|
|
|
21
July
2008 / 17 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
پائے، چنے کے بعد....!
گزشتہ سال نومبر کے ٹھنڈے موسم میں اسلام آباد کے رہائشی ایک مزاح نگار دوست کی پر
تکلف دعوت اُڑاتے ہوئے بات کتابوں کی آئی تو انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ
اپنی نئی کتاب پر عطاءالحق قاسمی سے رائے لکھو ائیں گے، یہ کہہ کر جب انہوں نے مجھ
سے پوچھا کہ میںنے آنے والی کتاب کے لئے کس معروف شخصیت کا انتخاب کیا ہے؟ تو بے
ساختہ میری زبان سے ”ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی“ کا نام نکلا اور پھر کافی دیر تک
ڈاکٹر صاحب اور ان کی تحریریں موضوع گفتگورہیں۔
گیارہ ستمبر 2001ءمیں بلڈنگ توڑ پروازوں سے کچھ ہی روز قبل ایک دھماکہ دار
کتاب”بقلم خود بخود“ دیکھنے کو ملی اور یہ میراڈاکٹر ایس ایم معین قریشی سے پہلا
تعارف تھا اور اس کے بعد مرحلہ بہ مرحلہ ان کی تحریریں پڑھنے کو ملتی رہیں۔ ڈاکٹر
صاحب سے فون پر کئی مرتبہ ملاقات کے لئے کہا اور آخر ایک دن تنگ آکر انہوں نے خود
ہی فرمادیا”ارے صاحب! آپ کہتے ہو ، ملتے نہیں۔“ لیکن شاید انہیں کسی نے بتا دیا کہ
وہ ایک تقریب کھڑکا ڈالیں جس میں ہمیں بھی دھمکی دے کر مدعو کریں۔ صدر بش کی دھمکی
اور مزاح نگار کی دھمکی میں یہ فرق ہوتا ہے کہ وہاں فون کے بدلے خون ہوتا ہے اور
یہاں فون کے بدلے فون ہی ہوتا ہے اور ہمیں ڈر محسوس ہوا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو کہیں
فونی رابطہ ہی منقطع نہ ہوجائے۔
ابھی ڈاکٹر صاحب کی کتاب ”خود خوش حملہ“ کے اثرات ہی ختم نہ ہوئے تھے کہ انہوں نے
”لوٹ سیل“ لگادی اور اسی تقریب میں ہم اپنے معاون ہم دفتر ہاشم بھائی کے ہمراہ
تقریب رونمائی میں پہنچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ فطرت شناس ہیں اس لئے انہوں نے تقریب
شرو ع ہی ریفریشمنٹ سے کی تاکہ پیٹ بھرا ہو تو انسان کا ذہن ادھر اُدھر نہیں بھٹکتا
اور وہ مطمئن رہتا ہے ورنہ اکثر تقریبات میں ہوتا یہ ہے کہ تقریب کے اختتام پر
پہنچتے پہنچتے شرکاءکا ذہن تقریب میں کم اور اس کے بعد ہونے والے عشائےے پر زیادہ
سوچتا ہے، اس لئے ڈاکٹر صاحب پر وہ مصرع فٹ آتا ہے کہ
الٹی چال چلتے ہیں دیوانگانِ عشق
اس تقریب میں اکادمی ادبیات کے آغا نور محمد پٹھان نے ڈاکٹر صاحب کو کامیاب مزاح
نگار قرار دیتے ہوئے ان کی کتابوں کو پاکستان کے ادوار سے تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ
ان کی 17کتابیں پاکستان کے ہر دور کی عکاسی کرتی ہیں۔ جیسے کچھ عرصہ پہلے خود کش
حملوں کا زور تھا تو انہوں نے ”خود خوش حملہ“ نامی کتاب کا اجراءکیا اور شاید انہیں
موجودہ انتخابات کے بعد ہونے والا حالات کا علم تھا جو اَب ان کی کتاب”لوٹ سیل“
منظر عام پر آگئی ہے اور اسی طرح ان کی دیگر کتابیں”ہر شاخ پہ....“وغیرہ بھی اسی
طرح کی منظر کشی کرتی ہیں۔
عمر کوٹ سے آئی ہوئیں پروفیسرشہناز نے ڈاکٹر صاحب کی کتابوں پراپنے خےالات کا اظہار
کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کتابوں میں کہیںیکسانیت نہیں دکھائی دیتی البتہ ایک یکسانیت
ان کی ہر تقریب میں نظر آئی کہ ان کے ہم نام سابق گورنر سندھ معین حیدر ضرور ہوتے
ہےں جبکہ سردار یاسین ملک نے اپنی بات یوں شروع کی ، ایک تقریب میں ایک خاتون شاعرہ
نے مجھ سے اپنی کتاب کی رونمائی کی تقریب کروانے کی فرمائش کی اور اس دوران ان کی
آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور یہ مرد کی فطرت ہے کہ وہ خواتین کے معاملے میں حساس
ہوتا ہے، میری آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے، میں نے ایک ٹشو شاعرہ صاحبہ کو دیا
اور دوسرے سے اپنے آنسو پونچھنے لگا، اتنے میں ایک صاحب آگئے کہ بتائےے کیا مسئلہ
