|
|
|
16
June
2008 / 09
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
سندھ سے پنجاب تک محبتوں کا سفر
کہنے کو تو پاکستان 5اکائیوں پنجاب ،سندھ،سرحد، بلوچستان اور قبائلی علاقوں پر
مشتمل ایک اسلامی ،فلاحی مملکت ہے،جس کا رقبہ 7لاکھ 96ہزار 96مربع کلومیٹر ہے
جبکہ2اکائیاں گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر بھی پاکستان کے کنٹرول میں ہیں جن کا رقبہ
54ہزار 700 مربع کلومیٹر ہے اس طرح پاکستان کی مجموعی طور پر 7اکائیاں ہیںجن کے
مابین نہ صرف تحفظات بلکہ بیشتر امور پر شدید اختلافات بھی ہیں ،جو کسی بھی فیڈریشن
کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں موخرالذکر 2کے علاوہ باقی 5اکائیاں ہی آئینی ”
پاکستان“ ہے ۔ان کے مابین بعض امور پر شدید اختلافات ہیں جن میں سے بعض صرف غلط
فہمی اوررابطے کے فقدان کی وجہ سے شدت اختیار کر جاتے ہیں ۔ہمارے سیاسی قائدین نے
ملک میں اتحاد کے فروغ اور رابطے فقدان کو ختم کرنے کے لئے دعوے تو کئے مگر عملاً
ایسا نہیں ہوا ۔اس ضمن میں تمام چھوٹے یونٹس ملکی مسائل کی سب سے بڑی وجہ اپنے بڑے
بھائی پنجاب کو تصور کر تے ہیں ،اس حوالے سے سندھ کے تحفظات کچھ زیادہ ہی ہیں ۔اصل
حقیقت کیاہے؟ اس کو جاننے کے لئے سندھ کی صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات شازیہ
عطاءمحمد مری نے صوبوں کے درمیان نفرتوں اوردوریوں، رابطے کے فقدان کے خاتمے
اورعوام کے مابین محبتوں کوپروان چڑھانے کے لیے سندھ سے پنجاب تک محبتوں کے کا سفر
آغاز کیا ،جن کا دعوا ہے کہ وہ اس سفر کو نہ صرف پنجاب تک بلکہ ملک کی تمام اکائیوں
تک جاری رکھیںگی ۔وزیر موصوفہ نے محبتوں کے سفر کے حوالے سے جس عزم کا اظہار کیا ہے
وہ نہ صرف قابل تحسین بلکہ دیگر اکائیوں کے لئے مشعل راہ بھی ہے ۔انہوں نے پنجاب
میں جس انداز میں پورے پاکستان اور بالخصوص سندھ کے عوام کی نمایند گی کرتے ہوئے
پاکستان میں پائے جانے والے مسائل کو اجاگر کیا وہ یقیناًٍسود مند ثابت ہو گا۔
صوبائی وزےراطلاعات سندھ شازےہ عطاءمحمد مری،ڈی جی پی آر سندھ سےد صفدر علی شاہ،
ڈائرےکٹر انفارمےشن اےس اےم اقبال، پی آر او ذوالفقارعلی شےخ، پی اےس محمد بشےرخان
اور صوبائی وزےرکی بےٹی انوشے گوہر، شاہد جتوئی (جنگ)، مسروراحمد (امت)، شمس کےرےو
(امت)، ضےاءقرےشی (عبرت)، سانول شےخ (آج کل) ، الفت مغل (دن)، گلشن شےخ (سندھ ٹی وی)،
دودوچانڈےو (کے ٹی اےن)، مدثرعزےز (آج ٹی وی)، شہادت بلوچ( آج ٹی وی)، حبےب بلوچ (جےو)،
راجہ کامران (جےو)، کاشف حسےن (اے آر وائی)، شاہ نواز (اے آر وائی)، ذوالفقار علی (جناح)،
خورشےدعباسی (عوام)، اکبر بلوچ (ڈےلی ٹائمز)، قاسم عبداللہ معےنی (ڈان)، حسن عباس (اےکسپرےس)،
غزالہ فصےح (نوائے وقت) اور بلقےس جہاں) اذکار (کے علاوہ راقم پرمشتمل 30رکنی وفد (جس
میں 22صحافی تھے) 30جون 2008ءکو صبح 8بجکر15منٹ پر کراچی سے روانہ ہوا اور ”پی آئی
