رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

21 August 2008 / 18 Shaban 1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


کڑک چائے

اپنے نورم خان صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ یورپی ہماری چیزوں پر انتہائی چالاکی سے ہاتھ صاف کرکے اسے اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں لیکن شاید خان صاحب اس بات کو بھول گئے کہ ہمارے پاکستانی بھی کچھ کم نہیں .... چائے اول اول گوروں نے متعارف کرائی تھی لیکن ہمارے ہم وطنوں نے اس پر اتنی ہنر مندی سے ہاتھ مارا کہ انگریز بھی اکثر اب سیاحت کے لئے کم اور کوئٹہ ہوٹل کے خان کی کوئلوں پر بنائی ہوئی چائے کی چسکیاں لینے زیادہ آتے ہیں۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں علاقہ غیر کے خان کو بالکل جدید اور نئے ماڈل کی پسٹل دور سے دکھاو تو دوسرے دن اس سے زیادہ لشکارے مارتی ہو بہو وہی پسٹل اس کے ہاتھ میں ہوگی یا پھر کوئی جگہ خالی دکھاو تو وہاں اگلے دن ”گل خان کوئٹہ ہوٹل“ دکھائی دے گا، اسی لئے اب ایسا لگتا ہے کہ نسوار کے علاوہ چائے بھی خان برادری کی ”ایجاد“ ہے جبکہ ملک صاحب نے اس موقع پر یہ کہا کہ جب خان ایٹم بم بناسکتے ہیں تو چائے کیوں نہیں۔

سنا ہے جھوٹا نبی مرزا قادیانی کا ایک خود ساختہ جعلی فرشتہ ”ٹیچی ٹیچی“ کبھی کبھار چائے بھی لایا کرتا تھا۔ حالانکہ جب مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کرکے اپنے اس ”فرشتے“ کا تعارف کرایا تھا اس وقت چائے متعارف ہی نہیں ہوئی تھی۔ کہتے ہیں چائے اتنی میٹھی ہونی چاہئے کہ ہونٹ چپکتے محسوس ہوں، لیکن یہ نہیں وضاحت کی گئی کہ کس کس کے؟ ہمیں تو اس بات سے سخت اختلاف ہے کیونکہ چائے میں چینی مناسب ہو توہی پینے کے قابل ہوتی ہے، ورنہ پلانے کے۔ اس سے ہمیں ایک واقعہ یاد آگیا، ہم نے ایک مضافاتی علاقے میں ایک ”لاہوری ہوٹل“ پر چائے پی تو ہونٹ(اپنے) آپس میں ہی نہیںکپ سے بھی چپک چپک جاتے تھے اور اس وقت ہم نے اس ہوٹل والے سے کہا یا تو اس کے اپنے گنے کے کھیت ہیں یا پھر شوگر مل والوں سے یاری ہے۔ جتنی وہ ایک کپ میں چینی ڈالتا تھا اتنے میں پانچ کپ چائے میں مناسب مٹھا س گھولی جاسکتی ہے....لیکن کہتے ہیں ناں کہ ہر غلطی سے سبق سیکھنا چاہئے سو ہم بھی ان لوگوں کو جو ہم سے بزور قوت چائے پیتے رہتے تھے، ہم نے اسی ہوٹل کا انتخاب کیا اور مفت خورے ایک ہی بار بلکہ بمشکل آدھا کپ پی کرہی راہ راست پر آگئے۔ اب بھی کبھی چائے پلانے کی فرمائش ہوتی ہے تو ہم لاہوری ہوٹل چلنے کا کہتے ہیں اور بات آئی گئی ہوجاتی ہے۔

ایک مرتبہ ہمیں ایک دعوت میںجانے کا اتفاق ہوا تو چائے کے ساتھ لوازمات بھی تھے۔ میزبان خاتون نے اپنی بیٹی کی اتنی تعریف کی کہ محترمہ چائے زبردست بناتی ہیںاور خود بھی بہت میٹھی ہیں ، اتنی کہ ان کے بڑے بہنوئی تو یہ کہتے پائے گئے، یہ چائے بنا کر انگلی ڈبو دیا کریں تو چائے میٹھی ہوجایا کرے۔ ہم نے چائے سے زیادہ محترمہ کی مٹھاس کی تعریف سنی تو بے اختیار کپ اٹھالیا اور جونہی گھونٹ لیا تو ہمارا منہ عجیب سا بن گیا جبکہ میزبان خاتون نے جھٹ پوچھا”کیوں کیسی چائے ہے؟“
ہم نے جل کر کہا”بہت زبردست! لگتا ہے محترمہ نے آج چار وں انگلیاں ہمارے ہی کپ ڈبوئی ہیں۔“

جس طرح باتیں بنانا عورتوں کا فن سمجھا جاتا ہے اسی طرح چائے بنانے کی ہنر مندی بھی خواتین کے کھاتے میں ڈالی جاتی ہے۔ حالانکہ خان کی چائے، خواتین کی چائے سے زیادہ پاورفل اور کڑک ہوتی ہے۔ ملک کہتا ہے، خان کی چائے، جو پتی سے نہیں غصے سے بنتی ہے، اسی لئے کڑک ہوتی ہے۔ ویسے اگر چائے نہ ہوتی تو ٹی وی چینل والوں کا دیوالیہ ہوجاتا کیونکہ زیادہ تر ڈرامے چائے کی بدولت ہی چلتے ہیں، مطلب چائے کے وقفوں کی بہ....دولت۔

