رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

28 June 2008 / 22 Jamadil Akhir 1429

عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com


ملک بحرانوں کی لپیٹ میں،حل بم یا بندوق نہیںمذاکرات ہیں

جون2008ءکے آخری عشرے کے متعدد واقعات جہاں اس ملک کے16 کروڑ عوام کے لئے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں وہیں ان واقعات نے ملکی ، سیاسی، اقتصادی، معاشی، معاشرتی اور دفاعی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔21جون کو قومی اسمبلی نے مالیاتی بل کی منظوری دی جس کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد 17سے بڑھا کر29کردی گئی اس بل کی منظوری کا مطلب ہے کہ پی پی پی کے علاوہ مسلم لیگ(ن) نے بھی پی سی او والے ججوں کو تسلیم کیا ہے کیونکہ مالیاتی بل کی منظوری میں مسلم لیگ (ن)برابر کی شریک رہی ہے یہی وجہ ہے کہ عوام پی پی پی کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کے اقدام کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اس لئے کہ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان کا دعوا ہے کہ ججوں کی تعداد میںاضافہ مالیاتی بل کے ذریعے کرنے کا مشورہ مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئیر رہنماءنے دیا تھا۔کہاجا تا ہے کہ وہ سینئیر رہنماءاسحاق ڈار ہیں مسلم لیگ (ن) نے بعدازاں اس حوالے سے صفائیاں پیش اور مالیاتی بل سے لا تعلقی کا اظہار کر نے کی کوشش کی مگریہ سب اب” پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاںچگ گئیںکھیت“ کے مصداق ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ23 جون2008ءکے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو عوام کا ایک بڑا طبقہ مسلم لیگ (ن)کے لئے تحفہ قرار دے رہاہے،لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کو ضمنی الیکشن کے لئے نااہل قرار دیا، اس فیصلے نے جہاں ملکی سیاسی بحران میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے وہیں دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے مابین خلیج کو مزید وسیع کردیا ہے اگرچہ24 جون کو وزیر اعظم پاکستان نے اپنے اعلان اور اقدام کے ذریعے اس خلیج کو کم کرنے کی کوشش کی مگر شاید وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو زیادہ کامیابی نہیں ہوگی کیونکہ عوام کے ایک بڑے طبقے کا یہ خیال ہے کہ نواز شریف کی نااہلی میں کہیں نہ کہیں پی پی پی کی قیادت کا انفرادی یا اجتماعی کردار ضرور ہے ،پی پی پی کی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کے ذریعے وقتی طور پر نوازشریف کو ریلیف فراہم کردیا ہے اور وفاقی حکومت کی اس اپیل پر سپریم کورٹ نے این اے 123 کا ضمنی انتخاب، کیس کے فیصلے تک ملتوی کردیا ۔ نوازشریف کی نااہلی اور سپریم کورٹ میں حکومت کی اپیل کے حوالے سے عوام میںدو طرح کے آراءپائی جاتی ہیں ایک طبقے کی رائے ہے کہ نوازشریف کو صدر کی مخالفت، ججوں کی بحالی اور پی سی او ججوں کے حوالے سے سخت مو ¿قف ،مقبول عوامی لیڈر ہونے اور بعض امور پر امریکا کی مخالفت کی سزا دی گئی ہے اور اس کے پس پردہ پی پی پی کا کردار بھی ہے کیونکہ آیندہ پی پی پی اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ نوازشریف کو ہی تصور کرتی ہے۔ دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ نوازشریف کی نااہلی کا تعلق اندرونی معاملات سے زیادہ بیرونی ہے ،اس میں پی پی پی کا کردار صرف کٹھ پتلی کا ہے تاہم نوازشریف کے حامی اور مخالف اس فیصلے کو ظاہری طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، عوام کے ایک بڑے طبقے کا خیال ہے کہ نااہلی کا فیصلہ انتقام کا حصہ ہے اس فیصلے سے نوازشریف کی مقبولیت میں اچانک اضافہ ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالف بھی ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ الیکشن سے دودن قبل اس طرح کے فیصلے کا تعلق بدنیتی اور ذاتی انتقام سے ہے۔ بعض مبصرین بھی اسی طرح کی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد تمام توپوں کا رخ ایک مرتبہ پھر پی سی او ججوں کی طرف ہوگیا ہے اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں اس طرح کا فیصلہ ملک کے لئے مزید بحران اور انتشار کا باعث بنا ہے اور اب کی بار اگر کچھ ہوا تو( اللہ نہ کرے) اس کی تمام تر ذمہ داری عدلیہ پر عائد ہوگی۔یہ بات درست ہے کہ اس فیصلے نے ملک کو سنگین بحران سے دو چار کردیا ہے اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے جوامید پیدا ہوئی تھی وہ ختم ہوگئی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی اپیل کا حتمی نتیجہ کیا آتا ہے آیا نوازشریف کو ریلیف ملتا ہے یا پھر ان کی نااہلی پر آخری مہر لگا دی جاتی ہے تاہم نوازشریف پی سی او ججوںکے سامنے پیش نہ ہونے کے جس فیصلے پر قائم ہیں، عوام کی اکثریت اس کو درست تصور کرتی ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو ان ججوں کے سامنے پیش ہوکر اپنا مو ¿قف پیش کرنا چائہے تاکہ یک طرفہ فیصلے کا جواز پیدا نہ ہو۔

