رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

10 May 2008 / 4 Jamadi-ul-Awwal 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


”زنانہ تقریب“

یہ پہلا موقع ہوگا ، میں کسی تقریب میں عین وقت پر پہنچا یعنی تقریب اختتا می مراحل میں تھی اور نظامت کے فرائض انجام دینے والے علی حسن ساجد کتاب ”بات سے بات“ کی مصنفہ کا نام پکار رہے تھے۔ محترمہ حمیرا اطہر صاحبہ اپنی نشست سے اٹھ رہی تھیں اور میں بیٹھ رہا تھا۔

اس” زنانہ تقریب“ میں مجھے دعوت بھی زنانہ ذرائع سے ہی موصول ہوئی تھی۔ دن اور وقت کے مطابق فرصت ہونے کے باعث نیت کرلی کہ تقریب میں جانا ہے۔میری عادت ہے کہ تقریبات میں وقت پر پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن یہ پہلا موقع ہوگا کہ مجھے بہت دیر ہوگئی تھی اور اس طرح میں ”عین وقت“ پر تقریب میں پہنچ پایا اور یہ میرا کمال نہیں بلکہ میرے ساتھی صابر صاحب کی برکات کی وجہ سے ایسا ہوا کیونکہ وہ ”جاﺅں....یا نہ جاﺅں“ کی کشمکش میں پڑ گئے اور یوں بہت سا وقت ضائع ہوگیا لیکن میں انہیں کسی طرح گھسیٹ ہی لاےا۔ ابھی سانسیں بحال بھی نہ ہوئیں تھیں کہ حمیرا اطہر صاحبہ کی آوازسماعت سے ٹکرائی وہ تمام آنے والوں کا شکریہ ادا کررہی تھیں،چونکہ ہم ہی آخر میں آئے تھے اس لئے ہم نے اس شکریہ کو خالصتاً اپنے لئے سمجھا۔

حمیرا اطہر نے لکھنے کا آغاز اس وقت کیا جب وہ ساتویں جماعت میں تھیں۔ یہ اپنے خاندان کی اول خاتون ہوں گی جنہیں پڑھائی کا موقع ملا، گویا یہ اپنے خاندان میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئیں ۔ اس بات کا ”ذمہ دار“ وہ اپنے والد کو سمجھتی ہیں جنہوں نے خاندان سے مخالفت مول لے کر انہیں علم و ادب کے حصول کے لئے مواقع فراہم کئے۔ اگرچہ ابتدا میں حمیرا اطہر نے کہانیاں لکھیں لیکن انہوں نے مستقبل میں ٹیچر یا ڈاکٹر بننے کا سوچا، بقول ان کے انہیں میڈیکل میں داخلہ نہ مل سکا اور پھر ان کے اساتذہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ وہ نشتر کی بجائے قلم تھام لیں، کیونکہ ان میں ادب کے کافی جراثیم موجود ہیں۔
حمیرااطہر صاحبہ کے بقول ان کی کتاب میں جو منتخب فکاہیہ کالم شامل اشاعت ہیں، وہ سولہ سترہ سال سے بھی زائد عرصہ پرانے ہیں لیکن وہ چونکہ کراچی کے حالات کے مطابق لکھے گئے اور جنہیں پڑھتے ہوئے کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ پرانے کالم ہیں بلکہ یہ بھاپ اڑاتے تازہ بہ تازہ محسوس ہوتے ہیں، اس میں ان کا کمال نہیں بلکہ حالات ہی جوں کے توں ہیں یعنی ”حالات حاضرہ کو کئی سال ہوگئے۔“

حمیرا صاحبہ کے بعد بھارت سے آئے ہوئے شاعر وسیم بریلوی جو کہ اس محفل کے مہمانِ اعزازی بھی تھے، کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی ۔ وسیم بریلوی ہمیں کسی شاعر سے زیادہ فلمی ہیرو دکھائی دئےے کیونکہ کلین شیو ، اونچا قد، صاف رنگ ایک ہیرو کی نشانیاں تو ہوسکتی ہیں لیکن کسی شاعر کی نہیں، کیونکہ ہم نے شاعروں کو ہمیشہ روتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ ویسے بھی شاعروں کا جو حلیہ سینہ بہ سینہ علم کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے کہ شیو بڑھی ہوئی، کپڑے میلے کچیلے وغیرہ وغیرہ قسم کے افراد شاعر ہوا کرتے ہیں، لیکن ہمارے دوست ملک صاحب نے فرمایا کہ ”یہ حلیہ عشاق شعراءکا ہوا کرتا ہے....عام شعراءکا نہیں۔“ ہمیں ملک صاحب کی بات سے اتفاق نہیں کیونکہ جو بندہ عاشق نہ ہو و ہ شاعری نہیں کرسکتا اورجو صرف شاعری کررہا ہو سمجھ لینا چاہئے وہ شاعری نہیں کررہا بلکہ شاعری ”پڑھ“ رہا ہے۔ بہر حال وسیم بریلوی نے ہماری غلط فہمی دور کردی، وہ پہلے عاشق پھر شاعر ہیں (یہ راز ہے)۔

