کوچ (سفاری) پر بھی
فائرنگ کرکے کئی مزید افراد کو قتل کردیا گیا لیکن قانون اس وقت بھی خاموش رہا۔ اسی
طرح کے کتنے ہی ان گنت واقعات ہیں جن سے روزانہ عوام کا سابقہ رہا ہے، ایک خو ف و
ہراس کی فضا پورے کراچی میں چھائی ہوئی تھی، ہر شخص منی بسوں میں سفر کرتے ہوئے اور
ویران جگہوں سے گزرتے ہوئے گھبرانے لگا تھا کہ کوئی ڈاکو انہیں سرعام لوٹ نہ لے۔
ظاہر جب اس قسم کے واقعات تواتر سے ہونے لگیں اور قانون بھی آنکھیں موندے خوابِ
خرگوش کے مزوں میں گم ہو تو پھر کہیں نہ کہیں تو یہ لاوا پھٹناہی تھا اور آخر کار
اس کا شدید نوعیت کا عملی مظاہرہ رنچھوڑ لائن کے علاقے میں دیکھنے میں آےا اور اس
کے بعد تو عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈاکوﺅں کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ جہاں کچھ
لوگ اس بات کو مانتے ہیں کہ ڈاکوﺅں کو جلانا انسانیت سوز عمل ہے ، وہاں ڈاکوﺅں کے
پکڑے جانے کے موقع پر موجود لوگ یہ بھی کہتے رہے کہ ”یہ انسان نہیں، حیوان ہیں....انہیں
جلا دو۔“
جہاں قانون جنگل کا ہو، جہاں منصف خود طلبِ انصاف ہو، جہاں عوام اور حکمران کی
بجائے آقا اور غلام سے بھی بد تر نظام ہو، جہاں وئی آئی پی شخصیات درجنوں محافظوں
کے باوجود بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال کرنے پر مجبور ہوںوہاں تو نفرتیں جنم لیتی
ہیں اور پھر وقت آتا ہے کہ نفرتیں دشمنی میں بدل جاتی ہے اور اس بات سے قطع نظر
شاید وہ وقت آگیا ہے کہ طریقہ غلط ہے یا درست عوام ”تنگ آمد بجنگ آمد“ خود اپنا حق
لینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں پہلا قدم اٹھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور
جب پہلا قدم اٹھ جائے تو منزل قریب آتے دیر نہیں لگتی۔ جس طرح لوگوں نے ڈاکوﺅں کو
پکڑ کر جلانا شروع کردیا ہے کہیں خدانخواستہ ان کا رخ ذخیرہ اندوزں، اس ملک کو
لوٹنے والوں، قانون کی کالی بھیڑوں کی جانب نہ مڑ جائے کیونکہ طوفان جب آتا ہے تو
وہ سب سمیٹتا ہوا لے جاتا ہے۔ حکمران اب بھی ہوش میں نہ آئے، اب بھی عوام کو جان و
مال کا تحفظ نہ ملا، ان کی عزتیں محفوظ نہ ہوئیں تو آئندہ کے مناظر کا بھیانک تصور
کیا جاسکتا ہے۔ حکمران طالبان جیسا انصاف نہ دیں، مقتول کے رشتہ داروں کے ہاتھوںمیں
کلاشنکوف نہ دیں، ہمارے حکمرانوں کو ٹنڈے عوام کی حکمرانی پسند نہیں تو ہاتھ نہ
کاٹیں لیکن خدارا ایسا نظام اور فوری عملی اقدامات ضرور عمل میں لائیں جائیں جس سے
عوام سکھ کا سانس لے سکیں کہ قانونی تقاضے قانون کے مطابق حل ہوں تو اسی میں ملک و
قوم کی بہتری ہے ویسے بھی ہمارے حکمران دہشت گردی کے خلاف کئی سالوں سے جنگ جاری
رکھے ہوئے ہیں، آخر انہیں یہ دہشت گردی کیوں نظر نہ آئی جس نے حقیقی معنوں میں عوام
کو دہشت زدہ کیے رکھا....؟؟ |
 |
|
|