|
|
|
11
August
2008 / 07 Shabaan
1429 |
|
|
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
صدر کا مواخذہ ....فاتح کون ہوگا؟
حکومتی اتحاد میں شامل 4 بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن)،جمعیت علماءاسلام (ف)اور
عوامی نشنل پارٹی نے صدرجنرل (ر) پرویز مشرف کے مواخذے کے مطالبے کوبلاآخر حتمی شکل
دے دی ہے، اگرچہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومتی نے اس میں تاخیر کی یہ کام 18
فروری 2008 ءکے عام انتخابات کے فوراً بعد ہی ہونا چاہئے تھا تاہم حکمراں اتحاد
باالخصوص پی پی پی کی قیادت کاکہنا ہے کہ یہ موقع انتہائی مناسب ہے کیونکہ اس سے
قبل مواخذے میں بعض رکاوٹیں اور بعض اتحادیوں کو تحفظات تھے،اس لئے حتمی فیصلے سے
قبل رکاوٹوں کا خاتمہ اور تحفظات کو دور کیا گیا ہے۔مواخذے کے لیے اسمبلیوں کے
اجلاس طلب کئے گئے ہیں۔
ملکی تاریخ میں پہلی بار صدر کے مواخذے کے اعلان کے بعد ملکی سیاست اور سیاسی
مستقبل ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکمران جماعتوں کے پاس صدر
مشرف کے خلاف مواخذے کا آئینی حق ہے تو صدر مشرف کے پاس (58)2بی بھی ہے۔ بعض مبصرین
کا کہنا ہے کہ صدر مشرف (58)2بی کا حق استعمال نہیں کرسکیں گے، کیونکہ اب ان کو فوج
اور عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ (58)2بی کے استعمال کی صورت میں صدر کو ایک ماہ کے
اندر سپریم کورٹ سے اس کی توثیق اور 90دن کے اندر الیکشن کرانا لازمی ہو گا، ایسی
صورت میں مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کوواضح پوزیشن ملنے کا امکان ہے،
جبکہ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر اسمبلیاں توڑ کر ماضی کی طرح سپریم کورٹ سے مزید
رعایت حاصل کرسکتے ہیں ۔اس کا زیادہ امکان اس لیے بھی ہے کہ صدر مشرف موجودہ ججوں
کے زبردست حامی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ملک میں جب بھی ٹرائیکا کی لڑائی ہوتی
ہے اس میں فائدہ فوج کا ہوتا ہے اور کامیابی اسی کو ملتی ہے ،جس کی حمایت فوج اور
امریکا کررہا ہوتا ہے۔ اس وقت بظاہر ٹرائیکا میں سے عدلیہ اور صدر تقریباً ایک پلڑے
اورپارلمنٹ دوسرے پلڑے ،جبکہ فوج غیرجانبدار نظر آتی ہے ۔ اس ساری صورت حال میں
محسوس یہ ہوتا ہے کہ فتح اسی کی ہوگی، جو پہلے اور ٹیکنیکل طریقے سے وار کرنے کے
ساتھ ساتھ فوج اور امریکا کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔ موجودہ صورت حال میں
یہ محسوس ہوتاہے کہ صدر مشرف کی حمایت سے امریکا نے ہاتھ کھینچ لیا ہے، اس کا واضح
ثبوت یہ ہے کہ صدرمشرف نے بیجنگ میںہونے والے اولمپکس گیم کی تقریبات میں شرکت نہیں
کی، حالانکہ امریکی صدر بش کی آمدیقینی تھی، جہاں پر صدر مشرف امریکی صد رکو راضی
کرسکتے تھے ،یہ ان کے لیے بہترین موقع تھا۔
حکمراں اتحاد کی جانب سے صدر کے مواخذے کے اعلان کے بعد ملکی سیاست اور نمبر گیم
میں اضافے کے لئے جوڑ توڑ میں تیزی آئی ہے آئندہ چند روز میں اس میں مزید تیزی آئے
گی اور صورتحال بھی واضح ہوگی کہ آیا صدر جنرل پرویز مشرف مواخذے کا مقابلہ کرتے
