رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

10 March 2008 /  01 Rabi-ul-Awal  1429

 شوکت علی مظفر
shaukatmuzaffar@yahoo.com

سچ ہی سمجھو۔۔۔ پاکستان بھی ٹی وی ہے

میں گاڑی سے باہر نظر آنے والے مناظر میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک ہی پنجابی زبان میں ایک آواز سماعت سے ٹکرائی: ”سارے ڈکیٹ کٹھے ہوگئے نیں، میرے وطن دی خیر ہووے۔“ (سب ڈکیت اکٹھے ہوگئے ہیں، میرا وطن سلامت رہے)

میں نے گردن گھماکر دیکھنے کی کوشش کی لیکن گاڑی بھری ہونے کی وجہ سے معلومات دینے والے صاحب نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر کچھ وقفے سے وہی آواز دوبارہ گونجی۔ میں نے پھر کوشش لیکن وہی ناکامی۔ کچھ وقفہ گزرا تھا کہ آواز قدرے قریب سے سنائی دی۔ میں نے جھٹ مڑ کر دیکھا تو وہ صاحب اب کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔

”اوہ!“ میں بے اختیار کہہ اٹھا، کیونکہ مذکورہ جملہ سن کر میں سمجھا تھا کوئی دیوانہ بس میں سوار ہوگیا ہے لیکن یہ صاحب تو خاصے ”معزز“ دکھائی دے رہے تھے۔ گرے پینٹ اور بسکٹی رنگ کی پینٹ شرٹ پہنے ہوئے صاحب نے انتہائی محنت سے شیو کی تھی۔ سر کے بال سلیقے سے جمے ہوئے تھے یعنی خاصے چمک دمک رہے تھے۔

”اچھا تو یہ ہیں وہ دیوانے جو بس میں سوار مسافروں کو ڈکیت اکٹھے ہونے کی معلومات فراہم کررہے تھے۔“ میں نے دل میں سوچا۔ اتنے میں شاید انہیں میری پچھلی سیٹ پر جگہ مل گئی تھی اور اب انہوں نے بجائے پنجابی کے اردو میں بولنا شروع کیا۔ ان کا پنجابی لہجہ شفاف اردو اُگل رہا تھا۔ وہ فرما رہے تھے: ”سیاستدان کہتے ہیں، عوام کی طاقت.... سب سے زیادہ طاقت ور اللہ ہے....“ انہوں نے کچھ دیر وقفہ کیا پھر کہنے لگے: ”یہ جو لوگ نعرہ لگاتے ہیں، عوام کی طاقت، عوام کی طاقت، یہ سب کمیونزم اور سوشلزم سے نکلا ہوا ہے.... ورنہ اصل طاقت والا تو اللہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت کا طوق پہنا دیتا ہے.... یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ انتہائی ڈھیٹ ہوتے ہیں اور ذلت کو بھی عزت ہی سمجھتے رہتے ہیں۔“ انہوں نے ایک چھوٹا سا بریک لیا، جس میں وہی نعرہ لگا: ”سارے ڈکیٹ کٹھے ہوگئے نیں!“ پھر دوبارہ اردو میں اپنا سلسلہ کلام جوڑا: ”یہ ق لیگ والوں کے ساتھ کیا ہوا، جس سائیکل پر وہ نازاں تھے، جس کے اشتہارات پر انہوں نے کروڑوں روپیہ اُڑا دیا، وہی سائیکل اب بغیر ٹائروں کے کھڑی ہے،اس کا ہینڈل ٹیڑھا ہوچکا ہے، سیٹ دوسرے سیاستدان اکھاڑکر لے گئے ہیں اور یہ ہیں کہ پھر بھی بغیر سیٹ والی سائیکل پر سوار ہوکر نعرے لگا رہے ہیں کہ 76لاکھ عوام کا شکریہ جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا.... اب بھلا جسشخص کی سواری ہی بغیر سیٹ والی ہواس کی کیا عزت ہوگی لیکن نہیں.... یہ ”حوروں“ کے درمیان بیٹھے راجہ اندر بنے پریس کانفرنسیں کھڑکا رہے ہیں۔“

حوروں کے درمیاں راجہ اندر بننے والی بات سے مجھے بھی چوہدری شجاعت کی گزشتہ دنوں اخبارا ت میں شائع ہونے والی تصویر یاد آگئی۔ ساتھ ہی ایک لطیفہ بھی یاد آیا جو یہاں بتانا مناسب نہیں۔ میں نے گردن موڑتے ہوئے ان صاحب سے کہا: ”زبردست! کافی معلومات ہیں آپ کے پاس۔“

انہوں نے جھٹ سے جواب دیا: ”یہ معلومات نہیں، یہ باتیں تو بچے بچے کو معلوم ہےں کہ پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے؟“

