رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

12 August 2008 / 09 Shaban 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


سر....پرائز

سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والا محاورہ جس نے بھی ایجاد کیا ہوگا ، اس سے بیوقوفی یہ ہوئی ہوگی کہ اس نے ژالہ باری کے ٹھنڈے موسم میں ٹنڈ کرائی ہوگی یا پھر اس شخص نے شادی کے بعد سر مبارک پر استرے کی مرضی چلنے دی ہوگی اور گھر جاتے ہی بیگم سے اس بات پر نوک جھونک ہوگئی ہوگی کہ شوہروں کو گنجا کرنا بیویاں اپنا حق سمجھتی ہیں اور یہ صاحب نائی کو یہ حق دے آئے۔ اس کے بعد بیگم نے اپنے ہتھیاروں سے لیس ہوکر ان صاحب کی ٹنڈ پر چند ناقابل تحریر قسم کی نشانیاں ثبت کی ہوں گی جس کے بعد ان کے سر پر گومڑ نمایاں ہوگئے ہوں اور انہوں نے انہی گومڑوں کو سہلاتے ہوئے مذکورہ بالا محاورہ ایجاد کیا ہوگا....لیکن ہمارے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ہمیں بیٹھے بٹھائے شوق چرایا کہ کیوں نہ بالوں کو صاف کرکے دیکھا جائے کہ اندر سے کیا نکلتا ہے کیونکہ کچھ لوگوںنے ہمیں طعنہ دیا تھا کہ تمہارے سر میں کچھ نہیں ، ان کی بات واقعی درست نکلی کیونکہ جوں جوں استرا ہمارے سر کو صاف کرتا گیا تو ایک چمکدار ٹنڈ نمایاں ہوگئی اور اس پر کچھ بھی نہ تھا لیکن وہ تو بعد میں طعنہ دینے والے لوگوں نے بتایا کہ ا س سے مراد ان کی کھوپڑی کے اندر سے خالی ہونے کی تھی۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ....وہ جو کہتے ہیں کہ جس طرح درزی کی غلطی فیشن کو بڑھاوا دیتی ہے اسی طرح ہم نے بھی سوچا اپنی اس غلطی سے فائدہ اٹھایا جانا چاہئے سو ہم نے اپنے قریبی دوستوں سے فون پر رابطہ کیا، حال چال کے بعد انہوں نے پوچھا ”اور سناو کیا ہورہا ہے؟“
”کچھ نہیں یار! بس گنجا ہونے کا ارادہ ہے۔“
”ناممکن....تم اور گنجے “ دوسری جانب سے پر اعتماد آواز سنائی دی”جو شخص صبح اٹھ کر منہ بعد میں دھوئے اور کنگھی پہلے کرے وہ گنجا ہوجائے یہ ناممکن....“
”اگر ایسا کرلیا تو....“
”پھر جہاں کہو گے ڈنر کی دعوت ہوگی۔“
”تو پھر شام کو تیار رہئے گا....فلاں جگہ کھانا کھائیں گے۔“
”ٹھیک ہے لیکن تمہارے سر پر بال ہوئے تو اسی وقت مار مار کر گنجا کردیا جائے گا۔“
” جو جناب کی مرضی۔“
اور پھر شام کو ہم نے ایک پرتکلف دعوت اڑائی اور وہ عزیز آخر تک ہمیں حیرت سے دیکھتے رہے۔ اس سر کی بدولت ہم نے پورا ہفتہ دعوتیں کھائیں اور بعد میں ہماری یہ سازش ناکام ہوگئی کیونکہ ہمارا شکار ہونے والے دوستوں نے دوسروں کو بھی آگاہ کردیا کہ وہ ہمارے جھانسے میں نہ آئیں لیکن اس کے بعد ہم نے دوچار اور شکار کر ہی لئے۔

چونکہ ہم رات کے وقت گنجا ہوئے تھے اور اچانک ہی ہوئے تھے اس لئے گھر جاتے ہوئے تھوڑی سی جھجک ہورہی تھی لیکن جی کڑا کر ہم نے دروازے پر دستک دی اور خاموشی سے گھر میں داخل ہوگئے، اتفاق سے سب گھر والے ایک ساتھ ہی بیٹھے کسی اہم مسئلے پر گفتگو کررہے تھے، ہمیں دیکھتے ہی چھوٹے بھانجے نے کہا”ماموں گنجا....“ اس کا یہ کہنا تھا کہ سب گھر والے ہماری جانب متوجہ ہوگئے، بھائی نے کہا ”یہ کیا....آج چاند ہمارے گھر میں طلوع ہورہا ہے؟“ چھوٹی بہن نے پوچھا”یہ کیا بھائی....کیا کسی کو چھیڑنے کے نتیجے میں تو....“ اس سے پہلے کہ وہ بات کا بتنگڑ بنا کر دیگر افراد کا ذہن کسی اور جانب منتقل کرنے کی کوشش کرتی، ہم نے اپنی عریاں ٹنڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا”سر....پرائز“ !
اس کے بعد قہقہوں کا طوفان جو اٹھا تو پھر کافی دیر موضوع ہمارا گنجا سر ہی رہا....بلکہ سب سے چھوٹے بھائی نے اپنا بدلہ چکانے کی خاطر مذاق ہی مذاق ہمارے سر پر دوچار تھپڑ مار دئےے”آدھی روٹی آدھا کباب ....گنجے کو مارنا بڑا ثواب“ ثواب کمانے کے بہانے اس نے ہمارا گنجا سر جو پہلے چمک رہا تھا اب سرخ کردیا تھا۔اس کی اس حرکت سے ہمیں نے یہ محسوس کرلیا کہ گھر کے دیگر چھوٹے افراد جو ہماری ڈانٹ کا نشانہ بنتے رہتے ہیں، ثواب کمانے کے لئے پر تول رہے ہیں اس لئے ہم یکدم سنجیدہ ہوگئے ”خبردار! جو اَب کسی نے ہمارے سر کے ساتھ کوئی غیر اخلاقی حرکت کی جرا ¿ت کی تو....“ ہمارا یہ کہنا تھا کہ ماں نے جھٹ ایک تھپڑ ہمارے سر پر مارا” کیوں خوامخواہ بچوں کو ڈانٹ رہے ہو....“ لو ماں نے بھی سنجیدگی میں وہ مذاق کیا کہ ہمارے بھانجے اور چھوٹے بہن بھائیوں نے وہ شور مچایا کہ جیسے ہماری ماں کا تھپڑ ان کی طرف سے مشترکہ فخریہ پیش کش ہو۔

