|
|
|
30
April 2008 / 23 Rabi-us-Sani
1429 |
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
ملکی
سیاست فیصلہ کن موڑ پر
ملکی سیاست اپنے
فیصلہ کن موڑ پر آپہنچی ہے اور یہ موڑ ملک میں سیاست اور جمہوریت کی بقا اور فنا کے
لیے انتہائی اہم ہے،اس وقت اگر سمجھ داری سے کام نہیں لیا گیا تو پاک وطن کے بحران
سے نکلنے کی بجائے مزید سنگین بحرانوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے بالخصوص مسلم لیگ
(ن) کی جانب سے 30اپریل تک جج بحال نہ ہونے کی صورت میں حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی
نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے۔اس مشکل گھڑی میں عوام کی نظریں حکمرانوں ،سیاستدانوں
اور مقتدر قوتوں کے مثبت اور منفی اقدام پر لگی ہوئی ہیں۔ عوام یہ بھی دیکھ ر ہے
ہیں کہ کون اپنے وعدے پورے اور کون ان سے گریز کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
سیاست دانوں بالخصوص پارلیمنٹ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ججوں کی بحالی ہے اگرچہ اعلان
مری اور بعد کے اعلانات میں دونوںبادشاہ گروں (نواز شریف، آصف علی زرداری) نے 30 دن
میں ججوں کی بحالی کا وعدہ کیا ہے ،بعض افراد 30 دنوں کا شمار یکم اپریل ، بعض
25اپریل سے کرتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ 25 مارچ سے ہی آغاز ہوا ہے جس دن وزیراعظم
نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اول الذکر تاریخ گزر چکی جبکہ دوسری آخری مراحل میں ہے،
دوسری طرف آصف علی زرداری کی انہی ایام میںملک سے باہر موجودگی حالات کی سنگینی اور
شدید اندرونی اور بیرونی دباﺅ اور اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے ۔ آصف علی زرداری کا
کہنا ہے کہ وہ الٹی یا سیدھی گنتی پر یقین نہیں رکھتے ، یہ بات بھی سچ ہے کہ ملک جن
مشکلات سے دوچار ہے اس میں جلد بازی، الٹی یا سیدھی گنتی کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں،
بعض وکلاءججوں کی بحالی کو صرف ایک انتظامی حکم کا محتاج سمجھتے ہیں شاید ان
وکلاءکو اصل مشکلات کا ادراک نہیں ہے یا پھر وہ جذبات کی رو میں بہہ رہے ہیں
حالانکہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کی قرارداد یا انتظامی حکم سے ذیادہ طاقت کے توازن کا
ہے ۔ اس حوالے سے نواز شریف اور آصف علی زرداری کا موقف صحیح ہے کیونکہ جن اندرونی
اور بیرونی دباﺅ کا سامنا ان کو ہے کسی اور کو نہیں ۔ دراصل ججوں کی صرف بحالی کا
مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ اس کے بعد کی صورت حال کا ہے کیونکہ ابھی تک تو کلی
طور پر اقتدار کی منتقلی ہی نہیں ہوئی ہے، مرکز میں صدر، صوبوں میں گورنرز اور دیگر
اداروں میں سربراہوں کی صورت میں ججوں کو معزول کرنےو الی قوتوں کا تسلسل موجود ہے
جو کھل کر نہیں تو کم از کم پسِ پردہ اپنے اقدام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے
گا۔
اسی طرح جو جماعتیں عدلیہ اور ججوں کی بحالی کے نام پر الیکشن میں کامیاب ہوکر آئی
ہیں وہ بھی کلی یا جزوی طور پر اپنے وعدے کی پاسداری چاہتی ہیں، ان جماعتوں میں
مسلم لیگ (ن) کا پہلے دن سے آج تک ایک ہی موقف ہے مگر پی پی کے موقف میں اب تک 3
مرتبہ تبدیلی آچکی ہے۔ پی پی پی کا بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے بعد ابتدائی اور
زندگی کے آخری دنوں کے موقف میں کافی تبدیلی تھی جبکہ انتخابات میں کامیابی کے بعد
اس موقف میں اور تبدیلی نظر آئی اور اب حکومت میں آنے کے بعد مزید تبدیلی نظر آرہی
ہے۔نواز شریف اور ان کی جماعت معزول ججوں کی مکمل بحالی اور نئے ججوں کی برطرفی کے
موقف پر قائم جبکہ پی پی پی منفی 1 یا 2 کے علاوہ چیف جسٹس کی مدت کے تعین،از خود
نوٹس و دیگر اختیارات میں کمی اور پی سی او کے تحت تقرر کیے گئے ججوں کے مستقبل کے
حوالے سے الگ موقف رکھتی ہے۔
دراصل قوم کو کسی فیصلے تک پہنچے سے قبل دونوں جماعتوں کی قیادت اور پالیسیوں پر شک
نہیں کرنا چاہیے، ممکن ہے کہ پی پی نے اپنے موقف میں جو تبدیلی کی ہے اس کی وجہ ملک
کو کسی بڑے بحران سے بچانے اور نواز شریف کی موقف پر سختی عوام سے کیے ہوئے وعدے کی
تکمیل ہو ۔ جو لوگ ججوں کی بحالی کو صرف ایک قرارداد کا معاملہ تصور کرتے ہیں انہیں
شاید بعد کے حالات کا ادراک نہیں ہے،جس کی ایک چھوٹی سی مثال اقبال حیدر کی اسلام
آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے معاملے کو قرارداد کے ذریعے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے
خلاف دائر کی گئی درخواست ہے،اگرچہ کورٹ نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیا
مگر بعدازاں عدم پیروی کی بناءپر خارج کردی ۔ اگر حکمرانوں اور حکومتی جماعتوں نے
انتہائی غور و فکر نہیں کیا تو قرارداد کے ذریعے بحالی کا اعلان ٹکراﺅکا باعث بنے
گا،یعنی ایک طرف سے وزیراعظم اس سفارشی قرارداد کے بعد انتظامی حکم نامے کے ذریعے
ججوں کو بحال کرکے ان کو کورٹ میں تعینات کرتے ہیں تو دوسری طرف اگر موجودہ عدلیہ (چیف
جسٹس)نے سپریم کمانڈر (صدر پاکستان) سے فوج کی مدد طلب کرلی یا حکم امتناعی جاری
کیا تو پھر اس وقت کیا ہوگا؟، اقبال حیدر کی درخواست سے یہ صورت حال مزید واضح
ہوگئی ہے کہ بعض قوتیں اس پر کام کررہی ہیں۔ اقبال حیدر کی درخواست میں بظاہر شر
نظر آتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس شر سے قوم کے لیے خیر کا راستہ نکالا ہے۔ وہ یہ
ہے کہ اب شاید وکلاءاور جذباتی لوگ ججوں کی بحالی کے بعد کی صورت حال پر گہرائی سے
سوچ بچار کریں، جہاں تک اقبال حیدر کا تعلق ہے پوری قوم ان کے ماضی سے واقف ہے،یہاں
پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اقبال حیدر اپنے آپ کو ”مولوی“ کہلاتے ہیں مگر وہ
”مولوی“ کی اصطلاح کے مروجہ اصولوں پر پورا نہیں اترتے ، جس طرح کوئی شخص کالا کوٹ
پہن کر وکیل نہیں بن سکتا اسی طرح کوئی شخص اپنے دعوے سے ” مولوی“ نہیں بن سکتا
ہے۔رہی بات وکلاءکے جذبات کی تو ان میں سے اکثر یہ تصور کرتے ہیں کہ جس طرح وہ کورٹ
میں اپنے دلائل کے ذریعے مقدمات میں کامیاب حاصل کرتے ہیں یہ مسئلہ بھی ایسا ہی ہے،
مگر انہیں معلوم ہونا چائے کہ یہ مسئلہ اتنا آسان اور صرف دلائل والا نہیں بلکہ
دلائل کے ساتھ طاقت کا بھی ہے،اس لیے جلد بازی سے زیادہ سمجھداری کی ضرورت ہے ورنہ
ملک ایک مرتبہ پھر انتہائی سنگین بحران اور ٹکراﺅ کی طرف جائے گا اور قومی مفاہمت
کے حوالے سے آصف علی زرداری، نواز شریف اور دیگر حکومتی اور سیاسی قوتیںجو کوششیں
کررہی ہیں کہ وہ سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے گا۔
قومی مفاہمت اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش موجودہ حکمرانوں کا
مثبت اقدام ہے۔ بلوچستان، قبائل، لال مسجد اور دیگر ایشوز کو اگر ماضی میں بندوق کی
بجائے افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید آج ملک ان بحرانوں کا شکار
نہ ہوتا۔آمروں نے ہمیشہ معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے
ملک کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے،مگر جمہوری قوتوں نے اس کی بجائے مفاہمت کو
ترجیح دینے کی کوشش کی ہے اس کی واضح مثال مولانا صوفی محمد کی رہائی اور مقامی
طالبان کے ساتھ مذاکرات جیسے قابل تحسین اقدام ہیں۔ موجودہ حکومت کے ان اقدام کے
علاوہ بیت اللہ محسود کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان بھی لائق تحسین ہے۔دراصل قبائل
میں جن لوگوں نے بندوق اٹھائی ہے وہ ان کی مجبوری بنادی گئی ورنہ وہ خود بھی نہیں
چاہتے ہیں کہ علاقے کا امن تباہ ہو۔ سابق حکومت کی بعض غلط پالیسیوں نے نہ صرف
قبائل بلکہ شہروں میں بھی لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا۔ امریکی خوشنودی کے
لیے مجاہدین کو مارنا، اپنے ہی لوگوں پر بمباری کرنا، قرآن و حدیث کی تلاوت میں
مصروف معصوم طلباءطالبات کو فاسفورس کے ذریعے زندہ جلانا، اپنے لوگوں کو چند ڈالر
کے عوض فروخت کرنا اور داڑھی رکھنے یا نماز پڑھنے کے جرم میں لوگوں کو جھوٹے مقدمات
میں قید یا پولیس مقابلوں میں مارنے اور لوگوں کوغائب کرنے کے عمل کے باعث لوگ
ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے ملک میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا،
یہ عمل نہیں بلکہ ردعمل ہے،اس وقت بھی ہزاروں مذہبی کارکن بغیر کسی جرم کے جیلوں
اور اذیت گاہوں میں قید ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ قومی مفاہمت کا دائرہ یہاں تک بھی
وسیع کرے تاکہ ان لوگوں کو جھوٹے مقدمات، قید و بند کی صعوبتوں اور دیگر مشکلات سے
چھٹکارا مل سکے۔ جب سیاسی کارکنوں کو قومی مفاہمت کے نام پر ریلیف دیا جاسکتا ہے تو
مذہبی کارکنوں کو کیوں نہیں؟ اس لیے حکومت ان اندرونی تنازعات کا خاتمہ بھی قومی
مفاہمت کے ذریعے کرے جس کا فائدہ ملک اور عوام کو ہوگا۔ اس حوالے سے امریکا یا دیگر
قوتوں کو واضح طور پر آگاہ کرنا چاہے کہ ہم ان کے مفادات کی خاطر اپنے ملک کو داﺅ
پر نہیں لگاسکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے حکمران اس طرف کس حد تک توجہ دیتے ہیں۔ |
 |
|
|