رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

10 May 2008 / 4 Jamadi-ul-Awwal 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


”ملک صاحب“

کہتے ہیں” نام میں  کیا رکھا ہے۔“ ہم نے ہر بار نام لکھ کر دیکھا مگر کہیں بھی ”کیا“ نظر نہ آیا، حسبِ معمول ہم نے اس پریشانی کا ذکر اپنے دیرینہ دوست شیدے سے کیا، انہوں نے فرمایا ”نام میں بہت کچھ رکھا ہے۔“ ہم نے اپنے دوست کے منہ سے یہ نیا انکشاف سن کر اسی وقت اپنا نام لکھا اور اس میں رکھے ہوئے ”بہت کچھ “ کو تلاش کرنے لگے، ہماری اس حرکت پر شیدے نے ہمیں ”بونگا“ کا خطاب دیتے ہوئے کہا”بہت کچھ، ہونے سے مطلب یہ ہے کہ انسان کی ساری شخصیت کا عکس ا س کے نام سے ظاہر ہونا ہے۔“

”اگر یہ بات ہے تو نیک پروین، نیک کیوں نہیں ہوتی اور عاقل خان بے وقوف کیوں ہوتا ہے....؟“

” کچھ بھی ہو....چند ایک مستثنیات سے فرق نہیں پڑتا، انسان کی شخصیت کا سارا دارومدار اس کے نام پر ہوتا ہے۔“ شیدا اپنی بات پر جما رہا، ہم نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا”اگر تمہاری بات درست مان لی جائے تو اس کا یہ مطلب صحیح ہوگا کہ کسی شخص کی عقل کا دارو مدار بھی اس کے نام پر ہوگا، اس صورت میں تو یہ قاعدہ تم پر بالکل فٹ آتا ہے۔“

شیدے نے ہمیں غصے سے گھورا” اس لئے تو میں آج تم سے یہ کہنے آیا ہوں کہ آئندہ مجھے ”شیدے“ کے نام سے مت پکارنا۔“

”تو کس نام سے پکاروں؟“

”ملک عبدالرشید “اس نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا تو ہم نے اعتراض کیا” اتنا طویل نام پڑھتے ہوئے سنجیدگی طاری ہونے لگتی ہے۔“
”تو پھر ملک صاحب کہہ لیا کرو“اس نے مشورہ دیا۔
”مگر شیدے کے نام سے جو تمہاری اتنی شہرت ہوگئی ہے اس کا کیا جائے؟“ ہم نے تشویش ظاہر کی۔

”کیا خاک شہرت ہوئی ہے، لوگ کہیں تار کُول سا شیدی بھی دیکھ لیں تو یہی سمجھتے ہیں کہ.... یہ بھی شیدے کا شیدائی ہے۔“

”تو کیا اتنی شہر ت کم ہے؟“
فرمانے لگے”ملک صاحب کہنے سے زیادہ شہرت حاصل ہوگی۔“
”وہ کیسے....؟“ ہم نے پوچھا۔
”شیدا نام پڑھ یا سن کر بندہ سمجھنے لگتا ہے ، کوئی پینڈو اور بے وقوف شخص ہے، جبکہ ملک صاحب سنتے ہی سننے اور پڑھنے والے پر ایک رعب سا پڑتا ہے اور ....“ انہوں نے ہماری آنکھوں میں جھانکا جہاں حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے جنہیں وہ شاید رعب کا اثر سمجھ کر کہنے لگے”ملک صاحب کی شہرت پہلے سے زیادہ ہے، یعنی ہر شہر اور گاﺅں ودیہات میں ”ملک شاپ“ ہوتی ہیں، لوگ سمجھیں گے کہ میری ملکیت ہےں۔“

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تم ان ڈائریکٹ یہ دعویٰ کرنا چاہ رہے ہو کہ ”ملک پیک دودھ“ بھی تمہاری کمپنی کا ہے اور جو تمہارا شناسا ہے وہ ”ملکی“ اور جو تمہیں نہیں جانتا اسے ”غیر ملکی“ سمجھا جائے گا۔

”جو بھی سمجھا جائے ، میں نے ملک شاپ کی صرف مثال دی تھی، باقی کھوج تم نے خود ہی لگائی ہے۔ بہر حال آئندہ مجھے اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے۔“