ہیں ،باعزت طریقے سے استعفے دے کر مبینہ طور پر” آمر“ ہوتے ہوئے بھی ایوب خان کی
طرح” امر“ ہوجاتے ہیں یا پھر ردعمل کے طور پر مواخذہ کرنے والوں کا مواخذہ (58) 2بی
استعمال کرکے اسمبلیوں کو چلتا کرتے ہیں۔ سیاسی قیادت، مبصرین اور عوام کی اکثریت
کا خیال ہے کہ صدر مشرف کو اوّل الذکر دونوں راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا چائے
کیونکہ اور یہی اخلاقی اور جمہوری روایات کاتقاضہ ہے۔آخر الذکر راستہ استعمال کرنا
شاید مشرف کے لئے زیادہ آسان نہیں ہوگا ۔
اگرچہ ماضی میں (58) 2بی کا استعمال صدر مشرف کے پیشرو4بار کرچکے ہیں ۔1988ءمیں صدر
جنرل ضیاءالحق نے محمد خان جونیجو، 1990 ءمیں صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو ،
1993ءمیں صدر غلام اسحاق خان نے میاں محمد نواز شریف اور 1996ءمیں صدر سردار فاروق
خان لغاری نے اپنی ہی پارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف کیا اور ان کی
حکومت برطرف کی۔ دو بار 1988ءاور1993ءکے صدارتی اقدم کو عدالت غلط اور دوبار
1990ءاور1996ءکے اقدام کو درست قرار دے چکی ہے ۔آئین کی یہ شق ہمیشہ متناعہ رہی ہے
یہی وجہ ہے کہ1997ءمیں نواز شریف نے دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد آٹھویں ترمیم
ختم کرکے صدر سے یہ اختیار واپس لیا، تاہم اس کے باوجود وہ اپنی حکومت کو نہ بچاسکے،
یوں 12 اکتوبر 1999ءکو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر
قبضہ کرکے نواز شریف کو قید کیا۔ بعدازاں سترہویں ترمیم کے ذریعے ایک مرتبہ پھر صدر
مشرف نے (58) 2 بی کو آئین کا حصہ بناکر اسمبلی توڑنے کے اختیارات واپس حاصل کرلیے،
تاہم انہوں نے اپنے دور میں اس اختیار کو تاحال استعمال نہیں کیا ہے۔ اس وقت بھی
امکان یہی ہے کہ صدر مشرف اس حق کو استعمال نہیں کریں گے، کیوں کہ حالات اس کی
اجازت نہیں دیتے ۔تاہم وہ 147 ارکان قومی اسمبلی اور ممبران سینیٹ کو اپنا حامی
بناکر اتحادی جماعتوں کی تحریک کو نہ صرف ناکام بناسکتے ہیں بلکہ اخلاقی طور پر
اتحادی جماعتوں کو سیاسی موت سے دوچار بھی کرسکتے ہیں مگر ان حالات میں یہ کام بھی
کچھ زیادہ آسان نہیں لگتا ہے کیونکہ اس وقت عوامی اور سیاسی ردعمل صدر مشرف کے خلاف
ہے ایسی صورت حال میں نہ صرف حکمراں اتحاد بلکہ دیگر ارکان میں سے جو بھی مشرف کی
حمایت کرے گا اس کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے ‘ باالخصوص صوبہ
سرحد‘ بلوچستان اور فاٹا میں اس کا زیادہ ردعمل دیکھا جاسکتا ہے، کیونکہ یہاں کی
عوام موجودہ سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری صدر مشرف پر عائد کرتی ہے۔
ہم جب نمبر گیم اور ماحول کو دیکھتے ہیں مواخذے کی تحریک کامیابی سے ہمکنار نظر آتی
ہے ۔پارلیمنٹ میں مواخذے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 442ارکان میں سے دو تہائی
295ارکان کی حمایت لازمی ہے، اس وقت مشرف مخالف قوتوں کو275ارکان کی یقینی حمایت
حاصل ہے، جن میں پیپلز پارٹی کے 134، مسلم لیگ ن کے95، اے این پی کے 15، ایم ایم اے
