|
|
|
16 June
2008 / 09
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
ریما کی
باتیں
جب سے محترمہ ریما خان ہماری صف میں آن کھڑی ہوئی ہیں اس وقت سے ہمیں شرمندگی کا
احساس بھی ہورہا ہے اور خوشی کا بھی۔ اس معاملے میں خوشی کے احساس کی وضاحت کوئی
مرد کرنا بھی چاہے تو لفظ ساتھ دینے سے قاصر ہی دکھائی دیں گے۔ رہی بات شرمندگی کی
....ہم جو ایک آدھ کالم لکھ کر خود کو لکھاری سمجھتے تھے ، ریما کے کالم لکھنے سے
وہ بھرم بھی جاتا رہا کہ ایک اداکارہ ہوتے ہوئے ہم سے کئی گنا اچھے کالم تخلیق
کررہی ہے۔ ”کئی گنا اچھے کالم“ اس لئے کہا ہے ، خاتون چاہے کوئی بھی ہو اس کی ہر
تحریر ہی اچھی ہوتی ہے۔ اس موقع پر ہمیں وہ محترمہ یاد آرہی ہیں جنہوں نے اپنی ایک
تحریر کسی رسالے کے ایڈیٹر کے نام بھجوائی اور آخر میں اپنا نام تحریر کیا”دلفریب
خانم“۔ ایڈیٹر صاحب نے تحریر پڑھی، پڑھ کر ردی کی ٹوکری کی طرف اچھالتے ہوئے
کہا”محترمہ نے تحریر انتہائی بوگس لکھی ہے، مگر آخر میں اپنا نام دلفریب خانم لکھنے
کی کیا ضرورت تھی....ہر مرد اچھی طرح جانتا ہے، عورت کوئی بھی ہودلفریب ہی ہوا کرتی
ہے۔“ویسے آپس کی بات ہے جب سے ہمیں معلوم ہوا جس طرح پولیس والا آدمی نہیں ہوا
کرتااسی طرح اداکارہ عورت نہیں ہوتی، اس لئے شرمندگی کااحساس اب معدوم ہوچکا ہے۔
ریما جی اپنا کالم ”ریما کی باتیں“ کے عنوان سے تحریرکررہی ہیں۔ شروع میں ہم سمجھ
رہے تھے شاید یہ فلمی دنیا کے رنگین قصوں کو زیر بحث لایا کریں گی یا پھر فلم
انڈسٹری کی ڈوبتی ہوئی صنعت کو بحالی کے مشورے دیا کریں گی ، یا پھر فلم بینوں کو
”فلم دیکھنے کے آداب“ سکھایاکریں گی۔ ایک خیال یہ بھی آےا کہ شاید یہ اپنی جونیئر
اداکاراﺅں کو فلم بینوں کو اپنا گرویدہ بنانے کے لئے مشوروں سے نوازا کریں گی
مگرایسا کچھ بھی نہ ہوا....ان کے اکثر کالم سیاسی دکھائی دئےے ، ذہن پر زور ڈالا تو
یہ مسئلہ از خود حل ہوگیا کہ موصوفہ کا زیادہ تر وقت ” سیاستدانوں کے ساتھ اٹھتے
بیٹھتے “گزرا ہے (خبر دار! شیخ رشیدکو وزیر ثقافت یا وزیر ریلوے سمجھا جائے،
سیاستدان نہیں) اس لئے ان کے کالم اگر سیاسی ہیں تو پھر ان سے بہتر باتیں اس ضمن
میں کوئی اور تحریر ہی نہیں کرسکتا۔ریماجی کی اکثر باتیں سچ پر مبنی ہوتی ہیں مگر
ان پر اعتبا رکرتے ہوئے بھی ہمیں بارہا سوچنا پڑتا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے ایک
انٹرویو میں کہا تھا ”مجھے لمبے بالوں والے لڑکے سخت ناپسند ہیں۔“پھر کچھ عرصے بعد
بابر علی اس چمک دار دنیا میں نمودار ہوکر شہرت کی بلندی پر جا پہنچا تو نجانے ریما
کو ان کے لمبے بال کیوں نظر نہ آئے جو اس کے گرد دیوانوں کی طرح چکراتی رہیں۔ لہٰذا
کہا جاسکتا ہے ان کے سیاسی کالم ”سو فیصد سیاسی“ ہوتے ہیں۔
ریما اکثر معاشرتی کالم بھی لکھ مارتی ہےں جس سے معلوم ہوتا ہے ، محترمہ کی معاشرے