اول وجہ یہی ہے کہ ہم نے شیدے کی اس تنبیہہ کے بعد جتنی بھی تحریر ات کو قلمبند کیا ہے اس میں ان کا حوالہ مَلک صاحب کے نام سے ہی دیا ہے۔ ان کے بارے میں ہم اتنا کچھ لکھ چکے ہیں کہ اگر بھول کر کبھی ہم کسی مجرم کی بات بھی تحریر کریں تو لوگ خود ہی سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ بیان بھی شیدے کا ہی ہوگا۔ حد تو یہ ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے حوالے کے طورپر اس طرح جملہ لکھا”بقول شخصے دنیا گول ہے ۔“ تو لوگ ہم سے کمپوزر کی شکایت کرتے رہے کہ اس نے بقول” شیدے“ کی بجائے ”شخصے“ لکھ دیا ہے اور شیدے کو مَلک صاحب کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے تھے ، ہم شیخ رشید کو شیدا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں شیخ رشید کی باتیں تحریر کرتے تو ہماری تحریریں مزاحیہ نہ ہوتیں، بلکہ اشاعت کے قابل ہی نہ ہوتیں ۔ سوم وجہ یہ ہے ہمارے دیگر احباب میں دو عدد رشید صاحب اور بھی ہیں جوہمارے کالمز پڑھ کر شروع میں یہی سمجھتے رہے کہ ہم ان کا حوالہ دیتے ہیں لیکن جلد ہی وہ یہ سوچ کر مطمئن ہوگئے کہ وہ اتنی حماقتیں نہیں کرسکتے، اس لئے اب وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے۔

مَلک صاحب بالوں سے بلوچ، آنکھوں سے چینی، ناک سے پنجابی، مونچھوں سے ادیب، ٹھوڑی سے شیخ،گردن سے امریکی، قدسے بنگالی، جب تک خاموش ہوں شریف اور بولنا شروع کرےں تو شیدا لگنے لگتے ہےں۔ کہتے ہیں پٹھان کا منہ غصے اور نسوار کے بغیر پٹھان کا معلوم ہی نہیں ہوتا لیکن مَلک صاحب کا منہ بھی خاموشی میں ان کا معلوم نہیں ہوتا۔ غصے کے اس قدر تیز ہےں ایک مرتبہ ایک دوست سے ان کی نوک جھونک ہوگئی، خوب منہ ماری ہوئی۔

غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد کہنے لگے”اگر اس وقت میرے پاس پسٹل ہوتا تو میں اسی وقت گولی مار دیتا۔“
ہم نے حیرت سے پوچھا ”کس کو ؟“
”اپنے آپ کو ....“ انہوں نے نہایت تحمل سے جواب دیا۔

کنجوسی میں کراچی کی میمن برادری اور لاہور کے شیخوں کا ریکارڈ توڑچکے ہیں۔ ایک روپیہ بچانے کے لئے اتنا سوچیں گے کہ دو روپے والی سردرد کی گولی کھانا پڑ جاتی ہے۔خود کو پڑھا لکھا بتاتے ہیں اور ظاہراً ایسا نظر آنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ایک دن تیزی سے گھر سے نکلے اور گلی میں سے گزرنے والے صاحب سے پوچھا ”جناب ! آپ کے پاس قلم ہوگا؟“ ان صاحب نے فوراً ہی جیب سے قلم نکال کر ان کی جانب بڑھایا۔ مَلک صاحب نے قلم پکڑا اورگھر میں گھس گئے۔ کچھ دیربعد آئے ، باہر کھڑے صاحب کو شکریہ کے ساتھ قلم پیش کیاتو انہوں نے پوچھا”لگتا ہے کوئی بہت ہی ضروری بات نوٹ کرنا ہوگی۔“
”نہیں ....ایسی تو کوئی بات نہیں۔“ مَلک صاحب نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا”دراصل شلوار میں ازار بندڈالنے کے لئے کوئی چیز نہیں مل رہی تھی، اس لئے آپ سے قلم مانگنے کی ضرورت پیش آئی۔“

ہر سوال کا جواب خندہ پیشانی سے دیتے ہیں لیکن ان کے جوابات ان کی عقل کی کھلی نشاندہی کرتے ہیں ۔ایک دن نہ جانے ہمارے دل میں یہ کیسا سوا ل آیا کہ پوچھ بےٹھے ”ایک مرکز سے چار راستے نکل رہے ہوں تو اس کو چوراہا کہا جاتا ہے ، مگر جس مرکز سے چھ راستے نکل رہے ہوں اس کو کیا کہا جاتا ہوگا؟“
انہوں نے ہمارا سوال سن کر جواب دیا”اس کو آپ ”چھوہارا“ کا نام دے سکتے ہیں۔“
ایک اور صاحب نے ان کے جواب سے محظوظ ہوتے ہوئے نہایت ہی بچکانہ سوال کیا ”مَلک صاحب! سنا ہے دنیا گول ہے، اس کے بارے میں کوئی مثال دے سکتے ہیں آپ؟“
”یہ تو نہایت ہی آسان بات ہے “مَلک صاحب نے کہا”شلوار میں ازار بند ڈالےں تو گھومتا ہوا وہیں آجا تا ہے جہاں سے چلا تھا، اس سے ثابت ہوا کہ دنیا گول ہے۔“

