|
|
|
19 April 2008 /
12
Rabi-us-Sani 1429 |
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
ایک رپورٹ، ایک خبر
ہمارے دوست ملک صاحب کی اپنی ہی لینگویج ہے، وہ اردو الفاظ کے مطالب بھی اپنی سوچ
کے مطابق سمجھتے اور سمجھاتے ہیں، جیسے وہ نقل و حمل جیسے شریفانہ لفظ کو بھی لغو
قرار دیتے ہوئے اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہےں کہ حمل کی نقل کرنا۔ ہم نے بارہا
سمجھایا، مگر کہاں؟ ملک صاحب مرغ کی ٹانگ کی طرح اپنی ہی بات کو درست قرار دیتے ہیں،
حالانکہ ہم نے کئی مرتبہ کہا بھی کہ کوئی دلیل یا ثبو ت دو مگر وہ ہر مرتبہ بہت جلد
بتادوں گا کہہ کر ٹال دیتے ، لیکن رات ہم جونہی گھر پہنچے تو وہ گلی کے نکڑ پر ہمیں
پرجوش انداز میں ملے۔ انہوں نے ہاتھوں میںایک اخبار تھام رکھا تھا جو فوراً ہی
انہوں نے ہماری جانب بڑھاتے ہوئے اپنا سینہ لمبا سانس کھینچ کر تان لیا گویا کہہ
رہے ہو، اب بتاﺅ۔
ہم نے اخبار لے کر سرسری نظر دوڑائی لیکن وہی معمول کی خبریں دیکھ کر واپس کردیا،
انہوںنے ایک رپورٹ سامنے کرتے ہوئے کہا”یہ دیکھو نقل و حمل کا ثبوت!“
ہم نے تصویر دیکھی تو ایک بڑھی ہوئی شیو والے صاحب تھے جن کی توند نکلی ہوئی تھی
اور اس رپورٹ کی سرخی تھی”امریکی مرد حاملہ ہوگیا۔“
اس رپورٹ کے مطابق امریکا میں رہنے والا نوجوان ”تھامس“ پانچ ماہ کا حاملہ ہے اور
اسے دیکھنے کے ایک شوقین رابرٹ کے بیان کے مطابق وہ قدرت کا یہ انوکھا واقعہ دیکھنا
چاہتا ہے، اسے اشتیاق ہے کہ وہ ایسے باپ کو دیکھے جس کی شیو بڑھی ہوئی ہے، اور وہ
ایک بچی کی ”ماں“ بننے جارہا ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق تھامس سے پوچھے گئے ایک سوال کے
مطابق وہ متوقع بچی کی ماں کہلانا پسند کرے گا یا باپ؟ تو اس کا کہنا تھا کہ وہ اس
بچی کو جنم ضرور دے رہا ہے لیکن وہ اس بچی کا باپ کہلاناپسند کرے گا اور اس کی بیوی
نینسی بچی کی ماں کہلائے گی۔ (واضح رہے کہ تھامس پیدائشی لڑکی ہے جس نے آپریشن کروا
کر جنس تبدیل کروائی اور نینسی نامی لڑکی سے چند سال قبل شادی بھی کی ہے اور نینسی
میں ماں بننے کی صلاحیت نہیں اس لئے تھامس نے خود ہی اولاد پیدا کرنے کا فیصلہ کیا)۔
ہم رپورٹ پڑھ چکے تو ملک صاحب نے انتہائی تفاخر سے کہا”کیوں مان گئے ناں! نقل و حمل
کا مطلب حمل کی نقل ہوتا ہے۔“
چونکہ دوست ہی دوست کی پہچان ہوا کرتے ہیں، اس لئے ہم نے بھی ملک صاحب کے سامنے
ڈھیٹ بنتے ہوئے کہا”مانیں گے تو تب جب اس پر آپ جناب خود عمل کرکے دکھائیں گے۔“ ملک
صاحب کا چوڑا سینہ یکدم اس طرح پچک گیا جیسے گیس کے غبارے سے تیزی سے ہوا نکل گئی
ہو اورفوراً ہی انہوں نے ہمیں ”الو“ کہہ دیا جس پر ہم نے ان کا شکریہ اد اکیا کہ
