رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

05 September 2008 / 04 Ramazan 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


زنانہ وار

ایک مرتبہ ملک صاحب نے ہمیں عورتوں کی لڑائی کا قصہ اتنا نمک مرچ لگا کر سنایا کہ ہمارے منہ میں بھی پانی آگیا۔ زبانی کلامی زنانہ لڑائی تو کئی مرتبہ ہمیں بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے کہ جس میں محلے کے ایسے ایسے راز سننے کو ملے جو ہم سے کئی سالوں سے پوشیدہ رہے تھے، مگر کبھی گتھم گتھا لڑائی کا منظر نہ دیکھ پائے۔ اس وقت جب ملک صاحب اس لڑائی کا نقشہ کھینچ رہے تھے تو گویا تصور ہی تصور میں وہ ایک بار پھر اس لڑائی کو دیکھ کر محظوظ ہورہے تھے اور بظاہر تو یہ لگ رہا تھا کہ وہ ہمیں قصہ سنا رہے ہیں مگر درحقیقت وہ خود کو حظ پہنچا رہے ہیں۔

ملک صاحب کے بقول یہ لڑائی ان دو نوجوان لڑکیوں کے درمیان ہوئی جو جینز اور شرٹ پہنے ہوئے تھیں اور کار پارکنگ کے مسئلے پر بات پہلے کار کے اندر سے ہی تو تکار اور نازیبا اشاروں سے شروع ہوئی اور پھر ایک نے عمرو عیار کی پھرتی سے کار کا دروازہ کھول کر دوسری گاڑی میں بیٹھی ہوئی لڑکی کے منہ پر گھونسا دے مارا، کچھ لمحوں تک وہ محترمہ گھونسے کے نشے مےںمست رہیں پھر جو ہوش بحال ہوئے تو وہ بھی ایک ہی جست میں کار سے باہر آئیں اور بروسلی کی طرح ایک زور دار لات گھونسا مارنے والی محترمہ کے پیٹ میں دے ماری۔

”کسی نے چھڑانے کی کوشش نہیں کی؟“ہم نے لڑکیوں کو پٹتا دیکھ کر درمیان میں ٹوکا تو ملک صاحب کے چہرے پر ناگواری کے تاثر ات ابھر آئے اور انہوں نے گھورتے ہوئے کہا”ان دو لڑکیوں کے علاوہ اس وقت اور کوئی خاتون نہ تھی جو چھڑواتی، البتہ ایک اور بھاری بھرکم محترمہ آئیں تو انہوں نے بچ بچاو کرانے کی کوشش کی لیکن بروسلی کی بہن جو دو تین لاتیں پہلے ہی چلا چکی تھیں ایک اور ”زنانہ وار“ کرنے کے لئے اچھلیں تو سامنے وہ چھڑانے والی محترمہ آگئیں، جو ایک ہی لات کھا کر توبہ تائب ہوتے ہوئے رفو چکر ہوگئیں۔“

”پولیس کو فون کیا ہوتا۔“ہم نے کہا تو ملک صاحب نے کہا”تم سکون سے سن رہے ہو یا پھر میں جاوں....تم درمیان میں کیوں لڑائی رکوانے کی کوشش کررہے ہو۔“
”اچھااب میں خاموش ہوں پھر کیا ہوا؟“ہم نے بے چارگی سے کہا تو ملک صاحب دوبارہ ماضی میں کھو گئے”جس محترمہ نے ایک گھونسے کے بدلے چار پانچ لاتیں کھائیں تھیں، اس کا غصہ آسمان پر تھا، اس نے غصے میں آستین چڑھانے کی کوشش کی مگر یاد آیا کہ اس کی شرٹ پہلے ہی بغیر بازوﺅں والی ہے تو پھر اس نے یہ غصہ دوسری محترمہ کی آستینیں چڑھا کر اتارنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں آستین چڑھی نہیں، جدا ہو گئی۔ “

”بس بس....ملک صاحب !آپ تو باقاعدہ بے حیائی پر اتر آئے۔“ہم نے آستین پھٹتے دیکھ کر (تصور باندھنے میں کیا حرج ہے) ملک صاحب کو ٹو کا تو انہوں نے مختصراً بتایا کہ اس لڑائی میں کپڑے تار تار ہوئے اور چند اوباش قسم کے لڑکوں کے مزے الگ جنہوں نے اس لڑائی کو ختم کروانے میں اپنا ”کردار“ ادا کیا۔

