رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

02 September 2008 / 02 Ramazan 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


شوہر اور شیر

ملک صاحب سے ہم نے شادی کی مختصر تعریف بیان کرنے کو کہا تو انہوں نے کافی گہری سوچ میں گم ہونے کے بعد جو شادی کی نادرو نایاب مختصر تشریح کی وہ اس طرح ہے کہ”شادی شدہ کی ایک دن کی زندگی، کنوارے کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔“
ملک صاحب نے ٹیپو سلطان جیسے بہادر و جری سپہ سالار کے قول کو بگاڑا تو غصہ آنے لگا کہ ایک غیرت بھرے قول کا حلیہ بگاڑ کر جہاں انہوں نے بہادروں کی شان میں گستاخی کی ہے وہیں اردو ادب کو بھی ایک اعلیٰ معیار کے قول سے محروم کرنے کی سازش بھی ۔بجائے اس گستاخی کی معافی مانگنے کے ملک صاحب نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حسب سابق اپنا دفاع کیا، شوہر اور شےر کی زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوتا....دونوں ہی جنگل کے بادشاہ ہوتے ہیں اور دونوں ہی بہادر بھی۔ اگر شوہر میں بھی شےر جیسی بہادری نہ ہوتی تو شوہر ہمیشہ کنوارہ ہی رہتا۔

ملک صاحب کی بات سے ہمیں محسوس ہوا کہ انہوں نے درپردہ ہم پر چوٹ کی ہے، کہ ہماری جو شادی اپریل میں ہونی تھی، وہ یار دوستوں نے اپریل فول سمجھی اور قدرتاً تاخیر ہوجانے کو ہماری کمزوری جاناکہ ہم میں شیر جیسی بہادر نہیں۔ اس لئے ملک صاحب ہمیں ڈھکے چھپے لفظوں میں گیدڑ سمجھ رہے ہیں....ہمیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر مسئلہ گیدڑوں کا ہے، کہیں وہ مائنڈ نہ کرجائیں۔

یہ ملک صاحب کا حسنِ © © ©”زن“ ہے یا پھر وہ اپنی اہلیہ سے ڈرتے ہیں کہ شوہر اور شیر کو ایک ہی صف میں شمار کرتے ہیں حالانکہ کسی بزرگ نے ہمارے کان میں کہا تھا”بچے ! جب تک کنوارے ہو شےر کی طرح پورے جنگل میں راج کرتے رہو گے، شادی کرلی تو زندگی گدھے سے بھی بدتر ہوجائے گی۔“

اب ہم ملک صاحب کے قول کو سامنے رکھتے ہےں تو شوہر شیر دکھائی دیتا ہے اور ان بزرگ کے ”تجربہ“ کو دیکھتے ہیں تو ہر نرمَشدُدو( کئی شدہ، شدہ کا شارٹ لفظ، جو ہم نے خود ہی ایجاد کیا ہے)ہمیں خَر کی طرح بوجھ اٹھائے نظر آتا ہے۔

شادی کو کچھ لوگ موتی چُور کا لڈو کہتے ہیں جو کھانے والا بھی پچھتاتا ہے اور نہ کھانے والا بھی۔ ویسے اسے ہم موتی چُور کا وہ لڈو کہہ سکتے ہیں، جو اوپر سے تو میٹھا ہوتا ہے، اندر سے مرچ بھرا،شاید اسی تجربے سے گزرنے کے بعد انور مسعود نے کہا ہوگا
چیزاں دی اصلیت انور نیہڑے ہوکے جانڑی
وانگ شتہوت لگدیاں دوروں ہریاں مرچاں
(چیزوں کی اصلیت نزدیک سے پہچانی کہ دور سے تو ہری مرچیں بھی شہتوت کی طرح دکھائی دیتی ہیں)

ملک صاحب کے سامنے شادی اور شوہر کا معاملہ اس لئے اٹھایا تھا کہ ہمارے ایک صحافی دوست نے ہمیں اپنے ولیمہ کی دعوت دی، ہم بھی مشاہدات کی بنا پر ان سے ”آخری“ ملاقات کی غرض سے جا پہنچے۔ پھر وقتاً فوقتاً ان سے فون اور ای میل پر تو رابطہ رہا، مگر محض ڈیڑھ ماہ بعد جب وہ ہمارے دفتر آئے تو داہنا پاﺅں پٹیوں سے پردہ میں تھا۔ انہیں دیکھ کر ہمیں گزشتہ روز آنے والا مسیج یاد آیا کہ کسی ملازم نے اپنے باس کو فون کیا”سر! میں کچھ دنوں کے لئے دفتر نہیں آﺅں گا کیونکہ میری بیوی ٹانگ توڑ بیٹھی ہے۔“ باس غصے سے دھاڑے”تمہاری بیوی کے ٹانگ توڑ بیٹھنے سے دفتر کی چھٹی کا کیا تعلق؟“ تو ملازم نے وضاحت کی”سر! میری بیگم نے جو ٹانگ توڑی ہے ،وہ میری ہے۔“

