|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
کرزئی کی دھمکیاں----کیاپاکستان دباﺅو
میں آگیا؟
پاکستان اس وقت شدید اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے۔ افغانستان کے کٹھ پتلی
صدر حامد کرزئی بھی اب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کارروائی کی دھمکیوں پر اتر
آئے ہیں،جب افغانوں پر برا وقت آیا اور پناہ کی ضرورت پڑی تو پاکستان ہی تھا جس نے
افغانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے، آج بھی پاکستان میں 50 لاکھ سے زائد افغان
مہاجرین موجود ہیں، ان میں سے بہت سوں نے جائز یا ناجائز طریقے سے پاکستان کی شہریت
بھی حاصل کرلی ہے اور پاکستان کے کاروبار کے ایک بڑے حصے پر افغانوں کا کنٹرول ہے۔
دوسری طرف حامد کرزئی افغان صدر کی حیثیت سے پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ ایک طرف
پاکستانی قوم پاکستان اور افغانستان کو یک جان دو ق
لب تصور کرتی ہے مگر دوسری طرف افغان کٹھ پتلی صدر
کی یہ دھمکی قابل توجہ ہے، اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمام افغان عوام کرزئی کی
رائے سے متفق ہیںبلکہ حامد کرزئی کو اپنی پارلیمنٹ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ دراصل
حامد کرزئی امریکی مہرہ ہے جس کو امریکا نے اب تک جتنا استعمال کرنا تھا کرلیا اور
اب یہ مہرہ ان کے لیے قابل استعمال نہیں رہا ہے، لہٰذا وہ اس کو تبدیل کرکے نیا
مہرہ لانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے بعض زلمے خلیل زاد کا نام بھی لیے رہے ہیں، دراصل یہ
دھمکی امریکی ایما پر دی گئی ہے تاکہ پاکستان کو دباﺅ میں لاکر امریکا اپنے مطالبات
منوائے۔ امریکا اور حامد کرزئی کو قبائلی علاقوں میں امن معاہدوں اور ان علاقوں میں
اس سے خطرات نظر آرہے ہیں، امریکا نہیں چاہتا کہ اس خطے میں امن ہو اور پاکستان
اندرونی تنازعات سے نکل کر اپنی معاشی ترقی پر توجہ دے کیونکہ پاکستان دنیا کا واحد
اسلامی ملک ہے جس کو ایٹمی قوت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ امریکا اور پاکستان دشمن
قوتیں اب پاکستان کو معاشی بحران اور بدامنی کے دلدل میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ قبائلی
علاقوں سے ہونے والے امن معاہدوں میں امریکا اور اس کے حواریوں کو اپنی موت نظر
آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے جس نے حامد کرزئی کو دھمکی دینے پر مجبور کیا۔ قبائلی علاقوں
سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی طیاروں کی پاکستانی حدود میں پروازیں معمول
بن چکی ہیں اور کسی ممکنہ کارروائی کے خوف سے مقامی لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور
ہورہے ہیں، اس سے جہاں پاکستان کے شہری علاقوں میں دباﺅ بڑھ جائے گا وہیں غذائی قلت
بھی شدت اختیار کرے گی، کیونکہ مقامی لوگ ہجرت اور خوف کے باعث زمینداری نہیں
کرسکیں گے جس کی وجہ سے تمام بوجھ شہروں پر پڑےگا۔سمجھ میں نہیں آتا ہمارے مشیر
داخلہ عبدالرحمن ملک کے ہوش کیوں اڑے ہوئے ہیں ،ان کی خوفزدگی کا اندازہ ان کے چہرے
سے ہی ہوتا ہے، شاید یہی خوف ہے کہ وہ اب بات چیت کے لیے جرگہ بھیجنے کے لیے تیار
ہوگئے ہیں یعنی حامد کرزئی کی دھمکی میں آگئے ۔ جس انداز مین عبدالرحمن ملک کابل
جرگہ بھیجنا چاہتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی کمزوری تسلیم کررہا ہے۔
جرگے کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں ایک حیثیت ثالث اور دوسری ملزم کی جانب سے صفائی اور
آیندہ جرم نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے کے لیے۔ عبدالرحمن ملک جس جرگے کو کابل
بھیجنا چاہتے ہیں اس کی حیثیت ثانوی ہے ۔ حالانکہ یہ وقت دب کر بات یا کام کرنے کا
نہیں بلکہ دشمن سے اسی کی زبان میں بات کرنے کاہے ۔یہ تو پاکستان اور افغانستان کا
ہر شخص جانتا ہے کہ دھمکی کرزئی کی نہیں امریکا کی ہے جو اس دھمکی کے ذریعے مذموم
مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے بھی اپنی اصلیت دکھانا شروع کردی ہے۔
انیس جون2008ءکو آزاد کشمیر کے علاقے ہجیرہ میں کنٹرول لائن پر پیش آنے والے واقعے
