رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

15February 2008 / 07 Safra 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
 

کمہار کے گدھے


اس مرتبہ ہم نے سوچا کہ جب ووٹ ضائع ہی کرنا ہے تو کیوںنہ ملک صاحب کو الیکشن لڑنے کی ترغیب دی جائے۔ ویسے بھی انہیں مختلف ایجنسیوں میں کام کرتے ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں، ملکی نہ سہی دفتری سیاست سے ضرور آگاہی ہوگی۔ ’ایجنسی‘ کا پڑھ کر گھبرانے کی ضرورت نہیں، موصوف اسٹیٹ اور ٹریول ایجنسیوں میںکام کرنے کے بعد اب چائے کی کسی غےر ملکی ایجنسی سے وابستہ ہیں۔ویسے ایجنسی کے تعارف کے وقت ملک صاحب خود بھی گھبرا جاتے ہیں ،جب ہم کسی اجنبی سے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں کہ”ان کا تعلق ایجنسی سے ہے“ اور ملنے والا اٹین شن ہوجاتا ہے جبکہ ملک صاحب اس سے زیاد ہ مستعد ہوکر پریشانی سے وضاحت کرتے ہیں، پتی ایجنسی سے !

ان کی وضاحت کے بعد صورتحال کبھی کبھی مضحکہ خیز بھی ہوجاتی ہے، جیسے کچھ دنوں قبل ہمارا بلوچستان کے ضلع حب چوکی جانا ہواجہاں ہندو بھی کافی اکثریت میں ہیں۔ ایک کام کے سلسلے میں ہندو لڑکے سے ملاقات ہوئی اور ہم نے حسب عادت ملک صاحب کا تعارف کرایا ، ملک صاحب نے بھی جھٹ وہی وضاحت کردی، پتی ایجنسی۔ تو ہندو لڑکے نے گھور کر ملک صاحب کو دیکھا اور پھر کہنے لگا”آپ تو ملک کی سب سے خطرناک ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں، جس کے پیچھے پوری دنیا کی خواتین ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہیں۔“

ملک صاحب کے ساتھ ساتھ میں بھی حیرت میں ڈوب گیا، بلکہ ڈر گیا خدا جانے کہیں مذاق ہی مذاق میں کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہوجائےں۔ دل ہی دل میں توبہ کی اور آیندہ اس ایجنسی کے حوالے سے تعارف کا خیال دل سے نکال دیا۔ ملک صاحب اور مجھے سہما دیکھ کر اس ہندو لڑکے نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا”ہندی میں ”پتی“ شوہر کو کہتے ہیں، اگر ملک صاحب پتی ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں تو ہوئی نا سب سے خطرناک ایجنسی....!“

یہ سن کر ملک صاحب نے سینہ تان کر فخر سے مونچھوں کو تاﺅ دیا، اگرچہ ان کی مونچھیں اتنی بڑی نہیں کہ تاﺅ دیا جاسکے لیکن انہوں نے پھر بھی فرضی مونچھوں کی نوک کو بچھو کا ڈنک بنانے کے لےے تاﺅ دیا۔ مونچھو ں کے تاﺅ سے ہمیں ایک سردار جی بھی یاد آگئے، ان سے ایک محفل میں ملاقات ہوئی تو ان کی مونچھیں بھی نگراںوزیراعظم محمدمیاںسومرو کی طرح دونوں طرف سے اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں، ہم نے مزاحاً کہا”سردار جی! آپ نے مونچھیں تو بڑی محنت سے کھڑی کی ہوں گی۔“ سردار صاحب نے جواباً کہا”اپنے لئے تو سب جیتے ہیں، مزا تو تب ہے جب دوسروں کے لئے محنت کی جائے۔“ ہم نے کہا ”آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔“ تو انہوں نے وضاحت کی”مجھے کسی گرو نے بتایا تھا کہ مونچھیں بڑی ہوں تو اس کے کناروں پر غیبی اور نیک مخلوق بیٹھتی ہے۔ اس لئے میں ان کو اوپر کی طرف کرکے رکھتا ہوں کہ غیبی مخلوق کہیں گر نہ جائے اور مجھے اس کا عذاب بھگتنا پڑے۔“ سردار صاحب کی بات سن کر خیال گزر ا، ان کی بات میں کوئی حقیقت ہوئی تو اس سلسلے میں سب سے زیادہ گناہگار میں ہوں گا۔ بہرحال ملک صاحب نے پتی ایجنسی کے خطرنا ک ہونے پر جو سینہ تانا تھااب انہوںنے سرد جھونکوںکے باعث نارمل کرلیا۔ہم نے موقع غنیمت جانا اور انہیں شاد اں و فرحاںدیکھ کر اپنی بات آگے بڑھائی”ملک صاحب!ہم آپ سے کچھ عرض کرنا چاہ رہے تھے!“

