رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

19 April 2008 / 12 Rabi-us-Sani 1429

عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com


سندھ اسمبلی کا ایک تاریخ ساز دن
 
پندرہ اپریل2008ءکو ہونے والا سندھ اسمبلی کا اجلاس سندھ کی تاریخ کاتاریخی اجلاس شمار ہوگا۔ غالبا ً یہ اجلاس ان چند اجلاسوں میں سے ایک ہے جس کا12نکاتی ایجنڈا بغیر شور شرابے‘ ہنگامہ آرائی‘ ہلڑ بازی اور تنقید کے ترتیب وار مکمل ہوا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے بدھ(15 اپریل2008ئ) کو شام چار بجے سندھ اسمبلی عمارت میں طلب کیا۔ قبل ازیں یہ امکان تھا کہ ایم کیو ایم کے اپوزیشن میں بیٹھنے اور پی پی پی اور ایم کیو ایم کے بعض راہنماﺅں کے تلخ بیانات کے یہ اجلاس ہنگامہ خیز ہوگا یا پھر اپوزیشن 5اور7اپریل کے ناخوشگوار کے باعث ہونے والے بائیکاٹ کو برقرار رکھے گی ۔

اجلاس حسب معمول ایک گھنٹہ پانچ منٹ تاخیر سے شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو کی صدارت میں شروع ہوا۔ ایجنڈے کے مطابق تلاوت ، نعت اور فاتحہ خوانی کے بعد نومنتخب دو ارکان پاکستان پیپلز پارٹی کے میر حسن کھوسو اور متحدہ قومی موومنٹ کی ہیر اسماعیل سوہو نے اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ جس کے بعد اسپیکرنے پینل آف چیئرمین کے لئے ڈاکٹر سکندر میندھرو، حاجی منور علی عباسی، فیصل سبزواری اور شمع عارف مٹھانی کا اعلان کیا۔ جس کے بعد ایوان میں متحدہ قومی موومنٹ کے شعیب بخاری، سید سردار احمد، عادل صدیقی، فیصل سبزواری، مسلم لیگ فنکشنل کے جام مدد علی ، مسلم لیگ (ق) کے عبدالرزاق راہموں اور دیگر ارکان نے خیرسگالی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جیلانی اور اسپیکر نثار احمد کھوڑو اور ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا کو ان کی بلامقابلہ کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور ایم کیو ایم کے عادل صدیقی،انور عالم،عبدالحسیب اورشعیب احمد بخاری حکومتی نشستوں پر جاکر ملے۔ایک موقعہ پر جب اپوزیشن کے ارکان نے خیرسگالی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی تو صوبائی وزیر زراعت نادر مگسی نے کہا کہ اگر آپ ہمارے ساتھ ہیں تو پھر آپ یہاں آجائیں اور ہمارے پاس بیٹھ جائیں اس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔

ایوان کی کارروائی شروع سے آخر تک انتہائی پرامن اور خوشگوار ماحول میں چلی تاہم گیلریز سے بعض افراد نے نعرے بازی جن کو اسپیکر نے سختی سے منع کیا جبکہ مسلم لیگ (ق) کے عبدالرزاق راہموں ، مسلم لیگ فنکشنل کے جام مدد علی اور مسلم لیگ (ف) کی ایک خاتون رکن نے ان کے کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی شکایات کی اور وزیر اعلیٰ نے ان شکایات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی۔ جس طرح کے جذبے کا اظہار اپوزیشن کے ارکان نے کیا اسی طرح کے جذبے کا اظہار وزیرا علیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جیلانی، سینئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق، اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو اور دیگر نے بھی کیا اور ایوان میں انتہائی پرامن ماحول دیکھنے میںآیا۔ پینل آف چیئرمین کے اعلان کے بعد جب اسپیکر نے وقفہ سوال، چھٹی کی درخواستوں، تحریک استحقاق اور تحریک التواءکے بارے میں پوچھا تو سیکریٹری کی جانب سے مسلسل کوئی نہیں کے” جوابات“ میں ایوان اور گیلری میں موجود لوگ ہنس پڑے۔ جس کے بعد صوبائی وزیرقانون ایاز سومرو نے پانچ بل ایوان میں پیش کئے ، اس دوران اپوزیشن نے کوئی مزاحمت یا اس کی مخالفت نہیں کی ۔