کے 25، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے 2، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کاایک اور
پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے 3 ارکان قومی اسمبلی اور ممبران سینیٹ ہیں، جس میں
40 سینیٹر اور 236 ارکان قومی اسمبلی ہیں۔ مشرف کی حامی قوتوں میں مسلم لیگ(ق) کے
91( جن میں فاروڈ بلاک کے 22 ارکان بھی شامل ہیں)، ایم کیو ایم کے 31، مسلم لیگ (ف)
کے 6 اور پی پی پی (شیرپاﺅ) کے4 ارکان ہیں یہ مجموعی تعداد132 بنتی ہے، جبکہ غلام
مصطفی جتوئی کی جماعت نیشنل پیپلز پارٹی اور اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی
کے ووٹ بالترتیب 2 اورایک ووٹ ہیں،جن کا تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ
قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 30آزاد ارکان میں سے مجموعی طور پر 26ارکان کی حمایت
حکمران اتحاد کو حاصل ہے ۔ا س طرح حکمراں اتحاد کی مجموعی تعداد 301بنتی ہے ۔
مشرف حامی قوتوں کا دعویٰ ہے کہ حکمراں اتحاد کے کئی ارکان خفیہ رائے شماری کے
دوران مشرف کے خلاف ووٹ کا حق استعمال نہیں کریںگے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا دعویٰ
ہے کہ مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے 20ارکان نے صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے
کے حق میں حکمراں اتحاد کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے، تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیے
جاسکتے۔ موجودہ صورت حال میں مشرف حامی ارکان کے ٹوٹنے کا زیادہ امکان ہے، کیونکہ
ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور ممبران سینیٹ کو یہ خطرہ بھی ہے کہ مواخذے کی ناکامی
کی صورت میں صدر مشرف کسی بھی وقت (58)2بی کا استعمال کرکے اسمبلیوں کو چلتا کر
سکتے ہیں۔ تاہم سیاست باالخصوص پاکستانی سیاست میں” چمک“ اور” دباو ¿“ کا اثر بہت
ہی زیادہ دیکھنے میں آیا ہے، ماضی میں سینیٹ کے ایک ووٹ کے لئے 50 لاکھ سے 3 کروڑ
روپے کی بولی لگنے خبریں بھی اخبارات کی زینت بن چکی ہیں جب صرف سینیٹ یا قومی
اسمبلی کی ممبر شپ کے لئے یہ کچھ ہوسکتا ہے تو پھر ملک کی صدارت بچانے یا گرانے کے
لئے بولی میں کئی گناہ اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ق) مشاہد حسین سید نے میڈیا
میں اس طرح کے الزامات حکومت پر عائد کئے ہیں ان میں کتنی سچائی ہے وہ خود ہی
بتاسکتے ہیں ۔اس ساری گیم میں فتح بظاہر حکمراں اتحاد کی نظر آتی ہے تاہم یہ مشروط
ہے ملکی سلامتی اداروں اور امریکی حمایت یا ان کی غیر جانبداری ‘ حکمراں جماعتوں کے
مضبوط اتحاد ، بہتر حکمت عملی اور دانشمندانہ فیصلوں سے۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مواخذے کے لیے ان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے
442ارکان میں سے اب تک 321ارکان کی حمایت حاصل ہے اور اس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔حکومتی
ذرائع کایہ بھی دعویٰ ہے کہ صدر کے مواخذہ تک حکومتی ووٹوںکی تعداد بڑھ کر350 تک