انہوں نے ہمیں ”عقل و دانش“ کا منبع قرار دیا ہے، لیکن وہ تو بہت بعد میں جاکر ہمیں
معلوم ہوا کہ انہوں نے پاکستانی الو کہا تھا۔بہر حال ہمیں خطرہ ہے کہ اگر اس رپورٹ
کو سند مانتے ہوئے پاکستانی خواتین نے بھی مصروفیت یا بیماری کا بہانہ بنا کر اپنے
شوہروں سے اس ”نقل و حمل“ کی فرمائش کرڈالی تو ان بے چاروں کا کیا ہوگا....؟ یہ
تصور ہی بہت بھیانک ہے، ذرا اس رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ایک خیالی تصویر
بنائی جائے تو کچھ اس طرح کی خبریں ہوںگی:
ڈاکوﺅں کی کھلے عام لوٹ مار، پولیس موقع پر پہنچ گئی لیکن ڈاکو فرار ہونے کامیاب
کیونکہ دو پولیس والے امید سے تھے۔
سرکاری اسپتالوں میں زچہ و بچہ وارڈ میں خواتین مریضوں کو پریشانی کا سامنا، آدھے
مرد ڈاکٹر خود بستروں پر قابض ہوگئے۔
تعلیمی نظام متاثر،آدھے ٹیچر غائب اور ایک چوتھائی مرد استادڈلیوری چھٹیوں پر ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے کرایہ بڑھانے کا عندیہ دے دیا، جواز یہ بتایا گیا ہے کہ اس میں
ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کے لئے ”ڈلیوری چارجز“ بھی شامل کئے جائیں۔
بریکنگ نیوز....ہمارے نامور نیوز کاسٹر ”ماں“ بن گئے، ان کی اہلیہ فوراً پاکستان
پہنچ گئیں ہیں۔
ٹریفک پولیس نے ڈارئیوروں کو بلاوجہ پریشان کرنا شروع کردیا، اطلاع ہے کہ یہ وہ
کانسٹیبل تھے جو امید سے تھے۔
اولاد پیدا نہ کرنے پر ایک بیوی نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی، ایک خبر۔
اس خیالی تصویر کو یہیں بریک کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنی حالت بھی عجیب سی ہوتی
محسوس ہورہی ہے اور اگر آپ مرد ہیں تو یقیناً آپ ....خیر رہنے دیں ایک خبر دیکھیں
جو آٹے سے متعلق ہے کہ گندم پھر سے نایاب ہوگئی ہے اور محکمہ خوراک کو گندم کی
خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لیجئے صاحب! ایک تو رپورٹ نے پہلے ہی چکرا دیا تھا
اوپر سے خبر بھی کچھ ایسی سامنے آئی کہ اس نے مزید سر گھما دیا ہے، ہمیں تو ٹی وی
پر چلنے والے تمام اشتہارات میں بھی اب آٹا ہی آٹا نظر آرہا ہے....اور ایسی حالت
میںہمارا ذہن ہمارے قلم کا ساتھ نہیں دے رہا اس لئے فی الحال آپ اشتہار پڑھیں:
باٹا....پہلے آٹا پھر اسکول۔
ڈالڈا....جہاں مامتا وہاں آٹا۔
ویوز....آٹا ہی کافی ہے۔
جاز....آٹے کی سناﺅ۔
پیپسی....یہ دل مانگے آٹا۔
ٹیلی نور....اب چا ہو کچھ بڑھ کے آٹا۔
ژونگ فون کمپنی....سب کہہ دو آٹا ۔
یو فون....آٹاتم ہی تو ہو۔
فلور ملز....آ....ٹاٹا، ٹاٹا........
........
........
(کالم ختم سمجھئے کیونکہ کالم نگار چکرا کر بے ہوش ہوچکے ہیں، ادارہ)“ |
 |
|
|