|
|
|
19 April 2008 / 12 Rabi-us-Sani
1429 |
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
حکومتی دعوے ،عوام اور مہنگائی کا بے
قابو جن
عام انتخابات کے نتیجے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا قیام مکمل ہوگیا ہے اور اب
ان جمہوری قوتوں کے لیے عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے کا وقت آیا ہے۔ وزیراعظم
مخدوم سید یوسف رضا گیلانی نے 25 مارچ 2008ءکو اپنی تقریر میں حکومت کے 100 دن کے
لیے جن اہداف کا اعلان کیا اس کے اثرات تقریباً ایک ماہ گزرنے کے باوجود تاحال عوام
تک نہیں پہنچے ہیں، البتہ اس اعلان کے بعد مزید مہنگائی اور آٹے کے بحران کے اثرات
سے عوام ضرور مستفید ہورہے ہیں۔
جو آٹا 25 مارچ 2008ءکو فی 10 کلو 145 روپے مل رہا تھا آج (18 اپریل تک) 210سے 230
روپے جبکہ قبائلی اور دیگر دور دراز علاقوں میں 300 سے 500 روپے تک بلیک میں بک رہا
ہے۔ یقینا یہ بحران سابق حکومت کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے مگر آخر کیا وجہ ہے کہ
10 سے 18 اپریل تک ایک ہفتے میں اچانک آٹے میں فی کلو 7 سے 15 روپے تک اضافہ ہوا۔
یہ اضافہ صرف آٹے تک محدود نہیں بلکہ وزیراعظم کے اعلان کے بعد چاول میں7 سے10، گھی
میں4 سے6، سبزیوں میں 5 سے15، دالوں میں 5 سے 15 روپے فی کلو، پیٹرول اورڈیزل میں
فی لیٹر 3 روپے، کپڑے میں 5 سے 20 روپے فی میٹر، کرایوں میں 20 سے 25 فیصد اور دیگر
اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں 10 سے 25فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ رکنے کا نام
ہی نہیں لے رہا ہے،اورمہنگائی کا بے قابو جن دیو بننے کو ہے۔
ملک کے 70 فیصد افراد کی اوسط آمدنی 4500 سے 6000 روپے تک ہے جس سے نہ صرف 2 سے 3
افراد پر مشتمل خاندان کا گزارہ مشکل بلکہ ناممکن ہے جبکہ پاکستان میں فی گھرانہ
اوسطاً 6 سے 8 افراد پر مشتمل ہے۔ 15 فیصد افراد کی تنخواہ 10 ہزار تک، 5فیصد کی 20
ہزار تک، 5 فیصد کی 30 ہزار اور 5 فیصد کی 31 ہزار روپے سے زیادہ آمدنی ہے اس میں
دوہری ملازمت کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ مہنگائی کی موجودہ سنگنی میں 5 سے 7
افراد پر مشتمل خاندان کے گزارے کے لیے اپنا گھر ہونے کی صورت میں کم از کم12 سے16
اور مکان کرایہ کا ہونے کی صورت میں 15 سے 20 ہزار روپے درکار ہیں ۔جس میں وہ صرف
مہینے میں 2 سے 3 بار بڑا گوشت یا مرغیکی فضول خرچی برداشت کرسکتے ہےں۔ جب ملک کے
70 فیصد عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہوں تو ایسے میں خودکشیاں، جرائم، اور اسٹریٹ
کرائم میں اضافہ نہیں تو اور کیا ہوگا؟۔ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ ان اعداد و شمار
کے مطابق ملک کے 85 فیصد عوام اس معیار پر پورے نہیں اتر رہے ہیں جبکہ 10 فیصد
افراد صرف گزار کرتے ہیں اور صرف 3 فیصد افراد کو ان کے معیار کے مطابق آمدنی
دستیاب ہے جبکہ صرف 2 فیصد افراد کو پرتعیش زندگی نصیب ہے۔ اس ملک کے 85 عوام کو
شاید دو وقت کی روٹی ہی دستیاب ہونا مشکل ہوگئی ہے تو وہ گوشت کہاں سے کھائیں، ان
لوگوں کے لئے چھٹا گوشت صرف میوزیم میں ہی دیکھنے کو مل سکتاہے۔ فروٹ اور کوئی
تفریح تو ممکن ہی نہیں ہے، مہنگائی کے بڑھنے کی رفتار یوں ہی رہی تو شاید سالوں میں
نہیں بلکہ مہینوں میں ایسا ماحول پیدا ہوگا کہ لوگ کہلے عام لوٹ مار کرنے پر مجبور
ہوں گے جو ملک کو انارکی اور لاقانونیت کی طرف لے جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے عام سے جو وعدے کیے ہیں ان پر 100 فیصد
نہ صحیح تو کم از کم کچھ تو عمل کریں۔ سابق حکمرانوں کو عوام نے آمریت کی پیداوار
یا تسلسل قرار دے کر مسترد کیا اور موجودہ حکمرانوں کو حقیقی عوامی نمایندے سمجھ کر
اقتدار کی کرسی تک پہنچایا، اب عوام اس جدوجہد کا حصہ چاہتی ہے۔ حکمران جماعتیں
