|
|
|
02
August
2008 / 29 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
اندرونی وبیرونی خطرات سے دوچار پاکستان
مملکت خداد اد پاکستان اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزررہی ہے اور چاروںاطراف
اندرونی وبیرونی خطرات منڈلارہے ہیں جبکہ دشمن جہادی قوتوں کے بعد اب قومی سلامتی
کے اداروں پر براہ راست ہاتھ ڈالنے اور ان اداروں کو مفلوج کرنے یا نشان عبرت
بنادینے کے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے چکا ہے۔
دوسری جانب ملک کے اندر گرانفروشی ‘ بے روزگاری‘ انتشار‘ جرائم‘ بدامنی اور دیگر
سنگین مسائل نے عوام کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ ایسے مشکل حالات میں قومی قیادت ہی
قوموں کو گرداب سے نکالا کرتی ہے مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری نام نہاد قومی
قیادت خود ہی ملک کو مزید مصائب میں مبتلا کررہی ہے۔ اپوزیشن ہے کہ حکومت کے خلاف
محاذ آرائی پر تلی ہوئی ہے ،حکمراں ہیں کہ سب اچھا ہے یا ہوگا کے راگ الاپ رہے ہیں
،قومی سلامتی کے ادارے ہیں کہ وہ اپنے دشمن کو بچانے اور محفوظ بنانے کے لئے اپنے
ہی لوگوں کا قتل عام کررہے ہیں اور صدر مملکت ہیں کہ ان کو ہر شے سے عزیز اپنی ذات
اور اقتدار کی کرسی ہے۔ ان حالات میں عوام کے پاس سوائے مایوسی کے کچھ نہیں بچتا ہے،
بالخصوص ایسے ماحول میں جب ملک کو چاروں اطراف سے دشمنوں نے گھیراہو تو قومی قیادت
اور حکمرانوں کے غلط اقدام قوم کو مزید مایوس کرتے ہیں۔ مثا ل کے طور پر پاکستان اس
وقت جن مشکلات سے دوچار ہے ان حالات میں آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہو یا وزارت
داخلہ کے تنازع میں پڑنے اور سابق اور موجودہ حکمرانوں پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے
سب کی فکر ملک بچانے کے لئے ہونی چاہئے تھی مگر حالات وواقعات اس کے برعکس ہیں۔
آئی ایس آئی کے خلاف امریکا‘ بھارت اور دیگر اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں نے محاذ
بنایا ہوا ہے، اس کا مقصد ظاہر ہے کہ آئی ایس آئی کی اصلاح نہیں بلکہ ملکی سلامتی
پر حملہ کرنا ہے کیونکہ ان قوتوں کو یہ یقین ہے کہ مجاہدین کے بعد اب آئی ایس آئی
ہی واحد قوت بچی ہے جو پاکستان دشمن قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت
رکھتی ہے لہٰذا وقت سے پہلے ہی آئی ایس آئی کو مفلوج کر کے اس کو سبق سکھایا جا ئے۔
غالباً وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا مقصد بھی کچھ یہی ہے ممکن ہے کہ ایسا کرنے
والوں نے دانستہ طور پر ایسا نہ کیا ہو مگر اس اقدام کا عملی فائدہ پاکستان دشمن
قوتوں کو ہی ہوسکتا ہے دوسری طرف ماضی میں آئی ایس آئی کا ملکی سیاست کے حوالے سے
کردار کچھ مثالی نہیں رہا ہے اب وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کے بعد یہ حکمراں
جماعتوں کا ذیلی ونگ بن کر رہ جائے گی اور انہی کے اشاروںپر کام کرنے پر مجبور ہوگی۔
حکومت کے اس غلط اقدام سے فوج اور حکومت کے مابین خلیج بڑھ گئی ہے اور بعض مبصرین
کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک دوسرے کے کے خلاف بد اعتمادی کو بھی بڑھاوادے گا۔ حکومت
نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اعلامیہ کو واپس لینے کا اعلان تو کیا ہے مگر
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اعلامیہ کو پریس ریلیز کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ،
اس کے لئے دوسرا اعلامیہ جاری کرنا ضروری ہے جو تاحال جاری نہیں ہواہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے پہلے دورہ امریکا کے موقع پر بھی زیادہ تر آئی ایس آئی
ہی زیر بحث رہی ہے اور وفاقی وزیر دفاع چودھری احمد مختار تو امریکا میں آئی ایس
آئی کا دفاع کرنے کی بجائے تقریباً امریکیوں کی ترجمانی کررہے تھے۔ حالانکہ آئی ایس
آئی کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد اور غلط ہیں اگر درست بھی ہو تے
تو یہ آئی ایس آئی کے فرائض کے عین مطابق ہے کیونکہ جب امریکی ایف بی آئی اپنے ملکی
مفاد کے لئے کچھ بھی کرسکتی ہے تو یہ حق آئی ایس آئی کا بھی ہے۔ جب امریکی حکام نے
آئی ایس آئی کے حوالے سے اعتراضات کئے اس وقت چاہیئے تو یہ تھا کہ ہمارے حکمران
افغانستان میں امریکی حکام اور ایف بی آئی کی پاکستان کے خلاف سازشوں کا پنڈورا بکس