ہے میں ہوں ان محترمہ کا شوہر....اس کے بعد میرے پاس خاتون شعراءکی کتابیں دھڑا دھڑ
پہنچنے لگیں اور میں اپنی بیگم کی معنی خیز نگاہوں کی زد پر آگیا ، یہ تو شکر ہے کہ
معین قریشی صاحب نے پے درپے کتابیں لکھ کر بیلنس برابر کردیا اور بیگم مطمئن ہوئیں
کہ مردوں کی کتابیں بھی میں شوق سے پڑھتا ہوں۔
سینئر براڈ کاسٹر عظےم سرور نے اس تقریب میں انتہائی زبردست خیالات کا اظہار کیا
بلکہ انہوں نے لوٹ سیل کی محفل ہی لوٹ لی، کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ انہوں نے
ٹالسٹائی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ہر بڑے آدمی کے پیچھے سخت گیر عورت کا
ہاتھ ہوتا ہے۔ جب بھی ٹالسٹائی کی بیگم ناراض ہوکر میکے جاتیں تو وہ اتنی دیر میں
ایک کتاب تحریر کرلیتے اور ڈاکٹرصاحب بھی دھڑا دھڑ کتابیں لکھ رہے ہیں تو پتہ کرنا
چاہئے کہ ان کے گھریلو حالات تو درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی ہر کتاب
سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بہت سی مختلف کھڑکیوں میں کھڑے ہیں اور مختلف نظر
آنے والے مناظر کو پُرمزاح انداز میں تحریر کررہے ہیں، اس لئے انہیں کھڑکیوں والا
ادیب بھی کہا جاسکتا ہے البتہ کھڑکی توڑ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریروں سے ایسا لگتا
ہے جیسے وہ ”کسی“ کے دباو میں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہ دبا دب لکھتے چلے جارہے ہیں۔
اس لئے ”دبے رہو معین بھائی!“
ہمارے دوست ملک صاحب کی کسی نے دعوت کی، وہاں اس نے پائے سامنے رکھے تو ملک صاحب
فوراً ہی بھڑک اٹھے ”میں یہاں لاتیں کھانے نہیں آےا“۔ لیکن ڈاکٹرایس معین ایم قریشی
جب ادبی محفل کے نام پر گھر پر دعوت کرتے ہیں تو قریبی حلقے کے معزز افراد بھی
”لاتیں“ کھانے شوق سے جاتے ہیں اور اسی بات کا اقرار معین حیدر صاحب نے بھی کیا اور
انہوں نے کہا کہ ایک شعر ہے، جس میں وزن کا خیال رکھنا شاعروں کا کام ہے، فوجیوں کا
نہیں ویسے فوج نے آئین کو کوئی اہمیت نہ دی تو شاعری کس کھیت کی مولی ہے، اس لئے بے
وزن شعر ہے کہ
میرے لہو کا رنگ خوب ہے
پر تیری حنا کے بعد
لہٰذا ڈاکٹرایس ایم معین قریشی کے بارے میں اسی انداز میں کہا جاسکتا ہے کہ
تیری کتابیںخوب ہیں لیکن
تمہاری بیگم کے بنائے پائے، چنے کے بعد
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جتنی اچھی ان کی کتابیں ہیں اتنی ہی اچھی ان کی دعوتیں
ہوتی ہیں اور چونکہ تقریب سے قبل ہی ریفریشمنٹ میں چنے کی چاٹ بھی تھی جوکہ ڈاکٹر
صاحب کی بیگم نے خود ہی بنائی تھی ، زبردست تھی کیونکہ تقریب میں شریک ایک محترمہ
نے مذکورہ بے وزن شعر سننے کے بعد ”بے شک! “ کہتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے
چھ پلیٹےں کھائیں.... بعد کے حالات ہمیں معلوم نہ ہوسکے۔ویسے آپس کی بات ہے، لوٹ
سیل کی تقریب تو خوب تھی لیکن اس میں ریفریشمنٹ میں جو لُوٹ مچی وہ کہیں زیادہ زور
دار تھی کیونکہ چاٹ کھاتے ہوئے شرکاء چمچے (سیاسی نہیں)چاٹتے رہ گئے۔
عظیم سرور نے جو کہا ہے، ڈاکٹر صاحب کے گھریلو حالات معلوم کرنے چاہئیں کہ ان کی پے
درپے آنے والی کتابوں کا سبب کیا ہے؟ تو یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب
کی اہلیہ کچن میں مصروف رہتی ہیں اور ڈاکٹر صاحب لکھنے میں۔ ویسے بھی ہمارے ہاں جب
کہیں چائے آنے میں دیر ہوجائے تو کہا جاتا ہے”چائے ہے یا پائے، اتنی دیر؟“ ڈاکٹر
صاحب کا بھی جب زیادہ لکھنے کو دل کرتا ہوگا تو وہ اہلیہ محترمہ کو پائے پکانے میں
مصروف کردیتے ہوں گے،لہٰذا جب بھی ڈاکٹر صاحب کے گھر سے پائے کی خوشبو اٹھتی محسوس
ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ کتاب آنے ہی والی ہے.... اور اس کے بعد چنے کی چاٹ بھی!! |
 |
|
|