|
|
|
16
June
2008 / 09
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
کے ٹو :اسامہ کا ٹھکانہ یا عالمی جاسوسی
کا بہانہ!
بنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم گلگت بلتستان کی 60 سالہ محرومیوں کو اب تباہی و
بربادی میں تبدیل کرنے کے لیے عالمی سطح پر سازش تیار کی گئی ہے۔ اس سازش کا مرکزی
کردار عالمی سامراج امریکا ہے۔ 26مئی 2008ءکو ” العربیہ ٹی وی“ نے یہ خبر نشر کی کہ
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلے قراقرم میں واقع K-2
میں روپوش ہیں۔ خبر کے مطابق یہ دعویٰ امریکی خفیہ ادارے ”سی آئی اے“ نے کیا ہے۔
دعوے کے مطابق جنوبی وزیرستان میں امریکی افواج کے فضائی حملوں کے بعد اسامہ بن
لادنK.2 روپوش ہوگئے اور اس پر سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ اس دعوے کی بنیاد پر
پاکستانی علاقوں گلگت بلتستان (آئینی طور پر یہ خطہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے) میں
امریکی افواج آپریشن کی منصوبہ بندی رکرہی ہے۔ اس حوالے سے قطر کے شہر دوحہ میں
امریکی حکام کا اجلاس ہوا جس میں ان علاقوں میں فوجی آپریشن پر غور کیا گیا، اجلاس
میں پاکستان میں متعین امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن بھی شریک تھیں ۔دوسری جانب
حکومت پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ محمد صادق کا کہنا ہے کہ اس طرح کی رپورٹس
معمول کی بات ہیں جن پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں ہے، جبکہ وفاقی وزیر امور کشمیر و
شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) قمر الزمان کائرہ کا کہنا (27مئی کو کر اچی میں
KPTکی ایک تقریب میں راقم کے سوال کے جواب میں غیر اہم انداز میں ) ہے کہ یہ رپورٹ
شکوک و شبہات پر مشتمل ہے، ہم پاکستانی حدود میں آپریشن کی اجازت کسی دوسرے ملک کو
نہیں دے سکتے ہیں، اگر آپریشن کی ضرورت پڑ گئی تو پاکستانی افواج ہی آپریشن کریں گی۔
تیسری طرف اسی طرح کی خبر عالمی جریدے” ایشیاءٹائیمز“ نے بھی شائع کی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ” العربیہ ٹی وی“ کی رپورٹ صداقت پر مبنی ہے یا صرف ایک
مفروضہ ہے۔ اسامہ بن لادن کے حوالے سے گلگت بلتستان کے علاقوں گلگت،پامیر اور دیامر
میں موجود گی حوالے سے ماضی میں بھی خبر آتی رہی ہیں جو غلط ثابت ہوئی مگر ان خبروں
میں”العربیہ ٹی وی“ کی رپورٹ کی طرح دعوے سے بات کی گئی تھی اور نہ ہی کسی بڑے
امریکی ادارے کا حوالہ موجود تھا، غالباً یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا نے ان خبروں
کواہمیت نہیں دی ، مگر حالیہ خبر پر عالمی اور قومی میڈیا بھی بھرپور توجہ دے رہا
ہے۔ خبر میں اس حد تک تو صداقت نظر آرہی ہے کہ امریکا اسامہ بن لادن کی موجودگی کے
نام پر اس خطے کو اسی طرح اپنی جارحیت کا نشانہ بنانا چاہتا ہے جس طرح اس نے اسامہ
بن لادن کے نام پر افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے
نام پر عراق کو نشانہ بنایا۔ امریکا ایسا کیوں کررہا ہے؟ اس پر جانے سے پہلے ہمیں
یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا اسامہ بن لادن کی موجودگی اس خطے میںممکن ہوسکتی ہے؟۔
