رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

10 May 2008 / 4 Jamadi-ul-Awwal 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


عزت وبے عزتی کا مسئلہ

کچھ لوگ انسانیت کی قدرکریں یا نہ کریں لیکن جانوروں کی قدر ضرور کرتے ہیں،جیسے یورپی ممالک میں کتوں کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ وہاں کے لوگوں کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ کاش وہ کتے ہوتے، مگرمَلک کہتاہے ان کی خواہش اس طرح ہونی چاہئے ”کاش! وہ بظاہر بھی کتے ہوتے۔“ جانوروں سے محبت کے مارے اسی معاشرے میں ایک خاتون نے اپنی قریبی سہیلی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ”میرے شوہر تو بہت ظالم ہےں، ذرا ذرا سی بات پر بگڑ جاتے ہیں۔کل پہلی دفعہ میں نے ان کے لئے کھانا پکایا، شاید اس میںنمک زیادہ تھا،انہوں نے اٹھا کر کتے کو ڈال دیا۔“
”واقعی یہ ظلم ہے“ان کی سہیلی نے تشویش زدہ لہجے میں جواب دیا” بے زبانوں پر ایسا ظلم نہےں کرنا چاہئے۔“

جانوروں سے محبت یورپی ممالک میں ہی مخصوص نہیں بلکہ ہمارے پاکستان میں بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو جانوروں سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ زیادہ مثالیں توہم نہیں دے سکتے لیکن ایک مشہور شخصیت مستنصر حسین تارڑ کا حوالہ دےنے میں کوئی مضائقہ نہیں جنہیں جانوروں سے اتنی محبت ہے کہ بقول مَلک ”ان کا دل تو ہر وقت یہ چاہتا ہے کہ چڑیا گھر میں بھی جانوروں کی بجائے انسانوں پر ٹکٹ لگا کر جانوروں کا دل بہلایا جائے۔“تارڑ صاحب کی جانورانہ محبت کا اندازہ ہمیں اس بات سے ہوا کہ انہوں نے اپنی ایک کتاب کا نام بھی جانور کے حوالے سے رکھا ہے، جس نے تارڑ صاحب کو تو دلی خوشی فراہم کی ہوگی مگر ہمیں شرمندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کل ہی کی بات ہے ہم ایک نجی لیکن وسیع لائبریری میں تارڑ صاحب کی اسی کتاب کے مطالعے میں غرق تھے کہ لائبریرین نے رجسٹر ہمارے سامنے رکھتے ہوئے کہا ”سر! جو کتاب آپ پڑھ رہے ہیں، اس کا نام لکھ کر آگے اپنا نام لکھ دیجئے۔“ ہم دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئے اور قدرے ناراضگی بھرے لہجے میں جواب دیا ”میں کتاب کا نام لکھوں گا تو پھر اپنا نام لکھنے کی ہمت نہیں ہوگی اور اگر اپنا نام لکھوں گا تو پھر کتاب کا نام ہرگز نہیں لکھوں گا۔“

”وجہ....“ لائبریرین نے کہا تو ہم نے بجائے کچھ زبانی کہنے کے کتاب کا سرورق آگے کردیا جس پر لکھا تھا ”گدھے ہمارے بھائی ہیں۔“
مذکورہ کتاب سے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ تارڑ صاحب جانوروں سے کتنی محبت کرتے ہیں اور انہوں نے چند انکشافات بھی کئے ہیں۔ کہتے ہیں ”انکشاف یہ ہے کہ ہم گدھوں سے محبت کرتے ہیں، ہم ان سے اتنا لاڈ وپیار کرتے ہیں کہ ان کی عادتیں بگڑ گئی ہیں اور وہ پہلے سے بھی زیادہ گدھے ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے گدھوں کو کچھ نہیں کہتے، چاہے وہ نادہندہ ہی کیوں نہ ہوں۔ انہیں گدھے کا بچہ بھی نہیں کہتے کہ کہیں وہ مائنڈ نہ کرجائیں اور کہیں ان کا استحقاق مجروح نہ ہوجائے۔ گدھوں سے محبت کی اس پالیسی کی وجہ سے مُلک نے بے شمار مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ گدھوں کی مرضی میںجو آتا ہے وہ کرتے ہیں یعنی ”خرمستیاں“ کرتے ہیں لیکن ہم اتنا بھی نہیں کرتے کہ ان کے رخساروں پر ایک چپت لگا کر کہیں ”تم تو بڑے گدھے ہو۔“بہر حال افسوس کی بات ہے کہ ہم پھر بھی گدھوں کی قدر نہیں کرتے۔ زیادہ سے زیادہ اپنے بچوں کو پیار سے گدھے کے بچے کہہ لیتے ہیں حالانکہ گدھے کے بچے ان سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں ، یقین نہ آئے تو بے شک موازنہ کرلیں۔“

