رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

27 March 2008 /  18 Rabi-ul-Awal  1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


سروے رپورٹ...
بنارسی لٹیرے اورمحافظ

پاکستان میں ”بنارسی ٹھگ“ نامی فلم بنی تو اس نے خوب شہرت حاصل کی تھی اور اب تک اس کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے، جتنی شہرت فلم بنارسی ٹھگ نے حاصل کی تھی اس سے کہیں زیادہ شہرت ”بنارسی لٹیروں“ کے حصے میں آئی ہے۔ یہ بنارسی لٹیرے ہیں کون ہیں؟ یہ کراچی کے رہائشی اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ اورنگی ٹاﺅن اور اس کے اطراف والے تو کچھ زیادہ ہی ”اچھی طرح“ جانتے ہیں۔

مجھ سے بنارسی لٹیروں کا غائبانہ تعارف ایک نو عمر لڑکے نے کروایا تھا۔اگرچہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ان کے بارے میں کئی خوفناک قصے سن چکا تھا لیکن ایک ماہ قبل جب میں ایک گاڑی میں سوار تھا میرا موبائل فون عین بنارس کے قریب علاقے میں بج اٹھااور میں نے بے دھڑک کال اٹینڈ کرلی۔ بات مکمل کرکے موبائل جیب میںرکھا تو ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکے نے کہا” یہ کراچی کا انتہائی خطرناک علاقہ ہے، یہاں تو لٹیرے موبائل ہاتھوں میں دیکھ کر چھین لیتے ہیں بلکہ سرعام لوٹ مار کرتے ہوئے اگر کوئی مزاحمت کرے تو اسے جان سے بھی مار دیتے ہیں۔“

میں نے اس کی بات پر اس وقت بالکل بھی توجہ نہ دی تھی لیکن دو تین روز بعد اس کی بات اس وقت درست ہوگئی جب میں دوبارہ اسی روٹ کی گاڑی پر سوارتھا، گاڑی جونہی ولیکا موڑ سے بنار س کی طرف گھومی تین لڑکے گاڑی میں سوار ہوئے اورتینوں نے ہی ٹی ٹی پستول نکال کر سواریوں کو موبائل اور نقدی نکال دینے کا حکم دے کر ڈرائیور کو گاڑی آہستہ چلانے کی دھمکی بھی دے دی۔ دو لڑکے (ایک گاڑی کے اگلے حصے میں اور دوسرا پچھلے دروازے کے پاس) ٹی ٹی تانے ہوشیار کھڑے رہے جبکہ تیسرے لڑکے نے مال سمیٹنا شروع کردیا، چند ہی منٹوں میں گاڑی لٹ چکی تھی۔

اس لوٹ کے بعد کچھ لوگوں نے پولیس کو اطلاع کرنے کی بات کی مگر جہاندیدہ افراد نے سمجھایا کہ پولیس کو بتانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کی سرپرستی میں ہی تو یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ مجھے تو ان کی باتوں پر یقین نہ آیا اور میں بنارس کی حدود میں لگنے والے تھانے پیر آباد جا پہنچا ....اور واقعہ کی روداد سنائی لیکن ڈیوٹی پر موجود سپاہی نے صاحب کے بارے میں بتایا کہ وہ راﺅنڈ پر ہیں اور سپاہی نے الٹے سیدھے سوال کرکے مجھے ٹرخا دیا۔

یہ واقعہ گزرے ابھی صرف تین دن ہی گزرے تھے کہ دفتر سے گھر واپس جاتے ہوئے بنارس پر پھر چار لڑکے گاڑی میں سوار ہوئے اور نہ صرف بھری گاڑی میں لوٹ مار کی بلکہ ایک لڑکی نے اس پر مزاحمت کی تو ٹی ٹی کا دستہ مار کراس کے چہرے کو زخمی کردیا گیا اور ساتھ ہی اس کے ساتھ بدتمیزی بھی کی گئی۔ اس مرتبہ بھی میں نے سوچا کہ پیر آباد تھانے جاکر اس واقعے کی اطلا ع دوں لیکن وقت کی کمی کے باعث اور پھر کچھ لوگوں کی وہی بات کہ ”کوئی فائدہ نہیں پولیس والے اگر نہ ملے ہوئے ہوتے تو اس طرح دیدہ دلیری سے گاڑیاں نہ لٹتیں۔“