اس واقعے سے ہم نے یہ سبق سیکھا کہ جس طرح ایک مکمل لباس انسان کی عزت و توقیر میں اضافہ اور عریانی و فحاشی کی روک تھام میں موثر کردار ادا کرتا ہے اسی طرح بال سرکی عریانی سے معاشرے کو محفوظ رکھتے ہیں چونکہ ہم نے اچانک ہی سر ننگا کرلیا تھا اس کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑا اور پھر حل یہ نکالا کہ ایک عدد ٹوپی پہنی جائے تاکہ کچھ تو عریانی میں کمی ہوسکے اور دوسری اہم بات یہ کہ (جو تازہ تازہ گنجے ہوئے ہوں یا ارادہ ہو ان کے لئے خاص طورپر)اگر گنجا ہونے کے بعد آپ کسی ملنے والے سے یا عزیز و اقارب کے سامنے پہلے مسکرا گئے تو پھر ان کی طرف سے گنجے سر کے ساتھ ہنسی مذاق ان کا فرض ہوجاتا ہے، اس لئے جیسے بھی ہو انتہائی سنجیدگی اختیار کرنی چاہئے اور اس کا عملی تجربہ ہم نے دوسرے دن دفتر میں کیا۔ اگرچہ سر پر ٹوپی پہنی ہوئی تھی لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی سنجیدگی اختیار کرنا پڑی اور اپنی ہنسی کو اندر ہی اندر مارنا پڑا....اس سے ہمیں خاطر خواہ افاقہ ہوا لیکن شام میں واپسی پر ایک سگنل پر ہماری گاڑی رکی تو برابر کھڑی گاڑی میں ایک چار پانچ سالہ بچی ہمیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی، ہم نے اس موقع پر سنجیدگی اختیار کرنے سے پرہیز کیا کیونکہ وہ دوسری گاڑی میں تھی۔ پہلے تو وہ بچی ہمیں دیکھ کر مسکراتی رہی اس کے بعد اس نے فرمائش کردی”انکل....ٹنڈ دکھاﺅ ناں“۔ اس کی سادگی پر ہمیں پیار آنے لگا اور ہم نے مسکراتے ہوئے سر سے ٹوپی اتاری دی اور بچی کھلکھلا اٹھی۔
بچی کو خوش ہوتا دیکھ کر ہم نے اندازہ لگایا کہ ہمارا سر بچوں کے لئے خصوصی دلچسپی کا باعث ہے، اگر ہمارے بھانجے اور چھوٹے بہن بھائی ہم سے مذا ق کررہے تھے تو یہ ایک غےر اختیاری فعل تھا۔ بس اس کے بعد ہم نے اپنے گنجے سر کو بچوں کی نمائش کے لئے عام کردیا، بچے ہمیں دیکھ مسکراتے اور ہم بچوں کو دیکھ کر۔

آپس کی بات ہے، بالوں کی وجہ سے ہمیں کئی مسائل کا سامنا تھا، مثلاً ایک تو بار بار کنگھی کرنا جس میں ہم انتہائی حد تک بد نام ہیں، اتنے کہ بقول ہمارے قریبی دوست کے ”اگرمجھے خواب میں بھی کہیں جانا ہوتا ہے، تو میں سب سے پہلے کنگھی کرتا ہوں۔“ اور دوسرا مسئلہ نہانے کا ہے، نہاتے وقت جتنا وقت پہلے صرف ہوتا تھا، اب اس سے آدھا بھی نہیں لگتا لیکن یہاں ایک اور مسئلے نے جنم لیا کہ صبح منہ دھوتے وقت ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ چہرے کی حدود کہاں تک ہیں؟

گنجا ہونے سے ہمیں جہاں بہت سے فائدے ہوئے وہاں ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ وہ حضرات جو تازہ تازہ عمرہ کرکے آئے تھے ہمیں بھی عمرے کی مبارکبادیں دے ڈالیں اور ہم نے اس موقع پر دانستہ خاموشی اختیار کئے رکھی کہ ”اللہ جسے چاہے عزت دے....چاہے گنجے سر کی بدولت ہی کیوں نہ ہو“ مگر ایک افسوس بھی ہوا کہ کاش! ہم ذوالحجہ کے مبارک ماہ میں بکرا عید کے فوراً بعد گنجے ہوتے تو ”حاجی“ تو پکے ہو ہی جاتے....منوڑہ کے نہ سہی، مُنڈی کے سہی!!

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035