ہوسکتی ہے اوریہ بات ناممکن نہیں، کیونکہ سیاست بالخصوص پاکستانی سیاست میں تبدیلی
آنے میں دیر نہیں لگتی اور نہ ہی یہاں پر نظریات یا موقف کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جو
چیزجس وقت مناسب لگے وہی قانون، آئین ، اخلاق اور یہاں تک کہ لوگ اس کو شریعت کا
حصہ سمجھنے میں بھی دیر نہیں لگاتے، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ جن 4 بڑی جماعتوں نے
صدر کے مواخذے کا فیصلہ کیا ہے، یہ مواخذے تک اسی طرح متحد رہتی ہیں یا سندھ
ہائیکورٹ کے 8 ججوں کی بحالی کی سمری کی منظوری کی صورت میں سامنے آنے والے واقعے
کی طرح کوئی اور واقعہ بھی ان کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال
ہے کہ حکمراں اتحاد نئے صدر کے حوالے سے اختلافات کا شکار ہوسکتا ہے مگر اتحادی
جماعتوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی قیادت اس کا حتمی فیصلہ کرچکی ہے صرف اعلان
باقی ہے۔ ذرائع اس حوالے سے کے آصف علی زرداری کی بہن اکن قومی اسمبلی فریال ٹالپور
کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں جن کو بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں 2007 ءکے
صدارتی انتخابات میں صدر کے لئے مخدوم امین فہیم کے متبادل امید وار کے طور پر
نامزد کیا تھا جبکہ آصف علی زرداری پہلے ہی کہہ چکے ہیں اب ایوان صدر میں بھی جیالا
آئے گا۔ تاہم ذرائع دیگر ناموں میں آصف علی زرداری‘ مولانا فضل الرحمن‘ محمد رفیق
تارڑ کے نام بھی بتاتے ہیں جبکہ ایک طبقے کی رائے یہ ہے کہ نیا صدر صوبہ سرحد سے
نامزد کرکے محرومیوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے
کہ صدر کے مواخذے کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوکر صدر کو چلتا کرتی ہے پھر خود
پارلیمنٹ کا مستقبل سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
حکمران جماعتوں نے اخلاقی سپورٹ کے لیے چاروں صوبائی اسمبلیوں سے صدر کو اعتماد کا
ووٹ لینے کی تلقین کرنے اور مواخذے کی حمایت میں قرار دادیں منظور کرانے کا بھی
فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے اجلاس بھی طلب کئے گئے ہیں اور یہ عمل حکمراں اتحاد آسانی
سے کرسکتا ہے۔ حکمران اتحاد کو پنجاب کے 371میں سے 278،سندھ اسمبلی کے 168میں سے
95،سرحد اسمبلی کے 124میں سے 101اور بلوچستان اسمبلی کے 65میں سے 33ارکان کی واضح
حمایت حاصل ہے ،جبکہ حکمران اتحاد کی حمایت کرنے والے آزاد اور مسلم لیگ (ق) فارڈ
بلاک کے ارکان اس کے علاوہ ہےں۔ اس وقت صدر مشرف کو مسلم لیگ (ق) ،متحدہ قومی
موومنٹ ، مسلم لیگ (ف) اور پی پی شیرپاﺅ کی مکمل حمایت حاصل ہے، جبکہ اے این پی اور
جمہوری وطن پارٹی کی حمایت بھی مشرف کو ملنے کا امکان ہے ۔اس تمام صورتحال میں ایم
ایم اے، آزاد اور چھوٹی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان انتہائی اہمیت حاصل کر
گئے ہیں، تاہم اس بات کا امکان بھی ہے کہ مواخذے کی صورت میں صدر مشرف پارلیمنٹ میں
آکر اپنا بھر پور دفاع کرتے ہوئے قومی مفاہمتی آرڈیننس اور پی پی پی سے ہونے والی
مبینہ مفاہمت سے ارکان کو آگاہ کرینگے۔
|
 |
|
|