|
|
|
10
July
2008 / 6 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
سید بادشاہ کے 100دن
پاکستان میں 18 فروری 2008 ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پاکستان
پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں کی حکومت اپنی پہلی سنچری مکمل کرکے دوسری سنچری کا
آغاز کرچکی ہے۔ اتحادی جماعتوں کے نا مز د وزیراعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کا
انتخاب 24 مارچ 2008ءکو ہوا جبکہ 25 مارچ 2008 ءکو انہوں نے ملک کے 25 ویں وزیراعظم
کی حیثیت سے حلف اٹھایایہیں سے ان کی حکمرانی کا آغاز ہوا۔ 29 مارچ کو انہوں نے
قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا اس موقع پر قومی اسمبلی میں اپنے پہلے
پالیسی بیان میں طویل اور مختصر مدت کے لئے ترجیحات کا اعلان کیا۔
مختصر ترجیحات میں100 دن کی مدت تک کے لئے کئی اہداف کا تعین کیا گیا۔ انہوں نے
اپنی تقریر میں واضح کردیا کہ وہ 100 دنوں میں اہداف میں شامل مسائل کو حل کرینگے‘
سید بادشاہ نے 100 دنوں کے لئے جو ہدف مقرر کیا تھا اس میں پہلی ترجیح عوام کو
ریلیف فراہم کرنا تھی مگر سید بادشاہ کے اعلان کے ٹھیک 100 دن بعد آج جب ہم اس
ریلیف پر غور کرتے ہیںتو مہنگائی‘ بدامنی‘ بے روزگاری‘ معاشی بدحالی‘ عدم تحفظ کے
احساس ‘ غربت اور دیگر مسائل میں کمی تو کہیں نظر نہیں آتی البتہ 15سے 40 فیصد تک
اضافہ ضرور دیکھنے میں آرہا ہے۔ مہنگائی میں جتنا اضافہ سید بادشاہ کے ان 100 دنوں
میں ہوا ہے گزشتہ کئی سالوں میں نہیں ہوا، اشیاءضرورت کی بنیادی چیزوں میں مسلسل
اضافہ ہورہا ہے ۔25 مارچ 2008 ءکو سید بادشاہ کے حلف اٹھانے کے بعد 100دنوںمیںچائے
میں60 سے80 روپے‘ دال چنا میں10سے 12 روپے‘ گھی میں 35 سے 36 روپے‘ چاول میں 15 سے
40 روپے‘ چینی میں 8 روپے‘ دودھ پاو ¿ڈر میں 20سے30 روپے‘ مرغی کے گوشت میں 25 روپے‘
گائے کے گوشت میں 50 روپے‘ بکرے کے گوشت میں 30 روپے‘ بھینس کے دودھ میں 6 روپے‘
گرم مصالحے میں 40 روپے ،آٹے میں 15 سے17 روپے اورسی این جی 11روپے فی کلو‘ کپڑے
میں 15 سے 50 روپے فی میٹر‘ پٹرول سپر میں 12روپے 78 پیسے ،پٹرول ہائی آکٹین
14روپے18پیسے،مٹی کے تیل میں8روپے29پیسےاور ڈیزل میں10 روپے94پیسے فی لیٹر‘ گیس میں
گھریلو 40 فیصد اور کمرشل 65 فیصد ‘ بجلی میں گھریلو اور کمرشل 30 سے40فیصد‘ صابن
میں 50 سے70 فیصد اور مقامی اور اندرون ملک کرایوں میں 25 سے 35 فیصد تک اضافہ ہوا
ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طور پراشیاءضرورت کی قیمتوں میں 22 فیصد تک
اضافہ ہوا ہے جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق 25 مارچ سے 3 جولائی2008ء تک 100 دنوں
میں اشیاءضرورت مجموعی طور پر 40 فیصدمہنگی ہوئی ہیں اور عام آدمی پر اس مہنگائی کا
مجموعی اثر 50 سے65 فیصد پڑاہے۔ سید بادشاہ کے 100 دنوں میں روپے کی قدر میں بھی
نمایاں کمی ہوئی جس کے باعث امریکی ڈالر کی قیمت 63روپے10پیسے سے بڑھ کر 69
روپے20پیسے ہوگئی ہے‘ اسٹاک ایکسچینج میں 3 ہزار سے زائدپوائنٹس کی کمی ہوئی،4 کھرب
کے قریب سرمایہ ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار کے قریب
لوگ بے روزگار ہوگئے۔
ان اعدادوشمار کے مطابق سید بادشاہ کے 100 دن اس ملک کے عوام کو بہت ہی مہنگے پڑے
ہیں اور مہنگائی کاسلسلہ ایسی طرح جاری رہا تو آیندہ 100 دن اس سے بھی خطرناک
ہوسکتے ہیں۔ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق موجودہ حکومت کے ابتدائی
100 دنوں میں غربت میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان اعدادوشمار کے مطابق سید
بادشاہ 100 دنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں نہ صرف مکمل طور پر ناکام ہوئے
بلکہ عوام کو مزید سنگین بحرانوں میں مبتلا کیا ہے۔ سید بادشاہ نہ صرف مہنگائی پر