ان دو واقعات کے بعد محض آٹھ دن کے وقفے سے ایک بار پھر میں جس گاڑی میں سوار تھا لٹیروں کا گروہ سوار ہوا اور لوٹ مار کرکے فرار ہوگیا، مجھے بہت غصہ آرہا تھا لیکن ان کے پاس موجود اسلحہ نہ صرف لوڈ تھا بلکہ انہوں نے مسافروں کی طرف تانا ہوا تھا جو ہلکی سی حرکت پر گولیاں اُگل سکتا تھا۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے مسافروں کو بے بس کرکے لوٹ مار کی اور پھر ایک خاتون سے بد تمیزی کی گئی۔ اگرچہ مجھے آگے کی طرف جانا تھا لیکن میں واقعے کے فوراً بعد گاڑی بدل کر پیر آباد تھانے جا پہنچا مگر صاحب ایک مرتبہ پھر دورے پر گئے ہوئے تھے اور ڈیوٹی پر موجودہ دوسرا سپاہی مجھ سے جس قسم کے سوال کررہا تھا اس کی وجہ سے مجھے لوگوں کی کہی ہوئی باتیں سچ معلوم ہونے لگیں کہ پولیس بھی ان لٹیروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ میں نے بارہا اس سپاہی سے کہا کہ وہ رپورٹ درج کرے لیکن اس نے میرا وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہ کیا، کافی دیر میں نے صاحب کا بھی انتظار کیا لیکن صاحب نجانے کس قسم کے دوروں پر تھے کہ ڈیڑھ گھنٹے تک بھی ان کا کچھ پتہ نہ تھا۔

اس واقعے کے اگلے روز ہی اخبارات میں ایک خبر آئی کہ بنارسی لٹیروں نے عبداللہ کالج کے پاس، جوکہ پیر آباد تھانے سے محض پیدل ایک منٹ کی دوری پر ہے، ایک لڑکے سے موبائل چھیننے کے دوران مزاحمت پر چھریوں کے وار کرکے اسے شدید زخمی کردیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا،جس کے والد کے مطابق وہ والدہ کی دوائی لینے کے لئے گیا تھا اورموبائل لٹیروں نے اسے ہی دنیا سے رخصت کردیا اور اس کے والد کے بقول ہی وہ ان کا اکلوتا بیٹا ہی ان کا واحد سہارا تھا ۔

اس قتل کے اگلے روز اسی بنار س پر ایک مرتبہ پھر لاقانونیت دیکھنے کو ملی جب مقتول کے قتل کے خلاف مظاہرہ ہورہا تھا تو چند شر پسند عناصر نے قصبہ موڑ کے قریب سفاری کوچ کے مسافروں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور کئی ایک زخمی ہوگئے، جس میں کوچ کا کنڈکٹر بھی شامل تھا۔ اس احتجاج اور اس پر ہونے والی سفاکیت پر پولیس نے کیا کارروائی کی ہوگی یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، فائلوں میں نامعلوم ملزمان لکھ کر فائلیں مزید فائلوں تلے دبادی گئی ہوں گی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بنارس میں ہونے والی لوٹ مار اگر بند نہ ہوتی تو کم ضرور ہوجاتی لیکن اتفاق کہئے یا پھر میری کم بختی کہ ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ پھر اسی روٹ پر اسی مقام پر تین لڑکے گاڑی میں سوار ہوئے اور لوٹ مار کرکے پونے دو منٹ میں گاڑی سے اتر گئے۔ یہ لڑکے آپس میں پشتو میں بات کررہے تھے اور ڈرائیور کو گاڑی کو آہستہ چلانے کی ہدایت بھی انہوں نے پشتو زبان میں ہی دی تھی۔