مَلک صاحب کوشش کرتے ہیںکہ جو کام ان کے سپرد جس طرح کیا جائے یا جس طرح کے فرمان جاری کئے جائیں اسی طرح پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بالکل بھی اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ یہ بھی اچھا ہی کرتے ہیں ورنہ کام مزید خراب ہونے کے امکانات ہوتے ہیں، لیکن کام جوں کا توں کرنے کی کوشش کرنے میں بھی ا کثر شگوفے پھوٹ پڑتے ہیں ایک دوست کے بقول، مَلک صاحب کے جاننے والے ایک سیاست دان نے الیکشن کے زمانے میں اس وقت جب کہ یہ ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے جارہے تھے،کہا” ہمارا انتخابی نشان دیوار ہے اس لئے دیوار پر ٹھپہ لگانا ہے۔“ مَلک صاحب نے گردن اثبات میں ہلائی،اندر گئے دیوار پر ٹھپہ لگایا اور بیلٹ پیپر خالی ڈبے میں ڈال کر آگئے۔

اسی ذیل میں ایک اور بھی دلچسپ واقعہ پیش آیا موصوف بی اے کے امتحانات کی تیاری کررہے تھے ، امتحانات کے فارم آئے تو اس کو جمع کرانے کی ہدایات پر درج تھا، چار عدد تصویریں تصدیق شدہ ، دو تصاویر پشت سے تصدیق کروائیں۔مَلک صاحب نے ہدایات کے مطابق عمل کرنے کے لئے فوٹو گرافر سے تصویریں بنائیں اور تصدیق کروانے کی ذمہ داری ہمارے سر ڈال دی۔ ہم نے بھی بغیر دیکھے کاغذات کا لفافہ ان سے لے لیا، لیکن ہمیں اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب تصدیق کرنے والے افسر نے اچانک ہی قہقہے لگانا شروع کردئےے، ہم نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کاغذات کے لفافے میں سے برآمد ہ ہونے والی تصویریں ہمارے سامنے کردیں۔ محترم دوست نے واقعی دو تصویریں پشت کی کھنچوا کر چسپاں کردی تھیں۔

یوں تو مَلک صاحب اپنے پورے وجود کا ہی بہت خیال رکھتے ہیں لیکن پاﺅں کو خصوصی توجہ دیتے ہیں۔اس لئے نئے سے نئے ماڈل کی پاپوش زیب پاﺅں ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ جب ہمارے ایک دوست جاوید اقبال نے اس پر اعتراض کیا تھا ”مَلک صاحب! پاﺅں کا خیال تو لڑکیاں زیادہ رکھتی ہیں اور آپ کو دیکھ کر ہمیں کبھی کبھی شک ہونے لگتا ہے۔“
”بے وقوف! کہیں کا“ مَلک صاحب نے کہا ”لڑکیاں پاﺅں کا نہیں ایڑیوں کا خصوصی خیال کرتی ہیں اور میں اپنے پنجوں کا ، کیونکہ اکثر مرد خواتین کی ایڑیاں دیکھ کر اس کی شخصیت کا اندازہ لگا لیتے ہیں اور اکثر خواتین مردوں کے پنجوں کو دیکھ کر حیثیت کا اندازہ کرتی ہیں کہ لگنے والی ٹھوکر کتنی قیمتی ہے، اس لئے عموما ً عقلمند لوگ منہ صاف رکھیں یا نہ رکھیں مگر جوتا قیمتی اور چمکتا ہوا ضر ورپہنتے ہیں۔“ اور ہمیں یاد پڑتا ہے کہ اکثر مَلک صاحب کی شیو تو بڑھی ہوئی دیکھی ہے مگر کبھی جوتا گرد آلود نہیں دیکھ پائے۔

مَلک صاحب میں اور بھی کئی خوبیاں ہےں جنہیں اس مختصر تحریر میں قلمبند کرنا ان کی شخصیت کے ساتھ نا انصافی معلوم ہوتا ہے اس لئے کئی مواقع پر ہمارے اس دوست کی حماقتیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہیں گی، لہٰذا اس تحریر کے لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے دوست شیدے کو آیندہ مَلک صاحب کے نام سے پکارا جائے ورنہ....ورنہ شیدا رودے گا....!!

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035