مخالف سیاسی قوتوں سے انتقام لینے میں جلدی کی بجائے عوامی مسائل بالخصوص مہنگائی
پر کنٹرول کے لیے فوری اقدام کریں کیونکہ اس بار قائم ہونے والی حکومتوں کو مکمل
عوامی مینڈیٹ حاصل ہے مگر حالات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومتیں بالخصوص بعض
افراد کی زیادہ توجہ عوام کے اصل مسائل حل کرنے کی بجائے ذاتی عناد، انتقام اور
دھمکیوں پر مرکوز ہے۔ جس سے حالات میں بہتری کی بجائے بدتری آئی گی۔ یہ درست ہے کہ
سابق حکمرانوں بالخصوص صدر پرویز مشرف نے اپنے مخالفین کو دبانے یا ختم کرنے کے لیے
کوئی کسر نہیں چھوڑی اور بعض ایسی زیادتیاں کیں کہ ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم
اور یہ جرائم ناقابل معافی معلوم ہوتے ہیں تاہم اس وقت ملک جس چوراہے پر کھڑا ہے اس
سے نکلنے کے لیے انتقام سے زیادہ عفو و درگزر کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ اگر کسی کے
خلاف کارروائی کرنا ملکی اور عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے تو پھر دھمکیوں کی بجائے
قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے بعض ذمہ دار وزراءکے
دھمکی آمیز بیانات موجودہ حکمرانوں کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں اور پی پی پی کے
شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف ”قومی
مفاہمت کی جس پالیسی پر گامزن ہیں“ اس کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت اور وزراءہر
اقدام سے پہلے ہزار بار سوچیں کیونکہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ چاروں
اطراف اور ملک کے اندر بعض عناصر ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے موقع کی تلاش
میں ہیں۔ سابق حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اختلاف برائے
اختلافات سیاست کی بجائے اخلاقی برائے اصلاح اور تعمیر کی سیاست کریں۔ اس میں مسلم
لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کو بنیادی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اگر چہ ان
جماعتوں کی جانب سے مثبت اقدام کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جو بہت ہی خوش آیند ہے۔
تاہم بعض مواقع پر ان جماعتوں کی جانب سے بھی بعض بیانات تلخی کا باعث بن رہے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے مابین ٹکراﺅ کی صورت میں سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہونے کا
امکان ہے کیونکہ پی پی پی اور ایم کیو ایم کے مابین مذاکرات میںڈیڈلاک اور ایم کیو
ایم کی جانب سے اپوزیشن میں بیٹھنے کے اعلان کے بعد سندھ میں ایک مضبوط اپوزیشن
دکھائی دے رہی ہے اور اگر پی پی پی اور ایم کیو ایم کی قیادت نے انتہائی سمجھداری
سے کام نہیں لیا تو حالات کا خراب ہونا یقینی امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت صوبہ
سندھ غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے جس کے باعث مستقبل کے امن وامان اور دیگر امور
کے حوالے سے کئی سوال پیدا ہورہے ہیں۔ صورت حال کو بہتر کرنے میں زیادہ ذمہ داری پی
پی پی پر عائد ہوتی اور اب تک آصف علی زرداری نے شاید اس ذمہ داری کا احساس بھی کیا
ہے تاہم بعض رہنماﺅں کی جانب تلخ بیانات ماحول کو خراب کرسکتے ہیں۔
سندھ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے مستقبل کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھائے جارہے
ہیں ممکن ہو کہ یہ سوالات، اعتراضات اور تحفظات درست ہوں مگر اس وقت ان اداروں کے
خلاف کوئی کارروائی کرنا موجودہ حکمرانوں کے لیے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے
مترادف ہوگا کیونکہ مرکز میں صدر اور صوبوں میں گورنرز کی شکل میں بلدیاتی کی نظام