”اجازت ہے!“انہوںنے سیاستدانوں کی طرح ایک ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا تو ان کے اس انداز کے باعث ہمیں اپنی امیدیں پوری ہوتی نظر آئیں۔ میں نے وقت ضائع کےے بغیر کہا”اس مرتبہ الیکشن میں آپ بھی حصہ لے لیں!“

”ہاں، کیوں نہیں میں صبح ہی صبح ووٹ ڈالنے جاﺅں گا!“انہوں نے حصہ لینے کوکسی اور معنوں میں لیاتو ہم نے وضاحت کی”میرا مطلب تھا آپ خود عوامی نمایندہ بن کر ووٹ مانگیں۔“

”تم نے مجھے بھکاری سمجھا ہوا ہے جو اس قسم کا مشورہ دے رہے ہو۔“ملک صاحب کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات نمایاں ہوئے۔ میںنے بات پلٹی”میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ آپ بھی الیکشن لڑیں....“

لڑنے کا سن کر ملک صاحب کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں کیوں کہ ہمیںمعلوم ہے ملک صاحب کا لڑنا کس طرح ہوتا ہے، ایک مرتبہ ان کی ایک دوست سے لڑائی ہوگئی، خوب منہ ماری ہوئی۔ بعد میں ملک صاحب نے مجھ سے کہا تھا”اگر اس وقت میرے پاس پستول ہوتی تو میں گولی مار دیتا....!“ میں نے پوچھا تھا کس کو،تو جواباًفرمایا”اپنے آپ کو!“

ظاہر ہے جس بندے کے لڑنے وقت یہ جذبات ہوں تو لڑنے کے نام پر اس کے چہرے پر ہوائیاں ہی اڑیں گی۔ ملک صاحب نے گھبراتے ہوئے کہا”یہ لڑائی جھگڑے مجھے پسند نہیں، لہٰذا مجھے ان کاموں سے دور ہی رکھو۔“
میںنے ملک صاحب کی برین واشنگ کی کوشش کی لیکن انہوں نے میری برین واشنگ کردی، کہنے لگے” الیکشن کے دو مطلب ہوتے ہیں، نمبر ایک سیاستدانوں کی لڑائی اور دوسرا مطلب ہے کارکنوں کی لڑائی....سیاستدان الیکشن لڑتے ہیں تو ان کے کارکن ان دنوں آپس میں لڑتے ہیں۔ جو سیاستدان الیکشن میں ہار جائے اس سے صرف پشیمانی ہوتی ہے جبکہ جیتنے والا پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔“

ملک صاحب نے طویل سانس کھینچی اور میرا جائزہ لیا، ان کی آنکھوں میں ایک عجیب ساطنز دکھائی دیا، میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے”تم مجھے کمہار کا گدھا دکھائی دے رہے ہو۔“

میں نے بدلہ چکانے کی غرض سے فوراً ہی کہا”آپ آئینہ دیکھ رہے ہیں۔“ ملک صاحب نے بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا”الیکشن کوئی بھی جیتے، عوام کمہار کے گدھوں کی طرح ایک کمہار سے دوسرے کمہار کے پاس ہانک دی جاتی ہے اور گدھوں کے مقدر میں بوجھ ڈھونا ہی ہوتا ہے ، چاہے وہ کمہار فتو چاچا ہو یا امام بخش مٹکے والا!“

ملک صاحب کی بات سن کر مجھے اس لمحے پر غصہ آنے لگا جب میں نے ووٹ ضائع ہونے پر ملک صاحب کو الیکشن لڑوانے کا سوچا تھا، ووٹ تو ضائع ہوا سو ہوا شخصیت بھی مسخ ہوگئی....ہائے الیکشن تیرا ککھ نہ رہے!!

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035