جس طرح انہوں نے گدھے کی تعریف کے پل باندھے ہیں، اس سے ہمیں وہ صاحب یاد آگئے جو اپنا مریل سا گدھا بیچنے کے لئے منڈی گئے تو براہِ راست گدھے کو فروخت کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، اس لئے انہوں نے اپنا گدھا بروکر کے ذریعے بیچنے کا فیصلہ کیا اور جلد ہی ان کے ایک بروکر سے معاملات طے پاگئے۔ انہوں نے سوچا جب تک گدھا فروخت ہو، وہ چائے پی کر آجائیں ۔ جب وہ واپس آئے تو بروکر نے ایک شخص کے سامنے گدھے کی شان میں وہ قصیدے بیان کئے جسے سن کر گدھے کا مالک آگے بڑھا اور یہ کہہ کر چل دیا”میں یہ گدھا نہیں بیچنا چاہتا کیوںکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس میں اتنی خصوصیات ہیں۔“

ممکن ہے تارڑ صاحب کا کہا ہوا سچ بھی ہو مگر ہمیں اس پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ گدھا جسے کوئی عزت کی نگاہ سے نہےں دیکھتا بلکہ اسے بے عزتی کی نگاہ سے بھی نہےں دیکھا جاتا ،کو اتنی اہمیت دی جاتی ہوگی۔ وہ تو بھلا ہو منور راجپوت صاحب کا جنہوں نے ہمارے اس یقین کو پختگی عطا کرنے کے لئے بتایا کہ چند دن قبل اندرون سندھ کے ایک شہر بدین سے کچھ فاصلے پر واقع ایک گاﺅں پنگریو میں ایک گدھے کی وجہ سے کافی ہنگامہ ہوگیا تھا جس کی خبر ایک سندھی اور ایک اردو اخبار میں بھی شائع ہوئی لیکن نا مکمل.... اصل تفصیلات کے مطابق ایک دیہاتی نے اپنے گدھے کی محبت سے سرشار ہوکر اس کے جسم سے گرمی کی وجہ سے بہنے والے پسینے کو دیکھ کر قریبی دکان سے ایک پیپسی کی بوتل خریدی اور اس کے منہ سے لگادی جسے گدھے نے ایک سانس میں چڑھالیا۔ دکاندار نے جب یہ ماجرا دیکھا تو اس نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ گدھے والے کی پٹائی کردی، وہ بھی بھلا کہاں پیچھے رہتا جلد ہی اپنے ساتھیوں سمیت دکاندار پر ٹوٹ پڑا، دکاندار کو پٹتا ہوا دیکھ کر اس کے حمایتی بھی لڑنے مرنے پر تیار ہوگئے۔ اچھا خاصہ ہنگامہ برپا ہوگیا جبکہ گدھا موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
اتنی سی بات پر جب دکاندار سے لڑائی کی وجہ پوچھی گئی تو اس کے بقول ”اس (گدھے کے مالک) نے میری دکان سے بوتل خرید کر گدھے کو پلا کر میری بے عزتی کی ہے۔“

واقعی جانوروں سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن محبت میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے بھی کم نہیں ۔ دیکھا جائے تو اس میں بے عزتی والی کون سی بات ہوگئی کہ ایک گدھے نے اگر پیپسی سے اپنی پیاس بجھالی۔ اگر اس موقع پر گدھے سے پوچھا جاتا کہ اس کے کیا خےالات ہیں تو یقینا وہ یہی کہتا” یہ دل مانگے مور“۔ مگرمَلک کہتا ہے اس کا جواب یوں ہوتا ”یہ دل مانگے مار“شایدمَلک ٹھیک ہی کہتا ہے کیونکہ اسے جانوروں سے بالکل بھی محبت نہےں بلکہ گدھے تو اس کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ بہر حال ہم سوچ رہے ہیں کہ اسے تارڑ صاحب کی کتاب تحفتاً دی۔ جائے مگرمَلک کہنے لگا ”کتاب کی مجھ سے زیادہ ان لوگوں کو ضرورت ہے جو ذرا ذرا سی بات کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، یعنی عزت وبے عزتی کا مسئلہ.... حالانکہ دیکھا جائے تو ایسے لوگ گدھوں سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں۔“

مَلک کے کہنے کے مطابق ہم کتاب ایسے لوگوں تک پہنچانے کے لئے تیار ہیں مگر مسئلہ یہ درپیش ہے کہ کیا وہ لوگ پڑھے لکھے ہےں۔ اگر ہیں تو پھر اس کتاب کی انہیں بالکل ضرورت نہےں ....اور اگر اَن پڑھ ہیں تو تب وہ اس کے حقدار نہیں

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035