کھول دیتے کیونکہ اس وقت افغانستان کی سرزمین پر پاکستان کے خلاف کام کرنے والے
گروپوں کی جانب سے بھارت،امریکا اور افغان حکومت کے تعاون سے درجنوں کیمپ قائم کئے
گئے ہیں جہاں پاکستان مخالف قوتوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان
میں مزاحمتی تحریک میں تیزی اسی تربیت کا نتیجہ ہے اور تربیت یافتہ عناصر کا کردار
صوبہ سرحد اور قبائل کے حالات کو خراب کرنے میں بھی ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اپنی
سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے مگر جب افغانستان کی
سرزمین ‘ بھارتی اور دیگر پاکستان دشمن عناصر پاکستان کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں
تو پھر ہم پر اعتراض کیوں؟۔ حکومت کو چایہئے کہ وہ امریکا ‘ نیٹو اور افغانستان پر
واضح کردے کہ اگر ہمارے خلاف افغان سرزمین استعمال ہوگی تو پھر پاکستان بھی یہ حق
محفوظ رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ وقت جی حضوری کا نہیں بلکہ آنکھ میں آنکھ ڈال کربات کر
نے کا ہے ۔وزیراعظم پاکستان کا دورہ امریکا مایوس کن نظر آرہا ہے جس میں غالباً
امریکا نے مزید مطالبات‘ احکام اور الزامات کی طویل فہرست تھمادی ہے اور ہدایت کی
ہے کہ مطالبات پورے احکام پر عمل درآمد اور الزامات کا ازالہ ہونا چاہیئے اب دیکھنا
یہ ہے کہ وطن واپسی کے بعد گیلانی صاحب کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں‘ دوسری جانب
امریکی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد صدر صاحب نے بھی موجودہ حکومت کو2 ماہ میں حالات درست کرنے
کی ہدایت دے دی ہے جو ہدایت کم دھمکی زیادہ ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اوپر سے
نیچے تک تمام معاملات منصوبہ بندی کے تحت چل رہے ہیں۔
پاکستان کی اقتصادی صورتحال بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، اسٹاک ایکسچینج
مکمل تباہی کا شکار ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آرہی ہے ،دراصل اسٹاک
کا معاملہ بھی حکومت کے خلاف کسی بڑی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے اس پر حکمرانوں کو
بھی غور کرنا چاہئے۔ ادھر بھارت نے بھی الزام تراشی کا سلسلہ تیز کردیا ہے جس سے یہ
امکان بڑھ رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوگی کیونکہ
امریکا نے بھارت کو پاکستان کے خلاف تیار کیا ہوا ہے‘ کنٹرول لائن پر بھارت کی
حالیہ جارحیت بھی اس کا ثبوت ہے۔ مشرف صاحب نے 8 سال میں بھارت سے جو تعلقات قائم
کئے تھے بھارت نے ایک ہی لمحے میں ان پر پانی پھیر دیا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ”
بنیئے“ پر کبھی بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ ان تمام سنگین حالات کے باوجود ہم سب
آپس میں الجھے ہوئے ہیں ،معزول ججوں کا تنازع جوں کا توں ہے یہ معاملہ اب ذاتی انا
کا مسئلہ بن چکا ہے۔ صدر مشرف‘ حکمرانوں اور ججوں کو چاہیئے کہ وہ ملکی سلامتی کے
لئے اپنی انا کو قربان کریں۔
معزول چیف جسٹس کو کراچی کے استقبال سے احساس ہونا چاہئے کہ عوام کتنے مایوس ہیں،
کہا جاتا ہے کہ کراچی میں معزول چیف جسٹس کے استقبال کی ناکامی کی وجہ اعتزاز احسن
کے اقدام ہیں جنہوں نے پارٹی کو بچانے کے لئے اسلام آباد میں دھرنا نہیں دیا۔جس پر
وکلاءاور عوام ان سے شدید مایوس ہوگئے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ کراچی میں وکلاءنے
چیف جسٹس کی استقبالیہ تقریبات میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا اور چند سو وکلاءان
تقریبات میں شریک ہوئے حالانکہ کراچی بار کے ممبران کی تعداد 10 ہزارکے قریب بتائی
جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی
سلامتی کے لئے آگے بڑھیں اور اپنے پڑوسی ممالک چین اور ایران سے ملکر آیندہ کی حکمت
عملی طے کریں کیونکہ اب عالمی دہشت گردی کا مقابلہ یہ” ٹرائیکا “ہی کرسکتا ہے جس
میں پاکستان، چین اور ایران شامل ہو۔ چین اب بھی خاموش رہا تو یہ اس کی حماقت ہوگی
اور ایران کو اپنا دوھرا معیار ترک کرکے دشمن کے مقابلے میں آنا ہوگا۔ پاکستانی
عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے تمام اختلافات ختم کرکے صرف مسلمان اور پاکستانی بن کر
دشمن کا مقابلہ کریں اسی میں ہماری بقاءہے۔ |
 |
|
|