پر بھی ”گہری“نظر ہے۔ ریما ہر وقت اپنے آپ میں مگن رہتی ہے یعنی اپنے ہی کالم پڑھتی
رہتی ہے۔ ریما نے جب سے کالم لکھنا شروع کئے ہیں ان کے پرستاروں کو مشکل کا سامنا
کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ یہ اپنے تین چار مختلف کالمز کی فوٹو کاپیاں پرس میں ہی
رکھتی ہیں جونہی کوئی ان سے آٹو گراف لینے کے لئے آتا ہے یہ پوچھتی ہیں”کیا تم نے
میرے کالم بھی پڑھے ہیں؟“
”نہیں تو....“پرستار حیرت سے پوچھتا ہے”کب سے لکھ رہی ہیں؟“
” اس بات کو چھوڑ و.... پہلے یہ پڑھ کر بتاﺅ کیسا لکھتی ہوں“ یہ کہتے ہوئے ریما
اپنے کالم کی چند فوٹو کاپیاں اس پرستار کے ہاتھ میں تھما دیتی ہے۔ وہ بے چارہ اسے
پڑھنے میںمشغول ہوجاتا ہے اور ریما جی اتنی دیر میں دوسراشکار پھانس چکی ہوتی ہیں۔
اس لئے بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے ”ریما نے انتہائی قلیل وقت میں اپنے سینکڑوں قاری
پھنسائے ہیں۔“
ریما ہرگز دل میں یہ خیال نہ لائے کہ ہم اس کے خلاف لکھ رہے ہیں بلکہ ہم تو یونہی
چھیڑ چھاڑ اور مذاق کررہے ہیں ، ویسے آپس کی بات ہے ریما سے مذاق کیا جائے تو بالکل
بھی برا نہیں مناتی۔ دراصل ایک مرتبہ ایک سوٹڈ بوٹڈ اجنبی نے ہمارے سامنے انہیں
چھیڑ دیا، پھر فوراً ہی معذرت خواہانہ لہجے میں کہا”معافی چاہتا ہوں میں تو مذاق
کررہا تھا....آپ برا تو نہیں مانیں۔“
ریما نے جھٹ جواب دیا”اگر آپ مذاق نہ کرتے تو برا مناتی۔“
محترمہ کو اگر کوئی امیر آدمی نظر انداز کرتا ہے تو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ ان
سے”زیادتی“ کررہا ہے۔ ایک محفل میں ایک کڑیل اور امیر ترین نوجوان نے ان سے بات نہ
کی تو یہ ناراض ہوگئیں اور ابھی تک ناراض ہیں۔ ریما کا پتہ ہی نہیں چلتا کب اور کن
باتوں سے ناراض ہوجاتی ہیں، البتہ اگر یہ کسی سے روٹھی ہوئی ہوں تو انہیں منانے کا
ایک ہی اصول ہے کہ وہ ان سے مذاق کرنا شروع کردے، ریما فوراً مان جائے گی۔(یہاں مان
جانے کو کسی اور معنی میں نہ لیا جائے)
ریما بہت دیر اور دور تک سوچتی ہے ، کسی کی برائی کا خیال دل میں نہیں لاتی، کر
گزرتی ہے۔ یہ گہری سوچ کا ہی مظہر ہے کہ اس کی باتوں میں عقلمندی کی باتیں بھی نظر
آجاتی ہیں اور مہمان نوازی میں بھی یہی عقلمندی اس کے بہت کام آتی ہے، صرف ان لوگوں
سے چائے کا پوچھتی ہے جو انکار کردیں یا پھر اسے پلانے پر تیار ہوجائیں۔ کچھ عرصہ
پہلے یہ خبر گرم تھی کہ ”اےشوریا کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے پر ایک شخص نے 25لاکھ
روپے ادا کئے، یعنی ایک چائے کے کپ کی قیمت 25لاکھ ادا کی۔“ اس موقع پر ریما نے کہا
تھا” یہ انتہائی بے وقوف شخص ہے، ایک غیر ملکی ادا کارہ کے ساتھ بیٹھ کر لاکھوں
ضائع کردئےے، پاکستان میں اتنی قیمت میں چار اداکارائیں ایک سال تک چائے پکانے پر
تیار ہوجاتی ہیں۔ “شاید ریما ٹھیک کہتی ہے کیونکہ اس کی پسندیدہ ڈش پوچھی جائے جو
اسے تیاری کرنا آتی ہو تو ”چائے“ ہی بتائے گی۔
