|
|
|
30
July
2008 / 26 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
بارش اورڈرائیور
موبائل پر وائبریشن ہوئی اور لائٹ جل اٹھی، دیکھا تو ملک صاحب کے نام کے ساتھ مسیج
جگمگا رہا تھا اور اس سے زیادہ لائٹ ، جسے دیکھ کر بقول خوشی ہوتی ہے کہ چلو کہیں
تو لائٹ ہے۔ مسیج دیکھا تو رم جھم برسات کا منظر تھا اور نیچے لکھا تھا، بارش کا
سہانا موسم انجوائے کرو۔ یہ تو وہی بات ہوگئی، کسی گھر میں عین چاند رات کو ڈکیتی
ہوگئی، ڈاکو نقد رقم کے علاوہ عید کے بنے ہوئے جوڑے اور دیگر سامان بھی لوٹ کر لے
گئے۔ دوسرے دن عید کار ڈ ملا، اس پر لکھا تھا”اللہ آپ کو ایسی ہزاروں عیدیں دیکھنا
نصیب فرمائے۔“
ملک صاحب کا مسیج بھی اسی طرح کا دل جلانے والا تھا، بار ش کا موسم انجوائے کرنا ہو
تو بندہ اسلام آباد چلا جائے۔ وہاں تیز ترین بارش بھی ہو، پندرہ بیس منٹ میں اس کا
پانی یوں پھسلتا ہوا ذیلی نالوں میں چلاجاتاہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔شاید اسی لئے
کچھ ذہین لوگوں نے جامعہ حفصہ میں جان دینے والوں کی لاشیں نالوں میں پھینک دی ہوں۔
ہاں، بارش کا موسم انجوائے کرنا ہو تو امریکی فلمیں دیکھ لیں، موسلا دھار بارش
ہورہی ہے اور ولن کسی اہم مشن پر نکلا ہوا ہے یا پھر ہیرو صاحب اپنی لیلیٰ کو گرم
کافی پلا کر اہم مقاصد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہوتا ہے، جس سے دیکھنے والوں
کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگتی ہیں۔
بار ش کا موسم انجوائے کرنا ہو تو پشتو فلمیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں، کیونکہ بقول
یونس بٹ یہ بارش والے گانوں کی وجہ سے ہی با۔رَش ہوتی ہیں۔ اسی ذیل میں پنجابی
فلمیں بھی آتی ہیں،ہر فلم میں ایک گانا ضرور بارش میںہوگا اور یہ بارش تو اتنی تیز
ہوتی ہے کہ پاکستانی سینما کی انتظامیہ اس گانے کے آنے سے پہلے ہی ہال میں بیٹھے
ہوئے شائقین کو اطلا ع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی اپنی چھتریاں کھول لیں کیونکہ
سینما کی چھت ٹپکتی ہے۔ جتنا پانی فلموں کے گانوں میں دکھایا جاتا ہے اس سے یوں
محسوس ہوتا ہے کہ کہیں بھی پانی کی قلت نہیں اور پاکستان کو صحرا بننے کی پیش
گوئیاں کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں۔ یادش بخیر، اس سے ہمیں یاد آیا کہ ہمارے علاقے
میں ایک مرتبہ پانی کی اتنی قلت ہوگئی تھی ، لوگ گیلن لے کر عوامی ٹینکیوں پر لائن
لگائے پانی حاصل کیا کرتے تھے۔ انہی دنوں چوڑیاں فلم سینما میں لگی ہوئی تھی۔ کسی
نے ملک صاحب کو بتادیا کہ نرگس کے گانے میں بارش بہت تیز برستی ہے اور ساڑھے چھ منٹ
تک بارش رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ ملک صاحب نے یہ سنا تو فوراً ٹکٹ کٹا کر گیلن لے
کر اگلی سیٹوں میں جا بیٹھے ۔ جب فلم ختم ہونے کے بعد بھی ملک صاحب خالی گیلن لے کر