میں 4پاکستانی فوجی جاںبحق اور متعدد زخمی ہوئے پاکستان اور بھارت دونوں نے 61سالہ
تاریخ میں اس کو مبینہ شرپسندوں کی کارروائی قرار دیا ہے ۔بھارت کا مﺅقف ہے کہ
شرپسند دراندازی کرنا چاہتے تھے جس کو روکنے کے لئے کاروائی کی گئی ہے تقریباً اسی
طرح کا بیان پاکستان کا بھی میڈیا میں آیا ہے،اس سے لگتا ہے کہ پاکستان کے حامی
طالبان اور اسلام پسند افغانوںکے بعد اب کشمیری مجاہدین کو بھی شرپسند کہنے اور
بنانے کا سلسلہ شروع ہو گیاہے۔سازش عالمی سطح کی ہے جس کا مقصد پاکستان کو 9/11کی
پوزیشن پر لاکھڑا کر نا ہے اور محسوس ہو تا ہے کہ چاروں اطراف سے بیرونی قوتوں نے
پاکستان کا گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستانی حکمران اس کا مقابلہ کرنے
کی بجائے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ بدقسمتی سے آج ہم جن مسائل سے دوچار ہیں یہ
ایک فوجی آمر کا تحفہ ہے جو آج بھی ایوان صدر میں موجود ہے عوام کی جانب سے متعدد
بار عدم اعتماد کے باوجود جانے کا نام ہی نہیں لیتا ،نہ ہی حکمراں اتحاد ان کو
صدارت سے ہٹا رہا ہے، یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ صدر مشرف کے مواخذے میں بعض
رکاوٹیں ہیں مگر اب ان رکاوٹوں کو دیکھنے کی بجائے ملکی مفاد میں کام کرنا ہوگا۔
نواز شریف اور آصف علی زرداری کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کو دھوکا دینے کی بجائے قوم
سے کیے ہوئے وعدے پورے کریں، ملاقاتوں کے سلسلے کو نتیجہ خیز بنائیں ورنہ قوم انہیں
معاف نہیں کرے گی۔ عجیب بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری اور ان کی جماعت آئینی پیکج کے
لیے تو تیار ہے مگر مواخذے کے لیے نہیں حالانکہ مواخذے کے لیے دونوں ایوانوں کو
ملاکر دو تہائی اکثریت چاہیے مگر آئینی پیکج کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں
میں الگ الگ دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے قومی اسمبلی میں ان کے پاس مطلوبہ تعداد
توہے مگر سینیٹ میں نہیں، اس کے باوجود آئینی پیکج لانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
مسلم لیگ (ق) یا صدر مشرف کی آشیرباد یا معاونت کے بغیر حکومت کے لیے آئینی پیکج کی
منظوری مارچ 2009ءتک نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے کیونکہ مارچ 2009ءمیں سینیٹ کے
الیکشن کے بعد ہی حکمرانوں کو سینیٹمیں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گی ، شرط یہ ہے کہ
اس وقت تک یہ نظام چلے کیونکہ پنجاب میں گورنر اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے مابین
کہنچا تانی سے یہ نظام زیادہ دیر چلتا دکھائی نہیں دے رہاہے ۔ آئینی پیکج کی منظوری
کا دوسرا واحد طریقہ صدر کو مواخذے کے ذریعے صدارت سے ہٹا کر نااہلی کے حوالے سے
آئینی شق کو معطل کیا جائے، پھر آئینی پیکج منظور ہو۔ اس کے بغیر جو بھی رکن پارٹی
سے انحراف کرے گا وہ نااہل ہوگا۔ پاکستان کو بیرونی خطرات سے مقابلے کے لیے اندرونی
خطرات سے نکا لناہو گا ۔اس وقت جو اندرونی خطرات ہیں ان میں بدامنی، بے روزگاری،
مہنگائی، معاشی، بدحالی، مغربی سفارت کاروں کی بے جا مداخلت، لسانی، مذہبی اور
علاقائی تعصبات وغیر ہ شامل ہیں جمہوری حکومت 100دنوں میں عوام کو کوئی مناسب ریلیف
فراہم نہیں کر سکی ہے اور وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی بھی 100روزہ ہدف کے حصول
میں ناکام نظر آر ہے ہیں ، چاروںصوبوں،آزاد کشمیر اوروفاق کا بجٹ بھی صرف کہنے کی
حد تک عوامی ہے ۔ ملکی بقا اور سلامتی کے لیے پاکستان کو ان مشکلات سے نکالنا ضروری
ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی انتقامی کارروائیوںکا سلسلہ ختم کرکے ایک نئے عزم کے ساتھ
آگے بڑھنا ہوگا، اس ضمن میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن ، الطاف
حسین ،اسفندیار ولی اور دیگر سیاسی قائدین پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ضرورت اس
امر کی ہے کہ پاکستان اس وقت جن اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے ان سے نکلنے
کے لیے ذاتی مفادات کو تر ک کرے اور جارح قوتوں کے سامنے جرا ¿ت سے کھڑا ہونا پڑے
گا بصورت دیگر!!! |