رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

16 June 2008 / 09 Jamadil Akhir 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


فائدہ بند

ہمیں سیاست کی صرف اتنی شد بد ہے جتنی ایک عام آدمی کو ہونی چاہئے یعنی اس معاملے میں ہمارا ذہنی صفحہ مکمل طور پر کورے کا کورا ہی رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک ہم سیاستدان کو بھی پاندان، اگلدان، چوہے دان، روشندان اور گلدان کے قبیل ہی کی کوئی چیز سمجھتے رہے، وہ تو بھلا ہو ہمارے دوست مَلک کا جس نے ہمیں بتایا کہ آخر الذکر پانچ چیزیں کسی نہ کسی صورت میں فائدہ مند ہوتی ہیں جبکہ اول الذکر صرف ”فائدہ بند“۔ اور تو اور انہی کے بقول سیاستدان انسان ہی ہوتے ہیںلیکن جھوٹ اتنا بولتے ہیں کہ سچ معلوم ہونے لگتا ہے۔جیسے کسی سیاستدان نے کہا تھا ”تمہاری گلی کی صفائی کروں گا، حریفوں کی پٹائی کروں گا، لوگوں کو حجام کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، میں غریبوں کو جیلوں سے رہائی دلا ﺅں گا، ہر گھر میں پانی پانی کردوں گا۔“ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ایسا کرکے بھی دکھایا، وہ حجامت کی کہ حجام اپنے پیشے پر غور کرنے لگ گیا، خود غریبوں کو پکڑوایا، پھر انہیں چھڑوا کر احسان الگ کیا۔ رہی بات گھر گھر پانی پہنچانے کی تو ان کے منتخب ہونے کے چند دن بعد ہی موسلا دھار بارشیں شروع ہوگئیں اور یہ فخر سے کہتے پھرتے”میں نے پہلا ترقیاتی کام تو منتخب ہوتے ہی کردیا ، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے گھر میں پانی نہیں ہے“جبکہ ایک اور سیاستدان نے اپنی تقریر کے دوران امید دلائی تھی ”آپ مجھے ووٹ دے کر کامیاب کرائیں، میں آپ کی خدمت میں دن رات ایک کردوں گا۔“ پھر ایسا ہی ہوا، لوگ ان کے پاس کام کروانے کے لئے دن میں جاتے اور رات گئے تک خوار ہوتے رہتے۔ ان کا جھوٹ نہ صرف شہروں میں مشہور ہے بلکہ دیہاتی بھی ان کی اس خاصیت سے خوب واقف ہیںجس کی مثال کے لئے یہ واقعہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سیاستدانوں سے بھری ایک بس کسی ویرانے میں حادثے کا شکار ہوگئی۔وہاں صرف ایک ہی دیہاتی پہنچ سکا اور اس نے اپنی طرف سے کارروائی مکمل کرلی یعنی سب سیاستدانوں کی لاشوں کو دفنا چکا تو دیگر لوگ بھی جائے حادثہ پر پہنچنا شروع ہوگئے۔
”کیا کوئی بھی سیاستدان زندہ نہیں بچ سکا تھا۔“ ایک آدمی نے سوال کیا تو دیہاتی انتہائی سادگی سے کہنے لگا”کچھ لوگوں نے کہا تو تھا کہ وہ زندہ ہیں مگر آپ کو تو معلوم ہے سیاستدان کتنا جھوٹ بولتے ہیں۔ “

مَلک کی جانب سے سیاستدانوں کے بارے معلومات فراہم کرنے کے بعد سیاستدان کا نام آتے ہی ذہن میں ایک خاکہ سا ابھرنے لگتا ہے جس میں ایک ان پڑھ پینڈو ٹائپ بندہ چہرے پر جعلی مسکراہٹ اور سینے سے تھوڑا نیچے ایک مٹکا(جسے عرف عام میں توند کہتے ہیں) سجائے یہ کہتا دکھائی دیتا ہے ”آپ کے ہر مسئلے کا حل ہمارے پاس ہے اور جس کے پاس مسئلہ نہیں، ان کے لئے مسئلہ بھی ہمارے ہی پاس ہے۔“ سیاستدانوں کے بیانات پڑھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس پاکستان کیا، عالم اسلام کے مسائل کے حل بھی موجود ہیں لیکن دیکھا جائے تو اپنے حلقے کے مسائل بھی حل نہیں کرواسکتے۔لوگ اتنی جلدی سوٹ نہیں بدلتے جتنی جلدی یہ پارٹی بدل لیتے ہیں لیکن مَلک کہتا ہے عقلمند سیاستدانوں کی صرف ایک ہی پارٹی ہے اور وہ ہے ”بر سر اقتدار پارٹی“۔ وجہ یہ بتاتا ہے” کوئی بھی ڈوبتی یا ڈولتی کشتی میں سوار ہونا پسند نہیں کرتا۔“

