رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

19 March 2008 /  11 Rabi-ul-Awal  1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com


لُٹ کر بدھو گھر کو آئے

عنوان دیکھ کر آنکھیں ملنے اور ہمارے دوست عبداللہ جیسے پھرتیلے جوانوں کو اردو ڈکشنری کھنگالنے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ ہم نے جان بوجھ کر یہی عنوان تجویز کیا ہے جو نہ صرف آپ پڑھ چکے ہیں بلکہ اسی کا شکار ہوکر آپ نے تحریر خوانی بھی شروع کردی ہے۔

دراصل ایک ماہ کے دوران میں، جس قسم کی صورتحال سے گزرا ہوں، اس کے بعد ہونا تو یہ چاہئے کہ ایک خون اُگلتا، لفظ لفظ میں ڈر اور خوف سموتا خوفناک کالم تحریر کرتا۔ سچی بات یہی ہے کہ ارادہ بھی کچھ ایسا ہی تھا لیکن وہ جو عطاءالحق قاسمی نے اپنے کسی سنجیدہ کالم کے آخر میں تحریر کیا تھا، مزاح نگار کی ایک خامی یہ ہوتی ہے ”چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے“ کے مصداق وہ کہیں نہ کہیں سنجیدہ کالم میں بھی ڈنڈی مار جاتا ہے لیکن چونکہ ہماری خواہش ہوتی ہے دوسروں سے قدرے مختلف دکھائی دیں اس لئے ہم نے ڈنڈا مارنے کا ارادہ کیا....ہمارا نہیں خیال کہ کوئی ڈنڈا مارنے سے گھبرایا ہوگا یا پھر اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے ہوں گے کیونکہ جن لوگوں نے ”بادشاہ صحیح سلامت“ کے آٹھ سالہ شاندار دور میں جو مختلف قسم کے ڈنڈے کھائیں ہیں وہ بھی عادی ہوگئے ہوں گے، جس طرح ہم اب لُٹنے کے عادی ہوچکے ہیں....”ہم“ سے مرادی میری ذات بھی ہے اور پورا پاکستان بھی!

چونکہ میرے ذاتی اور ملکی حالات ایک جیسے ہیں اس لئے آج کی تحریر بھی گڈ مڈ سی ہی ہے، جو کوئی جس قسم کابھی مطلب نکالنا چاہے بالکل اسی طرح آزادی ہے جس طرح غیر ملکیوں کو ہمارے ملک میں ہر معاملے میں دخل اندازی کی اجازت ہے۔ اس بات پر ہمارے دیرینہ دوست ملک صاحب نے فرمایا ہے کہ یہاں ٹانگ اڑانے کا محاورہ مناسب ہے، لیکن مجھے اس سے اس لئے اتفاق نہیں کہ بڑے لوگ ٹانگ اَڑانے کی بجائے اُڑانے کو زیادہ مناسب خیال کرتے ہیں۔ بہر حال اس بات کی جانب پلٹتے ہیں جس کی وجہ سے آپ تجسس کی ڈور سے بندھے آگے بڑھے چلے جارہے ہیں اور ممکن ہے کہ بات کا کوئی صحیح رخ متعین نہ کیا گیا تو آپ راقم کو صلواتیں سنانے کے ساتھ آئند نام دیکھ کر ہی منہ پھیرلینے جیسے عزائم کرلیں تو قصہ یہ ہے کہ ہمارے دفتری انتقال کی وجہ سے بس کا روٹ بھی تبدیل ہوگیا اور ہم ایک بس کے ظلم و ستم سے نجات پاکر دوسری بس کے رحم و کرم پر ہوگئے ، گزشتہ روٹ کی بس سے ہمیں یہ شکایت رہی کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں اس نے ہمیں کبھی وقت پر دفتر نہ پہنچایا ہمیشہ ڈرائیور صاحب نے اپنی من مانی کرتے ہوئے جہاں دل چاہا گاڑی روک کر دوستوں سے گپیں ہانکنا شروع کردیں اور جب دل چاہا گاڑی ہانکنے لگا۔ نئے مسافر تو اس صورتحال پر ”چوں چوں“ کرتے لیکن ہم چونکہ چند ہی دنوں میں عادی ہوگئے تھے اسی لئے دم سادھے کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھتے رہتے ، مگر ہماری دعائیں رنگ لائیںاور ہم اس گاڑی سے نجات پانے میں کامیاب ہوگئے، لیکن اب ہمارے گلے ایک نئی مصیبت پڑ گئی ، دوسرے ہی دن ہم مزے سے اس کی تیزی رفتاری پر خوش ہورہے تھے کہ اچانک ہی ایک کھٹکا ہوا اور زور دار آواز گونجی ”سب اپنے اپنے موبائل نکال دیں“یعنی ہمارے لٹیرے بھائی اپنا حق مانگ رہے تھے اور ظاہر کسی کا حق نہیں مارنا چاہئے سو ہم نے کمال پھرتی سے موبائل کی سم نکال کر انہیں ان کا حق دے دیا۔