بعد ازاں ایجنڈے کے آئٹم نمبر 9 کا بل ایوان میں پیش کیا گیا جو سندھ پبلک سروس کمیشن میں ترامیم کے حوالے سے تھا، اگرچہ اپوزیشن نے اس بل کی منظوری کے حوالے سے مخالفت کی تاہم وہ مخالفت صرف برائے نام تھی اور جب بل کی کلاز وائس منظوری ہورہی تھی تو کلاز ایک سے تین کی اپوزیشن نے مخالفت نہیں کی تاہم کلاز فور کی مخالفت کی اور اس طرح یہ بل کثرت رائے سے منظور ہوگیا جو جلد توثیق کے لئے گورنر کو بھیج دیا جائے گا۔

بل کی منظوری کے بعد ایوان میں2003-04ءاور 2004-05ءکے سالوں کی حکومت سندھ کے آڈیٹر جنرل کی رپورٹس پیش کی گئی۔ بعد ازاں اسپیکر نے14 اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے لئے نام طلب کئے جس پر دونوں جانب سے متفقہ طور پر یہ تجویز دی گئی کہ اسٹیڈنگ کمیٹیوں کا معاملہ آئندہ اجلاس تک کے لئے موخر کردیا جائے تاکہ دونوں جانب کے ممبران متفقہ طور پر اس معاملے کو طے کرسکیں۔ یہ ایجنڈے کا آخری آئٹم تھا۔

یہ دن اس حوالے سے تاریخ ساز تھا کہ ایک گھنٹہ دو منٹ میں پور ا12 نکاتی ایجنڈا بغیر کسی ہلڑ بازی‘ نعرہ بازی اور ناخوشگوار واقعے کے مکمل ہوا اور ارکان جب ایوان سے اٹھے تو ہنستے مسکراتے ہوئے اٹھے۔ 2002ءاور 2008ءمیں قائم ہونے والی سندھ اسمبلی کے 43میں سے 41اجلاسوںکی مکمل کوریج کرنے مجھے موقع ملا ہے ۔ان میں شاید یہ پہلا اجلاس تھا جس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی بھر پور موجودگی کے باوجود اس طرح کا ماحول پیدا ہوا ۔شاید ارکان نے حلف برداری اسپیکر ‘ ڈپٹی اسپیکر اور قائدایوان کے انتخاب اور اعتماد کے ووٹ کے لئے ہونے والے اجلاسوں کے سنگین واقعات سے سبق حاصل کیا اگر واقعی ایساہی ہے تو پھر یہ سندھ کے عوام کے لئے ایک اچھا پیغام ہے جس کو ہر صورت سراہنا چاہیے کیونکہ ماضی میں قائم ہونے والی بیشتر اسمبلیوں میں قانون سازی کی بجائے تنقید ،ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں زیادہ توجہ دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سندھ دن بدن مسائل سے دوچار ہوتا رہاا ور شرح خواندگی‘ ترقی‘ غربت‘ بے روزگاری‘ بدامنی‘ غیر یقینی صورتحال دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں زیادہ دیکھنے میں آئی۔ بعض اوقات ان باتوں میں بہتری ناممکن دکھائی دینے لگی اور جس سے عوام میں شدید مایوسی کی فضاءپیدا ہوئی۔ سندھ اسمبلی کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں ارکان نے جس صبر وتحمل ، برد باری اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اگر یہ مظاہرہ مسلسل چلتا رہا تو شاید سندھ ایک مرتبہ پھر غربت‘ بے روزگاری‘ بدامنی اور دیگر مسائل کے گھٹا توپ اندھیرے سے نکل سکے ،اسلئے اس دن کو تاریخ ساز قرار دیا جا رہاہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ارکان سندھ کے عوام کی امیدوں پر پورا اترتے ہیں یا پھر اپنی ماضی کی روش کو برقرار رکھتے ہیں۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035