اے “کی پرواز” پی کے 302“کے ذریعے صبح 9بجکر45 منٹ پر سندھ سے پنجاب پہنچا۔ لاہور
ائیر پورٹ پر محکمہ اطلاعات پنجاب کے ڈی جی پی آر محی الدین احمدوانی،
ڈائریکٹرالیکٹرانک میڈیا نبیلہ غضنفر،ڈائریکٹر پروٹوکول سیف اللہ خالد ،شہزاد بٹ،
ڈائریکٹر ایڈمن ڈی جی پی آر ارشد سعید،پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمن چن ،زکریا
بٹ،پیپلز پارٹی کی ایم پی ایز ساجدہ میر ،فائزہ ملک ،عظمیٰ بخاری ، صدر ڈسٹرکٹ
چودھری اصغر،ملک شاہد امتیاز ،بیگم بشریٰ ملک ، معروف صحافی سجاد میر،روز نامہ”
اسلام“ لاہور کے چیف رپورٹر فرزندعلی بخاری،محمد ندیم اور دیگر نے پر تپاک استقبال
کیا ۔ ایئر پورٹ سے گنج بخش کے مقبرے پر پہنچے جہاں ایڈمنسریٹراور عملے کے دیگر
ارکان نے وفد کا استقبال کیا ، فاتحہ خوانی اور مقبرے کے حوالے سے بریفنگ کے بعد
وفد کو ہوٹل پہنچایا گیا ۔ کچھ دیر آرام کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر اطلاعات
پرویز رشید(اب معاون خصوصی) کی جانب سے ولیج ریسٹورنٹ میںدوپہر کے کھانے اہتمام
کیاگیا تھا جہاں ہمیں پنجاب کی تہذیب اور ثقافت کی ایک جھلک دکھائی دی اس کے علاوہ
پورے لاہورمیںہمیں پنجاب کی تہذیب اور ثقافت سوائے پنجابی زبان کے کہیں نظر نہیں
آئی ۔ظہرانے سے فارغ ہو کر لاہور پریس کلب گئے اور وہاں شازیہ مری نے پی پی پی
لاہور کی مقامی قیادت کے ہمراہ پر ہجوم پریس کانفرنس کی اور اپنے عوامی مﺅ قف کوبھر
پور انداز میں پیش کیا۔ اس موقع پر سندھ اور پنجاب کے مابین بعض تنازعات بالخصوص
کالاباغ ڈیم کے حوالے سے سوالات کے جوابات دیے۔ لاہور پریس کلب میں ایک چیز خاص طور
پر نوٹ کی گئی کہ پورے ملک میں صحافیوں باالخصوص الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے
والے افراد کی تربیت کی ضرورت ہے ،وزیر اطلاعات سندھ نے کلب کے صدر اور سیکرٹری
جنرل کو سندھی ثقافت کی نشانی اجرک اور ٹوپی پیش کی ۔
30مئی کی شام کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جانب سے” ایوان کارکنان تحریک پاکستان“ میں
یاد گار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔” ایوان کارکنان تحریک پاکستان“میں داخل ہوتے ہی
ہر محب وطن شخص میں ایک عجیب کیفیت پیدا اور قومی جذبہ ابھر آتا ہے ،یہاں لگی
تصاویرتحریک پاکستان میں مسلمانوں کی قربانی اور ہندوﺅں کی درندگی کی یاد دلاتے
ہوئے آج سے61سال پیچھے جانے پر مجبور کرتی ہیں غالباً پاکستان میں اپنی طرز کا یہ
واحد ادارہ ہے جس نے دو قومی نظریہ کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔یہاں پر معروف بزرگ صحافی
اور تحریک کارکنان پاکستان کے سرپرست مجید نظامی سے ملاقات اور انکی نصائح پر مبنی
گفتگو سننے کا موقع بھی ملا اس موقع پر ٹرسٹ کے چیف کوآرڈینٹر میاں عزیزالحق