یہ چائے کے وقفے بھی خوب ہوتے ہیں، جو کام انگریز ہیرو سگریٹ پی کر انجام دیتا ہے۔ وہی کام ہمارا دیسی ہیرو چائے پی کر بہتر طورپر انجام دیتا ہے۔ بلکہ مَلک تو انگریز ہیرو پر، دیسی ہیرو کو فوقیت دیتا ہے، اس لئے وہ آج کل چائے کی ایسی اشتہاری ویڈیو بنا رہا ہے، جس میں ایک انگریز ہیرو سگریٹ کے کش لگا کر ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتا ہے تو اپنا دیسی ہیرو ایک ہاتھ سے مونچھوں کو بل دے کر دوسرے ہاتھ میں چائے کے پکڑے کپ سے گھونٹ بھر کر یہ ڈائیلاگ ادا کرتا ہے”نئے آئے ہو....سوہنیو!“

ملک صاحب جس دعوت میں جائےں وہاں چائے نہ ہو تو ان کی نظر میں یہ دعوت نامکمل ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ کسی دوست نے ایک شاندار دعوت کی اور چھ سات اقسام کے کھانے کے سوا میٹھے میں بھی دو تین ذائقے تھے اور پانی کی بجائے محترم دوست نے اعلیٰ قسم کے قومی مشروب پیش کئے ....دوسرے دن ملک صاحب سے کوئی پوچھتا کہ دعوت کیسی تھی توان کا منہ بن جاتا اور یہ فرماتے”ہونہہ، دعوت! چائے تک نہیں پوچھی انہوں نے مجھ سے۔“ ان دوست تک جب یہ خبر پہنچی تو وہ اپنا سر پیٹ کر رہ گئے کہ ”وہ قتل بھی کرتے ہیں اور چرچا بھی ہوتا ہے۔“

پاکستانی اتنے غصے کے گھونٹ نہیں بھرتے جتنے چائے کے بھرتے ہیں....یہ بات ہم ذاتی تجربہ کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں۔ ہمیں کسی نے ورغلایا کہ گاوں دیہاتوں میں مہمانوں کی تواضع مکھن، لسی سے کی جاتی ہے۔ ہم جو چائے پی پی کر اپنا خون بھی ”بی پازیٹو“ سے” ٹی پازیٹو“ کرچکے تھے ، سوچا گاوں جا کر کچھ لسی پانی ہی پی آئےں لیکن وہ جو کسی شاعر نے کہا تھا
خدایا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
تو ہمیں بھی وہاں کوئی تبدیلی محسوس نہ ہوئی۔ رات ہم جو یہ سوچ کر سوئے تھے کہ صبح صبح مکھن اور لسی اور ساتھ ہی دیسی گھی میں پکائے ہوئے پراٹھوں سے جاندار ناشتہ کریں گے تو ہمارے سارے خواب چکنا چُور ہوگئے جب ممانی نے چائے پاپے ہمارے سامنے بڑے فخر سے یہ کہتے ہوئے پیش کئے”تم تو کراچی سے آئے ہو، مکھن لسی سے پیٹ خراب ہوجائے گا، یا پھر تمہیں پسند ہی نہ ہو....پاپے کھاﺅ جان بناﺅ۔“اب ہماری ممانی کو کیا خبر کہ پاپے چائے سے جان بنتی تو ہم دھان پان سے نہ ہوتے بلکہ ....خیر جانے دیجئے ، اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ بیٹھے بٹھائے ہمیں چائے کی کیا سوجھی؟ تو قصہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے سامنے اس وقت بھی ایک کپ رکھا ہے،جس میں چائے سے زیادہ چینی لبا لب ہے۔ اور مہنگائی کے دور میں ہمیں اس ”عیاشی“ سے فیض یاب ہمارا کم سن دفتری خادم کروا رہا ہے.... لیکن ہمارے ہمزاد (یہ ہم نے مشتاق یوسفی سے سیکھا ہے) ملک صاحب نے ایک گھونٹ لینے کے بعد ہی یہ پیشنگوئی کی ہے کہ اس طرح کی چائے پینے سے بندہ چائے کا رسیا نہیں بلکہ اس سے ”ڈسیا“ ہوجاتا ہے۔ اور جسے میں عیاشی قرار دے رہا ہوں، وہ سازش ہے چائے چھڑوانے کی....ممکن ہے ایسا ہی ہو کیونکہ مہنگائی نے جس طرح آٹا، چاول اور دودھ چھڑوا دیا، اب چائے بھی چھوٹ جائے کہ ایک یہی تو ہم پر الزام ہے ، ہم کسی کو دعوت بھی دیتے ہیں تو اس طرح ”آﺅ یار! اب چائے پلاو۔“

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035