رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

21 May 2008 / 15 Jamadi-ul-Awwal 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


مینٹل مین

ملک صاحب کل رات آئے تو ان کا منہ سوجا ہوا تھا، ہم سمجھے شاید شہد کی مکھیوں کو چھیڑ بیٹھے ہوں گے اور اس وجہ سے کسی مکھی نے بدلہ موقع پر ہی چکا دیا اور ان کا چہر ہ جو پہلے ہی گول ہے، گول گپا کردیا۔ ہم نے پھر بھی احتیاطاً اس منہ پھلانے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کانوں کو(اپنے) ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ ”آئندہ کسی کو بھی نئی رپورٹ کے بار ے نہیں بتاﺅں گا جب تک کہ خود اس پر پریکٹیکل نہ کرلوں۔“
ان کی یہ بات ہمارے سر سے گزر گئی لہٰذا ہم نے وضاحت طلب لہجے میںکہا”ذرا کھل کر کہو، میرے تو پلے کچھ بھی نہیں پڑا۔“
انہوں نے سوجے ہوئے منہ سے جو کچھ کہا اس کے مطابق”انہوں نے ایک رپورٹ پڑہی تھی کہ میاں بیوی کی لڑائی صحت کے لئے ضروری ہے، بس یہ بات انہوں نے ایک خان صاحب کو بتادی۔ خان صاحب نے صحت مندی کے لئے گھر میں پریکٹیکل کیا ہوگا جس کی وجہ سے انہیں اشیاءو خوردونوش کی فراہمی بند ہوگئی اور گھر کا ماحول اس ملک جیسا ہوگیا جہاں خانہ جنگی کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ خان صاحب نے دوسرے دن ملک صاحب پر نظر پڑتے ہی آﺅ دیکھا نہ تاﺅ دو چار گھونسے ملک صاحب کے چہرے پر جڑ دئےے۔“ اس کے بعد بقول مَلک ان کا تو منہ سوج گیا البتہ خان صاحب کی صحت پر اچھا اثر دکھائی دینے لگا۔ جس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میاں بیوی کے لڑنے جھگڑنے سے صحت بالکل بھی اچھی نہیں ہوتی، تحقیقی رپورٹ سراسر غلط ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑا نکال کر ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے ہوا میں اچھال دیا۔ جسے ہم نے جوڑ کر پڑھا تو اس سے معلوم ہوا کہ ”جدید تحقیق کے مطابق میاں بیوی کے درمیان لڑائی کو ایک صحت مندانہ سرگرمی قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین نے 192شادی شدہ جوڑوں پر 17سال تک کی جانے والی تحقیق کے بعد کہا ہے کہ ایسے جوڑے جنہوں نے کبھی ایک دوسرے پر آنے والے غصے اور ناراضگی کا کھل کر اظہار نہ کیا ہو ان میں شرح اموات دوسروں کی نسبت دوگنا ہوتی ہے۔ یہ تحقیق امریکیوں نے مشی گن یونیورسٹی میں کی ہے۔ “

اس رپورٹ سے ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ملک صاحب سے رپورٹ پڑھنے میں غلطی ہوگئی اور انہوں نے یہ رپورٹ بمعہ مشورہ آگے بڑھا دی، جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا، اگر ذرا بھی اس بات پر غور کرلیتے کہ یہ تحقیق امریکیوں نے کی ہے تو پھر جو نتیجہ انہوں نے مار کھانے کے بعد نکالا ہے وہ پہلے ہی ان کی کھوپڑی میں آجاتا۔ کیونکہ امریکیوں کا تو کام ہی لڑانا ہے۔کسی سیانے نے خوب کہا تھا کہ اگر سمندر کی تہہ میں دو مچھلیاں بھی آپس میں لڑ رہی ہوں تو یقینا یہاں بھی امریکیوں کا ہاتھ ہوگا۔ جبکہ ایک صاحب کو ہم نے دیکھا کہ وہ کسی اپنے سے کمزور شخص کو پیٹ رہے تھے، لوگوں نے بچ بچاﺅ کرایا اور ان سے وجہ پوچھی تو وہ اوسان بحال کرتے ہوئے کہنے لگے”وجہ تو کوئی خاص نہیں، شاید مجھے امریکا نے اکسایا تھا۔“ وہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہاں امریکا سے ان کی کیا مراد تھی۔ ویسے بھی دو بندے آپس میں لڑ رہے ہو ں تو فائدہ ڈاکٹر کو ہوتا ہے، دو گروپ لڑ رہے ہوں تو فائدہ گروپ لیڈر کو ہوتا ہے، دو ملک لڑ رہے ہوں تو آنکھ بند کرکے کہاجاسکتا ہے کہ فائدہ امریکا کو ہوگا۔

