|
|
|
30 August
2008 / 27 Shabaan
1429 |
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
ججوں کی بحالی تک ادھار بند
اٹھارہ اگست 2008ءکو پرویز مشرف نے عہدہ صدارت سے استعفے دیااور یوں 8 سال 11 ماہ 7
دن بعد ان کے آمرانہ اقتدار کا خاتمہ ہوا اگر یہ انہونی سیاستدانوں کے دباﺅ پر ہوئی
ہے تو یقینا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے مگر سیاستدانوں کا پول جمعیت علماءاسلام(ف) کے
امیر مولانا فضل الرحمن نے مشرف کے استعفے کے صرف 4 دن بعد یہ کہہ کر کھول دیاکہ پی
پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بتایا ہے کہ” جن قوتوں نے سابق صدر کے
استعفے میں ان (زرداری) کا ساتھ دیا ان کا تقاضا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد
چودھری سمیت عدلیہ کی بحالی ممکن نہیں ہے“۔ مولانا فضل الرحمن کے اس انکشاف کے بعد
یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ مشرف کا استعفاءسیاست دانوں کا کارنامہ نہیں بلکہ بعض
قوتوں کے دباﺅ کا نتیجہ تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں
نے اپنا کردار ادا کیا، تقریباً تمام مبصرین کا خیال ہے کہ وہ قوتیں پاکستانی فوج
اور امریکا ہیں۔
اٹھارہ فروری 2008ءکے عام انتخابات سے اب تک پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی
زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف ججوں کی بحالی کے حوالے سے 5بار ڈیڈ
لائن دے چکے ہیں مگر ہر ڈیڈ لائن کا اختتام ایک نئی ڈیڈلائن پر ہوتا ہے۔ پہلی بار
30جون، دوسری بار 12 مئی، تیسری بار مشرف کے مواخذے یا استعفے کے 3 دن بعد،چوتھی
بار72گھنٹے اور پانچویں بار27 اگست تک جبکہ نواز شریف کی جانب سے اب چھٹی بار
25اگست2008ءکی ڈیڈلائن سامنے آئی ہے۔ حالات سے محسوس ہوتا ہے کہ اس ڈیڈلائن پر بھی
کلی طور پر عمل نہیں ہوگا، البتہ قومی اسمبلی میں ججوں کی بحالی کے حوالے سے
قرارداد ضرور لائی جائے گی جس میں بحث کے دوران ججوں کا وہ حشر ہوگا کہ 9مارچ
2007ءکے ”نو“(نہیں)پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو اپنے جرم کا احساس ہوگا
کہ آخر انہوں نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی آمر کے سامنے ”نو“ کہنے کی جرا ¿ت
کیوں کی؟ اگر اس روز وہ ”نو“ نہیں کہتے تو آج شایدمراعات یافتہ زندگی گزاررہے ہوتے۔
9مارچ 2007ءکو ایک افتخار محمد چودھری نے ”نو“ کہنے کی جرا ¿ت کی تو ان کی دیکھا
دیکھی 3نومبر 2007ءکو مزید 60 جج ”نو پی سی او“ کا نعرہ لگاکر خود کنارہ لگے۔ ان 60
ججوں کو بھی سیاستدانوں کے بدلتے ہوئے بیانات،کہ مکرنیوں اور قوتوں کے دباﺅ کو
دیکھتے ہوئے اپنے ”نو پی سی او“ کے نعرے پر احساس جرم ہوگا۔ اصل میں ان اقدام کو
زندہ قوموں ،وعدوں کی پاسدار سیاسی قیادت اور انصاف پسند انسانوں کے معاشرے میں جرا
¿ت مندی کا مظاہرہ اور قابل تحسین تصور کیا جاتا ہے ،مگر جہاں ایک طرف کئی روز کی
بھوک مٹانے کے لیے چند کلو آٹا چوری کرنے والے کمسن بچے کی قسمت میں تھانہ اور جیل
