رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

18 August 2008 / 15 Shabaan 1429

عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com


مشرف پر عدم اعتماد....محفوظ راستہ.... مکافات عمل!!!

صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ستارے اس وقت انتہائی گردش میں ہیں جس کے باعث اب ان کے حلیف بھی حریفوں کی صف میں نظر آتے ہیں،ان کی کمزور پوزیشن کو دیکھتے ہوئے حامی بھی فصلی بٹیروں کی طرح جدا ہورہے ہیں اور ہر آتے دن کے ساتھ ان کے حامیوں میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ جو مشرف ماضی میں طاقت کی زبان میں بات کرتا تھا اب دعاو ¿ں پر گزارا کرتے دکھائی دے رہا ہے‘ جس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معصوم طلباءاور طالبات‘ بلوچستان صوبہ سرحد اور قبائل میں گولی کی زبان میں بات کی آج وہ محفوظ راستہ تلاش کررہا ہے، جن اسمبلیوںسے حاصل کردہ مبینہ اعتماد کے ووٹ کی بنیاد پر 5 سال تک اس ملک میں مطلق العنان حکمرانی کی آج انہی اسمبلیوں کی قراردادوں کو غیر اہم ا ور ماورائے قانون قرار دےاجارہا ہے، کل جو لوگوں کو طاقت کے بل بوتے پر جیل کے اندھیروں سے خوفزدہ کرتا تھا آج وہ خود اس کے تصور سے کانپ رہا ہے‘ جس نے اس ملک کی عزت ‘ آبرو اور عفت ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت سینکڑوں افراد کو چند ڈالر کے عوض امریکی سامراج کو فروخت کرڈالی آج وہ خود ملک میں رہائش کی ضمانت چاہتا ہے ، کل جس نے لاکھوں انسانوں کا سکون‘ چین‘ امن اور ان کی زندگیاں برباد کیں آج وہ خود ملک یا بیرون ملک پرسکون زندگی کی ضمانت کا طلب گار ہے، کل جن پر مشرف کوناز تھا آج وہ ان سے شاکی ہیں۔

دراصل یہ سب کچھ مکافات عمل ہے، آپ 12 اکتوبر 1999 ءسے اب تک کے صدر مشرف کے افعال و اقوال‘ اعمال و احوال اور کردارو گفتار اور آج وہ جن مسائل سے دوچار ہیں ان پر غور کریں تو خود ہی اندازہ کہا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟، ملک کے سیاستدان‘ مذہبی قوتیں‘ ان کے اندرونی وہ بیرونی دوست‘ پاکستان کے 16 کروڑ عوام یا ان کی اپنی ذات! ۔ اس وقت پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا ایشو ہی صدر مشرف اور پاکستانی جمہوریت کا مستقبل بن چکا ہے ممکن ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک کوئی نتیجہ سامنے آچکا ہو ہم نے اوپر جن باتوںکا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک کا چرچا بہت زیادہ ہے، یعنی صوبائی ا سمبلیوں کی جانب سے صدر پرویز مشرف پر عدم اعتماد کی قراردادوں کی بھرپور کامیابی ہے۔ حکمران اتحاد‘ صدر مشرف کے مخالف اور عوام کی ایک بڑی تعداد ان قراردادوں کو صدر مشرف پر عدم اعتماد قرار دے رہی ہیں جس کی بنیاد پر یہ تمام طبقے صدر سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے قائدین‘ معروف قانون دان عبدالحفیظ پیرزادہ اور صدر کے دیگر حامیوں کا کہنا ہے کہ ان قراردادوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ مواخذے کے عمل میں ان قراردادوں کی براہ راست اہمیت نہیں ہے مگر ان سے مواخذے کی تحریک کو اخلاقی سپورٹ ضرور ملتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یکم جنوری 2004 ءکو جب صدر مشرف نے سینیٹ‘ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تو ان کے مخالفین نے یہی کہا کہ اس اعتماد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں مگر اس وقت صدر مشرف اور ان کے حامیوںنے اس عمل کو قانون اور آئین کے مطابق قرار دیا جس کی بنیاد پر صدر مشرف نے 5 سال تک ملک میں حکمرانی کی‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیوں کو اعتماد کا ووٹ دینے کا حق ہے تو عدم اعتماد کا کیوں نہیں؟، کیونکہ آئین کے آرٹیکل 41 سب رول 3 کے تحت ہی مبینہ عدم اعتماد کی قراردادیں منظور کی گئی ہیں،اگر عدم اعتماد کی قراردادوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تو پھر تسلیم کرنا پڑیگا کہ اعتماد کے ووٹ کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ،ایسی صورت میں صدر کی 5سالہ صدارت کا قانونی اور آئینی ہونا سوالیہ نشان بن جاتا ہے ؟۔ حقیقت تو یہ نظر آتی ہے کہ آئین کے مطابق صوبائی اسمبلیوںکو صدر کے انتخاب کا حق تو ہے، مگراعتماد یاعدم اعتماد (مواخذے) کا حق نہیں ہے۔ یہ بات مکافات عمل کا حصہ ہے کہ کل جس قانون کو مشرف اور ان کے ساتھیوں نے اپنے حق میں استعمال کیا آج وہی قانون ان کے خلاف استعمال ہورہا ہے ۔ صوبائی اسمبلیوں نے 2004ئ،2007ءاور2008ءمیں صدر مشرف پر باالترتیب اعتماد‘ انتخاب اور عدم اعتماد کیا ۔ صدر مشرف کے زوال کی ابتداء2006 ءمیں اس وقت ہوئی جب انہوں نے اسلام سے متصادم حدود قوانین کو عین اسلام قرار دے کر اسمبلیوں سے منظور کرایا پھر جلتی پر تیل کا کام لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معصوم طلباءوطالبات کی دلخراش چیخوں اور ان کی عظیم قربانی اور خون کے قطروں نے کیا۔ اب قوم کی عظیم بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ابھرتی آہیں اور سسکیاں تابوت کی آخری کیل ثابت ہو نے والی ہیں۔

تیرہ اگست کی شب ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں صدر نے پہلی بار اپنی تقریر کا اختتام متعدد دعاو ¿ں پر کیا جس پر کسی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف امریکا اور فوج سے مایوسی کے بعد اب اللہ،اللہ کرنے لگے ہیں۔ اے کاش صدر مشرف کو یہ دعائیں اس وقت یاد آتیں جب وہ معصوموں پر بمباری اور نوجوانوں کو چند ڈالر کے عوض امریکا کے حوالے کررہے تھے۔ 1999 ءمیں راقم کی نظر سے ایک مضمون گزرا جس کا عنوان تھا”حکمرانوں کی انشاءاللہ“ مضمون نگار نے ایوب خان سے میاں نوازشریف تک کی کہانی بیان کرنے کے بعد اس کا خلاصہ نکالا تھا کہ حکمرانوں کی انشاءاللہ ان کے زوال کی علامت ہوتی ہے کیونکہ ان کو اللہ کی یاد صرف کرسی کے جانے کے وقت آتی ہے، کہا جاتا ہے کچھ ایسی ہی صورتحال صدر مشرف کے ساتھ بھی ہے ،غالباً یہی وجہ ہے کہ وہ محفوظ راستے کی بات کررہے ہیں مگر عوام کی ایک بڑی تعداد کا سوال ہے کہ جس نے اکبر بگٹی‘ معصوم طلباءوطالبات ‘ مجاہدین اور قبائلیوں کو محفوظ راستہ نہیں دیا اس کے لئے محفوظ راستہ کیوں....؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035