واپس آئے،ہم نے پوچھا تو کہنے لگے”نرگس تو کہتی رہے، نیہڑے آ آ ظالما وے“ مگر میں
جونہی گیلن لے کر آگے بڑھتا سینما کی انتظامیہ مجھے پکڑ کر پیچھے دھکیل دیتی۔ تیس
روپے بھی ضائع ہوئے اور پانی بھی نہ ملا۔
بارش انجوائے کرنے کے لئے لاہور بھی اچھی جگہ ہے بشرطیکہ آپ سڑک پر ہوں۔ گاﺅں
دیہاتوں میں بھی بارش انجوائے کی جاسکتی ہے۔ یہاں ہمیں ایک صاحب نے ٹوکا کہ بھارتی
فلموں میں بھی بارش انجوائے کی جاسکتی ہے، ہمیں ان سے اتفاق نہیں کیونکہ بھارتی
فلموں میں بارش ہوتے ہیں، وہ پینے پلانے کی بات کرتے ہیں چاہے وہ کسی کا خون ہی
کیوں نہ ہو، جوکہ اسلام میں حرام ہے۔ بارش انجوائے کرنا ہو تو مری بھی بہترین جگہ
ہے لیکن وہاں بارش سے زیادہ برف ہوتی ہے، یہ انجوائمنٹ صرف قسمت والوں کے مقدر میں
ہی آتی ہے لیکن کراچی میں بارش انجوائے صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو عقل سے پیدل ہوں
کیونکہ کراچی تو دور کی بات ہے، اگر حیدر آباد میں بارش ہوجائے تو کراچی جل تھل
ہوجاتا ہے، کوئٹہ میں بارش ہو تو گٹر کراچی کے بھل بھل کرنے لگتے ہیں اور جب کراچی
میں ہی بارش ہو تو پھر کیا صورتحال ہوگی اس کا اندازہ پختہ گھروں اور بڑی کوٹھیوں
میں رہنے والوں کو نہیں ہوسکتا ۔ ویسے بھی کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ چھوٹے لوگوں کے
مسائل دیکھتا پھرے....یہ بھی کہ لوگ گھروں تک کیسے پہنچے ہوں گے؟ گاڑیاں تو ہوں گی
لیکن سڑکوں کی صورتحال کیا ہوگی؟ بس پر شہد کی مکھیوں کی طرح چمٹے ہوئے لوگوں میں
خواتین اپنی جگہ کیسے بنا پائی ہوں گی؟
ایک منٹ....ایک اور مسیج آیا ہے پھر آگے بڑھتے ہیں”لکھا ہے، بارش میں کس کی یاد
زیادہ آتی ہے۔“ ہم نے جواب دیا”بہت سے لوگ، بہت سی باتیں ہیں.... مگر اس وقت تو گھر
یاد آرہا ہے کہ تین گھنٹے سے زائد ہوگئے ، ابھی تک گاڑی میں بھیگی بلی بنا بیٹھا
ہوں۔“
جواب آیا”پکوڑوں اور سموسوں کی زیادہ یاد آتی ہے، وہ بھی چٹنی کے ساتھ۔“
”کسی کی جان گئی اور ان کی ادا ٹھہری“ کے مصداق ہم جو گھر جانے کے لئے ابھی سڑک تک
ہی پہنچے تھے کہ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ پون گھنٹے تک تو ایک شیڈ کے نیچے
انتظار کرتے رہے شاید ابھی تھم جائے یہ رحمت خداوندی ، تھمی تو نہیں کم ضرور ہوگئی،
ہلکی ہلکی بارش میں سڑک پر پہنچے تو ٹریفک جام....اور گاڑیاں تو نظر نہ آتی تھیں
البتہ لوگ ہی لوگ تھے جو ایک دوسرے کی ٹانگیں پکڑے لٹکے ہوئے تھے، اسی لئے سوچا کہ
آج وقت کی پروا نہ کی جائے بلکہ ایسی گاڑی ہو جس میں کم از کم جگہ تو مل جائے۔ یہی
سوچ کی گارڈن سے صدر کی جانب پیدل سفر شروع کیا....پنڈلیوں تک بارش اور گندے نالوں
کے پانی میں خراماں خراماں سفر جاری رہا۔ مجھ سے چند فٹ ہی آگے ایک اور لڑکا بھی
چلا جارہا تھا۔ لائٹ نہ تھی کہ وہ عام دنوں میں کہاں ہوتی ہے ۔ اچانک ہی وہ لڑکا
