|
|
|
27
March 2008 /
18
Rabi-ul-Awal
1429 |
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
تلاشِ گمشدہ
ہمیں شروع سے پِنک پینتھر کارٹون پسند رہا ہے، اگر کہیں اس کی جھلک بھی نظر آجاتی
ہے تو ہم چند لمحے ضرور اسے دیکھتے ہیں، کیونکہ یہ اپنی سادگی سے شرارتیں پیدا کرتا
ہے جو ہمیں بے حد پسند آتی ہیں۔ اگرچہ لڑکپن کی فرصت تو نہیں کہ ہم باقاعدہ پِنک
پینتھر کارٹون دیکھ کر محظوظ ہوسکیںمگر جب بھی موقع ملا اس کارٹون نے ہمیںگدگدایا....مگر
ایک دن اچانک ہی ٹی وی پر نظر پڑی تو ایک کلین شیو صاحب، کالا چشمہ لگائے سلیقے سے
بچے کھچے بال جمائے چلے آرہے تھے اور میڈیا کے لوگ ان کے اطراف ان سے سوالات کرنے
کے لئے بے چین دوڑ رہے تھے، کسی صحافی نے ان سے کوئی سوال کیا اور انہوں نے کوئی
جواب دیا جو ہمارے سر سے گزر گیا، وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ ان کی باتیں سمجھنے کے
لئے بندے کو اپنی ذاتی ڈکشنری سے بھی کام لینا پڑتا ہے جو اس نے حفظ کی ہوئی ہوتی
ہے، یعنی یہ چوہدری شجاعت حسین صاحب سے ہمارا باقاعدہ پہلا تعارف تھا اس کے بعد ہم
ان کے فین ہوگئے ہیں....پِنک پینتھر کی پسندیدگی اپنی جگہ ہے!
چوہدری شجاعت اتنے اسمارٹ ہیں کہ ہم نے ان کی ایک پریس کانفرنس والی تصویر دیکھی تو
سمجھے کہ تمام ہی خواتین پریس کانفرنس کررہی ہیں وہ تو اخبار والوں نے نشاندہی کی
کہ ان میں چوہدری صاحب بھی موجود ہیں۔ جنہوں نے چوہدری صاحب کو سرسری نظر سے دیکھا
ہے ، وہ اس تصویر کو دیکھ کر الجھن میں پڑ جاتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو بلا کے
حسن پرست ہیں وہ مشکل میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ چوہدری صاحب خواتین کی موجودگی میں
زیادہ خوبصورت ہیں یا پھر ان کی وجہ سے خواتین خوبصورت دکھائی دے رہی ہیں۔
میرا دوست مَلک کہتا ہے کہ ”چوہدری صاحب انتہائی شرمیلے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو
چشمہ نہ لگاتے !“مجھے مَلک کی بات سے سو فیصد اتفاق ہے چوہدری صاحب انتہائی حد تک ”شر....میلے“
ہیں۔ ویسے کالا چشمہ لگانے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی دشمن آنکھوں میں آنکھیں
ڈال کر بات نہیں کرسکتا جبکہ چوہدری صاحب کا چشمہ تو اتنا کالا نظر آتا ہے کہ کوئی
دشمن چشمہ لگا کے شیشہ میں شیشہ ڈال کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔چوہدری صاحب کی ایک خوبی
یہ ہے کہ وہ لفاظی کرنے والے سیاستدان نہیں ہیں بلکہ عملی اقدامات پر زور دیتے ہیں،
کبھی کبھی تو اتنا زور دیتے ہیں کہ ”الف“ الگ، ”قد“ الگ ، دوسرا ”الف“ الگ اور
”مات“ الگ الگ کھڑے ہانپتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس موقع پر مَلک صاحب نے یہ تبصرہ
فرمایا کہ وہ واقعی عملی اقدامات سے زیادہ ”عملی اقدا....مات“ سے کام لیتے ہیں۔
