رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

17 March 2008 / 09 Rabi-ul-Awal 1429

عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com


مخدوم، زرداری تنازعہ حقیقت یا فسانہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر وزیراعظم کی نامزدگی کے حوالے سے اختلافات میں وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف اضافہ بلکہ سنگین بحران کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ اگرچہ بظاہر یہ تنازعہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹریز کے صدر مخدوم امین فہیم کے مابین نظر آرہا ہے تاہم اصل تنازعہ جمہوری قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ہے۔

جمہوری قوتیںایسے وزیراعظم کا انتخاب چاہتی ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی بجائے عوامی مفاد اور ملکی بقاءو سلامتی کے لیے کام کرے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ایسا وزیراعظم چاہتی ہے جو ان کی مرضی کے مطابق کام کرے اور یہی تضاد پی پی پی کے اندر وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے۔

مخدوم امین فہیم اگرچہ پی پی پی میں وزارت عظمیٰ کے صحیح حقدار سمجھے جاتے ہیں مگر نہ صرف مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، ایم ایم اے اور دیگر اتحادیوں بلکہ پی پی پی پی کے اپنے ارکان کی اکثریت کو بھی مخدوم امین فہیم کی بعض قوتوں سے ملاقاتوں اور رابطوں پر شدید تحفظات اور خدشات ہیں۔

پی پی پی کے رہنماءچودھری احمد مختار، شیری رحمن اور خود مخدوم امین فہیم کے بعض بیانات اور اقدام نے جلتی پر تیل کاکام کیا اور تنازعے کی چنگاری لاوے کی شکل اختیارگئی۔

تنازعہ کی ابتداءاس وقت ہوئی جب 18 فروری کو انتخابی نتائج مقتدر قوتوں کی مرضی کے بر خلاف آئے جس کا توڑ نادیدہ قوتوں نے مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی بالخصوص اول الذکر 2پارٹیوں کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی صورت میں نکالا مگر آصف علی زرداری، نواز شریف اور اسفندر یار ولی خان کی دانشمندی نے اس سازش کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ اعلان مری کے تحت نادیدہ قوتوں کے تابوت پر آخری کیل ٹھوکنے کی کوشش کی گئی۔

نادیدہ قوتوں نے یہاں پر ناکامی کے بعد پی پی پی کے اندر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی جس میں اس کو کسی حد تک کامیابی بھی ہوئی۔ ابتداءمیں مخدوم امین فہیم کافی خاموش رہے مگر مارچ کے دوسرے ہفتے میں انہوں نے اپنے بیانات کے ذریعے تنازعہ کو منظر عام پر لایا۔

یہ حقیقت ہے کہ مخدوم خاندان بالخصوص مخدوم امین فہیم نے پارٹی کے لیے بڑی قربانی دی ہے ان کے بقول 4مرتبہ وزیراعظم بنانے کی پیشکش کو وہ ٹھکراچکے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ پارٹی قیادت کی ہدایات اور اتحاد کو مدنظر رکھا ہے، اے کاش! وہ اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے تنازعہ میں پڑنے کی بجائے آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شاہ محمود قریشی کی طرح خاموشی اختیار کرتے مگر اس کی بجائے انہوں نے محاذ آرائی شروع کردی جو مخدوم امین فہیم جیسے بڑے سیاستدان اور لیڈر کو زیب نہیں دیتا ہے۔ وزارت عظمیٰ میں اپنا دعویٰ جتانے کی بجائے پارٹی کے صدر کی حیثیت سے صورت حال کو دیکھتے اور تنازعہ کے خاتمے اور پارٹی کے اتحاد کے لیے کوئی تیسری راہ تلاش کرتے۔