وسیم بریلوی فرما رہے تھے کہ بھارت میںکسی کتاب کی تقریب میں دس پندرہ افراد جمع ہوجاتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں تقریب ختم ہوجاتی ہے لیکن یہ تقریب بڑی جاندار ہے، کیونکہ کئی نامور حضرات کے علاوہ دیگر افراد کی تعداد بھی کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کتاب کے بارے میں کہا کہ فکاہیہ کوئی معمول صنف نہیں ہے، بظاہر ہلکی پھلکی باتیں بڑی معنی خیز ہوتی ہیں۔ فکاہیہ لکھنے کے لئے لکھاری کا مخلص ہونا ضروری ہے کیونکہ جو کچھ لکھا جاتا ہے، اس کا درد لکھاری اپنے آپ میں محسوس کرکے دوسروں کو شگفتہ انداز سے وہ بات منتقل کرتا ہے۔ وسیم بریلوی نے گفتگو کے اختتا م میں اپنا کچھ کلام بھی سنایا لیکن انہوں نے بیوی سے متعلق ایک طنزیہ شعر بھی کہا جو کچھ یوں ہے کہ
یہ کیا شخص ہے کتنی ہی اچھی بات کہو
کوئی برائی کا پہلو نکال لیتا ہے

ہم کافی دیر اس سوچ میں گم رہے کہ حمیرا صاحبہ نے اپنی کتاب کا نام ”بات سے بات“ کیوں رکھا ہے لیکن معاملہ جلد ہی حل ہوگیا کہ خواتین باتیں کرتی نہیں بلکہ بناتی ہیں، اس لئے انہوں نے اپنی کتاب کا نام بھی بات سے بات رکھ دیا۔ سنا ہے کہ اس کتاب پر مشتاق احمد یوسفی صاحب سے بھی رائے لکھوانے کی کوشش کی گئی تھی جو بیکار گئی۔ یہ تو حقیقت ہے کہ کتاب لکھنا مشکل ہے تو کتاب چھپوانا اس سے بھی زیادہ مشکل اور پھر کتاب پر کسی کی رائے لکھوانا تو مشکل ترین مرحلہ ہے کیونکہ اگر فرض کرلیا جائے کہ ایک کتاب سال میں تیار ہورہی ہے تو اس پر کسی سے مقدمہ و ابتدائیہ وغیرہ لکھوانے کے لئے دوسال چاہئیں ہوں گے ۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے، ہم نے بھی یہ غلطی کی تھی اورجتنے فون ہم نے صاحب الرائے صاحب کو اس سلسلے میں کیے تھے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہمیں خود ہی شرمندگی محسوس ہونے لگی اور ہم ہر مرتبہ فون کرکے کہتے ”جناب! یقین کیجئے صرف آپ کی خیریت کے لئے فون کیا ہے، کتاب پر اپنی رائے پھر کسی وقت لکھ دیجئے گا۔“اس کے بعد ہم نے توبہ کرلی بلکہ آپس کی بات ہے، ہماری وہ کتاب اب تک ناشر کے پاس محفوظ ہے، شائع نہ ہوئی جبکہ اس کے بعد دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہم نے اس پر کسی سے رائے لکھوانے پر وقت ضائع نہ کیا۔ ویسے حمیرا اطہر اور دیگر حضرات کو ہمارا مشورہ ہے کہ ہم ایک ایسے صاحب کو بھی جانتے ہیں جو اس معاملے میں کافی وسیع دل کے مالک ہےں اور وہ صاحب آرٹس کونسل میںحمیرا اطہر کی کتاب کی تقریب کے صدارت کے فرائض انجام دینے والے”پروفیسر سحر انصاری“ ہیں کیونکہ تازہ شائع ہونے والی کوئی بھی شاعری کی نئی کتاب ہمارے ہاتھ آئی تو اس میں پروفیسر صاحب کی رائے ضرور شامل تھی۔ کاش پروفیسر صاحب کبھی کبھی مزاح بھی لکھ لیا کریں تو پھر دیگر مزاح نگاروں کو بھی آسانی ہوجائے گی۔ بہر حال انہوںنے حمیرا صاحبہ کی کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات میں فرمایا کہ حمیرا اطہر ایک متنوع کالم نگار اور فعال صحافی کی حیثیت سے جداگانہ شناخت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اہم موضوعات پر سیاسی،سماجی اور فکاہی انداز میں لکھا ہے جس میںحسِ مزاح ہو، وہی اچھا لکھتا ہے۔

حمیرا اطہر صاحبہ کو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے کہ مشتاق احمد یوسفی نے مصروفیات و آنکھوں کی بیماری کی وجہ سے ان کی کتاب پر کوئی رائے نہ دی بلکہ حمیرا صاحبہ کو اپنا قلم تیز کرلینا چاہئے کہ جہاں ان کے پاس اور بہت سے ایوارڈ و اعزازات ہیں وہاں یہ اعزاز بھی ہے کہ وہ واحد فکاہیہ خاتون کالم نگار ہیں جس طرح عارفہ صبح خان نے مزاح نگاری میں مردوں کی اجارہ داری کو ختم کیا ہے تو انہوں نے بھی فکاہیہ کالم نگاری میں اپنا جھنڈا گاڑ دیا ہے، اس لئے اب انہیں تیار رہنا چاہئے کہ کب، کس وقت نئی آنے والی طنزو مزاح کی کتاب پر کوئی ان سے رائے لکھوانے پہنچ جائے
....!!

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035