رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

08 March 2008 / 29 Safar 1429

عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com

عالمی سامراج اور ملک ایک اور سیاسی بحران کی جانب

ملک میں عام انتخابات کو ہوئے 3ہفتے گزر گئے مگر اس کے باوجود انتقال اقتدار کا مرحلہ ابھی شروع ہی نہیں ہوا ہے جبکہ بلوچستان کے علاوہ مرکز اور 3 صوبوں میں پوزیشن واضح ہے اور الیکشن کمیشن نے بھی قومی اسمبلی کی 342 میں سے 331 اور چاروںصوبائی اسمبلیوں
کی 728 میں سے 704 نشستوں کے سرکاری نتائج کا اعلان بھی کردیا ہے، اس کے باوجود حکومت سازی کے عمل اور انتقال اقتدار میں تاخیر نہ صرف کسی سازش کا حصہ بلکہ ملک کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے، موجودہ صورت حال میں اسمبلیوں کے اجلاس کے انعقاد میں مزید 7 سے 12 دن لگ سکتے ہیں ،جب پہلے دن سے صورت حال واضح ہے تو اتنی تاخیر کیوں؟۔

مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور بعض دیگر سیاسی اور سماجی قوتیں اس کی ذمہ داری صدر پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں پر عائد کرتی ہیں،مگرقابل غور بات یہ ہے کہ زمہ داری صرف صدر مشرف پر عائد ہوتی ہے یا سیاسی قیادت بھی قابل گرفت ہے۔

عوام کی رائے ہے کہ انتقال اقتدار میں جتنی تاخیر ہوگی بحرانی کیفیت میں اس سے کئی گناہ زیادہ اضافہ ہوگا اس کی واضح مثال پی پی پی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا اعلان نہ کرنے پر پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے شدید اختلافات ہیں۔جسکی مخدوم امین فہیم، یوسف رضاگیلانی، چودھری احمد مختار اور شاہ محمود قریشی کے بیانات اور بعض اشارے تصدیق کرتے ہیں کہ پی پی پی بھرپور کامیابی کے حصول اور مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کی بھرپور حمایت کے باوجود وزارت عظمیٰ کے اپنے امیدوار کا اعلان نہ کرکے جہاںپارٹی میں گروپ بندی کو تقویت دے رہی ہے وہیں ملک کو ایک سنگین نئے سیاسی بحران میں مبتلا کرنے جارہی ہے۔

صورت حال یہی رہی تو بعید نہیں کہ پی پی پی میں اندرونی گروہ بندی کھل کر سامنے آئے،پی پی پی اور مسلم لیگ(ن)میں ”لوٹاکریسی“ اور ”پیٹریاٹ“ کا سلسلہ شروع ہو اور یہ لوگ ایک مرتبہ پھر ہاتھ ملتے رہیں۔

مسلم لیگ(ق) کے سربراہ کی سرگرمیاں اور ایوان صدر میں لوگوں کی آمد ورفت ،  8
مارچ 2008ء کو بعض اخبارات میں مخدوم امین فہیم کے سخت بیانات،ان کا سخت لہجہ اور”اے آرڈی کااجلاس زرداری کی مشاورت طلب کرنا نہ صرف قابل غور باتیں ہیں بلکہ آصف علی زرداری اور دیگر کے لیے ایک سخت پیغام بھی ہے۔

اب تک آصف علی زرداری ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے فیصلے کرتے رہے ہیں، معلوم نہیں وہ کون سے اسباب یا خدشات وزارت اعظمیٰ کے امیدوار کے اعلان کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟۔

میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے اس وقت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر فیصلہ نہیں کیا تو تمام گیم ماضی کی طرح اس بار بھی ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گی اور فیصلے کرنے میں جتنی تاخیر کریں گے مسائل اور امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا اور گیم سیاسی قوتوں کے ہاتھ سے نکل کر ایوان صدر منتقل ہوگی۔ اس وقت اتفاق رائے رکھنے والی 3 بڑی جماعتوں کو سرکاری اعلان کردہ نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں 331 میں
سے 223 ارکا ن کی حمایت حاصل ہے جو مذکورہ کل تعداد کے حساب سے 2 تہائی سے زیادہ ہے۔

کیونکہ 331 کا دو تہائی 221 ارکان بنتی ہے جبکہ قومی اسمبلی کی باقی 11 نشستوں میں کم از کم 5 سے 7 مزید نشستیں ان 3جماعتوں کو اور 18 آزاد ارکان میں سے 10 کے قریب ارکان کی حمایت بھی ملنے کا امکان ہے۔

اس طرح اس 3جماعتی اتحاد کو 342 کے ایوان میں 235 سے 240 ارکان کی حمایت ملے گی جبکہ قومی اسمبلی کے 342 ارکان پر مشتمل ایوان کی دو تہائی اکثریت 228 بنتی ہے۔ ایسی صورت میںعدلیہ کی آزادی، ججوں کی بحالی، آئین کو 12 اکتوبر 1999ءکی پوزیشن میں لانا، مہنگائی اور قرآن و سنت کے خلاف بنائے گئے قوانین کے خاتمے اور دیگر امور کے حوالے سے آئین میں ملکی اور عوامی مفاد میںترامیم نہ کرنا نہ صرف اس ملک کے ساتھ زیادتی ہوگی بلکہ آیندہ عام انتخابات میں ان سیاسی جماعتوں کی ذلت آمیز شکست کے لیے یہی کافی ہوگا۔