اوردیگر بھی موجود تھے۔ تقریب کا آغاز قومی ترانے سے کیا گیا جو ایک مختلف انداز
تھا ،وفد کو بتایا گیا کہ ” ایوان کارکنان تحریک پاکستان“کی وسیع رقبے پر پہلی ہوئی
عمارت پنجاب کے اس سابق وزیراعلیٰ نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کو تحفتاً دی جو مرتے دم
تک اپنی بیوی کو اپنا گھر فراہم نہ کر سکا اور جس کا نام غلام حیدر وائیں ہے، یہ
عمارت اب ایوان سے یونیورسٹی کی شکل اختیار کر رہی ہے جس کو بجا طور پر نظریہ
پاکستان یونیورسٹی کہا جاسکتا ہے ۔اس موقع پر وفد کے تمام شرکاءکو تحریک پاکستان کے
حوالے سے مطبوعات اور رسائل کے تحاےف جبکہ سندھ کی صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات
شازیہ عطاءمحمد مری کو ٹرسٹ کے روح رواں معروف بزرگ صحافی مجید نظامی نے شیلڈبھی
پیش کی اور وزیر اطلاعات سندھ نے سندھی ثقافت کی نشانی اجرک اور ٹوپی کا تحفہ پیش
کیا ۔یہاں سے یہ قافلہ شام سوا7بجے پی سی ہوٹل اوررات 8بجے ہوٹل سے سندھ کی صوبائی
وزیر اطلاعات ونشریات شازیہ عطاءمحمد مری کی قیادت میں گورنر ہاﺅس کی جانب روانہ
ہوا جہاں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی جانب سے وفد کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام
کیا گیا تھا۔وفد 8بجکر30منٹ پر گورنر ہاﺅس پہنچا جہاں گورنر ہاﺅس کے عملے نے پرتپاک
استقبال کیااور مرکزہال میں تقریباً 35منٹ تک گورنر پنجاب کا انتظار کیا گیا وہ
9بجکر 5منٹ پر ہال میں آئے اور وفد کے دیگر شرکا ءسے انفرادی سلام دعا کر نے کی
بجائے صرف سند ھ کی صوبائی وزیر سے سلام دعا ہی کو مناسب سمجھا اوراپنی نشست پر
بیٹھ گئے صوبائی وزیر کے کہنے پر صحافیوں نے اپنا تعارف کرایا۔صوبائی وزیر شازیہ
مری نے گورنر پنجاب کو سندھ کی ثقافت کے مطابق اجرک جبکہ سید صفدر شاہ نے گور نر
پنجاب کو سندھی ٹوپی پیش کی ۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے واضح کیا کہ وہ صوبہ پنجاب
میں پیپلز پارٹی کے نمایندہ ہیں جس پر ایک صحافی نے ہال میں لگی ہوئی صدر پرویز
مشرف کی تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی دعویدار ہے
مگر ہمیں یہاں پر جمہوریت کے لیے قربانی دینے والی قائد بے نظیر بھٹو کی جگہ ایک
ڈکٹیٹر کی تصویر نظر آرہی ہے۔گورنر نے اس کو قانونی تقاضا قرار دے کر بات کو ٹالنے
کی کوشش کی غالباً اسی تنقید کا نتیجہ تھاکہ 8جون کو میاں شہباز شریف کی حلف برداری
کے وقت بے نظیر بھٹو کی تصویر قائد اعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر سے اوپر لگی
ہوئی تھی ۔ گورنر پنجاب کے حوالے سے یہ تاثر موجود ہے کہ وہ عوامی آدمی نہیں ہیں،
جس کی ایک جھلک ہمیں یہاں دیکھنے کو ملی ،اس موقع پر صحافیوں نے ان سے سخت سوالات
کئے، جس کی غالباً گورنرپنجاب کو توقع نہیں تھی تاہم انہوں نے وفد میں شامل صحافیوں