چوہدری صاحب کو بولتے ہوئے دیکھا جائے تو پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے وہ انگریزی بول
رہے، جب غور سے دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ وہ واقعی انگریزی بول رہے ہیں، جب ان کے
الفاظ سمجھنے کے لئے ڈکشنری کھولی جائے تو پھر احساس ہوتا ہے انہوں نے کوئی ”اپنی
ہی “ انگریزی بولی تھی جو انگریزوں کی بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔ کہتے ہیں اچھا
سیاستدان وہ ہوتا ہے جو وہ کچھ بولے جو سننے والے کو اچھا لگے اور کرے وہ کچھ جو
خود اسے اچھا لگے، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ چوہدری صاحب” اچھے سیاستدان“ ہیں۔ کچھ
لوگوں کے بقول سیاست انہیں گھٹی میں ملی ہے، ہم ان کی تصیح کرنا چاہتے ہیں کہ سیاست
انہیں ”مٹھی “ میں ملی ہے، جیسے کچھ لوگ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں
یہ ”اخبار“ لئے دنیا میں آئے تھے۔ ہماری اس بات کی تصیح بھی ملک صاحب یوں کرتے ہیں
کہ وہ اخبار گائنا کالوجسٹ کا تھا جسے چوہدری صاحب نے جھپٹ کر پکڑ لیا تھا کہ
دیکھیں اس میں ان کی آمد کی خبر شائع ہوئی ہے کہ نہیں، اور لوگوں نے اتنی سے بات کو
بڑھا چڑھا کر یہ کردیا ہے کہ وہ اخبار لے کر دنیا میں آئے تھے۔ بات کچھ بھی ہو ہمیں
تو ان رپورٹروں پر حیرت ہوتی ہے جو ان کے بیان نہ صرف شائع کرتے ہےں بلکہ وہ سمجھ
کر لکھ بھی لیتے ہیں کیونکہ ہم نے جب بھی ان کی باتیں سننے کی کوشش کی ، ہماری یہ
کوشش رائیگاں ہی گئی، اس سے تو اچھا تھا ہم کوئی پشتو فلم دیکھ لیتے، جس کے ڈانس آج
تک ہماری سمجھ میں نہ آسکے۔ پشتو فلموں سے ہمیں یاد آیا کہ پشتو فلموں کی ایک
انفرادیت یہ ہے کہ اس میں ہیرو سِلم اور ہیروئن موٹی تازی بلکہ صرف موٹی موٹی ہی
سلیکٹ کی جاتی ہے یعنی ہیروئن سیلکٹ کرنے کے لئے اسکرین ٹیسٹ کی بجائے ”کرین ٹیسٹ“
لیا جاتا ہے۔چوہدری صاحب کو ہمارا مشورہ ہے کہ اگر وہ سیاست چھوڑنے کا ارادہ کرلیں
(جوکہ ناممکنات میں سے ہے) تو وہ پشتو فلموں کا رخ کریں کیونکہ ان میںتمام ہیروز کی
خوبیاں موجود ہیں۔ ملک صاحب نے اس موقع پر حسبِ عادت ٹانگ اَڑانے کی کوشش کی کہ
چوہدری صاحب کو پنجابی فلموں میں کام کرنے کا مشور ہ دیا جانا چاہئے لیکن ہم نے اس
کا منہ یہ کہہ کر بند کردیا کہ پنجابی فلموںمیں فلم کی کامیابی کا سارا دارو مدار
ہیرو پر ہی ہوتا ہے اور ہیرو کی نمایاں خصوصیات میں:
٭مونچھیں ہونا لازمی ہیں۔
٭آواز پاٹ دار ضرور ہونی چاہئے۔
٭چشمہ کی بجائے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا عادی ہو۔
٭اور چوہدری نہ ہو۔
کیونکہ پنجابی فلموں میں چوہدری ہیرو کی بجائے ولن ہوتے ہیں، ہاں اگر چوہدری صاحب
کو منفی رول پسند ہو تو بصد شوق پنجابی فلموں کا رُخ کرسکتے ہیں۔