اس لوٹ مار کے بعد میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کی حالت اس وقت بہت ہی عجیب ہورہی تھی، اس کے مطابق ،ابھی پچھلے ہی ہفتے اس سے تنخواہ لوٹ لی گئی اور آج موبائل چھین لیا گیا ۔ وہ کہہ رہا تھا”میں غریب آدمی ہوں اور ولیکا اسپتال کے قریب ہی ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں، میری گزر اوقات صرف تنخواہ پر ہی ہوتی ہے جو اس ماہ لٹیروں نے لوٹ لی ہے، اس مہینے میرے بچوں کے اسکول کی فیسیں ادا نہیں ہوئی بلکہ کھانے پینے کے معاملے میں بھی کافی تنگی ہوگئی ہے لیکن ان لٹیروں اور ان کے ”سرپرستوں“ کو کیا احساس کہ غریب آدمی کس طرح پورا مہینہ محنت مزدوری کرکے جو تنخواہ کماتا ہے،و ہ یہ لوگ کس بے دردی سے لوٹ لیتے ہیں۔“یہ کہتے ہوئے اس محنت کش کی آنکھوں سے آنسوں تو نہ نکلے جو کہ اس کا ضبط ہی تھا ورنہ اس کی آنکھیں ضرور نم ہوگئی تھیں۔ اس نے جب سرپرستوں کی بات کی تو میں فوراً ہی گاڑی سے اتر گیا۔چونکہ اس سڑک پر مختلف فیکٹریاں ہیں اور ان فیکٹریوں میں سیکڑوں ملازمین قرب و جوار سے کام کے لئے آتے ہیں، جن میںبڑی تعداد خواتین کی بھی ہے چونکہ یہ چھٹی کا ٹائم تھا اس لئے سڑک پر فیکٹریوں میں کام کرنے والی کافی خواتین اپنی گاڑیوں کے انتظار میں تھیں۔سروے کے دوران ایک خاتون ورکر نے بتایا کہ وہ ایک فیکٹری میں سپر وائزر ہے ، اس کے پاس کام کرنے والی لڑکیاں بنارسی لٹیروں کی وجہ سے پریشان رہتی ہیں اور کئی ایک تو نہ صرف اپنے موبائل سے ہاتھ دھو بیٹھیں بلکہ ان لٹیروں کی بد تمیزی کا نشانہ بھی بن چکی ہیں۔

اسی سروے کے دوران ایک اور لڑکی نے بتایا کہ چار ماہ کے دوران بدتمیز لڑکوں نے اس سے موبائل اور ایک مہینے کی تنخواہ بھی چھین لی ہے جبکہ موقع پر موجودہ ایک عمر رسیدہ خاتون تو بنارسی لٹیروں کو بددعائیں دینے کے ساتھ ساتھ ہمارے محافظوں کے اکاﺅنٹ میں بھی کئی خطرناک قسم کی بددعائیں منتقل کررہی تھیں ۔

اس کے بعد میں پیدل ہی چند ہی منٹوں میں دوبارہ بنارس چوک جا پہنچا۔ اس سلسلے میں ایک دکاندار سے معلومات حاصل کیں تو اس نے بھی انتہائی پریشانی سے کہا کہ ”بھائی صاحب! کیا بتاﺅں، ان خبیثوں کی وجہ سے ہمارا کاروبار بھی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، کیونکہ لوگ جو پہلے بلا خوف و خطر اس طرف خریداری کرنے آجاتے تھے اب تو بنارس کا نام سن کر ہی ڈر جاتے ہیں۔ بس بڑی مشکل سے گزارا ہورہا ہے۔“ جبکہ ایک فروٹ کا ٹھیلا لگانے والا بھی اسی قسم کا شکوہ کررہا تھا اور اس نے اپنا یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ وہ کسی اور علاقے میں منتقل ہونے والا ہے تاکہ اس لاقانونیت کے علاقے سے جان چھوٹ جائے ۔

بنارس ہی پر صوبہ سرحد اور سوات جانے والی گاڑیوں کے ان گنت اڈے بھی ہیں، یہاں سے تقریباً پورے سرحد کے لئے گاڑیاں روانہ ہوتی ہیں اور مسافروں کا تانتا بندھا رہتا ہے، کچھ تو سوات کے حالات کی وجہ سے مسافر وں کی تعداد کم ہو گئی ہے اور بقول چند ایک گاڑیوں کے اڈوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے، ان کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے کیونکہ اکثر مسافروں نے شکایت کی ہے کہ ان سے سرعام لوٹ مار کی گئی اور کوئی ان لٹیروں سے پوچھنے والا نہیں، اس لئے لٹنے والے مسافرنہ صرف خود اب سہراب گوٹھ کے اڈے پر جانے کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ اپنے دیگر رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کا واقعہ بتا کر بنارس جانے سے منع کرتے ہےں۔