کے تیور اور سوالات کو دیکھتے ہوئے اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی کوشش کی اور گفتگو
کے اختتام پر وہ وفد کے ارکان سے گھل مل گئے۔ بیشتر شرکاءاور مقامی صحافیوں کا یہ
کہنا تھا کہ گورنر پنجاب کے رویے میں اچانک یہ تبدیلی وفد میں شامل صحافیوں کے تلخ
سوالات کا نتیجہ ہے، جہاںتک تحفظات کا تعلق ہے نہ صرف مسلم لےگ( ن ) بلکہ خود
پےپلزپارٹی کے بھی ہےں۔ان کے کئی ارکان صوبائی اسمبلی نے صحافےوں کو آف دی رےکارڈ
بتاےا کہ کارکن سلمان تاثےر سے خوش نہےں ہیں تاہم پارٹی کی مرکزی قےادت کی فےصلے پر
خاموش ہےں اور سلمان تاثےر پےپلزپارٹی کا نہےں بلکہ صدر مشرف کا آدمی ہے اگر وہ
پےپلزپارٹی کے ہوتے تو گورنر بننے سے پہلے بے نظےر بھٹو کی قبر پر حاضری کےوں نہےں
دی،اب اقتداردیکھتے ہوئے اپنا بھےس بدل دےاہے۔ گورنر ہاو ¿س میں عشائیے کے بعد وفد
کے ارکان قیامِ گاہ کی جانب روانہ ہوئے۔
31مئی کو دن 12بجے محکمہ تعلقاتِ عامہ پنجاب کی جانب سے خصوصی بریفنگ رکھی گئی تھی،
اس دورے کا بنیادی مقصد بھی پنجاب کے محکمہ اطلاعات سے استفادہ کرنا تھا، اس موقع
پر ڈی جی پی آرپنجاب محی الدین وانی نے بتایا کہ پنجاب انفارمیشن نے سنٹرل
انفارمیشن نظام بنایا ہوا ہے جو اخبارات میں چھپنے والی خبروں کی کٹنگز سمری کی
صورت میں وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجتے ہیںاور پھر وہ متعلقہ محکموں کو کارروائی کے
احکام دیتے ہیں،(سندھ میں تو وزراءاور حکام کی تمام توجہ صرف اپنے بیان پر ہوتی ہے
غالباً یہی وجہ ہے کہ آر اینڈ آر میں کٹنگز پڑی رہتی ہیں ) انہوں نے بتایا کہ ٹی وی
چینلوں پر چلنے والی خبروں پر بھی فوری ایکشن لیا جاتا ہے، ہمارے پاس تےن شفٹوں میں
کام ہوتا ہے اور ہر خبر پر نظر رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صحافیوں کو بھی
سہولیات دیتے ہیں لاہور ،راولپنڈی اور ملتان میں ہاو ¿سنگ سوسائیٹوں کے لیے زمین دی
گئی ہے اس پر تیز ترین ترقیاتی کام کرارہے ہیں ترقیاتی کاموں کے مکمل ہوتے ہی
صحافیوں کو پنجاب بینک کے ذریعے مکانات کی تعمیر کے لیے بلا سود قرضے دیے جائےں گے
۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ اطاعات پنجاب میںپرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو الگ الگ ڈیل
کیا جاتا ہے ، اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹرز بھی تعینات کیے گئے ہیں ۔ صبح5بجے تمام
اخبارات کی کلیپنگ مکمل کرکے متعلقہ وزراءاور حکام کو پہنچادی جاتی ہے اور صبح8بجے
ان خبروں کا رد عمل متعلقہ وزیر اور حکام کی جانب سے ملنا شروع ہوجاتا ہے۔ محکمہ
تعلقاتِ عامہ پنجاب کی کارکردگی اور نیٹ ورک کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ واقعی
یہ محکمہ پورے ملک میں انفرادی اہمیت کا حامل اور دیگر کے لئے مشعل راہ ہے۔ اس موقع
پر وفد کے ارکان نے مختلف شعبوں کا دورہ کیا جبکہ محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کی جانب