(ایک نامعقول کے بقول تو یہی مناسب ہے، یہ نا معقول کون ہوسکتا ہے؟ بتانے کی ضرورت
نہیں!)۔
ہمیں ایک بات پر ہمیشہ اعتراض رہا ہے کہ چوہدری صاحب کا انتخابی نشان سائیکل کی
بجائے کچھ اور ہونا چاہئے تھا، کیونکہ بندہ چوہدری ہو اور بیٹھے غریبوں والی سواری
سائیکل پر تو کچھ مناسب نہیں۔ مجھے شک ہے، شاید ابرار الحق نے انہیں ورغلایا ہو گا
کہ پہلے سے سائیکل پر گانا تیار ہے ، اس لئے چوہدری صاحب ان کے جھانسے میں آکر
سائیکل ہی انتخابی نشان منتخب کرچکے ہوں، اگر وہ ہم سے مشورہ کرتے تو ہم نہ صرف ان
کے شایان شان محفوظ سواری کو منتخب کرنے پر اصرار کرتے بلکہ ایک گانے کی ٹانگ توڑ
کر انہیں نیا گانا تیار کروادیتے کہ”اَج ٹینک تے مہراں لا ساڈی فرمیش تے“(آج ٹینک
پر مہر لگا ہماری فرمائش پر)
بہر حال دشمنوں کی نظر لگی اور ان کی سائیکل سِرک گئی بلکہ بکھر گئی، ظاہر ہے ایسا
تو ہونا ہی تھا جب سولہ کروڑ عوام کو ابرار الحق کے ورغلانے پر ایک چھوٹی سی سائیکل
پر بیٹھنے کی دعوت دی جائے تو سائیکل کا یہی کچھ حشر ہونا تھا، جبکہ ہمارے منتخب
نشان کے بعد مہر لگانے کے بعد اس گانے کو کچھ اس طرح بھی آگے بڑھایا جاسکتا تھا کہ
”ذرا لا کے سامنے آساڈی فرمیش تے“ اب جس میں ہمت ہوتی توصرف وہی ٹینک کے سامنے آنے
کی جسارت کرسکتا تھا ، ویسے بھی غریب غرباءکو اپنی سواری پر بٹھانے کا یہی نتیجہ
نکلتا ہے جس کا خمیازہ چوہدری صاحب بھگت رہے ہیں اور اس بات کا الزام وہ مدرسے کی
معصوم بچیوں پر ڈالتے ہیںکہ ان کی بددعائیں انہیں لے ڈوبیں ، حالانکہ اس بات میں
کوئی حقیقت نہیں ، اگر ہوتی تو چوہدری صاحب الیکشن نہ ہارتے بلکہ....خیر رہنے دیں
جب سے الیکشن ہوئے چوہدری صاحب بہت کم نظر آرہے ہیں کئی بار سوچا کہ انہیں فون کروں
لیکن مسئلہ وہی آڑے آتا رہا کہ ان کی بات سمجھنے کے لئے ترجمان(جس کا ملنا بہت ہی
مشکل ہے) کی ضرورت پڑتی کیونکہ ا س کے بغیر ان کی بات کم از کم ہماری سمجھ میں نہیں
آتی۔ بہر حال ہم اس غلط فہمی میں رہے کہ ان کی ”گمشدگی“ صرف ہمارے لئے ہی وجہ ¿
پریشانی بنی ہوئی ہے ، مگر ایسا نہیں کیونکہ ہمیں آج ہی ایک تلاش گمشدہ کا پیغام
موصول ہوا ہے ، جس سے ہمیں دیگر لوگوں کی پریشانی کا بھی احساس ہوا ہے، یہ پیغام
کچھ اس طرح سے ہے:
تلاش گمشدہ
”نام چوہدری شجاعت،بولنے اور دیکھنے میں انفرادیت، ذہنی توازن بالکل متوازن....اٹھارہ
فروری کی شام ، کالا چشمہ پہنے سائیکل کو پنکچر لگوانے نکلے تھے۔ جن صاحب کو ملے وہ
فوراً نواز شریف سے رابطہ کرکے انہیں اطلاع دیں۔“
ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ پیغام لکھنے والے نے نواز شریف کو اطلاع دینے کی
بات کیوں کی ہے؟ اگر آپ کو سمجھ آجائے تو ہمیں بھی سمجھا دیںجب تک ہم یا تو پِنک
پینتھر دیکھ لیں یا پھر چوہدری صاحب ہی کی کوئی پرانی ویڈیو دیکھ کر انتظار کرتے
ہیں۔۔۔! |
 |
|
|