شا م میں گھر جا کر والدہ سے پیسے لے کر پھر نیا موبائل لیا اور تین دن بعد ہی معلوم ہوا کہ یہ بھی لٹیروں کا حق ہے، سو ہم ٹھہرے نیک خصلت اس لئے خاموشی سے یہ حق بھی ادا کردیا اور اس مرتبہ والدہ نے بھی اپنا حق ادا کرنے میں دیر نہ لگائی اور ہم نے نیا موبائل خرید لیا لیکن اس مرتبہ بھی ہم سے غلطی ہوگئی اور ہم نے بجائے اپنے لئے موبائل خریدنے کے لٹیروں کا حق اپنے پاس محفوظ کرلیا جو انہوں نے محض آٹھ دن کے وقفوں سے وصول کرلیا لیکن اس مرتبہ والدہ نے صاف انکار کردیا کہ اب اس مد میں والدہ کے ذمے کوئی حق نہیں، لہٰذا موجاں کرو۔

کچھ دن موجاں کرنے کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر موبائل کے مالک بن گئے لیکن اب ہم نے یہ احتیاط کرنا شروع کردی کہ جونہی لٹیروں کا علاقہ ( سائٹ تھانہ کراچی سے بنارس چورنگی تک) آتا ہم موبائل سے سم نکا ل لیتے، ایسی ہی حرکت ہم نے گزشتہرات کی اور موبائل ہاتھوں میں پکڑے بیٹھے کہ وہ مخصوص آواز کانوں میں گونجی کہ موبائل نکال دو اور ڈرائیور کو گاڑی آہستہ چلانے کا حکم ....ہم چونکہ اب عادی ہوچکے تھے لہٰذا اس مرتبہ دل مطمئن رہا، اب کے دھڑکنیں بے ترتیب نہ ہوئیں اور ہم نے سامنے کھڑے اس نوجوان کا جائزہ نہایت اطمینان سے لیا اور ایک منٹ سینتالیس سیکنڈ اس کی باڈی لینگویج سمجھتے رہے۔ اتنا اطمینان و سکون ہم نے بہت کم لوگوں کے چہروں پر دیکھا ہے، آواز میں رعب، آنکھوں میں طنزیہ ہنسی، اسلحے پر مضبوط گرفت ، ہمیں یاد آرہا تھا ایسا اطمینان اور رعونت ہم پہلے بھی اس گاڑی کے علاوہ کہیں دیکھ چکے ہیں....کہاں ؟ ذہن پر زور دینے سے یاد آےا ٹی وی پر ....قوم سے کےے گئے خطاب کرنے والی شخصیت کے چہرے پر....پونے دو منٹ میں پوری بس کو بے بس کرکے صفایا کرنے والے لٹیرے اتر گئے، اس کے بعد لکیر پیٹنے والے رہ گئے۔

اس رات جب ہم گھر پہنچے تو والدہ نے ہمارا لٹکا چہر ہ دیکھ کر کہا”لگتا ہے....آج پھر بدھو گھر کو لُٹ کر آیا ہے؟“ میں کیا جواب دیتا کہ ماں بھی میری رگ رگ سے واقف ہے، لیکن ماں کو کیسے سمجھاﺅں کہ شکر کرے اس کا بدھو لٹ کر آےا ہے ورنہ اسی روٹ پر انہی لیٹروں کے ہاتھوں دو مارچ کو ایک نوجوان کو چھریوں سے وار کر لِٹا دیا گیا جو مستقل قبر میں لیٹا ہے اور اس کے والد کا ایک جملہ مجھے ابھی تک نہیں بھولا”چند ہزار کے موبائل کے لئے میرے بیٹے کو مارنے والوں کو کون گرفتار کرے گا؟“ اس کون کا جواب تلاش کرنے کی کافی کوشش کی لیکن اس لئے نہیں مل سکا کہ کسی نے بتایا، کراچی میں سب سے زیادہ لوٹ مار اس علاقے میں اس لئے ہوتی ہیں کہ محافظوں کا ان کے سروں پر دستِ شفقت ہے ، لٹیروں کا جب دل چاہتا ہے خواتین سے بدتمیزی کرلیتے ہیں اور لوٹ مار الگ اور سب سے بڑھ کر چوں کرنے والوں کی چوں بھی بند کردیتے ہیں، شاید اس لئے” اُس“ کے چہرے پر اطمینان تھا، آنکھوں میں طنزیہ ہنسی تھی، اسلحے پر گرفت مضبوط تھی، ہمارا تو آپ کو یہی مشورہ ہے کہ جہاں ایسے محافظ اور ایسے حق وصول کرنے والے ہوں وہاںبنیا بننے کی ہرگز کوشش نہ کی جائے کہ”چمڑی جائے، دمڑی نہ جائے“۔ بدھو لُٹ کر ہی گھر آجائے توشکر کرے ، اگر لیٹ کر آیا تو۔۔۔
!!

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035