رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

28 March 2008 / 19 Rabi-ul-Awal 1429

عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com


نئی پارلیمنٹ کودرپیش چیلنجز اورسندھ میں گورنر راج کی کوشش

ملک میں 18 فروری 2008ءکو نویں عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پارلیمنٹ              نے 17مارچ سے باقاعدہ طور پر کام شروع کرتے ہوئے حکومت سازی کے ابتدائی دو مراحل طے کیے ہیں اور تیسرا اور آخری مرحلہ 24 مارچ مکمل ہوگا، اس مرحلے میں قومی اسمبلی کے 342میںسے331 ارکان قومی اسمبلی اپنے قائد ایوان کا انتخاب کرنگے امکان ہے کہ پی پی پی کے نامزد وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کو 270سے زائد ووٹ ملینگے اور25مارچ کو نومنتخب وزیر اعظم ایوان صدر میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائینگے جس کے ساتھ ہی نئی حکومت اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

اب تک کی صورت حال کے مطابق تمام امور خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انتخابات سے قبل جو خدشات اور تحفظات پائے جاتے تھے کہ” الیکشن کے بعد ملک میں ایک محاذ آرائی کی سیاست کا آغاز ہوگا“ وہ خدشات اور تحفظات اگرچہ ماضی کے تلخ تجربات کے مطابق درست تھے مگر اب کی بار عوام اور سیاسی قیادت کی دانشمندی اور بصیرت نے ان خدشات اور تحفظات کو اب تک غلط ثابت کردیا ہے تاہم سیاسی قیادت کا امتحان اب شروع ہوگا۔

اگرچہ صدر جنرل پرویز مشرف نے حکومت سازی کے عمل میں تاخیر کی مگر عوامی فیصلے کو سبوتاژ کرنے کے لیے تاحال ان کی جانب سے کوئی زیادہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم بعض سیاسی قائدین ایوان صدر پر سازشوں کا الزام عائد کررہے ہیں اور بحیثیت صدر ان کے بعض اقدام بھی قابل اعتراض رہے مگر پھربھی تاہم کوئی سخت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس کی دو ہی وجوہ ہوسکتی ہیں کہ نمبر 1 یہ کہ معاملات پر ایوان صدر کی گرفت کمزور ہوئی ہے۔ نمبر 2 یہ کہ صدر صاحب نے نوشتہ ¿ دیوار پڑھتے ہوئے عوامی فیصلے کو قبول کیا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ثانی الذکر بات ہوتی تو 18 فروری 2008ءکے عام انتخابات کے بعد اخلاقی طور پر صدر صاحب اپنی پالیسیوں کی ناکامی اور شکست کا اعتراف کرتے ہوئے ایوان صدر سے الگ ہوجاتے اور اقتدار حقیقی عوامی نمایندوں کو سپرد کرتے ۔ ایوان صدر سے سخت ردعمل نہ ہونے کی اصل وجہ اول الذکر ہے کیونکہ ماضی میں صدر پرویز مشرف کی قوت فوج تھی جو اب ان کے ہاتھ میں نہیںہے، بلکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز اشرف کیانی نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد بعض ایسے مثبت اقدام کیے ہیں جن کی وجہ سے عوام اور فوج کے درمیان پڑھنے والے فاصلے کم نہیں تو ان میں اضافہ بھی نہیں ہوا ہے اور مزید اسی طرح کے پیشہ وارانہ فیصلے کیے گئے تو یقینا ایک مرتبہ پھر عوام اور فوج یک دل دو جان ہوکر ملک دشمن عناصر کا ماضی کی طرح مقابلہ کریں گے۔

عوام اور فوج کے مابین فیصلے بڑھنے کی بنیادی وجہ فوج کی سیاسی امور میں بے جا مداخلت اور بار بار اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ اب ہماری فوجی اور سیاسی قیادت کو نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بجائے ان سے پیشہ وارانہ کام لیا جائے جو ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے اور ملک میں حکومت سازی اور اقتدار کاکام سیاسی اور عوامی قیادت پر چھوڑ دیاجائے ،تاکہ عوام ملکی اور عوامی مفاد میں کام نہ کرنے والوں کا احتساب کرسکے،جس کی واضح مثال 18 فروری 2008ءکے عام انتخابات ہیں۔