العربیہ ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں جس پہاڑی سلسلے کا نام دیا ہے وہ قراقرم کا پہاڑی
سلسلہ ہے ۔نمبر 1یہ کہ وہاں پر جون کے دنوں بھی سردی کم ازکم منفی 7سے 10 سینٹی
گریڈتک رہتی ہے جس سے بچنے کے لیے ایندھن( لکڑی) نہایت ضروری ہے مگر سلسلہ K-2 میں
لکڑی ناپید ہے۔ نمبر 2 یہ کہ اس پہاڑی سلسلے تک رسائی سوائے جون تا اگست تک ممکن ہی
نہیں ہے (سوائے افواج کے) ۔ نمبر 3 یہ کہ اس خطے میں سول آبادی ہی نہیں ہے تو ایک
مفرور شخص اور اس کے ساتھی( جن کی تعداد یقینا کا فی ہو گی )اپنی ضروریات کہاں سے
پوری کر تے ہیں؟۔ نمبر 4 یہ کہ ان علاقوں کی بلندی کے باعث 10ہزار فٹ سے اوپر
آکسیجن کا مسئلہ ہوتا ہے ،جس وجہ سے نارمل انسان بھی شدید متاثر ہوتا ہے غالباً یہی
وجہ ہے کہ ان علاقوں میں تعینات افواج میں شرح اموات زیادہ ہیں حالانکہ فوجیوں کو
سخت تربیت اور تمام ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اس کے باوجود زیادہ سے زیادہ
6ماہ بھی گزارنا ممکن نہیں ہوتا، جب جدید سہولیات اور آلات سے راستہ افواج اور وہ
فوجی جن میں سے اکثریت کا تعلق انہی علاقوں سے ہوتا ہے یہاں گزارہ کرنا مشکل ہورہا
ہے تو جس اسامہ کی پوری زندگی عرب کے تپتے صحراﺅں اور افغانستان کے نچلے پہاڑوںمیں
گزری ہو اور وہ عمر کے اس حصے میں جب نارمل علاقوں میں انسان کے لیے شدید مشکلات
ہوتی ہیں وہ K-2 کے پہاڑی سلسلے میں کیسے رہ سکتا ہے؟۔نمبر5 یہ کہK-2قراقرم کے
پہاڑی سلسلہ میں واقع ہے اور گلگت بلتستان میں 3پہاڑی سلسلے ملتے ہیں،جہاں 300 کے
قریب چوٹیاں ہیں جن میں 150 ایسی ہیں جن کی بلندی3 2ہزار فٹ سے زیادہ ہے جبکہ ان
علاقوں میں گرمیوں میں 15 ہزار فٹ بلندی سے اوپر رہنا نہ صرف مشکل بلکہ ضروری الات
(جو صرف افواج یا کوہ پیماﺅںکو ہی میسر آتے ہیں) کے بغیر رہنا ناممکن ہے چہ جائے کہ
سردیوں میں۔ نمبر6 یہ کہ العربیہ ٹی وی نے جس علاقے کا ذکر کیا ہے وہ خطہ اسامہ بن
لادن کے لیے نہ صرف موسم اور حالات بلکہ نظریاتی حوالے سے بھی انتہائی غیرمحفوظ ہے۔
نمبر7 یہ کہ ان علاقوں میں درجنوں کلو میٹر دور رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے کو
اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کی شکل و شباہت ہی مختلف ہے۔ نمبر8 یہ کہ اس خطے میں
رہنے والے کسی بھی شخص کے لیے مشکلات سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ بلتی یا
شینا اور کم از کم اردو زبان پر عبور حاصل ہو، اسامہ اور ان کے تقریباً تمام ساتھی
ابتدائی دو زبانوں سے کلی اور اکثر اردو پر بھی عبور نہیں رکھتے، کیونکہ میڈیا میں
شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اسامہ بن لادن کے ساتھ رہنے والوں میں سے اکثریت کا
تعلق عربوں اور افغانوں سے ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی درجنوںوجوہ ہیں جو اسامہ بن
لادن کی K-2 کے پہاڑی سلسلے میں موجودگی کی رپورٹ کو مفروضہ قرار دیتی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ رپورٹ صحیح ہے یا غلط، جہاں تک حقائق کا تعلق
اسامہ کی موجودگی کے حوالے سے رپورٹ جھوٹ مبنی اور امریکی عزائم کے حوالے سے درست
نظر آتی ہے۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ آخر امریکا اس خطے پر کارروائی کیوں کرنا