کی کال کوٹھری ہو اور دوسری طرف قوم کے اربوں روپے لوٹنے، قتل، اقدام قتل اور دیگر
جرائم میں ملوث بااثر افراد کو ”این آر او“ کے تحت آزادی مل جاتی ہو، جہاں قوم کے
قائدین ایک نہیں کئی بار بلکہ قرآن پاک پر وعدے کرکے بھی مکرجاتے ہوں، جس معاشرے
میں اسلام، قرآن اور انصاف کی بات کرنا جرم ہو، جہاں قوم کے قائدین طاقت کو دیکھتے
ہوئے فیصلے کرتے ہوں، وہاں اصول پرستی اوز ندہ ضمیری کو بزدلی اور انا پرستی سے
تعبیر کیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی خان یا
نادیدہ قوتوں کو معزول چیف جسٹس سے خطرہ کیا ہے اور وہ ان کی بحالی کی مخالف کیوں
ہیں؟۔ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے تو کہا جاتا ہے کہ وہ حسبہ بل اور مدارس کی
اسناد کے حوالے سے افتخار محمد چودھری کے مبینہ کردار پر ناراض ہیں جبکہ آصف علی
زرداری کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ مستقبل میں ”این آر او“ کے حوالے سے عدلیہ
کے کردار پر خوفزدہ ہیں مزید یہ کہ زرداری اور اسفندیار ولی خان پر بیرونی قوتوں کا
دباﺅ بھی ہے جبکہ بیرونی اور بعض اندرونی قوتیں لاپتاافراد کے مقدمات کی فوری سماعت
اور سخت اقدام کرنے پر افتخار چودھری کو سزا دینا چاہ رہی ہیں۔ ہم نے یہاں پر آصف
علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی خان کا ذکر اس لئے کیا کہ یہ وہ
لوگ ہیں جنہوں نے 9مارچ 2007ءاور 3 نومبر 2007ءکے بعد ججوں کے حق میں مہم چلائی ان
کے درجنوں کارکن12مئی2007ءاور دیگرمواقع پر اس مہم کے دوران مارے گئے( جن کی روحیں
یقیناً ان سے سوال کر رہی ہونگی کہ ”اے قائدین ہمارا جرم کیا تھا“) مگر اب بدلے
ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور معزول چیف جسٹس کے حوالے سے جواز یہ بنایا جارہا ہے کہ
افتخار محمد چودھری نے ایک بار ” پی سی او“ کے تحت حلف لیا ہے اس لئے اب ان کی ”تو
بہ“ اور 9مارچ کی ”نو“ قابل قبول نہیں ہے۔ اگر اسی فلسفے کو تسلیم کیا جائے تو پھر
ماضی میں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر مبینہ کرپشن کے سنگین الزامات، این
آر او، ڈیل کے تحت جلاوطنی اور دیگر معاہدے، مولانافضل الرحمن پر17 ویں ترمیم اور
متعدد مواقع پر مشرف کو بچانے کے مبینہ اقدام اور اسفندیار ولی خان کی جماعت پر
ملکی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی ناقابل معافی ہیں۔ اگر ایک گناہ پر
عدلیہ کے افتخار محمد چودھری نااہل ہوسکتے ہیں تو پھر مذکورہ بالا الزامات کی بنیاد
پر سیاستدان بھی نااہل قرار دیے جاسکتے ہیں۔ دراصل مبصرین کا یہ خیال ہے کہ اس ملک
میں کوئی بھی سیاستدان آزاد عدلیہ اور شفاف انتخابات کامتحمل نہیںہوسکتا ہے کیونکہ
ایسا ہونے کی صورت میں سب سے پہلے انہی کی گردن پھنستی ہے۔ نواز شریف بھی عدلیہ کی
آزادی کے خواہاں نہیں ہیں مگر 18 فروری 2008ءکے انتخابات میں وہ عدلیہ اور لال مسجد
اور جامعہ حفصہ کے ایشو پر عوام سے ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے، لال مسجد کو تو وہ