فلمی اداکارائیں کھانے پکانے کے معاملے میں کوری ہی ہوتی ہیں اور انہیں گھر کے
کاموں سے اسی طرح الرجی ہوتی جیسے شوہروں سے .... بنیادی طورپر ریما جی اداکارہ ہیں
اس لئے ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں۔ ویسے بھی فلمی اداکارائیں جب تک ماں نہ بن جائیں
شادی شدہ ہونے کا اعترا ف ہی نہیں کرتیں۔ اخباری رپورٹر اگر اس معاملے میں زیادہ
کھود کرید کریں تو جواب ملتا ہے”بچہ خیریت سے ہولینے دیں، پھر یہ بھی بتا دوں گی کہ
پچھلے سال کس سے شادی کی تھی۔“
ریما کے شادی نہ کرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ایک ماہر رقاصہ ہے جبکہ شادی کے بعد
ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے، اس کا شوہر اس کے اشاروں پر ناچے ، اب جو خود ناچ کر
”عزت“ بنانے میں کامیاب ہوا ہو وہ اتنی آسانی سے اپنی عزت کسی اور کی جھولی میں
نہیں ڈال سکتا۔ اداکاروں کی نہ شادیاں کامیاب ہوتی ہیں نہ طلاقیں....ہر نئی شادی کے
بعد طلاق کا زمانہ آتا ہے اور طلاق کے بعد پھر سے نئی شادی کا.... اور اس معاملے
میں ریما کہتی ہے مجھے طلاق سے سخت نفرت ہے اوراس لئے غیر شادی شدہ زندگی شیخ رشید
سے بھی بہتر گزر رہی ہے۔
ریما جب ”بلندی“ سے نمو دار ہوئی تو صرف ریما تھی پھر ایک لمبے عرصے بعد ”ریما خان“
ہوگئی....عورت کے ساتھ کسی مرد کا نام صرف دو صورتوں میں لگایا جاتا ہے یا تو وہ
نام اس کے والد محترم کا ہو یا اس بچوں کے والد محترم کا۔ اب ہمیں ان خان صاحب کی
تلاش ہے جس نے انہیں خان کیا ہے ، اگروہ والد صاحب ہوئے تو پھر ریما کو ”ریما خان“
ہی پکارا جانا چاہئے وگرنہ دوسری صورت میں ”مسز خان“ لیکن یہاں پھروہی مسئلہ سر
اٹھاتا ہے کہ ریما ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں۔ ممکن ہے انہوں نے بھارتی خانوں سے
”متاثر“ ہوکر اپنے نام کے ساتھ خان لگانا شروع کردیا ہو۔ یہ بات درست ہے تو پھر
ریما سے ہمیں ہمیشہ یہ گلہ ہی رہے گا کہ ”دیسی“ خانوں کے ہوتے ہوئے غیر ملکی خانوں
سے وہ کیوں کر متاثر ہوئی ہیں۔سننے میں آیا ہے ریما صاحبہ بہت کم لوگوں سے متاثر
ہوتی ہیں، مثلاً صرف ان لوگوں سے جن کے پاس دولت ہو یا پھر عہدہ۔
کسی بھی کالم نگار کا مشاہدہ غضب کا ہوتا ہے، اس کی زبان میں اتنی قوت گویائی نہیں
ہوتی جتنی آنکھوں میں ہوتی ہے، اس معاملے میں ریما خان کو کسی دشواری کا سامنا نہیں
کیونکہ فلموں میں اداکاری کی وجہ سے آنکھوں کا استعمال خوب جانتی ہیں اور کالم
نگارسے متعلق دوسری بات یہ ہے کہ کالم نگارزندگی نہےں گزارتا....خوبصورت اوربد صور
ت حادثات کے تجربے کرتے رہتا ہے۔ لہٰذا ریما جس قسم کے ” حادثات “ کا سامنا کرچکی
ہے اس لئے بہتر کالم لکھ لینا اس کے لئے چنداں مشکل نہیں مگر اسے چھپوانا مشکل ضرور
ہے کیونکہ صحافت ابھی اتنی ”آزاد“بھی نہیں ہوئی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی جو محترمہ نے