کے خالق اور محافظ موجود ہیں جو یقینا ہر ممکن اس نظام کا تحفظ کرنے کی کوشش کریں
گےاور یہیں سے ٹکراﺅ شروع ہوگا۔ یہ بات صحیح ہے کہ بلدیاتی نظام میں کئی خرابیاں
ایسی ہیں جن کی اصلاح نہایت ضروری ہے اس کے لیے پورے نظام کو لپیٹنے کی بجائے
قانونی طریقے سے اس کی اصلاح کی جائے۔ ویسے بھی 2009ءمیں ان اداروں کی مدت پوری
ہورہی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران سابق حکمرانوں نے بڑے
پیمانے پر مداخلت کی اور من پسند افراد کی کامیابی میں کردار ادا کیا۔ موجودہ
حکمران ان کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ان غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور ان اداروں
کو برائے راست نقصان پہنچانے کی بجائے ”ان ہاﺅس“ تبدیلی یا کوئی اور اخلاقی اور
قانونی راستہ تلاش کریں۔
ملک میں ججوں کی بحالی کا وعدہ موجودہ حکمرانوں کے لیے اہم ایشو ہے اور اعلان مری
میں 30 دن میں بحالی کا وعدہ بھی عوام کو یاد ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ایشو
پر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے مابین کافی تضاد ہے جو دونوں جماعتوں کے مابین نہ
صرف اختلاف بلکہ علیحدگی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ پی پی پی ،مشرف اور ان کے ساتھیوں
کو ساتھ لے کر چلنے کے علاوہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے درمیانی راستہ تلاش کرنا
چاہتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) وعدے کے مطابق 30 دنوں میں تمام ججوں کی حالی چاہتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے ایک مسودہ بھی تیار ہوا ہے جو جلد قومی اسمبلی میں
پیش کیا جائے گا۔ دونوں جماعتوں کے رہنماﺅں کا دعویٰ ہے کہ یہ مسودہ فخر الدین جی
ابراہیم نے تیار کیا ہے جس پر دونوں جماعتوں کا اتفاق ہے (ممکن ہے کہ ان سطور کی
اشاعت تک مزید حقائق سامنے آچکے ہوں گے)۔
ملک میں اہم فیصلوں اور سیاسی بساط کے حوالے سے اپریل کے آخری عشرے کو انتہائی اہم
قرار دیا جارہا ہے جس میں سینٹ میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کi
تحاریک، ججوں کی بحالی کی قراردادپیش، صدر پاکستان کے مستقبل اور بی اے کی شرط کے
حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے متوقع ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی
اسمبلی کی 8، چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 30 نشستوں پر ضمنی انتخابات کو مزید 15 دن
تاخیر سے کرانے میں سپریم کورٹ میں ”بی اے“ کی شرط کا کیس اہم کردار ہے کیونکہ اس
شرط کے اطلاق سے بعض اہم رہنما، قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابات میں حصہ
نہیں لے سکتے ہیں۔ ان کے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے اس شرط کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس
ضمن میں آصف علی زرداری کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اٹارنی
جنرل آف پاکستان جسٹس(ر) ملک محمد قیوم نے سپریم کورٹ میں اس شرط کو امتیازی قرار
دیا ہے جو درست مگر ملک ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان (نادرن اییریا ز ) کے ووٹر ز
کے حوالے سے جو اعدادو شمار پیش کئے ہیں ان میں اورالیکشن کمیشن میں کا فی تضاد ہے
۔
الیکشن کمیشن کے پرانے شیڈول کے مطابق ان 38 نشستوں کے لیے پولنگ 3 جون اور نئے
شیڈول کے مطابق 18 جون کو ہوگی جبکہ کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا عمل 15اپریل سے 6
مئی تک جاری رہے گا، تاہم سینٹ کی 5 نشستوں کے لیے پرانے شیڈول کے مطابق 3 اور 6مئی
کو ہی پولنگ ہوں گے۔ یہ سب سیاسی حربے اپنی جگہ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ ان حربوں یا
فیصلوں سے عوام کو کیا ریلیف ملتا ہے |
 |
|
|