بنارس سے تھوڑے ہی فاصلے پر قصبہ کالونی کی طرف جانے والی سڑک ہے جو آگے جاکر منگھو پیر کے علاقے تک جاتی ہے لیکن اسی قصبہ موڑ پر مویشیوں کے کئی بیوپاری بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں کہ اب مقامی لوگ ہی ان سے جانور خریدیں تو ان کا گزارا ہورہا ہے ورنہ پہلے شہر کے دیگر علاقوں سے بھی ان کے پاس خریدار آتے تھے جو کہ اب کھلے عام لوٹ مار کی وجہ سے اس طرف کا رخ نہیں کرتے، اسی وجہ سے انہیں چند ماہ قبل گزرنے والی بکرا عید پر بھی کافی نقصان اٹھانا پڑا۔

بنارس چورنگی سے ایک سڑک عبداللہ کالج کی طرف جاتی ہے جس پر گاڑیوں کے گیراج ، لوہاروں کی دکانیں اور کئی ایک ہوٹل ہیں۔ بنارس کے لوہار اپنی کاریگری کی وجہ سے کراچی میں منفرد شہرت رکھتے ہیں لیکن چند سالوں سے ان کی شہرت لٹیروں کی لوٹ مار کی وجہ تلے دب کر رہ گئی۔ ایک بزرگ لوہار کے بقول ، کون سا شہر یا گاﺅں ہے جہاں برے کام کرنے والے نہیں ہوتے، امریکا جیسا بڑا شہر بھی لٹیروں سے محفوظ نہیں وہاں بھی لوٹ مار ہوتی ہے، امریکا کو تو چھوڑ و لاہور بھی لٹیروں سے زیادہ ٹھگوں کی شہرت رکھتا ہے اور سب سے بڑھ کر کراچی کے ہر علاقے میں لوٹ مار کے واقعات ہوتے رہتے ہیں،مگر بنارس میں جس قسم کی لوٹ مار ہورہی ہے اور لٹیرے بلا خوف و خطر لوٹ مار کررہے ہیں اس نے نہ صرف پختون برادری کو بدنام کردیا ہے بلکہ علاقے کی ترقی میں بھی رکاوٹ ڈالی ہے۔ “ اسی دکان پر ایک صاحب جو کہ ایک معزز شہری اور ایک اچھے عہدے پر فائز ہےں موجو د تھے اس بزر گ لوہار کی بات کو آگے بڑھائی کہ ”واقعی لوٹ مار کے واقعات کی وجہ سے یہاں کے باشعور شہری کسی اور علاقے میں ہجرت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، میں خود پہلے بنارس میں تیس سال رہ کر گیا ہوں لیکن آئے رو ز کی ڈکیتیوں اور ان واقعات پر قانون کی چشم پوشی کی وجہ سے میں دوسرے علاقے میں شفٹ ہونے پر مجبور ہوگیا ہوں۔“

ان لوہاروں سے تھوڑا آگے ہی گیراج کے علاوہ”کار سنگھار“ کے سامان کی دکانیں بھی ہیں جو کہ پختون ہونے کے باوجود پشتو بولنے والے لٹیروں سے بد ظن تھے اور ایک لڑکے نے یہ انکشاف بھی کیا کہ عبداللہ کالج کی اکثر طالبات بھی ان لٹیروں کی زد میں آچکی ہیں ۔

ان دکانوں کے ساتھ ہی کچھ فاصلے پر دائیں ہاتھ کی جانب بظاہر ایک بوسیدہ سی عمارت نظر آتی ہے جس میں داخل ہونے کے لئے کسی دروازے کی بجائے ٹوٹی ہوئی دیوار سے گزر کر جانا پڑتا ہے ، یہی پیرآباد تھانہ ہے جو بقول لوگوں کے بنارسی لٹےروں کے سرپرست ہیں۔