ان کے مخالفانہ بیانات اور وزارت عظمیٰ کی دعویداری سے قبل عوام کی اکثریت مخدوم امین فہیم کو وزارت عظمیٰ کا حقدار سمجھتی تھی مگر گزشتہ ایک ہفتے میں صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور تو اور سندھ سے تعلق رکھنے والا کوئی ایک رکن بھی مخدوم امین فہیم کا کھل کر ساتھ دینے کو تیار نہیں ہے۔ ابتداءمیں اس تنازعہ کو آصف علی زرداری اور مخدوم امین فہیم کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کو بے وقوف بنانے کے لیے نورا کشتی قرار دیا جارہا تھا اس لیے بعض مبصرین اس کو حقیقت سے زیادہ فسانہ قرار دے رہے تھے مگر اب حالات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ تنازعہ اب فسانہ نہیں حقیقت بن چکاہے۔

موجودہ صورت حال میں مخدوم امین فہیم اپنی بقا کے لیے ہر پتہ کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں ان کے پاس اس وقت 2پتے انتہائی اہم ہیں جن کے ذریعے وہ زرداری کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ نمبر 1یہ کہ وہ الیکشن میں کامیاب ہونے والی” پی پی پی پی “کے قانونی صدر ہیں۔ نمبر 2 یہ کہ سندھ میں وہ پی پی پی کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیںاس وقت یہ تنازع 3 اور 4” پی “کا بن چکا ہے۔ نمبر 1 کے توڑ کے لیے زرداری حامی گروپ مخدوم امین فہیم کو صدارت کے عہدے سے ہٹانے کے لیے فوری اقدام کرکے اپنی بچت کی راہ نکال سکتاہے اوریہ آخری اقدام ہو گا مگر ان حالات میں یہ اقدام آسان نہیں ہے ۔

نمبر 2 میں بھی اگر زرداری اور ان کے حامی اپنی گرفت مضبوط کریں تو مخدوم امین فہیم کو خاطرخواہ کامیابی نہیں مل سکتی ہے اگرچہ چند روز قبل سندھ کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد مخدوم امین فہیم کے فرزند نومنتخب رکن سندھ اسمبلی مخدوم جمیل الزماں صحافیوں سے گفتگو کے دوران یہ کہہ چکے ہیں کہ ”پی پی پی “کے لیے سندھ میں حکومت بنانا جتنا آسان ہے اتنی ہی مشکلات بھی ہوسکتی ہیں“، بعض مبصرین اس بیان کو تنازعے کا مشاورت سے حل نہ نکلنے پر سندھ میں فاورڈ بلاک بنانے کی جانب اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ مخدوم کی جانب سے فارورڈ بلاک بنانے کی صورت میں ان کو شاید وقتی طور پر کامیابی ہو مگر آیندہ کے لیے ان کا انجام بھی جتوئی، ممتاز بھٹو، شیرپاﺅ، کھر اور دیگر کی طرح ہوگا۔

عام انتخابات کے بعد قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے جونتائج سامنے آئے ہیںان کو مدنظر رکھا جائے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس تنازع کا اثر واقعی سندھ میں پڑ سکتا ہے اور سندھ ہی واحد صوبہ ہے جہاں مشرف حامی قوتیں مضبوط اپوزیشن کی شکل میں متوقع حکمراں اتحاد کے قریب تر ہیں۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے342 کے ایوان میںمشرف مخالف قوتوں کو 232 جبکہ مشرف حامی قوتوں اور آزاد102 ارکان ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے371 کے ایوان میںمشرف مخالف قوتوں کو 271 جبکہ مشرف حامی اورآزاد 92 ارکان ہیں ، مسلم لیگ (ق)اور کئی آزاد ارکان بھی مشرف مخالف قوتوں حمایت کر چکے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے 65 ایوان میں سے مشرف مخالف قوتوں کو55۔ دیگر کی تعداد 8 ہے۔ صوبہ سرحد کے 124کے ایوان میں سے مشرف مخالف قوتوں کو99جبکہ مشرف حامی اور آزاد19 ہیں۔