سے وفد کے ارکان کو محکمے کے حوالے سے رپورٹ اور شیلڈ ز پیش کی گئیں ،(جو اس دورے
کے دوران وفد کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی مطبوعات کے علاوہ ملنے والا پہلا اور آخری
تحفہ تھا) جبکہ سندھ کی صوبائی وزیر اطلاعات نے محکمہ تعلقات عامہ کے حکام کو سندھی
اجرک اور ٹوپیوںکے تحائف پیش کئے۔دوپہر 2بجے وفد کے ارکان نے پیپلز پارٹی لاہور کے
صدر حاجی عزیزالرحمان چن کے ظہرانے میں شرکت کی ،جہاں پر پی پی کے مقامی رہنماو ¿ں
اور خواتین ارکان پنجاب اسمبلی نے پرتپاک استقبال کیا جبکہ پنجاب کے سینئر صوبائی
وزیر راجہ ریاض نے وفد کے ارکان سے خصوصی گفتگو کی، شام4بجے وفد پنجاب اسمبلی پہنچا
جہاں وفد کو گارڈ آف آنرپیش کیا گیااور اسپیکر پنجاب اسمبلی سمیت دیگر نے استقبال
کیا ، پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم میں اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال اور سندھ
کی صوبائی وزیر اطلاعات نے مختلف ایشوز پر گفتگو کی ،اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سندھ
کی صوبائی وزیر شازیہ مری کو پنجاب اسمبلی کا سونیئر جبکہ شازیہ مری نے اجرک اور
سیدصفد ر شاہ نے سندھی ٹوپی پیش کی۔اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی سے صحافیوں کے
وفد نے مختلف سوالات کیے اور کہا کہ سندھ اسمبلی کا اس وقت کا وہ ریکارڈ جب اسے
قومی اسمبلی کا درجہ حاصل تھاواپس کیاجائے جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ وہ
پاکستان کی امانت ہے ہم سندھ اسمبلی کو اس کی کاپیاں فراہم کردینگے ۔پنجاب اسمبلی
کے حوالے سے انہوں نے بتایاکہ موجودہ عمارت کی بنیاد17نومبر1935 ءکواس وقت کے وزیر
زراعت جوگندر نے رکھی ، اس وقت ممبران کی تعداد کم تھی اور اسی حساب سے یہ ہال
بنایا گیا ،اب ممبران کی تعداد371ہے جس کی وجہ سے مرکزی ہال میں گنجائش انتہائی کم
ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے2ایم پی ایز ہاسٹل بھی ہیں جن میں 72ممبران کے رہنے کی
گنجائش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی عمارت رواں سال دسمبر تک مکمل ہوجائے گی جس
میںپانچ سو سے ایک ہزار ممبران کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی ۔ بعدازیں وفد کے ارکان نے
پنجاب اسمبلی کے مرکزی ہال کا دورہ کیا ،یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پنجاب اسمبلی
میںارکان کے بیٹھنے کے لیے گنجائش انتہائی کم ہے اور مرکزی ہال سندھ اسمبلی کے
مقابلے میں چھوٹا ہے،اس حوالے سے سیکرٹری پنجاب اسمبلی مسعود ملک نے وفد کے ارکان
کو تفصیلات سے آگاہ کیا ۔
شام 6بجے شازیہ مری کی قیا دت میںوفد کوسابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی
جانب سے تعمیر کی جانے والی وزیراعلیٰ ہاﺅس کی نئی بلڈنگ کا دورہ کرایا گیا جس کی
