|
|
|
11 April 2008 /
04
Rabi-us-Sani 1429 |
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
چوٹ
لگ جائے تو رونا کیسا؟
چین میں لڑائی کے پانچ سو داﺅ سکھائے جاتے ہیں، ان میں سب سے مقبول بھاگ جانا ہے۔
ویسے بھی ہر ملک میں لڑائی کا یہ داﺅ سب سے کارگر شمار ہوتا ہے ، کیونکہ اس میں جان
و مال دونوں محفوظ ہوجاتے ہےں، البتہ بھاگنے کے لئے بھی دل چاہئے ورنہ جہاں لڑائی
ہوئی وہیں کچھ لوگ فوراً ہمت ہار بیٹھتے ہیں کہ اب کیا کیاجائے؟ اتنی دیر میں مخالف
اپنا کام کر جاتا ہے اور یہ ہمت ہارنے والے مار کھا کر بھی یہ سوچ کر خود کو مطمئن
کرلیتے ہیں”شکر ہے اس نے ہماری توقع سے کم پٹائی کی ہے، اگر ہم ہاتھ اٹھانے کی جرا
¿ت کرتے تو ممکن ہے دشمن مشتعل ہوکر زیادہ نقصان پہنچا سکتا تھا۔“ اس موقع پر ہمیں
وہ شخص یاد آرہا ہے جو اپنی بیوی سے تنگ تھا اور اپنا رونا ایک دوست کے سامنے رو
رہا تھا کہ ”میری بیوی ہر وقت مجھ سے لڑتی رہتی ہے، دل چاہتا ہے کہ اسے اٹھا کر چھت
سے نیچے پھینک دوں۔“
”تو پھر ایسا کرنے میں کیا چیز آڑے آرہی ہے؟“ دوست نے پوچھا تو وہ کہنے لگے”سوچتا
ہوں اگر وہ بچ گئی تو پھر میرا کیا حشر ہوگا؟“
لڑائی ہوجائے تو کچھ لوگ اپنا غصہ اس وقت تو پی جاتے ہیں لیکن وہ موقع کی تلاش میں
رہتے ہیں کہ کب اپنی بے عزتی کا بدلہ لیا جائے جبکہ کچھ لوگ تو محض لڑنے کے بہانے
ڈھونڈتے رہتے ہیں، جیسے ہمارے دوست ملک صاحب کو کچھ عرصہ قبل لڑنے کا اتنا شوق تھا
کہ اگر لڑنے کے لئے کوئی بندہ نہ مل رہا ہو تو وہ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر دل کی
بھڑاس نکال لیتے تھے، اگر بات توں توں میں میں سے بڑھ جاتی تو وہ ایک آدھ گھونسہ
شیشے میں نظر آنے والی شخصیت کے چہرے دے مارتے جس کے بعد بدلے میں ان کا ہاتھ کئی
جگہوں سے زخمی ہوجاتااور یہ ہمیں بڑے فخر سے بتاتے کہ اس نے مخالف کے دانت توڑ دئےے
ہیں جس کے نتیجے میںا ن کا ہاتھ زخمی ہوا ہے۔ ایک مرتبہ دوران سفر ایک شخص سے اس
بات پر لڑائی کر بیٹھے کہ اس بے چارے نے ملک صاحب کے لئے جگہ خالی کردی تھی لیکن
ملک صاحب فوراً ہی بھڑک گئے ”تم نے مجھے بوڑھا سمجھ لیا ہے ، جو میرے لئے جگہ چھوڑ
دی ہے۔“ اس بندے نے معذرت کی تو ملک صاحب نے اس کا کالر پکڑ کر جھٹکا دیا ”بس بس!
زیادہ ڈاکٹر قدیر بننے کی کوشش نہ کرو، کچھ بات ہوئی نہیں اور معافی تلافی شروع“۔
ان صاحب نے معاملہ بگڑتے دیکھا تو گاڑی سے اترنے کی کوشش کی ، لیکن ملک صاحب نے دو
مکے ان کی پیٹھ پر جڑ دئےے ”مجھے پتہ ہے تم اپنے ساتھیوں کو بلانے جارہے ہو۔“ وہ
بیچارا تلملا کر مڑا اور ملک صاحب کو غصے سے گھورنے لگا ، ملک صاحب چنگھاڑے”ابے
کھائے گا کیا؟چل بھاگ یہاں سے!“ اس شخص کو غصہ آگیا اور وہ ملک صاحب کی طرف بڑھا ہی
تھا کہ ملک صاحب نے فوراً ہی پٹڑی بدلی”ارے آپ تو ناراض ہوگئے....چلو معاملہ یہیں
ختم کرو!“ اتنے میں لوگوں نے بھی مداخلت کرکے معاملہ واقعی رفع دفع کرادیا۔
اس واقعے کے بعد تو ملک صاحب اتنے شیر ہوئے کہ ہر موقع پر لڑنے مرنے کے لئے تیار
ہوجاتے ، ہم نے بارہا سمجھایا ، ملک صاحب! یہ طریقہ درست نہیں کسی دن خوب پٹو گے،
لیکن ملک صاحب کو شاید لوگوں کو پیٹنے کا نشہ چڑھ چکا تھا، مگر ہم نے یہ بات بطور
خاص نوٹ کی کہ ملک صاحب صرف کمزور لوگوں پر ہی اپنی بہادری جماتے ہیں جہاں دیکھتے
ہیں کہ مخالف ہٹا کٹا ہے تو اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیتے ہیں۔ مشہور ہے کہ
”بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟“ سو ملک صاحب نے ایک نو عمر لڑکے کو کمزور جان کر