مرکز،پنجاب،سرحد اور بلوچستان میںمسلم لیگ (ق)اور کئی آزاد ارکان بھی مشرف مخالف قوتوںکی حمایت کر چکے ہیں۔تاہم سندھ واحد صوبہ ہے جہاں ”مخدوم،زرداری“ تنازع بازی پلٹ سکتا ہے۔ اس وقت پی پی پی کو 168 کے ایوان میں 92 جبکہ مشرف حامی قوتوں کو 73 ارکان ہےں۔ سندھ میں حکومت سازی کیلئے 85ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، مخدوم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مخدوم امین فہیم کو 20 کے قریب ارکان کی حمایت حاصل ہے اور اگر تنازع ختم کیے بغیر وزیراعظم سندھ کے علاوہ کسی اور یا بالخصوص چودھری احمد مختار کو بنانے کی صورت میں ان ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔

پی پی پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کی اس نازک صورت حال کو دیکھتے ہوئے آصف علی زرداری نے خود وزیراعظم کا امیدوار بننے کا فیصلہ کیا ہے تاہم بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کی نامزدگی میں گریجویشن والی شرط حائل ہے وہ 3 ماہ کیلئے عبوری وزیراعظم بنا کر آئین کے ذریعے اس رکاوٹ کو ختم کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے مخلص رہنما ¶ں نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مخدوم امین فہیم کو ساتھ لیکر چلیں ورنہ سندھ میں ہمیشہ اور پورے ملک میں آیندہ انتخابات میں پارٹی کو سخت نقصان ہوسکتا ہے اس وجہ سے مخدوم امین فہیم کو مشاورت کیلئے ایک مرتبہ اسلام آباد میں مدعو کیا گیا ۔

جہاں تک فارورڈ بلاک کی بات ہے سندھ میں پی پی پی کو حکومت سے روکنے کے لیے کم از کم 9 ارکان کا فارورڈ بلاک پی پی پی کے اندر بنانا ضروری ہے جو ناممکن تو نہیں مگر انتہائی مشکل ضرور ہے کیونکہ اس بار پی پی پی کو ملنے والا مینڈیٹ بے نظیر بھٹو کے خون کا ہے اور جو بھی اس خون سے غداری کرے گا اس کا مستقبل تاریک ہوگا۔
 
دراصل 2008ءکے انتخابات میں دونوں ہی جماعتیں خون کے نام پر جیتی ہیں۔ پی پی پی بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے00 17سے زائد معصوم طلبہ اور طالبات کے خون کے نام پر کامیاب ہوئی۔ اے کاش! اعلان مری میں یہ بھی شامل ہوتا کہ ہم ان اداروں کو بھی فوری طور پر بحال کریں گے اور 1700معصوموںکے خون کی تحقیقات کرینگے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) عدلیہ کے نام پر کامیاب ہوئی ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر حقیقت یہی ہے تو پھر عدلیہ کی جدوجہد کے دوران دونوں ٹانگوں سے محروم ہوکر وہیل چیئر پر انتخابی مہم چلانے والے پی پی پی پی اسرار شاہ اور وکلاءکی تحریک کے صف اول کے رہنما زمردخان چوہان راولپنڈی سے ناکام نہ ہوتے۔ جہاں تک سندھ میں فاورڈ بلاک بناکر صوبائی سطح پر پی پی پی کو حکومت بنانے سے روکنے کی کوشش کا معاملہ ہے اس سے حالات کیا رخ اختیار کریںگے ان کا تصور ہی خوفناک ہوگا، پھر بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ”پاکستان نہیں چاہیے“ کے نعرے لگانے والوں کو ”پاکستان چاہیے کے نعرے“ پرمجبور کرنے والے آصف علی زرداری بھی حالات کو کنٹرول نہیں کرسکیں گے اس لیے اس طرح کی کسی بھی کوشش سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس کا نقصان ملکی بقاءاور سلامتی کو ہوسکتا ہے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035