عوام نے سابق حکمراں اتحاد اور صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی مخالف قوتوں کو سامنے لایا یہاں تک کہ سابق حکمراں اتحاد کے لئے وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی نہ صرف ناممکن ہوئی بلکہ سندھ کے علاوہ وفاق اور 3صوبوں میں مضبوط اپوزیشن کا کردار بھی نہیں مل سکا۔ اور ملک کی خوش قسمتی ہے کہ سابق حکمراں بالخصوص مسلم لیگ (ق) نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کھلے دل سے اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب آصف علی زرداری اور نواز شریف کی دانشمندی نے نئی حکومت کو حقیقی معنی میں ایک قومی حکومت کی شکل دی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کے شدید ردعمل، خدشات اور تحفظات کے باوجود حکومت میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی واضح مثال پی پی پی اور ایم کیو ایم کے مابین متوقع مفاہمت ہے۔ اگرچہ نئے حکمرانوں کو کہیں بھی ایم کیو ایم کی ضرورت نہیں ہے مگر اس کے باوجود اس کو ساتھ لے کر چلنے کا فیصلہ قابل تحسین ہے اس ضمن میں ایم کیو ایم نے خیرسگالی جذبے کا جواب بھی اسی طرح دیتے ہوئے وزیراعظم کے لیے اپنے امیدوار ڈاکٹرفاروق ستار کو دستبردار کرکے اچھی مثال قائم کی ہے۔ اگرچہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس اقدام کے ذریعے پی پی پی اور ایم کیو ایم نے اپنی عزت بچانے کی کوشش کی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں جونتیجہ سامنے آیا وہ سابق حکمراں اتحاد بالخصوص مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کے لیے افسوسناک تھا کیونکہ صرف ان دونوں جماعتوں کے اپنے ووٹوں کی تعداد 79 بنتی ہے مگر اسپیکر کے امیدوار کو 70 اور ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار کو 68 ووٹ ملے کیونکہ یہ انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے تھا اس لیے معلوم نہیں ہوسکاکہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) میںسے کس کس نے پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم قائد ایوان (وزیراعظم) کا انتخاب ڈویژن کے ذریعے ہوتا ہے اس لیے امکان تھا کہ نہ صرف دونوں جماعتوں کو مزید کم ووٹ ملیں گے بلکہ مسلم لیگ (ق) کا فارورڈ بلاک بھی کھل کر سامنے آئے گا۔

دوسری طرف زر داری اور مخدوم امین فہیم کے مابین تنازعہ کے نتیجے میں پی پی پی کو یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ مخدوم امین فہیم وزیراعظم کی دوڑ سے باہر نکلنے کے بعد کہیں سندھ میں ایم کیو ایم دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر پی پی پی کے لیے صوبے میں مسائل پیدا نہ کریں کیونکہ اس وقت سندھ اسمبلی کے 168 کے ایوان میں سے 163 ارکان کا سرکاری اعلامیہ جاری ہوچکا ہے جن میں 91 پی پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی جبکہ 72 ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ف) اور نیشنل پیپلزپارٹی کے ہیں۔ سندھ میں پی پی پی کی اکثریت کو ختم کرنے کے لیے صرف 7 ارکان کو توڑنا لازمی ہے اور پی پی مخالف قوتوں کو حکومت سازی کے لیے پی پی پی کے 13 ارکان توڑنا لازمی ہے جبکہ قواعد کے مطابق قائد ایوان (وزیراعلیٰ) کے انتخاب کے        لیے 85 اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے لیے ایوان میں موجود ارکان کی سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مخدوم امین فہیم کے پی پی پی سے علیحدگی کی صورت میں پی پی پی مخالف قوتوں کے لیے حکومت بنانا مشکل ہے تو کم از کم پی پی پی کو حکومت سازی سے روکنا آسان ہے کیونکہ اس کے لیے صرف 7 ارکان کی ضرورت ہے جو مخدوم امین فہیم جیسے بااثر لیڈر کے لیے مشکل ٹارگٹ نہیں ہے، ایسی صورت میں کسی بھی پارٹی کے پاس حکومت سازی کے لیے مطلوبہ 85 ارکان نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کا مقتدر گورنر راج بن سکتا ہے اگرچہ مخدوم امین فہیم پارٹی کے خلاف کوئی ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے مگر سیاست میں حالات کے بدل نے میں دیر نہیں لگتی ہے اور ان کے فرزند کافی غصے میں لگ رہے ہیں دوسری              طرف 5اپریل 2008ءمیں بھی کافی دن ہیں ۔

آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے رابطہ کرکے جہاں افہام و تفہیم کی فضا قائم کی ہے وہیں انہوں نے سندھ میں حکومت سازی کے لیے ممکنہ خطرات کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی کیونکہ ایم کیو ایم سابق حکمراں اتحاد کی واحد جماعت ہے جس کو سندھ میں 51 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور یہ ارکان کسی صورت پارٹی فیصلوں سے انحراف کرنے کی جسارت نہیں کرسکتے ہیں۔ جہاں تک مخدوم،زرداری تنازعہ کا تعلق ہے اس میں مخدوم امین فہیم پے در پے
بعض غلطیاں کررہے ہیں جو ان جیسے بڑے سیاستدان اور لیڈر کو زیب نہیں دیتی جس سے ان کی اپنی پوزیشن خراب ہورہی ہے اور ان غلطیوں کی وجہ سے کل کے غیرمتنازعہ مخدوم امین فہیم عوام میں متنازعہ بنتے جارہے ہیں بالخصوص 19مارچ 2008ءکو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد کی صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مخدوم امین فہیم کو اپنی پالیسیوں اور موقف میں لچک پیدا کرنا چاہیے تھا مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ اس کے باوجود ”میں نہ مانوں“ والی پوزیشن میں اڑے رہے جو مستقبل میں ان کے لیے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔

پی پی پی کی قیادت نے وزیر اعظم ،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے جن افراد کو نامزد کیا وہ یقینا میرٹ پر ہیں اگرچہ بعض افراد اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی نامزدگی کو آصف علی زرداری اور فہمیدہ مرزا کے شوہر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی ذاتی دوستی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں اور مخدوم امین فہیم کے اس جملے کو بھی اسی تنا ظرد میں دیکھا جارہا ہے کہ آصف علی زداری ”یاروں کے یار ہیں اور یاری نبھانا جانتے ہیں“ مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا واقعی ایک باصلاحیت خاتون ہیں جس نے اپنے شوہر یا اپنے خاندان کے اثر کی بجائے ذاتی حیثیت میں اپنی صلاحیت کی بنیاد پر اپنے آپ کو منوایا ہے ۔ اس لیے آصف علی زرداری کے اس فیصلے کو ذاتی دوستی کی بجائے اسپیکر کی صلاحیت کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔

نئی حکومت کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن میں عدلیہ کی بحالی، مہنگائی، بیرونی مداخلت، بے روز گاری، بدامنی، صوبوں کے مابین نفرتوں کا خاتمہ، معیشت کی بدترین صورت حال اور دیگر حالات ہیں ان چینلجز کا مقابلہ کوئی ایک جماعت یا فرد نہیں بلکہ پوری قوم اپنے اتحاد کے ذریعے کرسکتی ہے۔ اب نئے حکمرانوں کے لیے مسائل کا حل اس لیے بھی آسان ہے کہ قومی اسمبلی میں ان کو 2 تہائی سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے تاہم سینٹ میں فی الحال ایسی پوزیشن نہیں ہے، مگر مسلم لیگ (ق) ذرائع کا کہنا ہے کہ 24 کے قریب مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز فارورڈ بلاک بنانے میں مصروف ہیں جن میں اکثریت ان کی ہے جن کی مدت 11 مارچ 2009ءکو ختم ہورہی ہے۔ ایسی صورت میں نئے حکمرانوں کو سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت حاصل ہوجائیگی۔ تازہ ترین صورت حال میں سابق حکمرانوں کو 49 اور نئے حکمرانوں کو 51 ارکان سینٹ کی حمایتحاصل ہے تاہم اصل صورت حال آیندہ چند روز میں واضح ہوگی۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035