چاہتا ہے؟ ،اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟۔ گلگت بلتستان 84 ہزار 471 مربع میل پر پھیلی
ہوئی ریاست جموں و کشمیر کے تنازعے کا اہم فریق ہے جو اس ریاست کے 34 فیصد ایریا پر
مشتمل ہے۔ گلگت بلتستان کا اس وقت رقبہ 28 ہزار 400 مربع میل سے زیادہ ہے، جس کی
آبادی 20لاکھ کے قریب ہے، یہ خطہ 7 اضلاع اور 21 تحصیلوں پر مشتمل ہے اور3 بڑی
ایٹمی قوتوں سمت5ممالک پاکستان، چین، بھارت ،تاجکستان (سابق روسی ریاست) اور
افغانستان کے مابین حب کی حیثیت رکھتا ہے۔ گلگت بلتستان جنوبی ایشیا کا واحد خطہ ہے
جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اس خطے کی یہ اہمیت آج نہیں ماضی میںبھی تھی، یہی
وجہ ہے کہ جب برطانیہ کو ہندوستان پر روسی چڑھائی کا خطرہ ہوا تو 26 مارچ 1935ءکو
برطانیہ نے اس وقت کے قابض حکمران مہاراجہ رنبیر سنگھ سے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت
دریائے سندھ کے پار گلگت بلتستان کے 1480 مربع میل علاقے کا سول اور فوجی انتظام
براہ راست برطانوی حکومت کے سپرد کیا گیا، اس معاہدے کو”معاہدہ گلگت “کہا جاتا ہے
اگرچہ انگریز کو اس خطے میں براہ راست کنٹرول میںبہت کم وقت ملا، اس عرصے میں بھی
اس نے اس خطے کے قدرتی وسائل کو ہتھیانے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔ آج جس امریکی
کارروائی کی بات کی جاتی ہے اس کی وجہ اسامہ بن لادن نہیں بلکہ اس خطے کی دفاعی
اہمیت اور قدرتی وسائل ہیں۔
امریکا کو چین کے پاکستان اوربھارت کے بعدروس سے بڑھتے ہوئے تعلقات اور چین کی پیش
قدمی سے خطرات نظر آرہے ہیں۔ امریکا پوری دنیا میں اب صرف چین ہی کو اپنے لیے خطرہ
تصور کرتا ہے بالخصوص جب روس اپنا بدلہ اتارنے کے لیے تیار ہے۔ امریکا ان تعلقات کو
اپنے لیے خطرہ تصور کرتا ہے، اس لیے امریکا کو ان خطرات کے مقابلے اور چین کی پیش
قدمی کو روکنے کے لیے دفاعی مقام کی ضرورت ہے جو گلگت بلتستان سے زیادہ بہتر کوئی
نہیں ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ امریکا کی نظر جہاں افغانستان کی معدنیات، عرب کے تیل
پررہی ہے وہیں اس کی نظر گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل پر بھی ہے اور یہ کہ امریکا
برصغیر بالخصوص پاکستان، بھارت، کشمیر، افغانستان اور چین کے بعض حصوںکوبھی سازش کر
رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں ویسے تو چھوٹے بڑے گلیشئیرز کی تعداد 86 ہے جن کے پانی سے
پاکستان، بھارت، کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاوہ چین اور افغانستان کے بعض علاقے
سیریاب ہوتے ہیں۔دنیا کے 9 بڑے گلیشئیرزبھی گلگت بلتستان میں واقع ہیں۔ نمبر 1
سیاچن گلیشئیریہ دنیا میں قطبین کے بعد سب سے بڑا گلیشئیرہے جس کی لمبائی 50 میل
اور رقبہ 450 مربع میل ہے یہ K-2 کے پہاڑی سلسلے قرارقرم کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔
نمبر 2 بلتورو گلیشئیراس کی لمبائی 35 میل اور رقبہ 250 مربع میل ہے اور پہاڑی
سلسلے قراقرم کے ماشہ بروم کے شمال میں واقع ہے اور اسی راستے سے کوہ پیما K-2 تک
پہنچ پاتے ہیں۔ نمبر 3 ہسپر گلیشئیر اس کی لمبائی 35 میل اور رقبہ 240 مربع میل ہے
