|
|
|
04
August
2008 / 01 Shaban
1429 |
|
|
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
دو شکریے۔۔۔۔۔۔۔
ملک صاحب کی طرح ہمیں ان کی موٹر سائیکل بھی بہت اچھی لگتی ہے۔ جتنا ملک صاحب زبان
دراز ہیں اس سے کہیں زیادہ ان کی موٹر سائیکل ہے، اسی لئے ملک صاحب نے کبھی اس میں
ہارن لگانے کا سوچا تک نہیں بلکہ محلے والوں نے تو انہیں اس موٹر سائیکل کی ”زبان
درازی “ کے باعث گزشتہ رمضان میں یہ آفر تک کردی تھی کہ وہ سحری کے وقت انہیں جگا
دیاکریں تاکہ عید کے دنوں میں جو ”کَلّو ڈھول والا“ اپنا حصہ وصول کرنے آتا ہے اس
کو بادل نخواستہ دی جانے والی عیدی ملک صاحب کو دے دی جائے تاکہ وہ اس عیدی کی جمع
شدہ رقم سے موٹر سائیکل کی مرمت کروا کر اس کی زندگی میں اضافہ کرواسکیں۔ ملک صاحب
چونکہ ولی اللہ انسان بھی ہیں اور اس بات پر ان کا پکا ایمان ہے کہ جو رات قبر میں
ہے وہ باہر نہیں اس لئے موٹر سائیکل کے بارے میں بھی ان کی یہی سوچ ہے ، جب تک اس
کی زندگی ہے یہ سڑکوں پر اسی شان سے دوڑے گی ،مصنوعی طریقوں سے کیوں اس کی زندگی
میں اضافہ کرنے کی جسارت کی جائے۔
موٹر سائیکل کی پچھلی نشست پر بیٹھنے کے معاملے میں ، میں خاصا بزدل واقع ہوا ہوں ۔
جب بھی کسی کے ساتھ باامر مجبوری بیٹھنا پڑ جائے تو سب سے پہلے ڈرائیور سے یہی
گزارش کرتا ہوں کہ انتہائی ہلکی رفتار سے گاڑی چلائے ، اگر کبھی کوئی ڈرائیور اس
گزارش کو نظر انداز کرتے ہوئے جوں جوں رفتار بڑھاتا ہے توں توں میں اس کے کان
کھانا(محاورتاً) شروع ہوجاتا ہوں،وہ آہستہ چلائے یا پھر مجھے یہیں اتار دے۔ چند ایک
بد تمیز ڈرائیور دوستوں نے تو مجھے ویرانے میں اتار بھی دیا تھا، جس کے بعد میں نے
یہ احتیاط برتنا شروع کردی ، جونہی کوئی ڈرائیور دوست موٹر سائیکل کی رفتار بڑھاتا
ہے تو میں کہتا ہوں”یا تو وہ رفتار کم کردے یا پھر مجھے چلانے دے ۔“ اکثر دوست
جانتے ہیں میری ڈرائیوری پاکستانی سیاستدانوں کی سیاست کی طرح ہوتی ہے یعنی جس طرح
ان کی سیاست کا کوئی رخ نہیں ہوتا اسی طرح میری ڈرائیوری میں آئی ہوئی موٹر سائیکل
کا بھی کوئی خاص رخ متعین نہیں ہوتا، کیونکہ ہینڈل سنبھالتے سنبھالتے اچھا خاصا
دائیں بائیں جھولنا پڑ جاتا ہے۔
پچھلی نشست پر بیٹھنے کے معاملے میں، میں جتنا بھی بزدل ہوں مگر جب موٹر سائیکل ملک
صاحب چلا رہے ہوں تو مجھے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا کیوں کہ ان کی موٹر سائیکل کی فل
اسپیڈ بھی میرے حساب سے نارمل ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ ملک صاحب کراچی کی موجودہ سڑکوں
پرجس مہارت سے موٹر سائیکل چلانے کے ماہر ہیں وہ مہارت صرف موت کے کنویں میں موٹر
سائیکل چلانے والوں کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں۔اُڑتی اُڑتی خبر یہ بھی ہے کہ
ملک صاحب نے یہ موٹر سائیکل کسی موت کے کنویں والے سے ہی خریدی تھی اور چلانا بھی
اسی سے سیکھی، شاید یہی بات ہوجو وہ اونچے نیچے ٹیلوں، گڑھوں اور گہرائیوں میں سے
با آسانی موٹر سائیکل اتنی احتیاط سے نکال کر لے جاتے ہیں جیسے مکھن میں سے بال....
