|
|
|
05 March 2008 / 26 Safar
1429 |
|
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
سیاسی قیادت اور صدر مشرف ٹکراﺅ کی راہ
پر کیوں ؟؟؟
ملک میں 18 فروری 2008ءکے عام انتخابات کو
ہوئے 2 ہفتے ہوگئے مگر اس کے باوجود صوبہ سرحد کے علاوہ کہیں بھی قائد ایوان
کااعلان ہوا ہے اور نہ ہی پوزیشن واضح ہورہی ہے حالانکہ جس طرح کے نتائج آئے ہیں ان
میں اب تک حکومتوں کے قیام کا عمل مکمل ہونا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ
الیکشن کمیشن نے تا حال(یکم مارچ)تک انتخابات کے سرکاری نتائج اعلان ہی نہیں کیا ہے
۔
اگرچہ قوائد الیکشن کمیشن کو یہ پابند کرتے ہیں کہ نتائج کا سرکاری اعلامیہ 14 دن
کے اندر جاری کریں مگر اس سے پہلے اعلامیہ کے اجراءپر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ایک طرف
پوری قوم کہہ رہی ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے ہیں، دوسری طرف الیکشن کمیشن نے نتائج کے
اعلان میں تاخیر کے ذریعے خود اس انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔ جب نتائج کے
اعلان میں تاخیر ہوگی تو حکومت سازی اوردیگر معاملات میں تاخیر یقینی آمر ہے۔
ماضی میں تاخیری حربوں کے ذریعے نہ صرف اکثریتی جماعتوں کو حکومت بنانے سے روکا گیا
بلکہ ان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے مولانا
اعظم طارق کو جیل سے اسمبلی میں لا کر ایک ووٹ کی برتری سے حکومت قائم کئی اگرچہ اس
بار ایسا کرنا حکمرانوں کے لیے ممکن نہیں مگر حکومت سازی اور انتقال اقتدار میں
تاخیر دیگر مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ اس حوالے سے پی پی پی، مسلم لیگ ن اور عوامی
نیشنل پارٹی کی قیادت کو غور و فکر سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
الیکشن سے اب تک آصف علی زرداری جس دانشمندی کا ثبوت دے رہے ہیں یقینا وہ قابل
تحسین ہے اور انہوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ صرف سیاست میں مکمل عبور رکھتے
ہیں بلکہ بے نظیر بھٹو کا وصیت میں انتخاب درست تھا۔
آصف علی زرداری اگر چاہتے تو نادیدہ قوتوں کے ساتھ مل کر نہ صرف مرکز اور سندھ میں
بلکہ باقی تینوں صوبوں میں حکومت بنا سکتے تھے،مگر انہوں نے وسیع تر قومی مفاد اور
قومی اتفاق رائے کے لئے نہ صرف ایسا کرنے سے گریز کیا بلکہ سرحد اور پنجاب میں
بالترتیب عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کے لیے بھر پور مواقع
فراہم کرتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرادی ۔
مزید یہ کہ صوبہ سندھ میں واضح اکثریت ہونے کے باوجود متحدہ قومی موومنٹ سے رابطے
کے لیے 3 رکنی کمٹی قائم کردی، جس نے ابتدائی رابطہ کیا اگرچہ ایم کیو ایم سے گفتگو،
ان کو حکومت شامل کرنے اور گزشتہ 8 سال میں ایم کیو ایم کے مبینہ رویہ کے حوالے سے
پی پی پی کے کارکنوں اور رہنماو ں کو شدید تحفظات ،خدشات اور اعتراضات ہیں۔
پی پی پی کی قیادت نے اس سب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایم کیو ایم سے رابطوں اور
قومی مفاہمت کے لیے جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل تحسین ہے اب ایم کیو ایم کی قیادت
پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی ٹکراو ¿ کی سیاست بجائے صبر و تحمل، برداشت
اور قومی مفاہمت سے کام لے ۔اسی طرح کی وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آصف علی
زرداری کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں مسلم لیگ( ق) کو حکومت بنانے کے مواقع فراہم
کریں کیونکہ مسلم لیگ( ق) کو بلوچستان میں دیگر جماعتوں کے مقابلے میں اکثریت حاصل
ہے۔
پنجاب میں مسلم لیگ لیگ( ن) کو انفرادی طورپر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے جبکہ
صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے قائد ایوان اورپارلیمانی لیڈرکا اعلان کر
تی ہوئے سابق وفاقی وزیر کیا ہے اعظم خان ہوتی کے فرزند اور اسفند یار ولی کے
بھانجے امیر حیدر خان ہوتی وزیر اعلی کے لئے نامزد کیا۔ مگر مرکز میں تینوں جماعتوں
کی جانب سے دو تہائی اکثریت شو کرنے اور سندھ میں پی پی پی کو تنہا حکومت بنانے کی
پوزیشن کے باوجود اب تک مرکز اور سندھ میں قائد ایوان کا انتخاب ہی نہیں ہوا ہے یہ
تاخیر پی پی پی کے خلاف جارہی ہے۔
آصف علی زرداری نے جہاں دیگر امور میں بھرپور سیاسی بصیرت اور دانشمندی کا ثبوت دیا
ہے وہیں ان کو چاہیے کہ ذاتی دوستی، پسند یا ناپسند کو مد نظر رکھنے کی بجائے پارٹی
خدمات اور استحقاق کو مد نظر رکھیں۔
جہاں تک مرکز کا معاملہ ہے تقریباً ہر باشعور شخص مخدوم امین فہیم کو مناسب امیدوار
اور حقدار سمجھتا ہے اور صوبہ سندھ کے حوالے سے نثار احمد کھوڑو کو بہتر امیدوار
اور جائز حقدار قرار دیا جا تا ہے۔
پی پی پی قیادت اور کارکنوں کے مطابق مشکل وقت مذکورہ دونوں شخصیات نے پارٹی کو
سہارا دیا اور ملک میں رہ کر حالات کا مقابلہ کیا، بڑی بڑی پیشکشوں کے باوجود پارٹی
سے غداری نہیں کی اب جب موقع آیا ہے تو ایسے لوگوں کو نظر انداز کرنا یقینا انصافی
اور کارکنوں کے لیے مایوسی کا سبب ہوگا، جس طرح صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی نے
بظاہر کا کا گردگی کی بجائے رشتہ داری کو مد نظر رکھ کر قائد ایوان کا انتخاب کیاجو
یقینا پارٹی کے لیے قربانی دینے والے کارکنوں کے لیے مایوسی کاسبب ہوسکتا ہے۔
پی پی پی مرکز اور سندھ میں قائد ایوان کے انتخاب میں جتنی تاخیر کریگی اتنے زیادہ
ان کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ملکی صدرت حال اس وقت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، سیاسی
قیادت بالخصوص آصف علی زرداری، نواز شریف اور اسفندیار ولی نے سیاسی بصیرت کا
مظاہرہ نہیں کیا تو آنے والا وقت نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے مسائل پیدا
کرسکتا ہے۔ کیونکہ عوام نے 30سال میں پہلی با اس انداز میں حق راے دہی استعمال کی
ہے ۔
دوسری طرف صدر مشرف کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنی ذات سے باہر آکر ملکی سلامتی اور
بقا کے لیے سوچیں اور عوامی رائے کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے کامیاب ہونے والی
جماعتوں کو حکومت سازی کا موقع دیں۔
ایوان صدر کی جانب سے انتخابات کے بعد ایک سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے
ذوالفقار مگسی کو بلوچستان کا گورنر اس موقع پر بنانا بدنیتی سے خالی نہیں ہے ،
بالخصوص مسلم لیگ( ق) کی قیادت سے ملاقات کے بعد صدر کا یہ اقدام کئی سوالات کو جنم
دیتا ہے اور حالات کی خرابی کی تمام زمہ داری ایوان صدر پر عائد ہوتی ہوئی نظر آتی
ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقتدر قوتوں نے پاکستان میں پارلیمانی اور صدارتی نظام پر
مبنی دو حکومتیں قائم کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔
صدر صاحب کو چاہیے کہ عوام نے جن لوگوں کو منتخب کیا ہے ان کو حکومت کرنے کا بھرپور
موقع دیں اور اپنا کردار بطور سر براہ مملکت ادا کرتے رہیں اگر ایوان صدر اور
کامیاب ہونے والی سیاسی قیادت نے لچک کا مظاہر نہیں کیا تو حالات انتہائی سنگین شکل
اختیار کرسکتے ہیں۔
مزید یہ کہ حکمرانوں اور سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ بیرونی ہدایات اور مداخلت پر
عمل کرنے کی بجائے خود فیصلے کریں اور ملک کو مہنگائی، سیاسی اوربے روزگاری کے
بحرانوں اور دیگر خطرات سے باہر نکالیں ورنہ؟؟؟ |
 |
|
|