|
|
|
11 March 2008 /
02
Rabi-ul-Awal
1429 |
|
شوکت
علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com
جیو حکمرانوں جیو
کتنے ہی دن ہوگئے ”کینڈل لائٹ“ میں ڈنر کرنے
جیسی ”عیاشی“ سے مستفید ہورہاہوں اور اس کے لئے میں بجلی کے محکمے کا مشکور ہوں کہ
وہ اس طرح کا موقع فراہم کررہاہے ورنہ تو اسلام آباد کے کئی ہوٹلوں میں ”جوڑوں“ کو
اس طرح ڈنر کرتے دیکھ کر ہم صرف اپنا دل ہی جلایا کرتے تھے۔ اب واپڈ ا کی بدولت
ہمیں آدھی سہولت تو میسر ہوگئی ہے کہ کینڈل لائٹ میں ڈنر کرنا پڑتا ہے۔
اندھیری گلیوں سے ہوتے ہوئے گھر پہنچو تو گھر میں بھی چند موم بتیاں روشن ہوتی ہیں،
جن کی روشنی ہمیں اسلام آباد میں تو بہت اچھی لگا کرتی تھی کہ اس طرح رومانوی ماحول
پیدا ہوتا ہے، لیکن اب یہی رومانوی ماحول ہمیں میسر ہے لیکن پسند نہیں کیونکہ ”قدر
کھو دیتا ہے روز روز کا آنا“ یہاں آنے سے مراد بجلی ہے کیونکہ کسی زمانے میں بجلی
جایا کرتی تھی اب آیا کرتی ہے۔ وہ بھی وقت پتہ نہیں ہوتا کہ کتنی دیر مہمان رہے گی،
اس لئے ایمر جنسی لائٹ چارج کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا کیونکہ وہ بھی تو بجلی ہی سے
چارج ہوتی ہے، اسی وجہ سے موم بتیاں دھڑا دھڑ ہمارے غم میں پگھلتی جاتی ہیں، جس کا
فائدہ موم بتی بنانے والوں کو پہنچ رہا ہے۔ اگر میں حکمران ہوتا تو یہ کہنے میں دیر
نہ لگاتاکہ بجلی جانے سے کتنے ہی لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔
بجلی جانے سے ہمیں ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ جن دوستوں سے ملاقات کرنا ہوتی ہے
بلاجھجک ان تک پہنچ جاتے ہیں، وہ بھی اس وقت تک جان نہیں چھوڑتے جب تک بجلی آ نہ
جائے۔ بجلی جانے سے ایک فائدہ میرا چھوٹا بھائی بھی اٹھا رہا ہے، نہانے سے اس کی
جان جاتی ہے اور اب اسے نہانا نہیں پڑتا۔ ظاہر ہے بجلی ہوگی تو پانی کی موٹر چلے گی،
موٹر چلے گی تو پانی ہوگا، جب پانی ہی نہیں ہوگا تو پھر موجاں ہی موجاں....!
مجھے ذاتی طور پر شاعری پسند اور شاعر ناپسند ہیں، وجہ یہ ہے کہ شاعر ہمیشہ عاشق
ہوتا ہے اور عاشق ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ ویسے بھی شاعر وہ عاشق ہوتے ہیں، جن کی
محبوبہ ہمیشہ روٹھی ہوئی اور ناراض رہتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر انہیں شاعری
کی فرصت ہی کہاں ملتی۔
بہر حال بجلی بھی ہمیں کسی محبوبہ سے کم دکھائی نہیں دیتی، ہر زبان پر اسی کے چرچے
ہیں، اسی کی راہیں لوگ دیکھتے رہتے ہیں، اس کے آجانے سے چہرو ں پر رونق سی آجاتی ہے
، اسی لئے ایک شعر سے چھیڑ چھاڑ کرنے کو دل چاہ رہا ہے، اور میرا خیال ہے جس شعر سے
چھیڑ چھاڑ ہونے جارہی ہے اس کے ”موجد“ اگر حیات ہوتے تو یقینا ہماری جھولی میں
شاباش ڈال دیتے کیونکہ بجلی نہ ہونے کے سبب انہیں بھی کینڈل لائٹ تو میسر ہوتی مگر
محبوبہ سے دوری اور زیادہ تڑپا دےتی، وہ بھی یہی کہنے پر مجبور ہوتے
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
”نجانے کسی گھڑی میں بجلی آف ہوجائے“
بات کینڈل لائٹ تک رہتی تو سردیوں کے دنوں میں تھوڑا بہت گزارا کیا جاسکتا ہے، لیکن
کچھ دنوں سے میں دیکھ رہا ہوں کہ والدہ لکڑیوں کی تلاش میں پریشان رہتی ہیں ۔ وجہ
معلوم کی تو خبر دی ”گیس کی بھی لوڈ شیدنگ زروشور سے جاری ہے۔ اب کھانا پکانے کے
لئے لکڑیاں ہی استعمال کرنا پڑ رہی ہیں، گیس کا انتظار کرو تو وقت ضائع ہوتا
ہے۔“خیر یہ تو والدہ کا مسئلہ ہے کہ وہ گیس کا انتظار کریں یا لکڑیوں پر کھانا
پکائیں، ہمیں تو کھانا تیار ملتا ہے اس لئے ہمارا دل بھی چاہتا ہے کہ حکمرانوں کے
حق میں مچھلی کی طرح نعرہ لگائیں۔
یہ مچھلی والا قصہ یہ ہے کہ ایک مچھیرے نے مچھلی پکڑی اور فوراً ہی بیگم کو پکڑا کر
کہا جلدی سے اسے صاف کرو اور پکا کر لے آﺅ۔
مچھیرے کی بیوی نے کہا”کیسے پکاﺅں....نہ بجلی ہے، نہ پانی ہے اور نہ ہی گیس ہے؟
مچھیرے نے یہ سنا تو بیوی سے کہاپھر اس مچھلی کو مارنے سے کیا فائدہ، اسے واپس دریا
میں ڈال دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے تڑپتی ہوئی مچھلی اٹھا کر پانی میںپھینک دی ۔
مچھلی نے پانی میں جاتے ہی سر باہر نکالا اور نعرہ لگایا
”جیوحکمرانو جیو!“
|
 |
|
|