|
|
|
19
May 2008 /
13 Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
جمہوریت کی ڈوبتی ناﺅو!!
مرکز سے علیحدہ ہوکر پنجاب میں حکومت بنانے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔
سلمان تاثیر صدر کے ہمدردوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ روشن خیالی کے حوالے سے ان کے
خیالات صدر سے کئی گنا آگے بتائے جاتے ہیں۔
پاکستان میں 18 فروری 2008ءکے انتخابات کے نتیجے میں بحال ہونے والی جمہوریت صرف 2
ماہ بعد ہی شدید خطرات اور سازشوں کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ جمہوریت کی ”ناﺅ“ایک
مرتبہ پھر ڈوبنے کو ہے، اس کشتی پر پہلا حملہ 5 مئی 2008ءکو صرف ایک ٹیلی فون کے
ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 38 نشستوں پر ضمنی انتخابات ملتوی کراکر کیا گیا
مگر شدید ردعمل اور حقیقت کے کھل آنے پر یہ حملہ ناکام ثابت ہوا۔ دوسرا حملہ وعدوں
اور معاہدوں کے مطابق ججوں کو 12 مئی تک بحال نہ ہونے دیکر کیا گیا تاہم اس بار کے
حملے کے نتیجے میں جمہوری کشتی کمزور ہوئی اور تباہی کے آثار دکھائی دیئے مگر نواز
شریف اور آصف علی زرداری کے پر اعتماد ،پر جوش اورخوش کن بیانات کے بعد یہ محسوس
ہوا کہ شاید جمہوری سفر خطروں سے دوچار نہیں ہوگا۔ 12 مئی 2008ءکو مسلم لیگ ( ن) نے
اگرچہ عوامی خواہش اور عوام سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق اقتدار کو ٹھوکر ماری اور
وزارتوں سے استعفے دیئے مگر نواز شریف نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہم حکومت سے علیحدگی
کے باوجود حکومت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے دوسری جانب مسلم لیگ ( ن)
باالخصوص حکومت پنجاب کے حوالے سے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی
اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا جس کو اس ملک کے عوام نے بڑی سیاسی قوتوں میں ایک
بڑی اور مثبت تبدیلی قرار دیا، اگرچہ اس میں نواز شریف اور ان کی جماعت کے حصے میں
نیک نامی اور پی پی پی اور آصف علی زرداری کے حصے میں بدنامی آئی ،تاہم عوام کی ایک
بڑی تعداد نے اس کو بھی کسی دباﺅ یا مجبوری کا نتیجہ تصور کیا مگر 14 مئی 2008ءکو
پی پی پی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان کے اجلاس میں سابق نگراں وفاقی وزیر سلمان
تاثیر کو پنجاب کا گورنر بنانے کے مبینہ فیصلے نے جمہوریت کی کشتی میں بیچ سمندر
میں سوراخ کردیا جس کے باعث اب جمہوریت کی” ناﺅ “ڈوبتی نظر آرہی ہے جس کی واضح مثال
مسلم لیگ ( ن) کا شدید احتجاج اور پی پی پی کا بھر پور دفاع ہے۔
سلمان تاثیر کا شمار صدر مشرف کے ہمدردوں اور پی پی کے جیالوں کے علاوہ انتہائی
روشن خیالوں میں ہوتا ہے، مذہبی طبقے کے حوالے سے ان کے خیالات صدر مشرف سے کئی گنا
آگے بتائے جاتے ہیں اس کا کچھ اظہار وہ اپنے میڈیا کے اداروں میں بھی کرتے رہتے ہیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کا شمار نواز شریف کے مخالفین میں بھی ہوتا ہے
غالباً یہی وجہ ہے کہ وطن واپسی کے بعد ان کی ملکیت کے ایک نشریاتی ادارے نے نواز
شریف کے انٹرویو کے حوالے سے بعض الزامات عائد کئے تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے کی
تردید ہوتی رہی ۔ بعض مبصرین اس موقع پر جب مسلم لیگ ( ن) اور پی پی پی کا اتحاد
خطرات سے دوچار ہے سلمان تاثیر کو جمہوریت کی ”ریل کو ڈی ریل“ کرنے کیلئے”رن پٹھانی“
کا حادثہ قرار دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ موصوف کی تقرری کے بعد اب شاید مسلم لیگ