یہی وجہ تھی کہ موسلادھار بارش میں جب انہوں نے مجھے محض تفریح کے لئے موٹر سائیکل
پر بیٹھنے کی دعوت دی تو میں بلا جھجک ہی سوار ہوگیا۔ ملک صاحب پانی میں غرق سڑکوں
پر چھینٹے اڑاتے فل رفتار میں موٹر سائیکل دوڑانے لگے ، آج پہلی مرتبہ مجھے ان کی
اس تیزرفتاری سے خوف محسوس ہونے لگا کیونکہ ان کی گدھا چال موٹر سائیکل آج نجانے
کیسے زوں زوں کرکے دوڑ رہی تھی.... اگرچہ سڑک پربہت کم گاڑیاں تھیں مگر حادثے کے
خوف سے میں نے ملک صاحب سے پہلے گزارش کی، پھر التجا کی اور آخر کار منتوں پر اتر
آیا کہ وہ مجھے موٹر سائیکل چلانے دےںیا پھر یہیں اتار دےں تو اچھا ہے مگر ملک صاحب
”کھال مست“ بنے میری گزارشات، التجاوں اور منتوں کو کسی خاطر میں لائے بغیر بدستور
چھینٹے اڑاتے چلے گئے۔
بالآخر وہی ہوا جس کا مجھے خوف سوار تھا، یعنی حادثہ....وہ بھی ایک گدھے سے جو اچھا
بھلا سڑک کے درمیان جارہا تھا، ملک صاحب نے اسے ٹکر لگادی جیسے پہلے اس کے راستے
میں گدھے نہیں آتے تھے۔ میں نے تو بہت سے گدھے دیکھے ہیں اور ہر گدھا سڑک کے درمیان
چلتا ہے، یہ قومی سڑکیں تو آخر گدھوں ہی کے لئے بنی ہیں۔ ملک صاحب میں یہ نئی بات
دیکھ کر کہ گدھوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ میں نے زبردستی موٹر سائیکل کی اگلی سیٹ
پر قبضہ کرلیا مگر تھوڑ ا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ایک اور گدھا.... جس کی شکل و
صورت ہماری ہی طرح کی تھی بالکل سامنے آگیا۔ اس سے موٹر سائیکل بچانے کی غرض سے میں
نے ہینڈل اس تیزی سے گھمایا کہ وہ بھی چیخ اٹھی کہ میں گدھا نہیں، جس طرح چاہے کان
مروڑ دو۔ احتجاجاً موٹر سائیکل سڑک ساتھ والی سڑک کے درمیان کود پڑی جہاں شہری
حکومت کے کارکن مٹی نکال کر چھوٹے بڑے گڑھے بنا چکے ہےں تاکہ اگر کسی کی موٹر
سائیکل ”گدھا“ بننے کی کوشش کرے تو اچھی طرح سے سبق سیکھ سکے۔ چنانچہ میری (ملک
صاحب کی) موٹرسائیکل پھسل کر پہلے ایک گہرائی میں گری، پھر اچھل کر دوسری میں اور
پھر تیسری میں۔ خدا جانے اس کو شہری حکومت سے کیا دشمنی تھی، معلوم ہورہا تھا جیسے
ان گڑھوں میں محکمے کی گہرائیاں تلاش کررہی ہو۔ آخر جب تھک گئی تو ایک گڑھے میں
آرام فرما ہوگئی اور میں اور ملک صاحب الگ الگ گڑھوں میں غوطہ زن تیراکی کے مزے
لوٹنے لگے۔
اس موقع پر میں نے لاکھ شکر ادا کیا، اگر شہری حکومت نے یہ گڑھے نہ بنوائے ہوتے نہ
جانے آج موٹر سائیکل کس طرح روکنی پڑتی کیونکہ ڈرائیو نگ سیٹ سنبھالنے کے بعد مجھ
پر انکشاف ہوا تھا کہ ملک صاحب کی موٹر سائیکل کے بریک بالکل بھی کا م نہیں کررہے،
ممکن ہے یہی وجہ ہو جو ملک صاحب نے میری کسی گزارش، التجا اور منت پر کان دھرنے کی
کوشش کی ہو مگر موٹر سائیکل اس معاملے میں انکاری ہوگئی ہو....اس لئے میں شہری
حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے جا بجا گڑھے کھود کر ہم جیسے اناڑی
ڈرائیوروں کے لئے مناسب بندوبست کیا ہوا ہے ورنہ نجانے کیا کیا حادثات رونما ہونے
کا اندیشہ رہتا اور مجھے یاد آرہا ہے کہ ملک صاحب نے بھی گڑھے میں گرتے ہی بجائے
چیخنے چلانے کے شکر ادا کیا تھا وجہ یہ بتائی تھی کہ پانی سے لبا لب بھرے جس گڑھے
میں وہ گرے تھے اس میں بجلی کا تار بھی ڈوبا ہوا تھا، جسے دیکھ کر انہوں نے خود پر
انا للہ پڑھ لی تھی مگر وہ تو انہیں بعد میں خیال آےا کہ واپڈا والے عرصہ ہوا ان
تاروں میں بجلی نہیں چھوڑتے لہٰذا اپنے دوست ملک صاحب کی جان بچ جانے پر ایک عدد
شکریہ بجلی کے محکمے کے نام بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ |
 |
|
|