ایک مرتبہ ایک محفل میں ہم سے پوچھاتھا”میں بھی کالم لکھنا شروع کررہی ہو، اس کے
لئے مجھ کن کن چیزوں پر عبور حاصل کرنا ہوگا۔“
”مجھے خود اس سے زیادہ معلومات نہیں کہ اچھی بری ہر قسم کی باتوں پر دھیان رکھنا
پڑتا ہے۔ “ ہم نے نہایت انکساری سے کام لیتے ہوئے مختصراً بتایا تو ریما خان نے
کہا”تو ٹھیک ہے تم مجھے صرف اچھی باتیں بتادو....بری مجھے پہلے سے ہی معلوم ہیں۔“
ریما کی اخباری دنیا میں (بذریعہ کالم نویسی) آمد خوش آیند ہے کیونکہ اس سے دیگر
اداکاراﺅں کو بھی تحریک ملے گی اور ممکن ہے وہ اس معاملے میں بھی ”نمبر ون“ کا
مقابلہ شروع کردیں اور ہمیں لگ رہا جس طرح کرکٹ کے کھلاڑی ریٹائرڈ ہونے کے بعد
فلموں اور کمرشلز میں کام کرنے لگتے ہیں اسی طرح اداکارائیں اپنی فلمی عمر پور ی
کرنے کے بعد کالم نگاری کے میدان میں کود پڑیں۔ اس سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ
ریما کی فلمی عمر پوری ہوچکی ہے اور شان کے بقول ”ریما اب بوڑھی ہوگئی اسے لڑکیوں
والے نخرے زیب نہیں دیتے“ بلکہ اس کی عمر کا تعلق اس بات سے نہیں کہ کتنے سال پہلے
پیدا ہوئی تھی، اس بات سے ہے، کتنے سال کی دکھائی دیتی ہے۔ویسے بھی یہ مشہور ہے مرد
کبھی بوڑھا ہوتا نہےں اور عورت خود کو کبھی بڑھیا نہیں مانتی اور اداکارہ تو 100سو
سال بعد بھی ”نوخیز“ کلی ہی رہتی ہے۔یہی بات ریما جی میں بھی ہے عمر میں ہم سے دگنی
ہوں گی مگر دیکھنے والے اس کے ترو تازہ چہرے پر ہی مرتے ہیں، لیکن ہمارا دوست مَلک
کہتا ہے ”تروتازہ میک اپ پر مرتے ہےں۔“ بات جو بھی ہو لوگ ان کی تصویر دیکھ کر ہی
کالم دیکھتے ہیں کیونکہ ان کی جو تصویر کالم کے ساتھ شائع ہوتی ہے وہ ان کے کالم سے
زیادہ اہم ہوتی ہے.... ویسے بھی ہر بندہ پڑھا لکھا کہاں ہے جو کالم پڑھے بھی اور
جوپڑھے لکھے لوگ ہیں وہ کارآمد مواد ہی پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ بہر حال بات ہورہی تھی
کالم نگاری میں نمبر ون کی دوڑ شروع ہونے کی ،بالفرض اداکارہ میرا کالم لکھنا شروع
کریںگی تو کالم کا عنوان شاید اس قسم کا ہو”میرا کی دہائیاں“۔ خوشبو کے کالم کا
عنوان”خوشبو دار یاں“۔ لیلیٰ اپنے کالمز ”صدائے لیلیٰ۔“ کے نام سے تحریر کریں گی۔
ریشم کے کالم کا عنوان ہوگا”ریشمی الفاظ“۔ نرما نے لکھنے کا ارادہ کیا تو اپنے کالم
کا عنوان کالم نگار زاہدہ حنا کے عنوان سے ملتا جلتا”نرما گرم“ رکھے گی۔صائمہ اپنے
کالم کا عنوان تجویز کریں گی”نور....انی باتیں“۔ ان سب باتوں کے باوجود ریما خان جو
بھی لکھتی ہے غضب کا لکھتی ہے، دیگر اداکاراﺅں کو بھی ایسی تحریریں تخلیق کرنے سے
پہلے ریما کو استاد مانتے ہوئے ”فارمولے“ حاصل کرنے چاہئیں ورنہ کالم نگاری اتنا
آسان نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے، یقین نہ آئے تو ریما سے پوچھ لیں ایک کالم تیار
”کروانے“ کے لئے کتنی محنت کرنا پڑتی ہے....!!! |
 |
|
|