میں آج ایک بار پھر اس میں آیا تھا ، پھر ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر مجھ سے آنے کی وجہ معلوم کی، میں نے بھی گزشتہ کی طرح اپنا تعارف کرائے بغیر ایک عام شہری کی طرح اپنا دکھڑا رویا، اس نئے سپاہی نے بھی چند سوالات کئے اور لٹیروں سے سختی سے نمٹنے کی بات بھی، لیکن اس کی باتیں اور انداز بالکل بھی میل نہیں کھا رہا تھا اور مزے کی بات یہ کہ صاحب حسب معمول دورے پر تھے لیکن اس مرتبہ ہم نے صاحب کا انتظار کرنے کی بجائے سپاہی سے صاحب کا موبائل نمبر پوچھا،ا س نے ہمیں صفائی سے ٹال دیا، لیکن میں نے عبداللہ کالج کے نزدیکی علاقے سے پی سی او سے فون کرکے ایک کرائم رپورٹر سے پیر آباد تھانے کے ایس ایچ او کا نمبر حاصل کیا اور اسی وقت ان کے موبائل پر فون کرکے اس سنگین مسئلے پر ان سے ان کا موقف اور ان کے عملی اقدامات جاننے کی کوشش کی ،لیکن ”آپ کے مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہورہا“ کی کمپیوٹرائز آواز میرا منہ چڑا رہی تھی۔ چونکہ آج میں نے صاحب سے ملنے کی ٹھانی ہوئی تھی اس لئے دوبارہ تھانے جاپہنچا اور معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ صاحب بلدیہ کے علاقے میں دورے پر گئے ہوئے ہیں اور میرے کافی انتظار کے بعد بھی وہ نہ آئے ۔دورے کرنا اچھی بات ہے او رایک فرض شناس افسر ہر وقت ڈیوٹی کے سلسلے میں گشت پر ہوتو مجرموں کے دلوں میں بھی خوف رہتا ہے لیکن اب ایسے بھی کیا دورے کے اس کے نتیجے میں شہریوں کو ہی دورہ پڑ جائے جیسے ایک لُٹنے والے شہری کے بقول”جب سے مجھے لوٹا گیا ہے، میں ابھی تک صدمے میں ہوں“ اس واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ :

”میں کراچی کا رہائشی ہوں، دن ہو یا رات کبھی آنے جانے میں پریشانی نہیں ہوئی، نہ ہی کسی قسم کا خوف محسوس ہوا لیکن گزشتہ دنوں جو کچھ میرے ساتھ ہوا اس نے میرے حواس گم کردئےے، ابھی تک صدمے کی کیفیت میں ہوں۔
گزشتہ ہفتے کو رات آٹھے بجے کے بعد میں سڑک سے گزر رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ اندازہ یہی تھا کہ شاید گھر سے کسی نے رابطہ کیا ہو، اس لئے موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کرکے موبائل فون جیب سے نکالا، ابھی صحیح طرح سے بات بھی نہیں کرپایا تھا کہ قریب ہی ایک اور موٹر سائیکل آکر رکی، اس پر دو لڑکے سوار تھے۔ میں یہی سمجھا کہ وہ اپنے کسی کام سے رکے ہیں، اس لئے میں نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ اچانک وہ دونوں لڑکے میرے پاس آئے، ان میں سے ایک لڑکے نے ٹی ٹی نکال کر میرے سینے سے لگادی اور میرے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا اور پاس موجود رقم جوکہ پچیس ہزار کے قریب تھی ، میرے جیب میں ہاتھ ڈال کر خود ہی نکال لی۔ میں تو بے بسی سے ان کی کارروائی دیکھتا رہا، یہ پچیس ہزار میرے لئے کیا تھے؟ میں ہی جانتا ہوں۔ چند ماہ قبل ہی میں نے اپنے جاننے والوں سے ادھار رقم لے کر چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کیا تھا۔ میرے دو بچے ہیں، میں نے کاروبار کے سلسلے میں ملازمت چھوڑی دی تھی اور ابھی کاروبار بھی نہ چلا کہ ظالموں نے مجھے لوٹ لیا۔ لٹنے کے بعد میں تھانے بھی گیا ، انہوں نے واقعے کی تفصیل جاننے کے بعد حوصلہ افزا جواب نہ دیا۔ اس سے پہلے لٹنے والوں کا احوال سنتا رہتا تھا لیکن جب خود پر گزری تو پتا چلا کہ اس کے بعد کیسا دھچکا لگتا ہے، جس سے سنبھلنے میں کافی عرصہ لگے گا۔ یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ اپنے ہی ملک میں ہم اس قدر غیر محفوظ ہیں، واقعی پاکستانی خصوصاً کراچی کے عوام جس دور سے گزر رہے ہیں اس کا اندازہ کوئی بھی نہیں کرسکتا۔“

