|
|
|
22 April 2008 /
15
Rabi-us-Sani 1429 |
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
حسرت ہی سہی
ایک مرتبہ ملک صاحب سے ہماری اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ مرد اچھا کھانا پکاتے ہیں یا
عورتیں؟ہمارا خیال تھا کہ عورتوں کے ہاتھ میں ذائقہ ہوتا ہے جبکہ ملک صاحب مردوں کی
تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔ہمارا کہنا تھا ”عورتوں کے ہاتھ میں
ذائقہ نہ ہوتا تو گھروں میں باورچی خانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی، کھانا باہر سے
منگوالیا جاتا۔“ ملک صاحب نے اپنا فلسفہ جھاڑا” صرف گھر میں باورچی خانہ ہونے سے
عورت کے کھانوں میں ذائقہ نہےں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو پھر سارے کے سارے بڑے ہوٹل
بند ہوجاتے جہاں مرد کھانا پکاتے ہیں۔“
ہم نے کہا ” ہوٹلوں کا کھانا تو کبھی کبھی محض تفریح یا ذائقہ بدلنے کے لئے کھایا
جاتا ہے، ورنہ روز روز ہوٹلوں سے کھانے والوں کے معدے کئی قسم کی بیماریوں کا گڑھ
ہوتے ہیں۔“
” اکثر، عورتوں کے پکائے کھانے والے بھی پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔“ ملک
صاحب نے بدستور اپنے موقف کا دفاع کیا۔
”وہ....وہ عورتیں ہوتی ہیں جنہیں کھانا پکانا نہیں آتا۔“ہم نے کہا تو ملک صاحب نے
کہا”عورتوں کو کھانا پکانا ہی نہےں آتا، ذائقہ دار کھانے صرف مرد پکاتے ہیںاور تم
نے وہ محاورہ نہیں سنا” یہ منہ اور مسور کی دال“ بھی ایک مرد باورچی کی وجہ سے
ایجاد ہوا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے مرد کے ہاتھ میں ہی قدرت نے ذائقہ رکھا ہے۔“
بہر حال مختصراً یہ کہ ہم اس دن بحث میں ملک صاحب سے ہار گئے اور کچھ دنوں بعد ہی
ہم پر یہ انکشاف ہوگیا کہ وہ کیوں عورتوں کے کھانے پسند نہیں کرتے؟ دراصل ان کی
شادی ہوئی تو ایک دن ان کی بیگم نے بڑی چاہت سے بریانی پکائی۔ بھابی صاحبہ پڑھی
لکھی تو کافی ہیں، لیکن امور خانہ داری میں تھوڑی کسر رہ جانے سے ان کی بریانی نے
پتہ نہیں کون سا روپ دھارلیا اور ملک صاحب نے نئی نویلی دلہن کو خوش کرنے کے لئے اس
بریانی کو نہ صرف زہر مار کیا بلکہ ہر نوالے پر دوچار گھونٹ پانی کے بعد تعریف کے
پُل باندھے تاکہ ان پلوں سے پانی گزرتا رہے۔ چونکہ بھابی صاحبہ نے پہلی دفعہ کوئی
ڈش تیار کی تھی، اس لئے انہوں نے سوچا دوسرے دن بھی بریانی کو تختہ مشق بنایا جائے
تاکہ اس ڈش پر ہاتھ پکا بیٹھ جائے۔ دوسرے دن بھی ملک صاحب نے چاولوں اور گوشت کے
ملغوبے کو بادل نخواستہ پیٹ میں اتارا اور مزید پُل باندھ کر پانی گزار دیا۔ ان کی
بیگم خوش ہوگئیں کہ میاں جی ان کے کھانے سے مطمئن ہیں ۔ اب اتفاق کہئے یا ملک صاحب
کی کم بختی تیسرے دن بھی بھابی نے بریانی پر ہاتھ صاف کرنے کا سوچا ۔ ملک صاحب نے
دستر خوان پر چاول اور گوشت کے ایک نئے قسم کے ملغوبے کو دیکھا تو فوراً ہی کہا”آج
تو کھانا باہر دوستوں کے ساتھ کھا کر آیا ہوں....“ بس وہ دن اور آج تک ان کی بیگم
نئی نئی ڈشیں تیار کرکے رکھتی ہیں لیکن ملک صاحب دوستوں کے ساتھ کھانا کر گھر جاتے
ہیں۔اگرچہ اب بھابی صاحبہ گھرداری میں ماہر ہوچکی ہیں لیکن وہ جو مشہور ہے کہ” دودھ
کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔“ ملک صاحب بھی اپنی بیگم کی بنائی ہوئی
ڈشیں دیکھ کر تعریف کردیتے ہیں، انہیں چکھنے سے پرہیز ہی کرتے ہیں کیونکہ بقول انہی
کے جب جھوٹ ہی بولنا ہے تو کیا زہر کھا کر بولنا ضروری ہے۔
ظاہر ہے جو بندہ مسلسل باہر کے کھانے کھا رہا ہو، وہ تو مردوں کے پکائے ہوئے کھانوں
کی ہی تعریف کرے گا۔ ممکن ہے ہمارے وطن میں کچھ ملک صاحب جیسے چوٹ کھائے ہوئے دیگر
شوہر بھی ہوں لیکن یہ بات یقینی ہے ،اصل ذائقہ قدرت نے عورتوں کے ہاتھ میں رکھا ہے
لیکن ملک صاحب کل بھی اس بات سے منکر تھے اور آج بھی انکاری ہیں بلکہ اب تو دھڑلے
سے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ان چینلز کا حوالہ بھی دیتے ہےں جس پر کھانیں
بنانے کی ترکیبوں کے پروگرام آتے ہیں بلکہ دو تین چینلز تو ایسے ہیں جو پورا پورا