اس سے پہلے کہ میں ان سے دریافت کرتا، کیا ہونے جارہا ہے؟ وہ کہنے لگے: ”ہمارا ملک کالونی بن گیا ہے، امریکی کالونی۔ سب ہی سیاستدان امریکی اشاروں پر ناچ رہے ہیں، بس فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی کھلم کھلا امریکا کو ”یار“ مانتا ہے اور کوئی اندر ہی اندر ”رازو نیاز“ میں مصروف ہے۔ الیکشن ہوئے کتنے دن ہوگئے لیکن ان سے کوئی فیصلہ ہی نہیں ہو پارہا ہے کہ حکومت کس نے کرنی ہے؟“

ان صاحب کو پھر وہی دورہ پڑا۔ انہوں نے سلیس اردو میں کی جانے والی گفتگو روک کر پنجابی میں ”سارے ڈکیٹ کٹھے ہوگئے نیں“ کہا اور پھر اپنی گفتگو کی طرف لوٹ آئے ”یہ سیاستدان رات کو ایک میز پر کھانا کھاتے ہیں اور صبح ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ میڈیا کے سامنے آپس میں اتفاق کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن اندر ہی اندر ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ کوئی فیصلہ خاک کریں گے، ویسے بھی پاکستان میں فیصلہ یہاں کے حکمرانوں کا نہیں، انکل سام کا چلتا ہے۔ وہاں سے جو بھی اشارہ ملے گا وہی آپ اور میں دیکھیں گے.... جس طرح ٹی وی میں کتنے چینل ہوتے ہیں جو ہمارے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ریموٹ کنٹرول سے انگلیوں کے اشارے پر لمحوں میں بدلتے جاتے ہیں، اسی طرح پاکستان بھی ایک ٹی وی ہے، جس کا تماشا پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ آپ اور ہم ”ایکسٹرا“ کردار ہیں، مر بھی جائےں تو کوئی فکر کی بات نہیں۔ اس ٹی وی کا ریموٹ امریکا کے پاس ہے وہ جو بٹن دبادے گا وہی کردار ابھر کر سامنے آجائے گا، پھر وہی دما دم مست قلندر ہوگا....“

انہوں نے ایک لمبا سانس لیا ، پھر اردو کی بجائے پنجابی میں کہا ”ہونا کی ہے، ہورہیا اے!“ (ہوگا کیا ، ہورہا ہے)

”کیا مطلب؟“ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب نے پوچھا تو وہ اردو میں کہنے لگے: ”حکومت تو بنی نہیں مہنگائی کا آغاز شروع ہوچکا ہے، آج ہی پیٹرول مہنگا ہونے کی خبر آئی ہے اور دمادم مست قلندر والی ایک اور خبر یہ ہے کہ اب تو بندہ کسی جنازے میں بھی شرکت نہیں کرے گا۔“

”وہ کیوں؟“ کسی کی آواز آئی، یعنی کہ پوری گاڑی ہی ان صاحب کی طرف متوجہ تھی۔ انہوںنے جواب دیا: ”سوات میں ایک جنازے میں بم دھماکے سے جنازے میںشریک ہونے والوں کا جنازہ بھی چند گھنٹوں بعد پڑھایا گیا ہے، اس لئے کچھ پتہ نہیں کہ بندہ کسی کے جنازے میں جائے اور اپنا جنازہ نکلوا بیٹھے۔“

ابھی ان کی گفتگو جاری تھی کہ میری نظر کھڑکی سے باہر گئی تو باہر نظر آنے والے مناظر اجنبی تھے: ”اس کا مطلب ہے، میں اپنے اسٹاپ سے آگے آگیا تھا۔“ میں نے سوچا اور غور سے دیکھا تو ایسا ہی تھا، اس لئے مجبوراً ”دیوانے“ کی گفتگو ادھوری چھوڑ کر گاڑی سے اتر گیا۔ سفر معکوس شروع ہوا اور دفتر پہنچ کر حسب معمول اخبارات کو سرسری نظر سے دیکھا تو اس دیوانے کی گفتگو اور معلومات کے راز آشکارا ہوتے چلے گئے۔ تمام خبریں درست تھیں۔ سوات میں ڈی ایس پی صاحب کے جنازے میں، جو کہ خود بھی لکی مروت کے علاقے میں کسی بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے تھے، بم دھماکہ ہوگیا تھا جس سے 55 افراد کے جاں بحق اور اتنے ہی زخمی ہونے کی خبر نمایاں تھی۔ اگلے دن درہ آدم خیل میں جرگہ میں خو د کش دھماکے میں بھی 46سے زائد افراد کا لہو زمین پر بہہ گیا۔ دوسری بڑی خبر بجلی و پیٹرول مہنگا ہونے کی ہے جس سے اشیائے صرف کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ اس صورتحال پر سردست یہی کہا جاسکتا ہے کہ ”میرے وطن دی خیر ہووے!“

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035