جہاں تک تعلق بیرونی دباﺅ کا ہے اس کا ہم بطور قوم تو مقابلہ کرسکتے ہیں مگر بطور فردیا افراد نہیں،اسلئے فرد یا افراد کی بجائے اداروں کو مضبوط بنایا جائے اداروں کی مضبوطی ہی ملکوں کو تباہی اور خطرات سے بچاتی ہے۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں صورت حال اس کے برخلاف ہے اور گزشتہ 61 سال اس بات کے گواہ ہیں۔

نئے حکمرانوںکو چاہئے کہ وہ صحیح معنوں میں پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ بناکر ملک میں بار بار فوجی مداخلتوں کا سلسلہ ختم کریں۔ دوسری جانب صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے باعزت طریقے سے استعفیٰ دیں اگر نئی حکومت سے محاذ آرائی کے بغیر ساتھ ملکر (جو ممکن نہیں) چلنا چاہتے ہیں پھر مسلم لیگ (ق) اور دیگر اتحادی جماعتوں کے مرکزی رہنما کی بجائے صدر مملکت کا کردار ادا کرنا ہوگا اور مبینہ طور پر ایوان صدر یا صدارتی کیمپ آفس کو جمہوری اداروں کے خلاف سازشوں کے لیے استعمال کرنے اور خود سازشوں میں شریک ہونے سے گریز کرتے ہوئے قوم کی خدمت کریں اور کھلے دل سے جس طرح انہوں نے اپنی حامی جماعوں کی شکست تسلیم کی ہے اسی طرح قبائل، لال مسجد، جامعہ حفصہ اور بلوچستان میں فوج کشی کو اپنی غلط حکمت عملی قرار دیتے ہوئے قوم سے معافی مانگیں اور ان غلطیوں کے ازالے کے لیے خود مناسب تجاویز دیں ۔ یہ بھی خود جائزہ لیں کہ 8 سال تک نام نہاد مبینہ دہشت گردی میں امریکا اور اسلام دشمن قوتوں کے اتحادی بننے کی وجہ سے ملک، عوام اور بالخصوص امت مسلمہ کو اس سے کتنا فائدہ ملا ہے؟۔

مسلم لیگ (ن) کے چودھری نثار احمد کی یہ بات درست ہے کہ ”اب ہم سے اگر کوئی پاکستان میں دہشت گردی کی بات کرتا ہے تو اس سے فلسطین، افغانستان، عراق اور دیگر مقامات پر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا جواب بھی طلب کیا جائے“۔ جب فلسطین میں اسرائیل کے ریاستی درندے ہوائی جہاز، ٹینک اور دیگر جدید اسلحے سے مظلوم فلسطینیوں کو سینکڑوں کی تعداد میں شہید یا زخمی کرتے ہیں( جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں)تو امریکا اور دیگر اسلام دشمن قوتیں اس کو اسرائیل کا دفاعی حق قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت تک کرنا گوارہ نہیں کرتی ہیں اور جب یہودیوں کے چند افراد نشانہ بنتے ہیں تو پھر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے قرارداد مذمت پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر فلسطینیوں پر مظالم ،ان کا قتل عام اسرائیل کا دفاعی حق ہے تو پھر عراق، افغانستان اور دیگر مقامات پر امریکا ،اسلام دشمن قوتوں اور قابضین کو نشانہ بنانا مقامی لوگوںکا دفاعی حق ہے۔اب ہماری سیاسی،مذہبی، فوجی اور حکومتی قیادت کو ملک کے اندر محاذ آرائی کی سیاست اور خلفشار پھیلانے کی بجائے امت مسلمہ کے حوالے سے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنی چاہیے۔

جہاں تک ملک کے اندر ہونے والے دہشت گردی کا تعلق ہے اس کے بارے میں جو تاثر قائم کیا گیا ہے کہ” مذہبی گروپ “ملوث ہیں ،اس تاثر کو عام کرنے کی بجائے اس کی تحقیق کی جائے کہ اگر واقعی ایساہی ہے تو پھر یہ گروپ کیوں ملوث ہیں ؟اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟، کہیں ان کی بجائے بھارت، اسرائیل، امریکا اور دیگر اسلام اور ملک دشمن قوتیں تو ان واقعات میں ملوث نہیں ہیں؟۔ نگراں وزیر داخلہ حامد نواز کا حالیہ بیان اس حوالے سے انتہائی قابل غور اور قابلِ توجہ ہے۔ ہمارے سیاسی، مذہبی، فوجی اور سماجی قیادت نے اب بھی قوم کو مایوس کیا تو پھر خونی انقلاب اور خلفشار سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035