|
|
|
11
July
2008 / 7 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
نیا اینگل
کراچی آرٹس کونسل میں24جون 2008ءکو ہونے والی بین الاقوامی میڈیا کانفرنس میں بھارت
سے آئے ہوئے صحافی جاوید نقوی نے اپنی بات شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ”سی گریڈ فلمیں
بنانے والے ایک ہی جیسی فلم بنا کر ریلیز کرتے وقت یہ شوشا چھوڑتے ہیں کہ اس فلم
میں ہم نے نیا اینگل دکھایا ہے۔“
ہم اس کانفرنس میں محض وفاقی وزیر اطلاعات”شیر دل“ خاتون شیری رحمن کی وجہ سے دو دن
تک پھنسے رہے، اگر ہمیں علم ہوتا کہ وہ عین وقت پر غیر حاضر رہےں گی تو ہم بھی اس
دوران کچھ اور کام کرلیتے لیکن ”حضرات! اچھا نہیں کیا۔“بہرحال شیری رحمن کے نہ آنے
سے جو ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیںوہ اپنی جگہ مگر ہم نے اس کانفرنس سے بہت کچھ
سیکھا بھی ہے اور بہت بڑے بڑے لوگوں سے ملاقاتیں الگ....ہم لوگوں کی بد نصیبی یہ ہے
کہ ہمارے ملک میں کوئی بھی بڑا آدمی پیدا نہیں ہوا ہمیشہ چھوٹا پیدا ہوکر بڑا بنا
ہے، پتا نہیں بھارتی سیاستدان کیسے کہہ دیتے ہیں ہمارے ملک نے کتنے بڑے لوگ پیدا
کئے۔ اس کانفرنس میں کیا کیاباتیں ہوئیں وقت کی مناسبت سے آئندہ وقتوں میں تحریر
کرتے رہےں گے ویسے بھی اکثر چینلز کے ذریعے معلوم ہوگئی ہوں گی۔ بہر حال ہم تو آج
اسی ”نئے اینگل“ پر بات کریں گے کہ ہمارا ملک بھی اب سی گریڈ فلمیں بنانے والوں کی
طرح کا سیٹ بن چکا ہے۔ صدر مشرف اور ان کے اتحادیوں کو عوام نے اس لئے ووٹ آوٹ کیا
تھا کہ عوامی سیاستدان عوامی ہوتے ہیں، اچھا سلوک کریں گے لیکن عوام کو پے درپے
لگنے والے جھٹکوں کے باعث پتہ چلا کہ عوامی تو ہنگامی ثابت ہورہے ہیں۔ جب سے عوامی
حکومت کے نمائندگان نے مسندِ اقتدار سنبھالی ہے ، تب سے اب وہ وہ کچھ عوام کو
بھگتنا پڑا جس میں صدر مشرف نے آٹھ سال لگا دئےے۔ یعنی اربابِ اختیار نے یہ بات تو
حقیقت کر دکھائی کہ ہنگامی بنیادوں پر عوام کو ”ریلیف“ فراہم کیا گیا ہے۔ لوگ جو
پہلے ڈرے سہمے رہتے تھے کہ کب بم دھماکہ ہوجائے، کب بارہ مئی منالیا جائے اور اسی
وجہ سے عوام ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے کو بھی اس طرح لگانے لگے تھے کہ”پاکستان سے
زندہ بھاگ“۔ اس ٹینشن سے تو کم از کم نجات مل گئی ہے۔ اب لوگ بم دھماکوں سے کم
اور”پیٹرول دھماکوں“ سے زیادہ مرنے لگی ہے۔ جو پیٹرول بم سے بچ جائے وہ آٹا کلنگ کی
نذر ہوجاتا ہے۔ شکر ہے صدر مشرف سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ آٹا مہنگا ہے، عوام بھوک
سے مر رہی ہے ورنہ صدر صاحب فرما دیتے، آٹا تو فاٹا والوں کی وجہ سے مہنگا ہوا ہے،
ویسے اگر آٹا مہنگا ہے تو عوام چاول کھائے چاول نہیں ملتے تو دال کھائے، نہیں دال
نہ کھائے کہ وہ مہنگی ہے، مرغی کھائے جان بنائے!