(ن) اور پی پی پی کے مابین دوبارہ اتحاد اور مسلم لیگ ( ن) کی حکومت میں شمولیت صرف
ایک خواب ہے کیونکہ مسلم لیگ ( ن) موصوف کی تقرری کو حکمراں اتحاد باالخصوص پنجاب
میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف سازش کا حصہ قرار دے رہی ہے ان کا دعویٰ ہے کہ اس ضمن میں
مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اس وجہ سے کہ مسلم لیگ ( ن) کی
قیادت نے سلمان تاثیر کی حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کیا اور جواباً پی پی پی
پنجاب کے جنرل سیکریٹری چودھری غلام عباس نے جولب و لہجہ اختیار کیا اس سے اندازہ
ہوتا ہے کہ اب معاملات کنٹرول سے باہر ہورہے ہیں ۔
حلف برداری کی تقریب میں مسلم لیگ (ق) کی شرکت اور اس سے ایک روز قبل ق لیگ کی
قیادت کی صدر مشرف سے ملاقات ایک واضح پیغام ہے ۔ اور لگتا ہے کہ” اے آرڈی، اوراے
پی ڈی ایم“کے بعد اب پاکستان ڈیموکریٹک الائینس(پی ڈی اے) کا جنازہ بھی نکلنے کو
ہے۔کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر نہ صرف باتاثیر ہیں بلکہ جوڑ توڑ کے ماہر بھی ہیں ان
کی بطور گورنر پنجاب تقرری دراصل مسلم لیگ ( ن) کو یہ پیغام دینا ہے کہ تم مرکز میں
ہم سے الگ ہوکو پنجاب میں آرام سے حکومت کرنے کا تصور دل سے نکال لو، کیونکہ اب
گورنر خالد مقبول نہیں کہ مشرف کے نام پر عوامی ہمدردی حاصل کی جاسکے۔ مبصرین کے
مطابق سلمان تاثیر پی پی پی سے زیادہ صدر مشرف کے حامی ہیں اور وہ زرداری کی بجائے
صدر مشرف کے زیادہ قریب ہیں ، ویسے بھی گورنر صدر کا نمایندہ ہوتا ہے غالباً یہی
وجہ ہے کہ پی پی پی کے مرکزی راہنماءاور سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے اس
کو صدر مشرف کی جانب سے ”فاروڈ کمانڈر“کی تقرری قرار دیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان
تاثیر کی تعیناتی سے صدر مشرف اپنی حکمت عملی میں کلی طور پر کامیاب ہوئے کیونکہ
جہاں اس اقدام سے دونوں جماعتوں کے مابین خلیج بڑھ گئی ہے وہیں صدر مشرف کواپنے 3
نومبر کے اقدام کو آئینی شکل دینے کیلئے راہ ہموار ہوئی ہے ۔ بعید نہیں کہ مسلم
لیگ(ق) کا پی پی پی سے جلد اتحاد ہو۔ اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ارکان کی
نا اہلی کے حوالے سے آئینی شق صدر ایک مرتبہ پھر ماضی کی طرح معطل کریں پھر پنجاب
اور سینٹ میں لوٹوں کا جمعہ بازار لگ جائے۔
اس سارے کھیل میں نادیدہ قوتیں ملوث ہیں مگر آصف زرداری غالباً نہ چاہتے ہوئے بھی
کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہورہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری کی سب سے بڑی
کمزوری امریکی دباﺅ ہے کیونکہ اب امریکا پاکستان میں اپنی جڑیں ہرجگہ مضبوط کرچکا
ہے سرکاری اداروں میں کمپیوٹر سے انٹرنیٹ تک، الیکشن کمیشن ، نادرا،پولیس، ائیرپورٹ
کا نظام اور اب بجلی کے حوالے سے بھی وہ اپنے مذموم عزائم کے لئے کوشاں ہے تا کہ
پوری قوم کو بغیر کسی جنگ کے غیر محسوس انداز میں غلام بنایا جائے ۔ پاکستان میں
تعینات امریکی سفیر پنجاب بینک میں 13 ارب روپے کے کرپشن کے کیس میں گرفتار مبینہ
ملزم تک کو رہا کرنے پر توجہ دے رہے ہیں اور جب جہاں چاہتے ہیں پہنچ جاتی ہیں۔
کراچی ہو یا اسلام آباد ، دبئی ہو یا لندن ہر جگہ ہمارے معاملات میں امریکی عمل دخل
حد سے بڑھ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کی تعیناتی میں بھی امریکی اہلکاروں
کا کردار ہے کیونکہ ان کو روشن خیالوں سے محبت ہے ۔