ایک رپورٹ کے مطابق بنارس میں ساٹھ فیصد آبادی مالکانہ اور چالیس فیصد کرائے پر رہ رہی ہے اور ان کرائے پر رہنے والوں کا کوئی خاص ریکارڈ بھی نہیں ہے، مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگ اس آبادی میں کچھ اس طر ح ضم ہوئے ہیں کہ اچھے برے کی پہچان مشکل ہوگئی ہے، اس میں ایک تو کرائے پر مکان دینے والوں کا بھی قصور ہے کہ وہ مناسب چھان بین کئے بغیر ہی زیادہ کرایہ ملنے کی لالچ میں اپنا مکان اکثر جرائم پیشہ افراد کے حوالے بھی کردیتے ہیں۔ ایک اطلاع تو یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں پانچ سے زائد گروہ ڈکیتیوں میں ملوث ہیں اور یہ گروہ نہ صرف سڑکوں پر کھلے عام لوٹ مار کررہے ہیں بلکہ گھروں میں بھی ڈکیتیاں عام سی بات ہوکر رہ گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دن میں کم از کم تیس کے قریب گاڑیاں لٹ رہی ہیں اور اےک محتاط اندازے کے مطابق دو سے تین سو موبائل چھین لئے جاتے ہیں، نقدی اس کے
علاوہ ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اکثر لٹیرے پہلے اسی بنارس چوک پر جیب تراشی کیا کرتے تھے جو اب منظم گروں کی شہ ملنے اور لاقانونیت دیکھ کر جیب تراشی کی بجائے لٹیرے بن گئے ہیں۔

ایک اور خاص بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ پینٹ شرٹ پہننے والے افراد زیادہ تر ان لٹیروں کی زد پر ہوتے ہیںا ور اس میں زیادہ اضافہ 12مئی کے بعد اور خاص طور پر بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد زیادہ دیکھنے میں آئی ہے، اگرچہ بنارس چو ک جسے باچا خان چوک بھی کہاجاتا ہے اے این پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور اے این پی کے اکثر جلسے اسی چوک پر منعقد ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد جس قسم کی لوٹ مار بنارس کے علاقے میں کی گئی وہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔

اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ٹرانسپورٹ کی کمی کی وجہ سے لوگ بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں لیکن بنار س سے گزرنے والی اکثر گاڑیاں نیچے خالی اور چھتےں بھری ہوئی ہوتی ہیں اس کی وجہ ایک نوجوان نے یہ بتائی کہ بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنے سے اگرچہ کپڑے گندے تو ہوجاتے ہیں لیکن لٹیروں کی لوٹ مار سے محفوظ ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لٹیرے صرف بسوں کے نچلے حصے میں ہی لوٹ مار کرتے ہیں۔

اس روٹ پر چلنے والی اکثر گاڑیوں کے مالکان نے بھی اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کھلے عام لوٹ کی وجہ سے اس طرف سے سفر کرنے والے مسافروں میں کمی آئی ہے(میں خود بھی یہ روٹ چھوڑ چکا ہوں) صرف وہی لوگ سفر کرتے ہیں جن کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں۔ ان گاڑی مالکان کی بات اس حوالے سے بھی درست ہے کہ منگھو پیر ، قصبہ کالونی اور اورنگی کے رہائش خاص طور پر اس بات کے لئے مجبور ہیں کہ وہ بنار س سے ہی گزر کر جائیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل روٹ نہیں ہے جہاں سے وہ بحفاظت اپنے کاموں پر جاسکیں۔

اگرچہ پاسبان اور دیگر رفاہی اور علاقائی تنظیےموں کی جانب سے احتجاجی بینر بھی لگائے کہ بنارس کو لٹیروں سے پاک کیا جائے لیکن یہ بینر بھی کچھ کام نہ آسکے ۔ لوٹ مار کے حوالے سے لیاری جو کبھی اول نمبر پر آتا تھا اب صرف منشیات فروشوں کی آپس کی لڑائی کی وجہ سے مشہور ہے جبکہ بنارس لوٹ مار کے حوالے سے اول نمبر پر آچکا ہے۔ دیکھئے ہمارے محافظوں کے دل میں کب خوفِ خدا جاگتا ہے اور وہ واقعی ”پولیس کا ہے فرض، مدد آپ کی“ کے تحت ہنگامی بنیادوں پر اپنا فرض ادا کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کرتے ہیں....؟؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035