بیرونی دباﺅ پر بھول گئے تاہم عدلیہ کو یاد رکھنا ان کی مجبوری ہے، کیونکہ ان کی
نظر آیندہ انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔ مبصرین کا دعویٰ ہے کہ 27 اگست 2008ءکی
ڈیڈلائن بھی ختم ہوگی مگر جج کلی طور پر بحال نہیں ہوں گے، غالباً یہی وجہ ہے کہ
بعض مقامات پر دکانداروں نے جہا ں ”کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے“لکھا ہوتاتھا
وہاں طنزاً” ججوں کی بحالی تک ادھار بند ہے“کی عبارت لکھ دی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ
ہے کہ 6 ستمبر 2008ءکے صدارتی انتخابات تک ججوں کا معاملہ جوں کا توں رہے گا۔ اگر
جج بحال نہیں ہوتے ہیں توپہلے تمام الزام آصف علی زرداری کے سر ہوتے مگر اب مولانا
فضل الرحمان اور اسفندیار ولی خان کے سر ہونگے کیونکہ مشرف کے استعفے کے بعد انہوں
نے ہی 72گھنٹے کا وقت لیا تھا جو قوم کے لئے اب72سال ثابت ہو رہے ہیں۔
صدارتی انتخابات کے شیڈول کے اجراءکے بعد صدارتی امیدوار کے حوالے سے کوششیں تیز
ہوئی ہیں۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم نے آصف علی زرداری کو تو نامزد کیا ہے تاہم 5
اور7اگست 2008ءکے مبینہ تحریری معاہدوں اور بعض دیگر وجوہ کی بناءپر مسلم لیگ (ن)
اور دیگر اتحادی جماعتوں کو اس پر تحفظات ہیں۔ لیگی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ5 اور7اگست
2008ءکے معاہدوں میں موجودہ صورتحال میں نئے صدر کے لیے چھوٹے صوبوں اور غیر
جانبدار صدر کا ذکر ہے جس کا ظاہری مطلب بلوچستان اور صوبہ سرحد ہیں تاہم پی پی پی
اور ایم کیو ایم سندھ کو بھی اس میں شامل کررہے ہیں۔ اگر صدر سندھ سے ہو تو یہ عجیب
بات ہوگی کہ صدر، سینیٹ کا چیئرمین اور قومی اسمبلی کی اسپیکر کا تعلق ایک ہی صوبے
سے ہو گا،اگرچہ آئینی اورقانونی طور پرایسی کوئی پابندی نہیں مگر اخلاقی اور ماضی
کی جمہوری روایات کا بھی خیال ہونا چاہئے ،پھر یہ کہ 9 سال تک اقتدار کا منبع سندھ
ہی رہا ہے کیونکہ سابق صدر پرویزمشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا تعلق سندھ کے
دارالحکومت کراچی سے ہے۔ پی پی پی کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آصف علی زرداری
موجودہ حالات میں کسی صورت صدارت کا منصب نہیں سنبھالیں گے تاہم ان کی توجہ اپنی
بہن اور آفتاب شعبان میرانی پر ضرور ہے (ممکن ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک صورت حال
واضح ہوئی ہوگی) اور اگر انہوں نے صدر پاکستان بننے کا فیصلہ کیا تو پھر اپنی بہن
فریال تالپور کو پارٹی کی اہم ذمہ داری مل سکتی ہے تاہم ہر دو صورت میں فریال
تالپور کا کردار اہم نظر آرہا ہے۔ دوسری خاص بات یہ ہے کہ صدارتی انتخابات کے بعد
سینیٹ کے چیئرمین کو تبدیل کرکے اور بلوچستان کے جان محمد جمالی یا کسی اور کو یہ
عہدہ دیا جائے گاجبکہ ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ صوبہ سرحد کو ملے گا۔ |
 |
|
|