اس قصے کے بعد ملک صاحب کافی عرصہ ہم سے دور رہے اور جب بھی ہم فون کرتے تو وہ کہتے ”کار پارکنگ“ کے پاس ہوں۔ اب انہیں کون بتائے کہ ایسے واقعات کبھی کبھار ہوتے ہےں اور وہ بھی قسمت والے ہی دیکھ پاتے ہیں۔ لیکن ملک صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جو قسمت بنانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ اور گزشتہ رات کی ہی بات ہے، ہم نے ملک صاحب سے کسی ضروری کام کے چکر میں رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ موصوف ٹیکسی میں بیٹھے گھر سے روانہ ہورہے ہیں۔ ہم نے چندمنٹ رک جانے کی التجا کی تو انہوں نے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم سے ملاقات کی۔ وہ ٹیکسی میں بیٹھے رہے اور ہم باہر سے ہی ان سے بات چیت میں مشغول رہے۔ ہمارا مسئلہ تھوڑا گھمبیر قسم کا تھا، اسے بتانے اور حل کے لئے وقت چاہئے تھا جبکہ ملک صاحب ٹیکسی میں بیٹھے پہلو پر پہلو بدل رہے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر ہم اپنا مسئلہ تو بھول گئے جھٹ پوچھا”اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟ کہاں جارہے ہیں؟“
ملک صاحب نے کہا”کوئٹہ جارہا ہوں، بلیک میں گاڑی کی سیٹ بک کروائی ہے۔“
”لیکن یہ اچانک کوئٹہ کس چکر میں روانگی ہے؟“ہم نے چونکتے ہوئے کہا”کیا دفتری کام سے جارہے ہو یا کوئی اور معاملہ ہے۔“
”بس یار ! تمہیں تو پتہ ہے، ریسلنگ دیکھنے کا مجھے کتنا شوق ہے....اسی لئے کوئٹہ جارہا ہوں۔“
”کیا وہاں بھی” پارکنگ “ میں کوئی زنانہ لڑائی ہونے کی پیشگی اطلاع ملی ہے؟“ ہم نے پرانے قصے کو ذہن میں لاتے ہوئے پوچھا تو انہوں نے کہا”نہیں بھئی! اب تو پارکنگ سے نجات ملی اور یہ سب ہمارے حکمرانوں کی وجہ سے ہوا ہے....“
”کیا مطلب ملک صاحب! آج کیوں پہیلیاں بھجوا رہے ہیں، صاف صاف کہیں کیا مطلب ہے، ویسے بھی آپ کو دیر ہورہی ہے۔“ہم نے جھنجلا کر کہا تو ملک صاحب کو جیسے اچانک ہی کچھ یاد آگیا انہوں نے جواب دیا”کوئٹہ میں صوبائی وزیر کی طرف سے آٹے کی مفت تقسیم کے دوران خواتین میں لڑائی ہوتی ہے....بس وہی دیکھنے جارہا ہوں۔“
اس سے پہلے کی ہم اس کی تفصیل جانتے ملک صاحب نے ٹیکسی ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کردیا اور تیزی سے ملک صاحب ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے چلے گئے۔

ٹھیک کہا ہے کسی نے”شوق دا کوئی مول نہیں“ اور زنانہ لڑائی دیکھنے کا شوق ملک صاحب کو کوئٹہ کھینچ کر لے گیا۔ ہم میں بھی بے چینی رہی کہ اس لڑائی کی تفصیلات مل جائیں تو کیا بات ہے(ایسے قصے سننے کا چسکا جو ملک صاحب نے لگاد یا ہے)۔ بہر حال دوسرے دن کے اخبارات نے لڑائی کی تصویر بھی شائع کردی جس میں دو خواتین ایک آٹے کے تھیلے کے لئے ایک دوسرے پر جھپٹ رہی ہےں....کاش! ملک صاحب مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد کوئٹہ جاتے تو ان کے کئی گھنٹے بچ جاتے کہ وہاں لڑنے والی خواتین انتہائی غریب ہیں اور انہوں نے جینز اور شرٹ بھی نہیں پہنی ہوئی۔ ویسے بھی ملک صاحب نے جو کرایہ وہاں آنے جانے اور رہائش میں خرچ کرنا ہے، یہیں آٹے کے چند تھیلے خرید کر مفت بانٹنے کا اشتہار دے کر ہزاروں خواتین کا ہجوم جمع کرلیتے اور پھر کم خرچ میں مرغوں کی لڑائی....اوہ معاف کیجئے گا خواتین کی لڑائی کا لطف لیتے۔اب آپ یہ مت سمجھئے کہ ہمارے حکمران بھی اسی نیت سے آٹا بانٹ رہے ہیں!!!۔۔۔۔۔۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035