تعمیرپر تقریباً1.4 ارب روپے لاگت آئی تھی،شاہی محل نما اس عمارت کو دیکھ کر یقین
نہیں آرہا تھا کہ پا کستان جیسے غریب ملک کے حکمران اپنے استعمال کے لیے اتنی مہنگی
عمارات تعمیر کروا سکتے ہیں۔دیکھنے میں تو واقعی عظیم شاہکار ہے اور جتنے اخراجات
ظاہر کئے گئے ہیں اگر یہ درست ہیں تو پھر پرویز الہٰی کی دیانتداری کو داد دینا
چاہیے کیونکہ اس طرح کی عمارت سندھ میںتعمیر ہوتو اس کے لیے ایک ارب 40کروڑ تو کیا
شاید 3ارب بھی کم پڑتے۔ لاہور میںسڑکوں اوردیگر سرکار ی تعمیرات کو دیکھتے ہوئے
محسوس ہوا کہ کرپشن کا عنصر دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں کم ہے اور کام کا
معیار بھی بہتر ہے۔پنجاب میں مسلم لیگ ( ن) کی حکومت ہے اس عمارت میں لگی صدر
پرویزمشرف کی تصویر نے صحافیوںکو حیران کر دیا ۔اس کے بعد ہموزیراعلیٰ پنجاب ہاﺅس
پہنچے جہاںوزیراعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے صوبائی وزیر شازیہ مری وفد کے
ارکان پرتپاک استقبال کیا گیا ،زیر زمین مرکزی ہال میں اہتمام کیا گیا تھا اس عمارت
کو دیکھنے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ پرویز الہٰی کا فیصلہ درست نہیں تھا،وزیراعلیٰ
پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے وفد کے ارکان سے فرداً فرداً مصافحہ کیااور بعدازاں
مختصر گفتگو کی.شازیہ مری نے حسب روایتوزیراعلیٰ پنجاب کو اجرک اورسندھی ٹوپی پیش
کی ۔وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی وزیرشازیہ مری کومختلف کتابوں کے سیٹ پیش کیے۔ وزیر
اعلیٰ پنجاب سے ملنے کے بعد محسوس ہوا کہ وہ انتہائی ذہی ہیں ، اس موقع پر سندھ کے
صحافیوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو کراچی پریس کلب کی آنے کی دعوت دی جس پر راقم نے ان
سے کہا کہ اپنی آمد کو 26جون سے قبل یقینی بنانا مگر دوست محمد کھوسہ کے لیے26جون
تو کیا 6جون بھی مہنگا پڑگیا، امید ہے کہ وہ اب وزیر اعلیٰ پنجاب نہ سہی صوبائی
وزیر کی حیثیت سے اپنے اس وعدے کی پاسداری کریں گے۔ ایک چیز خاص طور پر نوٹ کی گئی
کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کے رویے واضح فرق تھا،ا ول الذکر میں حقیقی
عوامی نمایندہ جبکہ ثانی الذکر میں عوامی نمایندے سے زیادہ ایک بیوروکریٹ اور انا
پرست شخص کا عنصر دکھائی دیا۔ وزیر اعلیٰ کے عصرانے کے بعد وفد کے ارکان پی سی ہوٹل
روانہ ہوگئے
پی سی ہوٹل میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا، وفد کے بعض ارکان نے شدید گرمی کے باعث
منرل واٹر کی 25 روپے والی تین بوتلیں اورآٹھ گرین ٹی منگوائیںجب بل آیا تو وفد کے
جس رکن نے یہ دعوت کی تھی وہ حواس باختہ ہوگئے اور اپنی کرسی پر رکھے ہوئے کوٹ کو
ڈھونڈنے نکل پڑے جس پر موجود تمام ارکان ہنس پڑے،ان کاحواس باختہ ہونابے جا بھی نہ