غائب ہوگیا....یا خدایا! یہ تو کوئی بھوت تھا، اچانک ہی دھواں بن کر اُ ڑ گیا۔ مگر
ڈرتے ڈرتے کچھ آگے بڑھے تو اس کا ہاتھ نظر آیا اور دوچار اور لوگ بھی یہاں متوجہ
ہوگئے تو بھوت کا راز کھلا کہ موصوف کسی گٹر میں گہرائی دیکھنے گئے ہیں۔ کھینچ
کھانچ کر باہر نکالا ، ہوش بحال ہوئے تو مغلظات کا طوفان اٹھا دیا، کسی نے ہمیں
بتایا کہ یہ حکومت کے خلاف بول رہا ہے۔ چونکہ ہم نے کہیں پڑھا ہے ”برا مت سنو“ اس
لئے ہم وہاں سے چل دئےے، ممکن ہے حکومتی اہلکار بھی اسی کلیہ پر عمل کرتے ہوں۔
صدر پہنچے تو ایک گاڑی میں ہمیں کھڑا ہونے کی جگہ مل ہی گئی، گاڑی نمائش تک پہنچی (صرف
سوا گھنٹے میں) تو ہمیں بیٹھنے کی جگہ بھی مل گئی۔ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ملک صاحب کا
مسیج آگیا تھا، جہاں سے ہم نے ابتدا کی ہے۔ گاڑی رینگتے رینگتے گولی مارچورنگی سے
کچھ ہی پہلے پہنچی تھی کہ ایک ذیلی سڑک میں داخل ہونے کا راستہ مل گیا۔ ڈرائیور
انتہائی سلو موشن میں گاڑی لے جارہا تھا۔ ہماری نظر ایک کھمبے پر پڑی جو سیدھا
ہماری طرف ہی آرہا تھا۔ ہم سمجھے ڈارئیور خان ہے، اس سے گاڑی بچا کر نکال لے گا مگر
گاڑیوں کے دھویں، بارش کے پانی اور مسافروں کے شور نے شاید اس کا دماغ الٹ دیا اور
کھمبے نے اسی بات کا فائدہ اٹھا کر گاڑی کے ٹکر لگا کر خود سجدے میں جاگرا۔ چند
نسوانی چیخیں بلند ہوئیں، گاڑی کی لائٹیں جو بیٹری خراب ہوجانے کی باعث بند ہوچکیں
تھیں، اچانک ڈر کر جل اٹھیں۔ ڈرائیور کے اوسان اور خواتین کی چیخیں بحال ہوئیں تو
گاڑی پھر روانہ ہوئی۔ ایک اسی طرح کا بد تمیز کھمبا نظر آیا، ہم چلائے کہ بھائی اب
جو کھمبا آرہا ہے ، اسے ضرورڈاج دینا۔ لوگوں نے پتا نہیں کیوں میر ا مذاق اُڑایا ۔
گاڑی پیٹرول پمپ اسٹاپ کے قریب پہنچنے والی تھی، پُل شروع ہونے والا تھا کہ ڈرائیور
نے پُل کی حدود کے لئے جو دیوار بنائی ہے، وہاں گاڑی چڑھا دی۔ جو لوگ میرا مذاق
اُڑا رہے تھے، وہ بھی سنجیدہ ہوگئے اور کنڈکٹر کو ہدایات دیں۔ کنڈکٹر پخ کی طرح
ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر اسے راستہ بتانے لگا اور یوں تیرتے تیرتے، ہچکولے لیتے،
بچتے بچاتے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ والدہ تو انتظار میں تھیں لیکن دو دو فٹ
پانی اور اندھیرے نے بھی ہمارا شاندار طریقے سے استقبال کیا۔
کراچی میں بارش خود ہی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے، لوگ انجوائے کرنے سے
زیادہ اپنے اپنے تحفظ اور مشکلات سے نمٹنے کی تیاری کرتے ہیں اور بارش ہوجانے کے
کئی دن بعد تک کھڑے پانی کی بُو اور نئے پیدا ہونے والے مچھروں اور دیگر کیڑے
مکوڑوں سے انجوائے کرتے رہتے ہیں لیکن صرف وہی لوگ جو بچ جائیں....ورنہ ابھی تازہ
خبر ہے ، دس سے زائد افرا د عزت سے نکل لئے کہ کون گندے پانی کی بُو اور اس سے پیدا
ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوکر مرے!! |
 |
|
|