رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

30 August 2008 / 27 Shaban 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


قابل دید

چند سال قبل ایک روز نامہ میں یہ کالم(کسی اور عنوان سے) شائع ہونے پر کالم نگار پر 90دن کے لئے لکھنے پر پابندی رہی.... 18اگست کو مشرف صاحب کے مستعفی ہونے کے بعد ”عوام کی پرزور“ فرمائش پر دوبارہ پیش خدمت ہے، کیونکہ جتنا کھل کر صدر مشرف کے خلاف اب لکھا جارہا ہے، اس وقت لکھنے کے لئے دل گردہ چاہئے تھا....ویسے بھی اب کوئی خطرہ نہیں، دوم یہ کہ اس میں سے چند ایک اضافی چیزےں کاٹ چھانٹ دی گئی ہے البتہ باقی جوں کا توں ہے....صدر مشرف کے لئے ان کے اتحادی جو نعرہ پہلے ”زندہ باد“ کا لگایا کرتے تھے، اب”زندہ بھاگ“ کہہ رہے ہیں.... چونکہ صدر صاحب کو اپنی فکر لگی ہوئی ہے، اس لئے اب ڈر والی کوئی بات نہیں۔
٭٭
جس طرح کچھ لوگ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ ہاتھ میں ”لاٹھی“ لئے دنیا میں قدم رنجہ فرماکر دنیا کو رنجیدہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان جیسے لوگوں کے منہ میں چمچہ نہ ہونے کے سبب بھی کافی” چمچے“ دائیں بائیں خود بخود جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں کہ لاٹھی کی بدولت مفت میں حاصل ہونے والی” بھینس“ کے دودھ سے چند قطرے ان کے حصے میں بھی آجائےں گے، ایسے لوگوں میں فی زمانہ صدر مشرف کی مثال زیادہ ”منہ زور“ ہوگی۔

صدر مشرف سے زیادہ اہمیت ان کی وردی کی ہے، لوگ صدر کی ذات کے بارے میںاتنا نہیں جانتے جتنا ان کی وردی کی معلومات ان کے پاس ہوتی ہیں، خود صدر مشرف کا حال بھی یہی ہے۔ جتنا ان کی وردی کے بارے میںلکھا گیا ہے اتنا اگر بچوں کی بہتری کے لئے لکھا جاتا تو اچھے ”معمار “وجود میں آسکتے تھے، اب ”درزی “ زیادہ ہوگئے ہیں۔ ان کے چند ساتھیوں نے تو ان کی وردی کو عین ”اسلامی“ قرار دے کر اسے ”سنت“ کے درجے تک پہنچا دیا ہے، گویا کہ وردی کے بغیر کوئی بھی نیک عمل قابل قبول نہیں، حالانکہ وردی کے بغیر تو صدر صاحب خود بھی کسی”قابل“ نہیں۔

ان کی وردی کی حمایت تو ”مسرت شاہین“ نے بھی کردی تھی کہ صدر مشرف کو کم از کم دس سال تو وردی میں رہنا چاہئے۔ظاہر ہے مسرت شاہین نے اتنے گانے کھیتوں میںنہیں کئے جتنے برسات میں کئے ہیں اور ان کے ڈانس سے فصلیں اور نسلیں دونوں خراب ہوتی ہیں، اس لئے مسرت صاحبہ سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ بارش کے کیا فوائد ہیں اورپھر انہی گانوں کی بدولت ہی یہ بھی کافی دلوں پر حکمرانی کرچکی ہیں تو ان سے زیادہ کون حکمرانی کے نشے کو سمجھ سکتا ہے، انہیں بھی معلوم ہے کہ امریکی نوازشات کی ”بارش“ جب تک صدر صاحب کی وردی پر برس رہی ہے اس وقت تک ”قابل دید“رہیں گے ۔

صدر مشرف اتنے بہادر ہیں کہ بش کے صرف ایک ”فون“ سے پوری قوم کی دشمنی اور ناراضگی مول لے لی ۔ڈرتے صرف ”اُترنے“ کے لفظ سے ہیں، اگر ان کا کوئی قریبی ان سے کسی عہدیدار کو ذاتی دشمنی کی بنا پر اس کے عہدے سے اتارنے کی بات بھی کرتا ہے تویہ سمجھتے ہیں اِ ن ڈائریکٹ انہیں وردی اتارنے کا اشارہ دے رہے ہیں اور ان کے ڈر کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ، اگر ان کا کوئی ہمدرد انہیں کبھی پریشان دیکھ کر کہے کہ غم بتانے سے ہلکے ہوجاتے ہیں، اپنے دل کی بات ہمیں بتاکر اپنے دل کا بوجھ” اتار“ پھینکو، تو بھی وہ کہنے والے سے ناراض ہوجاتے ہیں۔