پیٹ دیا، اس لڑکے نے تو اس وقت کچھ نہ کہا البتہ موقع پا کر ملک صاحب کو بھرے مجمع
میں دو چار جوتے ٹکا دئےے۔ اس سے پہلے کہ ملک صاحب سنبھلتے وہ لڑکا یہ جا وہ جا....اس
کے بعد ملک صاحب نے یہ احتیاط برتنا شروع کردی کہ صرف موٹے لوگوں سے لڑ نے لگے کہ
بقول ان کے ”موٹے لوگ بھاگ نہیں سکتے۔“ لیکن ملک صاحب کے ذہن میںیہ نہ آیا کہ موٹے
اگر زیادہ غصے میں آجائیں تو بھاگنے کے قابل بھی نہیں چھوڑتے اور اس کا خمیازہ ملک
صاحب کو بھگتنا ہی پڑا، وہ ایک موٹے سے لڑ پڑے۔ موٹے شخص نے ملک صاحب کے دوچار
گھونسے تو برداشت کےے لیکن پھر تنگ آکر ملک صاحب کو مارنے کی بجائے ایک پٹخنی دی
اور ان پر چڑھ کر بیٹھ گئے، پھر ملک صاحب کے بقول”کب تک شمع جلی کچھ یاد نہیں“ اور
یوں ملک صاحب کے لڑنے کا نشہ اتر گیا لیکن انہوں نے اس لڑکے کی تلاش ضرور جاری رکھی
جس نے انہیں جوتے رسید کیے تھے۔
دو دن قبل کی بات ہے، ملک صاحب خوشی خوشی میرے پاس آئے ، میں نے اس خوشی کی وجہ
پوچھی تو کہنے لگے”میں نے اس لڑکے کو ڈھونڈ لیا، جس نے مجھے جوتے مارے تھے۔“
”کہاں دیکھا اسے؟ اور بدلہ لیا کہ نہیں....؟“میں نے بے اختیار پوچھا تو ملک صاحب
بتانے لگے”سندھ اسمبلی میں دیکھا تھا ، اس کم بخت نے تو سابق وزیر اعلیٰ کے بھی
جوتے ٹکادئےے۔“
”اب تمہارے کیا ارادے ہیں؟“میں نے پوچھا تو ملک صاحب نے پریشانی سے کہا ”اب وہ موٹا
ہوگیا ہے۔“
اس سے اگلے روز ملک صاحب اور زیادہ پریشان نظر آئے ، وجہ پوچھی تو کہنے لگے ”جوتے
مارنے والوں کا تو پورا گروہ وجود میں آچکا ہے، آج شیر افگن نیازی کے ساتھ بھی یہ
سلوک کیا گیابلکہ انہیں لاتیں اور گھونسے بھی مارے گئے ہیں۔“
”تو آپ پریشان کیوں ہیں؟“ ہم نے کہا۔ کہنے لگے”کہیں الزام مجھ پر نہ آجائے کہ جوتے
مارنے والے گروہ کو میں نے پروان چڑھایا ہے، نہ میں اس لڑکے کی خوامخواہ پٹائی کرتا
اور نہ اسے جوتے مارنے کی عادت ہوتی۔“
ملک صاحب تو اپنی اس پریشانی کے ساتھ کچھ دن کے لئے انڈر گراﺅنڈیعنی صرف گھر کے
ہوکر رہ گئے ہیں ، ہم سے بھی ملنے سے کتراتے ہیں کہ ہم بھی نہایت دبلے پتلے ہیں
کہیں....خیر ملک صاحب سے زیادہ ہمیں تشویش ہورہی ہے،غلام ارباب رحیم اور شیر افگن
نیازی کے ساتھ جس قسم کا سلوک کیا گیا ہے اس کے پس پردہ بھی وہی سلوک نہ ہو کہ
ارباب صاحب اور شیر افگن کا کچھ ”قرض“ لوگوں کے ذمے رہتا ہو جو انہوں نے موقع ملتے
ہیں چکا دیا ہو....بہر حال ارباب رحیم کے ساتھ جو ہوا اس پر ہمیں افسوس ہے لیکن شیر
افگن کے ساتھ ہونے والے واقعے کا ہمارے ایک دوست نے اس وقت جب وکلاءتحریک نئی نئی
شروع ہوئی تھی اور شیر افگن نیازی نے توہین عدالت کا ارتکاب کیا تھا، پیشین گوئی کی
تھی کہ ان کے ساتھ ”حکایت والا سلوک“ جلد یا بدیر ہونے والا ہے اور وہ حکایت یہ تھی
کہ ایک علاقے میں ایک شخص پہنچا، ایک جگہ آرام کرنے کے لئے بیٹھا تو ایک لڑکے نے
پتھر کھینچ مارا، اس شخص نے اس لڑکے کو بلا کر ڈانٹنے کی بجائے کچھ انعام دیا۔ ایک
اور شخص نے دیکھا تو کہا”آپ نے بجائے مارنے کے اسے انعام سے نوازا؟“ تو اس نے جواب
دیا ”میں اس وقت تھکا ہوا ہوں، اس کے پتھر مارنے سے مجھے جتنا غصہ آےا تھااتنی میں
اس کی پٹائی نہیں کرسکتا تھا، اسے روپے اس لئے د ئیے کہ اس کی عادت پختہ ہوجائے اور
اسی لالچ میں یہ کسی خَر دماغ شخص کو پتھر مارے اور اس کی اگلی پچھلی کسر برابر
ہوجائے۔“ہمارے دوست کے بقول اس وقت وکیلوں نے شیر افگن کو کچھ بھی نہیں کہا تھا کہ
شیر افگن کی عادت بھی خراب ہوجائے اور اب بقول شاعر
”محبت ایک کھیل ہے اور اس کھیل میں
چوٹ لگ جائے تو رونا کیسا؟“ |
 |
|
|