این اے123 کا الیکشن تو ملتوی ہوا تاہم قومی اسمبلی کی5 اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 25 نشستوں پر26 جون2008ءکو ضمنی انتخابات ہوئے, ان نشستوں میں سے اکثریت پر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے تاہم ان انتخابات میں عوام نے جس لاتعلقی کا اظہار کیا ہے وہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔جبکہ پنجاب میں پی پی پی کی بعض حلقوں میں شکست بھی پی پی پی کے لئے عوام کی جانب سے ایک سخت پیغام سمجھا جارہا ہے، ووٹ کاسٹنگ کی شرح میں کمی جہاں قابل تشویش ہے وہیں یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ماضی کی طرح تمام وسائل کے ساتھ اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کی یہ بات خوش آئند ہے ، ووٹ کاسٹنگ کی شرح میں کمی کی ایک بڑی وجہ عوام کی مایوسی ہے کیونکہ موجودہ حکومت کو قائم ہوئے 3 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ان3 ماہ میں عوام کو ریلیف ملنے کی بجائے ان کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے جبکہ وفاق ،چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے بجٹ میں عوام کو براہ راست کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف ان حکمرانوں نے عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے جو وعدے کئے تھے وہ آج تک وفا نہ ہوئے اب ضمنی انتخابات کے نتائج سے پی پی پی کو احساس ہوجانا چائہیے کہ عوام کیا چاہتی ہے، اگر وعدے کے مطابق معزول ججوں کو بحال کیا جاتا تو شاید پی پی پی کو ضمنی انتخابات میں یہ دھچکانہ لگتا ۔

ملک عدالتی اور سیاسی بحران سے ابھی نکلا ہی نہیں ہے کہ اور کئی بحرانوں نے جنم لے لیا جن میں صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور اور بعض قبائلی علاقوں میں مبینہ طالبان کی کارروائیاں اور ان کے خلاف فوجی آپریشن کا فیصلہ شامل ہے۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ25 جون2008ءکو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں آپریشن کے تمام تر اختیارات چیف آف آرمی اسٹاف کو منتقل کرنے سے کیا جاسکتا ہے۔وزیراعظم اور ان کی پارٹی پالیمنٹ کی بالادستی کے ہمیشہ گن گاتی رہتی ہے مگر اس معاملے پرنہ صرف پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیابلکہ اتحادیوں کو بھی نظر انداز کیاگیا جس کا اظہا ر جمعیت علماءاسلام کے امیرمولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ(ن) کے بعض رہنماءکر چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سے مفاہمت کا بنیادی نکتہ ہی قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی ہے اگر حکو مت آپریشن کرنا چاہتی ہے تو پھر ہم بھی اپنے فیصلے کر نے میں آزاد ہیں۔ آپریشن کے حامیوں کا مو ¿قف ہے کہ اب حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں اس کا حل صرف آپریشن ہی ہے جس کی مثال سوات میں 54 لڑکیوں کے اسکولوں کی تباہی ہے جہاںہزاروں بچیاں زیر تعلیم تھیں جبکہ عوام کی اکثریت اس طرح کے کسی بھی آپریشن کو ملکی سلامتی کے لئے خوفناک قرار دے رہی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ صوبہ سرحد باالخصوص بعض قبائلی علاقوں میں طالبان اور اسلام کے نام پر بعض ایسے اقدام کئے جارہے ہیںجن سے اسلام اور ملک دونوں کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کو اس کا فائدہ ہورہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ قبائل یا صوبہ سرحد کے موجودہ حالات سابق حکمرانوں باالخصوص صدر مشرف کے ملک کی تباہی کے لئے دیے ہوئے تحائف کا نتیجہ ہے اور موجودہ سنگین حالات کواس کا ردعمل قرار دیا جا تاہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک فرد کے اقدام کی وجہ سے پوری قوم اور ملک کو تباہ کرنے والے اقدام کی حمایت کریں اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ طالبان کی حقیقی قیادت بھی اس طرح کے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔ ممکن ہے کہ طالبان کے جن لوگوں سے بیانات منسوب کئے جاتے ہیں ان کو اصل صورتحال اور اس کے نقصانات کا ادراک نہ ہو کہ ،ان کے مبینہ اقدام کا فائدہ کس کو مل رہا ہے ۔اس کو حامد کرزئی کی دھمکیوں اور الزامات پر بھی غور کر ناچاہئیے۔ دراصل اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں افغانستان کی حکومت کے کاندھے پر بندوق رکھ کرپاکستان کو نشانہ بناناچاہتی ہیںکیونکہ ان کو اب پاکستان سے خطرات نظر آرہے ہیں اس لئے پاکستانی حکمرانوں،عوام ،خواص،قائدین،فوج،وکلائ،دانشور،صحافی،طلبائ،ایجنسیوںاور طالبان قیادت کوچاہیئے کہ باہمی اتحاد کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنائیں بصورت دیگر ہرطرح سے امت مسلمہ کی تباہی ہوگی۔

جہاں تک آپریشن کا تعلق ہے جس طرح ماضی کے آپریشن مسائل حل کی بجائے ان کو بحرانی شکل میں تبدیل کرنے کے باعث بنے ہیں آئندہ بھی یہی نتیجہ سامنے آئیگا اس لئے تنازعات کا حل بندوق یا بم کی بجائے مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے اب جو بھی ناکامی ہوگی وہ سیاستدانوں کے سرجائیں گی ماضی آج کے حکمران ہی سابق حکومت کے اس طرح کے اقدام کو غلط اور ملک دشمنی قرار دے چکے ہیں اب اگر وہی عمل خود کریں توپھرآمروں اور جمہوریت اورعوام کے نا م پر اقتدارحاصل کر نے والوں میں کیا فرق ہو گا ۔اب صدر مشرف کو بھی چاہیئے کہ وہ ملک کو بچانے کے لئے قربانی دیں اور امریکا، اسرائیل اور دیگر پاکستان دشمن قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں عوام کی خواہش کا احترام کریں یہی ہم سب کے لئے بہتر ہوگا ورنہ۔ ؟؟؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035