ہماری حکومت باجوڑ میں امریکی میزائل حملے کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کی مذمت تک
کرنے کو تیار نہیں ہے اگر یہی حملہ بھارت ،اسرائیل یا کوئی اور ملک کرچکا ہوتا تو
ہم اس کو اعلان جنگ تصور کرتے۔ اب تو عوام کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ اب ہمیں ذلت
کی زندگی یا عزت کی موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے امریکا اور اس کے
اتحادیوں کے سامنے جرا ¿ت مندانہ انداز میں کھڑا ہونا پڑیگا اس حوالے سے نواز شریف
کی حالیہ پالیسی اور اقدام کو عوام کی اکثریت قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ایک سروے
کے مطابق 80 فیصد افراد نے نواز شریف اور مسلم لیگ ( ن) کے حالیہ فیصلوں ، اقدام
اور امریکا مخالف پالیسی کو سراہا اور پی پی پی کے اقدام کو مسترد کیا ہے۔ غالباً
یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت امریکا پاکستان میں اپنے لئے سب
سے بڑی رکاوٹ نواز شریف کو تصور کرتا ہے اور وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ اس رکاوٹ کو
ہٹا دیا جائے ۔ اس لئے مسلم لیگ ( ن) کی قیادت کے علاوہ پوری قوم کو غور و فکر کرنے
کی ضرورت ہے۔
جہاں تک نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کا تعلق ہے یہ بھی
وقتی خوشی محسوس ہورہی ہے کیونکہ ابھی اپیل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مراحل
باقی ہیں اور تاحال ان کو رٹوں میں ”پی سی او“ والے ججز ہی تعینات ہیں۔ کیا اگر
نواز شریف کے کاغذات مسترد ہوئے ہیں تو وہ ان کو رٹوں میں جاتے ہیں۔ خیال یہی کیا
جاتا ہے کہ کم از کم نواز شریف کو ایوان تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدام
کیا جائیگا۔ بجٹ کے بعد ججوں کی بحالی کے پی پی پی کے اعلانات کو بھی اسی تناظر میں
دیکھا جارہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ سے پہلے اور فوراً بعد ملک میں کیا کیا
تبدیلیاں آتی ہیں یا پھر جمہوری حکومت اپنے 100 دن بھی پورے نہیں کرسکے گی۔
سلمان تاثیر کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں ججوں کی بحالی پر اختلاف کے بعد پنجاب میں سلمان
تاثیر کی بطور گورنر تعیناتی کے فیصلے کو پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کی پہلی بڑی
مشترکہ جارحانہ سیاسی پیش قدمی قرار دیا جارہا ہے۔سلمان تاثیر ایک سیاستدان ہونے کے
ساتھ ساتھ لاہور کی ایک بڑی کاروباری شخصیت بھی ہیں اور سیاسی حلقوں میں انہیں جوڑ
توڑ کا بادشاہ اور سابق گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم کی کچھ ایسی ہی صلاحیتوں کا
نعم البدل سمجھا جاتا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نوید چودھری نے بتایا کہ سلمان تاثیر
پیپلز پارٹی کے رہنماو ¿ں قاسم ضیاءاورمیاں یوسف صلاح الدین کے عزیز اور برصغیر کے
نامور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض کے بھانجے ہیں۔سلمان تاثیر کے
والد ڈاکٹر محمد دین تاثیر اس صدی کی دوسری چوتھائی کے ایک بڑے شاعر،ادیب اور
دانشور تھے۔ فیض احمد فیض کے ہم زلف ایم ڈی تاثیر کواپنی جوانی میں علامہ اقبال
جیسے عظیم شاعر کے قدموں میں بیٹھنے کا موقع ملاتھا۔ وہ خوش گو شاعر کے ساتھ ساتھ
انتہائی نکتہ رس نقاد بھی تھے۔وہ پہلے ہندوستانی تھے جس نے کیمبرج یونیورسٹی سے
انگریزی ادب کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔1988ءمیں جب بے نظیر بھٹو پہلی باراقتدار
میں آئیں تو سلمان تاثیر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبے کی نواز شریف
حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔
بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد جب نواز شریف نے وفاق کا اقتدار سنبھالا تو سلمان
تاثیر حکومت مخالف پیپلز پارٹی کی لانگ مارچ میں پیش پیش رہے اور گرفتار ہوکر جیل
گئے۔اس زمانے میں کہا گیا کہ انہیں جیل میں خاص طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس
طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کا اور نواز شریف کا تعلق تلخیوں سے بھرا ہوا ہے۔1993ءمیں
سلمان تاثیرنے پاکستان کرکٹ بورڈ میں خزانچی کے فرائض انجام دیے اور بے نظیر بھٹو
کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات کے مالی امور کے انچارج بھی رہے۔ اکاو
¿نٹنس کی اعلی تعلیم سے آراستہ سیاستدان سلمان تاثیر نے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار پر
بھی خصوصی توجہ دی،آج بھی لاہور میں ان کی آڈٹ فرم اچھی ساکھ رکھتی ہے، متمول
علاقوں میں ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کا سلسلہ ’پیس‘، ’ورلڈ کال‘ ٹیلی فون اور کیبل نیٹ
ورک، ’ڈیلی ٹائمز‘ روزنامہ ’آج کل‘ اور ٹی وی چینل ’بزنس پلس‘ ایسے تجارتی و صحافتی
ادارے ہیں جن کی کامیابی میں بڑا ہاتھ سلمان تاثیرکی انتظامی صلاحیتوں کا ہے۔پیپلز
پارٹی سے اپنی وابستگی برقرار ر کھتے ہوئے وہ صدر پرویز مشرف کے بھی قریب ہوئے،
نگران دور میں وفاقی وزیر بنے اور اب گورنر پنجاب کے عہدے کے لیے اس طرح نامزد ہوئے
کہ مسلم لیگ نون کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی پسند ہیں
یا صدر پرویز مشرف کا انتخاب ہیں۔
نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد بزنس پلس وہ پہلا ٹی وی چینل ہے جس کی ٹیم کی نواز
شریف سے ان کے ایک انٹرویو کے معاملے پر بدمزگی ہوئی اور ٹی وی چینل کی ٹیم نے
الزام عائد کیا کہ ان کی ٹیپ چھین لی گئی تھی۔نواز شریف کے ترجمان نے ان الزامات کی
تردید کی تھی اور ان الزامات کو ایک سازش قرار دیا تھا۔اس واقعہ کے کچھ عرصے بعد جب
مسلم لیگ قاف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو سلمان تاثیر وفاقی نگران کابینہ کے رکن اور
ان کے چینل کے ایک میزبان پنجاب کابینہ کے نگران وزیر بنے۔سیاسی حلقوں میں انہیں
جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے اپنی انہی صلاحیتوں کی
بدولت پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی برقرار ر کھتے ہوئے وہ صدر پرویز مشرف کے بھی
قریب ہوئے، نگران دور میں وفاقی وزیر بنے اور اب گورنر پنجاب کے عہدے کے لیے اس طرح
نامزد ہوئے کہ مسلم لیگ نون کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی
کی پسند ہیں یا صدر پرویز مشرف کا انتخاب ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی
تعیناتی ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کا رنگ
پھیکا پڑچکا ہے اور وفاقی کابینہ سے مسلم لیگ نون کے مستعفی ہونے کے بعد یہ سوال
بار بار اٹھایا جارہا ہے کہ کیا جواباً پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ نون کی
حکومت کو نقصان پہنچائے گی؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر کہیں کسی مقتدر
حلقے میں یہ سوچ موجود ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کا تختہ الٹ کر پیپلز پارٹی
مسلم لیگ قاف اور دیگر جماعتوں کی حکومت قائم کی جائے تو پھر اس مقصد کے لیے پنجاب
کے گورنر ہاﺅس میں سلمان تاثیر کی موجودگی موزوں ترین ہے۔ |
 |
|
|