تھا کیونکہ جب پانی کی تین بوتلوں اور چائے کے آٹھ کپوں کی قیمت 2040روپے ہوتو ہرو
ہ شخص جس کی آمدنی جائزذرائع سے حاصل کی گئی ہواس کا بد حواس ہوجانا سمجھ میں آنے
والی بات ہے۔ یہ رقم اس ملک کے 40فیصد مزدوروں کی ایک ماہ کی آدھی تنخواہ کے برابر
ہے ،دوستوں نے مزاحًابل ادا کرنے والے دوست سے کہا کہ اب اس بل کی خصوصی کوڈنگ کروا
کر اپنے گھر میں آویزاں کرنا تاکہ لوگ دیکھیں کہ اس نے بھی کبھی عیاشی کی تھی
بعدازاں وفدنے رات 9بجےصوبائی وزیر شازیہ مری کو واپس کراچی کیلئے الوداع کہا ۔شازیہ
مری نے اس موقع پر محکمہ انفار میشن پنجاب کے افسران کو اجرک کے تحائف پیش کئے اور
دورے کے دوران بھر پور تعاون پر شکریہ ادا کیا خصوصاّڈائریکٹر انفارمیشن پنجاب
نبیلہ غضنفر کا جو تین روزہ دورہ میں وفد کے ساتھ ساتھ رہیں ۔ےکم جون کو صبح ساڑھے
آٹھ بجے وفد کے شرکاءہوٹل سے لاہور اےئرپورٹ روانہ ہوگئے اور 10 بجے اپنا بورڈنگ
کارڈ حاصل کےا۔ لاہور اےئرپورٹ پر بھی اےک دلچسپ واقعہ پےش آےا کہ وفد مےں شامل اےک
دوست کا نام ”دودوچانڈےو“ ہے جس کو غالباً متعلقہ اہلکار نام کے بجائے ”دوچانڈےو“
سمجھے اور انہوںنے دو بورڈنگ کارڈ جاری کردےے۔ تھوڑی دےر کے بعد ڈائرےکٹر سندھ
انفارمےشن ایس ایم اقبال بھاگتے ہوئے صحافےوں کے پاس آئے اور کہا کہ بورڈنگ کارڈ
والے پوچھ رہے ہےں کہ اےک چانڈےو تو موجود ہے دوسرا چانڈےو کہاں ہےں؟۔ تاہم ہمارے
دوست ”دودوچانڈےو“ کو وہاں لے جا کر اس کو حل کراےا گےا جس کے بعد اےک بورڈنگ کارڈ
منسوخ ہوا۔
بعد ازاں گےارہ بج کرپےنتالےس منٹ پر وفد پی آئی اے کی پرواز پی کے303کے ذرےعے
دوپہر سوا اےک بجے کراچی پہنچاےوں ےہ سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ امےد ہے کہ پےار
محبت اور اخوت کو پروان چڑھانے والے اس طرح کے سفرہوتے رہینگے ۔وفد میں شامل
تمام22صحافی عام کارکن تھے غالباً یہی وجہ ہے میاں برادران نے کوشش کے باوجود
ملاقات کا موقع نہیں دیا ۔اس طرح کے وفود کے تبادلے صوبوں کے درمیان پیدا ہونے والی
دوریوں کو ختم کرنے میں معاون و مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ پنجاب نے سندھ کی صوبائی
وزیر شازیہ مری کی اس مخلصانہ کوشش کی تعریف کی اور اعتراف کیا کہ جو کام چھوٹے
بھائی ( سندھ ) نے شروع کیا ہے ایک بڑے بھائی ہونے کے ناتے پنجاب کو شروع کرنا
چاہیے تھا،انہوں نے شازیہ مری کی ان کوششوں کی تعریف کی اور اسے پاکستان کی خدمت
قرار دیا ۔سندھ کی صوبائی وزیر شازیہ مری اور محکمہ اطلاعات سندھ کی جانب سے بھر
پور تعاون کے باعث صحافیوں کے لیے دورءپنجاب تاریخی رہا۔ملکی بقاءوسلامتی کے لیئے
صوبو ں کے درمیان اچھے تعلقات انتہائی ضروری ہیں ۔خدا کرے کہ محبت ،پیار اور بھائی
چارگی کے جذبے سے سندھ نے جس سفر کا آغازکیا ہے وہ جاری وساری رہے اوروطن عزیز ترقی
کی منازل کی طرف گامزن رہے۔ |
 |
|
|