ہم نے ایک صاحب کو دیکھا جو یوٹیلٹی اسٹور کے باہر لمبی لائن کو دیکھ کر رو رہے تھے،
وجہ پوچھی تو بھڑک اٹھے”ہم پر حکومت کرنے والوں کی سمجھ نہیں آتی، پہلے کے حکمرانوں
نے ہمیں ترغیب دی تھی کہ ”بچے دو ہی اچھے“ جس پر میں نے عمل کیا تھا اور میرے پڑوسی
نے اس کی مخالفت کی تھی ، میں نے اس کا مذاق اُڑایا تھاتو اس نے کہا تھا یہ وقت
بتائے گا کہ عقل مند کون ہے؟ واقعی آج اس نے ثابت کردیا ہے، اس کے پانچ بیٹے آٹے کے
لئے لائن میں لگے ہوئے ہیں اور میرا ایک ہی بیٹا ....ان حکمرانوں کی تو....!“
ویسے مذاق اپنی جگہ ہم نے اسی قطار میں کھڑے ہوئے دو بوڑھوں کو اپنے بچوں کے رشتے
کرتے ہوئے دیکھا ہے، کیونکہ ایک ہفتے سے لائن میں کھڑے ہوکر ایک دوسرے سے اچھے
مراسم بن گئے تھے اور دونوں کا غم بھی ایک ہی تھا لیکن ہمارے دوست مَلک نے بتایا
دونوں بزرگوں کے اچھے مراسم سے زیادہ لڑکے کی اپنی کارکردگی ہے کہ اس نے اپنے متوقع
سسر کو دوسرے یوٹیلٹی اسٹور سے دو تھیلے لاکر فراہم کئے تھے جس سے متاثر ہوکر انہوں
نے اپنی بیٹی دینے پر رضامندی ظاہر کردی تھی۔ ممکن ہو ملک صاحب کی رپورٹ بھی درست
ہو کیونکہ جب ایک لڑکے نے لڑکی سے اظہار عشق کرنے کے بعد دعویٰ کیا کہ وہ اس کے لئے
چاند تارے توڑ کر لاسکتا ہے تو لڑکی نے کہا تھا ”اگر سچی محبت ہے تو صرف آٹے کا
تھیلا یوٹیلٹی اسٹور سے لا کر دکھاﺅ۔“ پتہ نہیں وہ لڑکا کامیاب ہو سکا یا نہیں بہر
حال حکومت کی نیکیوں میں کم از کم ایک نیکی کا اضافہ تو ضرور ہوا کہ ان کے یوٹیلٹی
اسٹور کی لمبی لائن میں دو خاندان ایک ہونے جارہے ہیں۔
کہتے ہیں صدر مشرف کی قومی مفادات والی پالیسیوں نے اتنا ملک کو فائدہ نہیں پہنچایا
جتنا نقصان پہنچایا ہے کہ صدر صاحب کی وجہ سے ہی خود کش حملہ آور پیدا ہوئے ہیں۔
صدر صاحب اس بات سے انکاری ہیں لیکن یہ بات بھی حیرت ناک تھی کہ ان کے وردی اتارتے
ہی خود کش حملوں میں کمی اور پھر نئے حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی یکدم ٹھہراﺅ آگیا
تھا اور موبائل پر یہ پیغام ایک دوسرے کو بھیجے جانے لگے تھے کہ”بہت دن ہوگئے، نہ
طوفان، نہ بارش، نہ بم بلاسٹ،نہ جلسے جلوس، نہ مار کٹائی....پتہ نہیں کراچی کو کس
کی نظر لگ گئی۔“ اور پھر کراچی کی نظر اس دن اتر گئی جب یکے بعد دیگرے سات بم
دھماکے ہوئے۔ان دھماکوں کی کیا وجوہات ہیں اور ان کے پیچھے کس کا ہاتھ یہ ہمارا دردِ
سر نہیں اور ان سے نمٹنا آہنی ہاتھوں کا کام ہے۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ صدر مشرف
کی حکومت میں عوام کی جس طرح کھال اتاری گئی، اس سے بڑھ کر موجودہ حکومت میں عوام
کی بوٹیاں نوچی جارہی ہیں یعنی وہی بات کہ موجودہ سیٹ میں سب کچھ وہی ہے، صرف اینگل
بدلا ہے۔ |
 |
|
|