دیکھا جائے تو امریکی پروفیسر ارنسٹ ہربرگ نے یہ تحقیق17سال تک امریکی جوڑوں پر کی ہے جو پتہ نہیں جوڑے تھے بھی یا نہیں کیونکہ وہاں شادی کی اتنی ویلیو نہیں ہوتی جتنی کہ طلاق کی کیونکہ اس کے بعد بقول امریکی عورت کے دوسری شادی کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ امریکا میں تو جو لڑکی ایک ہی شوہر کے ساتھ دو سال سے زیادہ عرصہ گزار لے ، اس کی ذہنی حالت مشکوک سمجھی جاتی ہے اور جو بوائے فرینڈ کے ساتھ دو سال سے زائد گزار لے اسے مظلوم سمجھا جاتا ہے کہ بے چاری کو کوئی اور لفٹ نہیں کرارہا۔ امریکی مرد تو شادی سے اتنا گھبراتے ہیں کہ وہ ایک سال میں گرل فرینڈ نامی کتاب کے چھ سے زائد ایڈےشن بدل لیتے ہیں لیکن بیوی نامی کتاب انہیں فلسفے کی وہ کتاب لگتی ہے جو اول تو سمجھ ہی نہیں آتی اور جب سمجھ آتی ہے تو طلاق کا وقت آگیا ہوتا ہے۔ امریکی مرد صرف دو چیزوں سے ڈرتے ہیں اول مسلمان....دوم اسامہ بن لادن !امریکا میں اتنی جلدی جلدی شادیاں ہوتی ہیں کہ بچے اپنی والدہ کی پانچویں شادی پر خود بیکری سے کیک لینے جاتے ہےں ۔ لہٰذا یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے پروفیسر ارنسٹ ہربرگ نے اگرچہ کافی محنت طلب کام کیا ہے لیکن یہ رپورٹ کہ میاں بیوی کے لڑنے سے دونوں کی صحت اچھی رہتی ہے، پاکستانیوں کے لئے ہرگز کارگر نہیں کیونکہ مشاہدہ ہے کہ 40فیصد سے زائد جوڑے ایسے ہیں( عمر کی قید نہیں) جو ہفتے میں دو سے تین بار زبانی تلخ کلامی سے کام لیتے ہیں جبکہ 20فیصد تو باقاعدہ ہاتھوں اور لاتوں سے جبکہ فریق ثانی(زنانی)کے ہاتھ موقع پر جو ہتھیار از قسم بیلن، چمچ، جھاڑو وغیرہ آجائے اسی سے کام چلا لیا جاتا ہے جبکہ چالیس فیصد وہ ہیں جن کی یا تو ابھی شادی نہیں ہوئی یا پھر دونوں میں سے ایک فریق اپنے ساتھی کو مستقل رخصت کرکے زندگی کے دن گزار رہا ہے۔ اگر اس قسم کا تحقیقی کام پاکستان میں کیا جائے تو یقینا یہ بات سامنے آئے گی کہ میاں بیوی لڑنے سے نہیں بلکہ نہ لڑنے سے صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے کیونکہ شادی سے پہلے ایک مرد اسپائیڈر مین ہوتا ہے۔ شادی کے دن سُپر مین بن جاتا ہے۔شادی کے بعد جینٹل مین اور بیوی خوبصورت ہو تو ساری عمر واچ مین اور جھگڑالو ہو تو مینٹل مین بنتے دیر نہیں لگتی ....اور عورتیں ، رہنے دیں مجھے بھی گھر پر رہنا ہے!!

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035