سیاستدانوں کی اور کوئی بات ہمیں اچھی لگے یا نہ لگے لیکن ایک بات ضرور اچھی لگتی ہے کہ یہ لوگ بظاہر کتنے ہی ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں مگر اندر سے جس طرح مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، یہ لوگ بھی آپس میں ”بھائی بہن“ ہیں مگرسیاستدان مذکر ہو یا مونث ایک جیسے ہی کام دکھا کر جاتے ہیں، یعنی جھوٹے وعدے ، دلاسے اور تسلیاں دے کر جبکہ اقتدار ختم ہوتے ہی ان کے راز عیاں ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ دوسرے معنوں مےں کہا جاسکتا ہے کہ سیاستدان کرپٹ ہوتے ہیں۔ مثلاًایک تقریب میں ایک صاحب کی ملاقات اپنے پسندیدہ سیاستدان سے ہوئی تو انہوں نے ازراہِ عقیدت قدرے جوش و خروش سے کہا ”آپ سے ملنے کی بڑی خواہش تھی۔میں نے آپ کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے ، مگر....“
”ضرور سنا ہوگا“سیاستدان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا”لیکن آپ اسے ثابت نہیں کرسکتے۔“
بات سیاستدانوں کی آئی تو ہم نے لگے ہاتھوں سیاست کے متعلق بھی مَلک سے پوچھا ”سیاست عبادت ہے یا تجارت؟“ تو وہ کہنے لگا ”نہ تجارت ہے نہ ہی عبادت بلکہ سراسر حماقت ہے“” اورلڑنے کے لئے کس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے....ہتھیار کی، دماغ کی یا پھر طاقت کی....؟“

”ان تینوں میں سے کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ....“مَلک نے دانشورانہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا”صرف اور صرف ”وجہ“ کی ضرورت ہوتی ہے۔“شاید مَلک ٹھیک ہی کہتا ہے کیونکہ پہلے پہل پہلوان کشتیاں لڑنے میں مشہور تھے، مگر اب غریب روٹی ، نوکری اور بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کروانے کو وجہ بنائے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، امریکا تیل کے لئے اسامہ کا نام بطور وجہ استعمال کررہا ہے ،بھارت اپنی بغل میں دبی چھری کو زنگ سے بچانے کے لئے دہشت گردی کو وجہ بنائے ہوئے ہے اور پاکستانی سیاستدان صرف کرسی کے حصول کے لئے عوامی حقوق کا نام استعمال کرتے ہوئے لڑتے ہیں اور ان دنوں تو باقاعدہ لڑائی کا موسم شروع ہے۔

کہتے ہےں ایک مہینہ عوام کا، باقی سالہا سال سیاستدان کے۔ اس کہنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ سیاستدان منتخب ہونے کے بعد عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں اتنے مصروف ہوجاتے ہیں گویا سر کھجانے کی مہلت بھی نہیں ملتی۔ ہرگز ایسی بات نہیں۔
اس کے لئے بزرگوںکا وہ قصہ بیان کرنا مناسب ہوگا جس میں تین بوڑھے ایک جگہ بیٹھے گپ شپ میں مصروف تھے،ایک نے کہا”میرا بیٹا50یا 100روپے لئے بنا کوئی کام نہیں کرتا۔سوچتا ہوں اسے پولیس میں بھرتی کرادوں۔“
دوسرا بوڑھا بولا”50یا 100روپے تو بہت کم ہیں، میرا بےٹا500یا 1000روپے لئے بنا کوئی کام ہی نہیں کرتا۔سوچتا ہوں اسے کسٹمز میں بھرتی کرادوں۔“
”ارے تم دونوں کے بیٹے پیسے لے کر کام تو کرتے ہیں۔“تیسرے بوڑھے نے بھی اپنے بیٹے کی خاصیت بتاتے ہوئے کہا”جبکہ میرا بیٹا پیسے بھی لیتا ہے اور کوئی کام بھی نہیں کرتا، سوچتا ہوں اسے سیاست میں بھیج دوں۔“

سیاستدان کوئی کام کریں یا نہ کریں لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ مخالفین پر الزامات ضرور لگاتے رہتے ہیں اور اتنا کچھ جو ہم لکھ گئے ہیں، وہ بھی انہی الزامات کا نتیجہ ہے۔ ہم نے کچھ عرصہ قبل ہی شہر کی ایک بڑی چورنگی پر ایک سیاستدان کی جانب سے دوسرے سیاستدان پر الزامات کے کئی بورڈ دیکھے جن پر ان کی کارکردگی پر کیچڑ اچھالا گیا تھا جبکہ ایک بورڈ پر ان کو مشورہ بھی دیا گیا تھاکہ ” فلاں کو عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔“ حالانکہ دیکھا جائے تواس مشورے پر ہرسیاستدان کو عمل کرنا چاہئے....!!

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035