صدر صاحب شوہریت کا حق ادا کرنا بھی اچھی طرح جانتے ہیں، انہوں نے دیارِ غیر میں بھی اپنی شوہرانہ صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے دیگر خواتین کے مقابلے میں” اپنی“ ہی بیگم کو اہمیت دی ورنہ گزرے ہوئے جنرلوں نے اپنی رانیوں کو خود سے زیادہ مشہور کرایا تھا۔ صدر مشرف نے اپنی بیگم کو ”خالص مذہبی عورت“ کہا ہے، لیکن یہ نہیں واضح کیا کہ وہ کس مذہب کی بات کررہے ہیں جس میں خواتین بالوں کے ساتھ بھی شوہروں والا سلوک کرتی ہیں یعنی وہ جتنا پھیلنا چاہتے ہیں، اتنی ہی کانٹ چھانٹ کر کے ایک حد پر روک لیتی ہیں۔ ”پردے میں رہنے دو“ کے فلسفے کو جاہلانہ فعل سمجھتے ہیں، اسی لئے ہر چھپی ہوئی چیز کو ”آشکارا“ دیکھنے کے متمنی ہیں، اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اسلام عورت کو قید کرنے کی تعلیم نہیں دیتا، اس لئے میری بیگم بھی بیرون ملک دوروں پر میرے ساتھ ہوتی ہے، لیکن اس دلیل کو ہمارے دوست ملک صاحب نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ صدر مشرف کی بیگم جہاندیدہ عورت ہیں اور وہ اچھی طرح جانتی ہیں خاتون اول کے بغیر ”مردِ اول“کاباہر چلے جانا ”شکوک و شبہات“ کا باعث ہوسکتا ہے، اسی لئے وہ اپنے شوہر کو اکیلے جانے کی اجازت نہیں دیتیں۔( ممکن ہے انہوں نے صدر مشرف کی کتاب تکمیل کے دوران ہی پڑھ لی ہو جس میں ان کے معاشقے فخریہ انداز میں تحریر کئے گئے ہیں۔)

روشن خیال اتنے ہےں کہ مخالفوں کو ایسا سبق دیتے ہیں کہ ان کے چودہ طبق ”روشن“ ہوجاتے ہیں اور رواداری کا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ کتوں کو بھی سینے سے لگانے سے دریغ نہیں کرتے، اسی لئے بیرون ملک دوروں پر خوشی سے جاتے ہیں۔دوست نوازی بھی صدر مشرف ہی کا خاصہ ہے کہ واجپائی جیسے کٹر مسلم دشمن بھی ان سے ہاتھ ملانے پر مجبور ہوگیا تھا اور من موہن جیسا شخص بھی ان کی موہنی باتوں میں آکر انہیں دشمن نہیں سمجھتا، صدر مشرف بھی نہیں ”سمجھتے۔“صدر مشرف کو یا تو مُلاّ سے دشمنی یا پھر ان کے مدرسوں سے، اس کی وجہ مَلک ”مرغ“ بتاتا ہے یا پھر ” چندا“ مگر صدر مشرف صرف ”دہشت گردی“ کی وجہ سے انہیں بری نظر سے دیکھتے ہیں، کیونکہ امریکا اور وردی کاہر دشمن دہشت گرد ہے۔

صدر مشرف خود کو سنجیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ پھر بھی اپنی ظاہری حرکات سے غےر” سُن۔ جیدہ“ ہی ظاہر ہوتے ہیں۔ صدر صاحب ماضی میںیقینا ہر” معاملے“ میں کامیاب رہے ہوں گے، مَلکیہ بات ان کی ”وعدہ خلافی“ کے پیشِ نظر اکثر کہتا ہے، اس کی دلیل صدر کا ”دونوں عہدے“ اپنے پاس رکھ کر کئے گئے وعدے کو ”گول“ کر جانے کو پیش کرتا ہے۔ صدر مشرف اپنا آئیڈیل کمال اتاترک بتاتے ہےں، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ تمام اسلامی روایات کو انتہائی کمال سے ’ترک“ کررہے ہیں۔ در گزر سے اس حد تک کام لیتے ہیں کہ فوراً معاف کردیتے ہیں،جس نے غلطی نہ بھی کی ہواس کے معافی مانگنے پر بھی فراخدلی سے کام لیتے ہیں، معافی مانگنے والے بھی اسی سے کام لیتے ہیں۔ مشرف صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ دوسرے حکمرانوں کے برعکس یہ عوام کے زیادہ ہمدرد ہیں، اسی لئے عوام زیادہ تر ”درد“ ہی میں مبتلا رہتی ہے اور یہ خود ”ہم ہی ہم“ میں مگن رہتے ہیں۔ انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ جانوروں سے بھی انتہائی حد تک محبت کرتے ہیں، خاص کر بکری جیسے غیر اہم بے زبان جانور سے تو اتنی چاہت ہے کہ اکثر اس کی زبان میں باتیں کرتے دکھائی دیتے رہے ہیں، یعنی ”میں ہی میں“ کہہ کر محبت کا اظہار کرتے ہیں، اور اظہار کرنا کون نہیں چاہتا۔ اسی محبت کے اظہار میں توگزشتہ دنوں شیخ رشید نے یہ کہا تھا کہ ”جو کوئی دو ٹوپیاں پہنے مجھے اچھا لگتا ہے، وہ اے پی این ایس کا صدر ہو یا ”میرا صدر“ ہو۔ اور شیخ رشید کا صدر وہی ہوتا ہے، جس کے سر پر اقتدار کی حکمرانی کی”ٹوپی “ ہوتی ہے۔

کچھ لوگ تو صدر مشرف کو مغرور اور خود سر بھی کہتے ہیں، جبکہ ملک کہتا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں وہ توصرف ”مغروب“ ہیں خودسر نہیں۔ ان کی مغروبی کی سند صدر مشرف کے کارناموں پر مغرب والوں کی طرف سے انہیں ”مردِ مجاہد“ کا خطاب دینا بتاتا رہا ہے لیکن کچھ دنوں بعد اس کی تصدیق بھی اس طرح کردی کہ صدر صاحب مردِ مجاہد نہیں بلکہ ”ماردے مجاہد“ شخصیت ہیں، اس کی تفسیر میں کہتا ہے کہ دراصل امریکی لوگ اُردو صحیح طرح نہیں بول سکتے، ان کے کہنے کا مطلب یہی تھا لیکن تلفظ ان کے منہ سے مردِ مجاہد خارج ہوا ہے، ورنہ” وانا“ اس کی مثال نہ ہوتا....!

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035