رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

31 March 2008 / 22 Rabi-ul-Awal 1429

عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com


عوامی توقعات اوروزیر اعظم کے انقلابی اعلانات

ملک میں8 سال 5 ماہ 13دن بعد حقیقی جمہوریت کا روپ یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم کے انتخاب کی صورت میں نظر آیا۔ 18 فروری 2008ءکو عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے تقریباً ساڑھے 8 سالہ آمریت کا خاتمہ کیا اور ان جماعتوں پر اعتماد کیا جن کا ماضی اگرچہ مثالی نہیں رہا مگر انہوں نے مستقبل سنوارنے کا عزم کیا ہے۔ عوام کو نئے حکمرانوں اور جماعتوں سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں،اب کی بار بھی عوام کو مایوس کیا گیا تو پھر اس ملک کی تقدیر کوئی خونی انقلاب ہی بدل سکتا ہے۔

مورخہ 25 مارچ 2008ءکو نومنتخب وزیراعظم نے انتہائی بھاری بھرکم میڈیٹ (242میں سے 264ووٹ اور مخالف کوصرف 42ووٹ ملے)کے ساتھ اقتدار سنبھالا ہے۔ 29مارچ 2008ءکو پورے ایوان نے ان کواعتماد کا ووٹ دیا اس طرح کا مینڈیٹ ملکی تاریخ میں شاید ہی کسی منتخب عوامی حکومت کو ملا ہو۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کا 100 روزہ پلان بھی جاری کیا۔ جس کے چیدہ نکات میں ٹریڈ اور طلبہ یونینز پر پابندی ،فاٹا میں ایف سی آر کے کالے قانون ، آئی آر او 2002ء، وی آئی پی کلچر ، میڈیا کی آزادی کے منافی تمام قوانین کا جائزہ لے کر ان کا فوری خاتمہ، گندم کی امدادی قیمت میں 125روپے کا اضافہ، مزدور کی کم از کم تنخواہ 6 ہزار کرنے، وزراء600 1سی سی تک کی کار استعمال اورصرف اکانومی پلس کلاس میں سفر کریں گے،وزیر اعظم ہا ¶س کے بجٹ میں40 فیصد کمی، بجلی کی بچت کےلیے سرکاری عمارتوں پر غیر ضروری چراغاں کا خاتمہ، بحال جمہوریت کے لیے جانی و مالی نقصان اٹھانے والوں کی مددکرنا، ملک بھر میں سیاسی قیدیوں کے مقدمات کا از سر نو جائزہ لینااوران کی رہائی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ،ریٹائر ہونے والے ہر ملازم کو فلیٹ یا گھر اورکسانوں کو سستے نرخوں پر بیجوں کی فراہمی یقینی بنانا، قومی شناختی کارڈ کی مفت تقسیم ، اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کوخارجہ پالیسی کا حصہ بنانا،قومی اسمبلی میں پہلی بار پرائم منسٹر وقفہ سوالات شروع کرنا، جیو اور جینے دو کی پالیسی پر یقین رکھنے، ملک بھر میں قومی روزگارسکیم اورواپڈا کو بڑے ڈیمز تعمیر کرنے کے لیے فریبلٹی تیار کرنے کی ہدایت، کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دینااور ماحول کی بہتری کے لیے سی این جی بسیں عام کر نے کے اقدام ہیں۔ا ن اقدام کا اعلان یقینا ملکی بقائ، سلامتی، استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کے لیے انقلابی ہیں مگر اصل چیز اعلان نہیں بلکہ عمل در آمد ہونا ہے۔ نومنتخب وزیراعظم نے ان اعلانات میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 55لاکھ عوام کو کلی طور پر نظر انداز کیا جو افسوس ناک عمل ہے اگر چہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے انتخاب میں ان دونوں خطوںکے عوام کا برائے راست کوئی کردار نہیں ہے مگر یہ خطے پاکستان کے زیر کنٹرول میںتو ہیں۔

عوام کو اس حکومت سے بہت توقعات وابستہ ہیں کیونکہ گزشتہ 8 سالہ آمرانہ دور میں صدر مشرف اور ان کے حامیوں نے ملک کو دہشت گردی، قتل و غارت گردی، بدامنی، جرائم، بے روزگاری، غربت، امریکی غلامی، معیشت کی تباہی، انتشار، محرومی، مہنگائی ،اپنی ہی فوج کے ذریعے اپنے عوام پر بمباری اور شدید مایوسی کے تحائف کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ حکمرانوں کی غلط اور ملک دشمن پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان آج جہاں چاروں اطراف سے غیرمحفوظ ہے وہیں پاکستان کے دوستوں نے بھی مجبوراً اپنی نظریں پھیرنا شروع کی ہیں۔ ہماری ملک کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہم نے طویل المیعاد کی بجائے وقتی پالیسیاں مرتب کیں جن کا مقصد ملکی استحکام نہیں بلکہ صرف اقتدار بچاﺅ اور قومی خزانے کو ”مال مفت دلِ بے رحم“ کی طرف لوٹنا ہو تاہے، یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرح عوام میں راتوں رات امیر بننے کا رجحان پید اہوگیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس ملک کی معیشت کا 70فیصد انحصار زراعت پر ہے وہاں آٹے کا بحران پیدا ہوا اور اگر اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ بحران قحط کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