کنٹرول کرنے میں ناکام ہوئے بلکہ 100 دن کے دیگر اہداف کے حصول میں بھی ناکامی کا
سامنا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مزدور کی تنخواہ کم از کم 6 ہزار ہوگی مگر اس پر
آج تک عمل نہیں ہوا، نجی اداروں نے اس پر کلی طور پر عمل کرنے کی بجائے مزدوروں کے
تعداد کم کردی ۔ سید بادشاہ نے کہا کہ دو ہفتوں میں سول اداروں سے فوجیوں کی واپسی
ہوگی مگر آج بھی کئی اداروں میں فوجی موجود ہیں‘ بلوچستان اور فاٹا میں آپریشن بند
کرنے کی بات کی مگر اس میں اضافہ کیا گیا۔ وزراءکے استعمال کیلئے 1600 سی سی
کاروںسے زائدپر پابندی لگادی گئی مگر بیشتر وزراءآج بھی اسسے بڑی گاڑیاں استعمال
کررہے ہیں۔ انہوں نے اعلان مری کے مطابق 30 دنوں میں ججوں کی بحالی کا اعلان کیا
مگر 100 دن گزرنے کے باوجود بحال نہ کراسکے۔ طلباءاور مزدور یونینوں پر عائد پابندی
ختم کرنے کا اعلان کیا مگر آج تک عمل درآمدنہیںہوسکا۔ رواں سال کے آخر تک 2200
میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا اعلان کیا مگر تاحال اس میں زیادہ پیش رفت نظر نہیں آرہی
ہے،بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کی بات کی مگر اس کی بجائے 50 ہزار بے
روزگاروں کا اضافہ ہوا۔ مسئلہ کشمیر عوامی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی بات کی مگر
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حالیہ سرگرمیوں سے محسوس ہوتا ہے کہ عوام کی بجائے امریکی
امنگوں کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ اس تنازع
کے اصل فریقوں کو کلی طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ سید بادشاہ نے فردواحد کی
بجائے پارلیمنٹ کو بالادست کرنے کا اعلان کیا مگرجب معاملہ قبائل میں آپریشن کا آیا
تو امریکی دباو ¿ میں انہوں نے پارلیمنٹ تو کیا اپنے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں
نہیں لیا اور خود ہی آپریشن کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ آپریشن کے تمام اختیارات چیف
آرمی اسٹاف کو تفویض کردیے۔ وزیراعظم نے خارجہ پالیسی جیو اور جینے دو کی نہج پر
بنانے کا اعلان کیا مگر 100 دنوں میں اس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی بلکہ
باالعموم بیرونی اور باالخصوص امریکی مداخلت حد سے بڑھ گئی۔اس کا اندازہ امریکی
حکام کے ان بیانات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ” پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے
آیندہ 6 سے 9 مہینے انتہائی اہم ہیں“ جبکہ نائب امریکی وزیر خارجہ رچرڈ باو ¿چر
کہتا ہے کہ” پاکستان کا مسئلہ بجلی‘ پانی‘ روٹی‘ کپڑا‘ مکان اور دیگر معاشی مسائل
ہیں“ اس کا مطلب ہے کہ ملک میں پائے جانے والے ان بحرانوں کے پس پردہ یہی قوتیں
ملوث ہیں۔ چاہئیے تو یہ تھا کہ ہمارے حکمران باو ¿چر کو جواب دیتے کہ ہمارے مسائل
صرف یہی نہیں بلکہ مسجد اقصیٰ کی آزادی، فلسطینیوں کو غلامی سے نجات دلانا‘ کشمیر
کی ماو ¿ں‘ بہنوں اور بٹیوں کی عزت کو پامال کرنے ، افغانستان‘ عراق‘ قبائل اور
دیگر مقامات پر امت مسلمہ پر مظالم ڈھانے والوں سے ان مظالم کا حساب لینا اور
ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانا بھی ہے ۔آج اگر صلاح الدین ایوبی‘ نورالدین زنگی
یا کوئی اور حقیقی مسلمان حکمران ہوتا تو شاید ایسا جواب دیتا مگر ہمارے آج کے
حکمراں امریکیوں کے ان توہین آمیز بیانات پر خاموش ہوئے یہ بات ان حکمرانوں کے
کمزور اور بزدل ہونے کا ثبوت ہے۔ حکومت کے غلط اقدام کی وجہ سی موجودہ حکمرانوں اور
حکمران جماعتوں کی مقبولیت میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن
نہیں لئے تو پھر ق لیگ کی طرح موجودہ حکمرانوں کا مستقبل بھی تاریک ہوگا۔ |
 |
|
|