ہم نے انہیں لنگڑاتا دیکھ کر پوچھا”کیوں بھئی! ملازم اور باس کی ہونے والی گپ شپ تمہاری تو نہیں؟“ انہوں نے بھی مسکراتے،بلکہ کراہتے ہوئے پوچھا”یہ خبر اتنی جلد کیسے پھیل گئی یار؟“پھر انہوں نے بات آگے بڑھائی”بھائی! دیکھ لو شادی کا انجام....“ انجام پر انہوں نے اتنا زور دیا کہ اتنا تو انہوں نے شادی کے لئے گھر والوں پر زور نہیں دیا ہوگا۔ ہم نے کہا”ڈرے ہوئے کو مزید کیوں ڈرا رہے ہو....“ صحافی دوست نے کہا”ڈرا نہیں رہا، آگاہ کر رہا ہوں....پھر انہوں نے اس ٹانگ کے زخمی ہونے کی وجہ سیڑھیوں سے پھسلنا بتا یا مگر پھسلن ہوئی کن وجوہ کی بنا پر؟ یہاں راوی خاموش ہے اور ہم نے بھی زیادہ نہ کریدا کہ اس سے زخم ہرے ہوتے ہیں او ربقول ملک صاحب شوہر اور شیر برابر ہوتے ہیں، گویا کسی ”درندے“ کو اس کے زخمی ہونے کی نشاندہی اور وجوہ معلوم کرنا خطرے سے خالی نہیں....ویسے بھی ماہر شکاریوں کے تجربے کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے، زخمی شیر زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔بیگمات اس بارے میں کیا کہیں گی کہ زخمی شوہر کتنا خطرناک ہوتا ہے؟ ہمارے پاس فی الحال معلومات نہیں۔

اگرچہ ہم شادی پر پہلے بھی تحقیق کرچکے ہیں لیکن تازہ تحقیق کے مطابق (شوہروں سے)شادی خود بری چیز نہیں البتہ بیوی خطر ناک چیز ہوتی ہے۔ ہمیں تو شوہروں کی یہ منافقت ایک آنکھ نہیں بھاتی، بیویوں کی اتنی برائیاں بھی کرتے ہیں اور دن رات اسے خوش کرنے کے لئے بقول ایک سینئر وبزرگ مَشدود، گدھے کی طرح کام کاج میں جُتے رہتے ہیں۔اس پر ملک صاحب نے ہمیں ٹوکا کہ مرد کبھی بھی بیوی کی برائی نہیں کرتے، بشرطیکہ وہ کسی اور کی ہو۔ اس سے تو ہمیں وہ لطیفہ یاد آگیا، کسی سردار جی کو فون پر ہنس ہنس کر باتیں کرتے دیکھ کر ان کے دوست نے پوچھا” کس سے باتیں کررہے ہو؟“
”بیوی سے....“
”حیرت ہے....اتنی خوش مزاجی سے؟“
”تمہاری جو ہے۔“

تحقیق کے دوران ہی ہم پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ صرف وہی مرد بیویوں سے ڈرتے ہیں، جو اپنی بیویوں سے پیار کرتے ہیں۔ ہم نے اس انکشاف پر بھی تحقیق کی تو واقعی یہ حقیقت ہے کہ جو مرد اپنی بیویوں سے محبت رکھتے ہیں وہی ڈرتے بھی ہیں۔ بقول عطاءالحق قاسمی ، ہر بندے کو تھوڑا بہت بیوی سے ڈرنا چاہئے ، اس سے گھر کا ماحول کبھی خراب نہیں ہوتا اگر ایسی بات ہے تو پھر ہر شوہر کو اپنی بیوی سے لازماً ڈرنا چاہئے کہ اس سے جہاں گھر کا ماحول خراب نہیں ہوتا وہاں معاشرہ بھی برائیوں سے بچ سکتا ہے....اب تمام تر ذمہ داری بیویوں پر ہے کہ وہ معاشرے کو کس حد تک برائی سے بچاسکتی ہیں؟؟۔۔۔۔۔۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035