اور یہ گلگت کی کنجوت سر چوٹی کے جنوب میں واقع ہے ۔نمبر 4ریمو گلیشئیر اس کی
لمبائی 30 میل اور رقبہ 200 مربع میل ہے یہ وادی لداخ کے مقام نوبرا کے شمال میں
چین کے صوبے سنکیانگ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ نمبر 5 بیافو گلیشئیر اس کی لمبائی
37 میل ہے یہ قراقرم کے پہاڑی سلسلے کے درمیان ہیسپر کے شمال میں واقع ہے۔ نمبر
6چوغا لنگما گلیشئیریہ بلتستان کے پہاڑی سلسلے فراموش اور راکا پوشی کے بالائی گاﺅں
شگر اور رندو کے درمیان واقع ہے۔ نمبر 7 بتورا گلیشئیراس کی لمبائی 36 میل ہے اور
یہ ہنزہ کے شمال میں واقع ہے۔ نمبر 8 ورجراب گلیشئیر اس کی لمبائی 24 میل ہے۔ یہ
دست گل سر اور کنجوت سر چوٹی کے درمیان واقع ہے۔ نمبر 9 گیشر بروم گلیشئیریہ شمالی
بلتستان کے پہاڑی سلسلے سیاچین اور بلتوروکے درمیان واقع ہے اس کی لمبائی 12 میل ہے
۔اسی طرح 86 گلیشئیرز موجود ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ آیندہ کی جنگیں پانی کے
لیے ہوں گی، امریکا ان گلیشئیرز کو ختم کرکے اس خطے کو بنجر بنانا چاہتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اوپر جن گلیشئیرز کا ذکر کیا گیا ہے وہ تمام پہاڑی سلسلے قراقرم
میں واقع ہیں اور K-2 بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ پہاڑی سلسلے K.2 کی لمبائی 482 کلو
میٹر ہے جس میں سے تقریباً 90 فیصد حصہ گلگت بلتستان اور باقی چین میں واقع ہے۔
امریکی کارروائی کا بنیادی مقصد اس خطے پر قبضہ کرکے اس خطے میں اپنا ایک مضبوط بیس
کیمپ قائم کرنا ہے، اس کے لیے امریکا گزشتہ 60 سال سے کوشاں ہے مگر کامیابی نہیں،
ایئربیس کے لیے اس کی نظر ضلع استور اور ضلع سکردو کے درمیان واقع دنیا کے بلند
ترین، وسیع و عریض میدان اور قدرت کا عظیم شاہکار” دیوسائی“ پر لگی ہوئی ہے۔ اس
میدان کا کل رقبہ 580 مربع میل ہے، اگر کوئی شخص قدرت کے حقیقی مناظر کو دیکھنا
چاہتا ہے تو وہ”دیوسائی“ ضرور دیکھے ۔اس خطے میں درجنوں خوبصورت وادیاں بھی ہیںجو
سونا ،چاندی،کے علاوہ قیمتی پتھر، جڑی بوٹیوں، جنگلات اور قدرت کے عطاءکردہ حسن اور
دیگر نعمتوں سے آراستہ ہیں، اس خطے میں کھربوں ڈالر کی معدنیات موجود ہیں۔
جس طرح ماضی میں عالمی اور مقامی سامراج نے اس خطے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم
رکھا اسی طرح اب امریکا سامراج اپنے مفادات کے لیے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے نام
پر اس خطے کو ملیا میٹ کرنا چاہتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ یہ خطہ اسامہ کا ٹھکانہ
نہیں ہے البتہ اسامہ کے نام پر دنیا کی جاسوسی کرنے کا بہانہ ضرور ہے حالیہ رپورٹس
اسی کا حصہ ہیں۔ امریکا نے عرب مجاہدین اور طالبان کے نام پر قبائلی علاقوں کو تباہ
کر دیا اب وہ اسامہ بن لادن کے نام پر اس خطے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اس خطے
میں بیٹھ کر جنوبی ایشیاءکی جاسوسی کر سکے۔ گلگت بلتستان کے عوام اب اس طرح کی کسی
بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے جب وقت آئے ذلت کی زندگی اور عزت کی موت میں
سے کسی ایک کے انتخاب کرنے کا تو پھر گلگت بلتستان کے 20لاکھ غیور عوام اپنے وطن کا
دفاع کرتے ہوئے عزت کی موت کا ہی انتخاب کریں گے۔ |
 |
|
|