دوسری طرف نئی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی امریکا نے ایک مرتبہ پھر آمروں کی طرح عوامی نمایندوں کو بھی اپنے شکنجے میں پھنسانے کی کوشش تیز کردی ہے۔ امریکی معاون وزیر خارجہ پونٹے نیگرو، رچرڈ باﺅچر اور دیگر حکام کا بن بلائے پاکستان کے مہمان بننے اور سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کا مقصد یہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ امریکی مداخلت جس انداز میں اب نظر آرہی ہیں اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور آزاد مملکت نہیں بلکہ امریکی کالونی یا ریاست ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ امریکی حکام کو واضح کردیں کہ امریکی مفادات کی خاطر اپنے عوام کا خون اور ملکی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے ہیں اگر امریکا اپنی سلامتی کے لیے ہمیں ایندھن بنانا چاہتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہوگی۔ ماضی قریب و بعید میں اگر کسی نے یہ کردار ادا کیا ہے تو وہ عوامی نمایندے نہیں بلکہ آمر تھے۔ پاکستانی عوام کو ان امریکی بن بلائے مہمانوں کی آمد اور ان کی سرگرمیوں سے شدید خدشات اور تحفظات ہیں بالخصوص ان کی ملاقاتوں کے بعد بعض سیاسی قائدین کے لہجوں کی تبدیلی خطرے کی علامت نظر آرہی ہے۔ نومنتخب وزیراعظم اور حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ وہ ڈنڈے نہیں عوام کے ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں اور عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں مرتب کریں۔

ملک کو موجودہ سنگین بحران سے نکالنے کے لیے صوبہ سرحد، قبائل، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں پائے جانے والے تنازعات گولی اور گالی کی بجائے مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ (جو دراصل اسلام کے خلاف جنگ ہے )میں پاکستان مزید فریق بننے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کرے اور مقامی لوگوں کو مذاکرات کے ذریعے قائل کریں۔ اس ضمن میں نواز شریف اور اسفندیار ولی کی ظاہری پالیسیاں کافی مثبت نظر آرہی ہیں۔ ملک میں اس وقت غربت اور بے روزگاری، مہنگائی، بدامنی، لاقانونیت، ناانصافی اور معاشی بدحالی شدید بحران کی شکل اختیار کرگئی ہیں۔ نئے حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان پر فوری طور پر کنٹرول کے لیے قانون سازی کرنے کے علاوہ عمل درآمد یقینی بنائیں۔ نومنتخب وزیراعظم نے ججوں کوتو رہا کیا مگر عدلیہ کی آزادی ابھی باقی ہے۔ موجودہ حالات میں عدالتوںاور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے، اس اعتماد کو بحال کرنے کے لیے مختصر اور طویل المیعاد منصوبہ بندی اور اصلاحات کرنا ضروری ہیں۔ معاشی بدحالی، مہنگائی اور غربت پر قابو پانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں کم سے کم کریں، اس حوالے سے سرکاری تقریبات کو انتہائی محدود کرنے کے علاوہ ان پر اخراجات انتہائی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ظہرانوں، عصرانوں اور عشائیوں پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اگر کہیں انتہائی ضرورت محسوس ہو تو ”ون ڈش“ کی پابندی عائد کی جائے اور اس پر پابندی ایسی ہو کہ آیندہ کوئی توڑ نہ سکے۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ ان غیرضروری تقریبات میں مجموعی طور پر 150سے 160ارب روپے خرچ ہو تے ہےں جوکل قومی بجٹ کا تقریباً 8 سے 9 فیصد ہے ۔ ان شاہ خرچیوں پر آنے والے اخراجات کو تیل، آٹا اور دیگر چند اشیائے ضروری پر سبسڈی کی صورت میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

نومنتخب وزیراعظم نے عوام کا خادم ہونے کا دعویٰ تو کیا ہے مگر انہیں عملی طور پر خودکوعوام کا خادم ثابت کرنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شاہ خرچیوں پر فوری کنٹرول نہیں کیا گیا تو پاکستان میں شدید معاشی بحران پید ا ہوگا۔ ان بحرانوں سے نکلنے کے لیے قانون سازی کی جائے اور پارلیمنٹ کو حقیقی بنیادوں پر بالادست بنایا جائے۔ نومنتخب حکومت کے لئے بلوچستان صوبہ سرحد اور قبائل میں تنازعات، صوبہ سندھ اور پنجاب میں بدامنی، آزاد کشمیر میں متاثرین زلزلہ کی بحالی اور گلگت، بلتستان میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور ان کی مایوسیوں کا خاتمہ نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر ملک ترقی کرسکے گا اور نہ ہی بحرانوں کا خاتمہ ہوگا۔ نئی سیاسی صورت حال میں صدر مشرف کو چاہیے کہ وہ عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے باعزت طریقے سے ایوان صدر سے الگ ہوجائیں اور اپنی ماضی کی ناکام اور ملک دشمن پالیسیوں پر پوری امت مسلمہ بالخصوص پاکستانی قوم سے معافی مانگیں۔ اور ایوان صدر کو سازشوں کا گڑھ بنانے کی بجائے عوامی مسائل کے حل کا مرکزبننے دیں۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035