دن کھانے بنانے کی تراکیب سے عورتوں کا ذہن ”خراب“ کرتے رہتے ہیں۔ ایک صاحب کے بقول
ایسے چینلز کا تمام عملہ باورچی خانے تک ہی محدود ہوتا ہے ، ممکن ہے ان کی بات درست
ہو لیکن ہماری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو ملک صاحب کی طرح کے ہیں
اور بدلہ چکانے کی خاطر عورتوں کو تراکیب بتا کر نئی نئی ڈشیں بنانے کی ترغیب دیتے
ہیں، جس سے عورتیں خاص طورپر ملک صاحب کی بیگم کی طرح کی عورتیں ان ڈشوں کو تیار
کرکے خوش ہوتی ہیں کہ میاں جی خوش ہوں گے لیکن ....حقیقت وہی ہوتی ہے جو اوپر بیان
کی جاچکی ہے۔
چند سال پہلے جب چینلز کی بھرمار نہیں ہوئی تھی اس وقت صرف رسائل اور جرائد کے
ذریعے کھانے پکانے کی تراکیب عورتوں تک پہنچائی جاتی تھی، ان دنوں ہمیں بھی ان
تراکیب کو پڑھنے کا چسکا لگا ہوا تھا، لیکن اس دن سے ہم نے یہ صفحے پڑھنے چھوڑ دئےے
جس دن ہم نے ترکیب پڑھی جو مچھلی پکانے کے بارے میں تھی، جس رسالے میں ہم نے یہ
ترکیب پڑھی وہ اپنے وقت کا مقبول رسالہ تھا اور اب بھی ہے، اس میں لکھا تھا:
پیاز.... آدھا کلو
ہری مرچی.... حسب ذائقہ
نمک....حسب ذائقہ
تیل یا گھی.... دو پیالی
دوکلو کی ایک مچھلی لیں اور ایک بڑے برتن میں پانی ڈال کر اس میں چھوڑ دیں۔
اس کے بعد بہت کچھ لکھا ہوا تھا لیکن ہمارا دل اس دن سے ان تراکیب سے اٹھ گیا کہ
زندہ مچھلی پانی میں چھوڑ کر .... خیر ہمیں اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ عورتوں
کے خلاف سازش ہے اور اب ہر چینل ایک ایک گھنٹے کے مخصوص کھانے پکانے کے پروگرام اور
تراکیب بتانے والے مخصوص چینلز کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ یہ عورتوں کے خلاف ہی
نہیں پوری پاکستانی قوم کا مذاق اڑانے والے چینلز ہیں۔ ظاہر ہے جب میزبان کہتا
ہے”دو کلو گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں۔“ تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ بکرا عید کا
پروگرام ہے جو غلطی سے نشر ہورہا ہے کیونکہ دو کلو گوشت غرباءکیسے خریدیں گے؟ اورجب
میزبان کہتا ہے”تین پاﺅ تیل یا گھی گرم کریں....“ اب بھلا بتائےے غریب آدمی صرف ایک
وقت میں تین پاﺅ تیل استعمال کرے گا تو باقی دو وقت کے لئے پیسہ کہاں سے لائے گا؟
جس قسم کے کھانے پکانے کی تراکیب ان چینلز پر بتائی جاتی ہے، وہ انتہائی مہنگی ہوتی
ہےں، ایک ڈش پر تقریباً چار سو سے ایک ہزار روپیہ لاگت آرہی ہوتی ہے جبکہ ہمارے ملک
کی مجموعی صورتحال یہ ہے کہ اکثریت محض ساڑھے تین سے پانچ ہزار روپیہ ماہوار پر
گزار ہ کرتی ہے، اب خود ہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کیا انسان صرف تین دن کھائے گا؟ اس
قسم کے چینلز اور پروگرامز صرف اور صرف غرباءاور سفید پوشوں کا مذاق اڑانے کے سوا
کچھ نہیں کرتے کیونکہ صرف آٹے کا حصول ہی اتنا مشکل کردیا گیا ہے کہ گوشت ، مرغی
اور مچھلی تو رہی ایک طرف.... کسی چینل پر یہ نہیں بتایا جاتا کہ سستی دال کیسے پکے
گی؟ کم خرچ میں زیادہ کھانا کیسے پکایا جاسکتا ہے؟ کون سی چٹنی کس طریقے سے تیار کی
جاسکتی ہے؟
بہر حال بات شروع ہوئی تھی ملک صاحب اور ہماری بحث سے کہ کھانا کون اچھا پکاتا ہے؟
اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں جس کی جیب میں روپیہ ہو وہی اچھے کھانے کھاسکتا
ہے ورنہ کچھ لوگ تو ایسے بھی جنہیں ملک صاحب کی بیگم کے ہاتھوں کا پکا کھانا بھی مل
جائے تو ان کی زندگی بڑھ جاتی ہے اور انہیں یہ زہر لگنے کی بجائے تریاق لگتا ہے اور
سب سے اچھا کھانا بھی کیونکہ بھوک میں تو چنے بھی مرغ سے زیادہ مزہ دیتے ہیں۔ کاش
غربت کے ہاتھوں تنگ ہوکر لاہور میں اپنے بچوں سمیت ٹرین کے نیچے آکر مرجانے والی
بشریٰ کو ملک صاحب یا اسی طرح کی کسی اور بیگم صاحبہ کے ہاتھوں کا پکا کھانا مل
جاتا تو شاید وہ کچھ دن اور جی لیتی....چھوڑیں ان باتوں کو آپ چینل دیکھیں ، میزبان
بتا رہا ہے کہ بکرے کی سالم ران کو مصالحہ لگا کر کیسے بھونا جاتا ہے؟
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی |
 |
|
|