رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

17 February 2008 / 09 Safar 1429

عبدالجبار ناصر

ajnasir1@gmail.com
 

عوام کی عدالت میں


پاکستان میں ملکی تاریخ کے اہم ترین عام انتخابات کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ امیدوار سیاسی قائدین عوامی حمایت کے لیے سرگرداں ہیں۔ بعض سیاسی قائدین اپنی ماضی کی غلطیوں کو نہ صرف تسلیم کررہے ہیں بلکہ بظاہر ہر تدارک کے لیے کوشاں نظر آتے ہیںسابق حکمران لیگ (ق) کے قائد چودھری شجاعت حسین نے بر ملا تسلیم کیا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی آپریشن غلط اقدام تھا، اسی طرح نواز شریف عوام سے التجا کررہے ہیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر آپریشن کے ذریعے 1700 سے زائد نہتے طلبہ و طالبات کو شہید کرنے والوں کو ووٹ نہ دیں ،مولانا فضل الرحمن بھی اس تنازعہ کو حل کرنے میں پیش پیش ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق سابق حکمران جماعتیں عوام کے مزاج کو دیکھتے ہوئے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل اور مولانا عبدالعزیز کو رہا کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہےں۔ ان حالات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 18 فروری 2008ءکو مختلف امیدوار اور لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے شہداءعوامی عدالت میں مدعی اور ملزم کی حیثیت سے کھڑے ہونگے۔شہداءبزبان حال یہ سوال کررہے ہونگے کہ ہمیں کس جرم کی سزا دی گئی؟، کیا اسلام کے نام پر حاصل کرنے والے ملک میں اسلام کی بات کرنا جرم ہے؟۔ دوسری طرف ملزموں کے کٹہرے میں بالعموم تمام سیاسی اور مذہبی قیادت اور بالخصوص سابق حکمراں اتحاد میں شامل لوگ ہونگے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے شہداءحقیقی محب وطن تھے جنہوںنے شہید ہوتے ہوئے بھی اپنے خون سے جامعہ حفصہ کی دیواروں پر” پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ اس وقت لکھا جب ملکی سلامتی کے ادارے ان پربموںاور فاسفورس کی بارش کررہے تھے۔ عوام کو ووٹ دیتے وقت سیاسی اور مذہبی قیادت کے شہداءکے حوالے سے رویہ بھی مد نظر رکھنا ہوگا جب 17 سو سے زائد نہتے طلباءو طالبات کو زندہ نذر آتش کیا گیا۔ اس وقت معافی مانگے والے چودھری شجاعت، آنسو بہانے والے اعجاز الحق، عوام سے التجا کرنے والے نواز شریف ،علماءکے ووٹ کا حقدار اپنے آپ کو قرار دینے والے شیخ رشید احمد اور دیگر کی زبانیں کن کیوں تھی؟۔ 18 فروری 2008ءکو ان کے علاوہ وہ لوگ بھی عوام کی عدالت میں ہوں گے جنہوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے نہتے طلباءو طالبات کے خلاف نہ صرف فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا بلکہ اس مطالبے کے حق میں مظاہرے بھی کئے تاکہ امریکا اور اسلام دشمن قوتوں کی حمایت حاصل کی جاسکے۔

اٹھارہ فروری2008ءکو 8 کروڑ 9 لاکھ 10 ہزار 318 حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کی عام 849 نشستوں کے لیے 7 ہزار 335 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔ پولنگ کےلیے 64 ہزار 176 پولنگ اسٹیشن اور ایک لاکھ 70 ہزار 174 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، جہاں 5 لاکھ 71ہزار 954 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ خدمات سر انجام دے گا جبکہ امن و امان کو برقرار رکھنے اور ناخوشگوار واقعات سے بچنے کےلئے ملک بھر میں فوج، رینجرز، ایف سی پولیس،رضاکار اور دیگر اداروں کے6 لاکھ سے زائد سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہےں۔ فوج نے بالمعموم پورے ملک بالخصوص حساس علاقوں میں 15فروری سے گشت شروع کردیا ہے جب کہ18 کروڑ کے قریب بلٹ پیپرز، شفاف بلٹ بکسزاورووٹر اسکرین سمیت تمام انتخابی میٹریل متعلقہ حکام کو فراہم کردیا گیا ہے۔ ملک کی 40 کے قریب جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہں۔ جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل، متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان مسلم لیگ( ق)، عوامی نشینل پارٹی،پاکستان مسلم لیگ (ف) اور دیگر شامل ہیں، جبکہ جماعت اسلامی، جمعیت علماءپاکستان، تحریک انصاف، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی سمیت 3 درجن سے زائد جماعتیں انتخابات کو فراڈ قرار دے کر بائیکاٹ کرچکی ہیں۔ ملکی تاریخ میں پھلی بار شفاف بلٹ بکسز اور ووٹر اسکرین کا استعمال ہورہا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں بھی قبل از انتخابات دھاندلی کا الزام حکومت پر عائد کرچکی ہیں جبکہ انتخابات کے روز مبینہ دھاندلی اور بوگس رزلٹ کو روکنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے کارکنوں کو حکم دیاہے کہ نتائج کے اعلان تک پولنگ اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا جائے۔ تقریباً اسی طرح کے جذبات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی کرچکے ہیں۔ دوسری طرف صدر پرویز مشرف ، نگراں حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ الیکشن کو شفاف اور پر امن بنانے کے لیے تمام ضروری اقدام کیے گئے ہیں کسی نے بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔سانحہ 27 دسمبر، ملک کے متختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات اور افواہوں کے باعث عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ 16 فروری کی شب سے انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے تاہم اس کے باوجود امیدوار ووٹرز کو اپنے حق میں مطمئن کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ عوام میں ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ پولنگ میں بنیادی کردار ”بلٹ(بلٹ پیپر) کی بجائے“” بلٹ “(گولی)کا ہوگا۔کہنے کی حد تک وفاقی اور صوبائی نگران حکومتوں نے اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کردی ہے مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی کے 6 حلقوں میں 64 اور صوبائی اسمبلی کے 101 حلقوں میں 116 خواتین عام نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں خواتین کی 60 مخصوص نشستوں کے لیے 150 اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی 128 نشستوں کے لیے 332 خواتین بھی میدان میں ہیں ،جن کی قسمت کا فیصلہ عام انتخابات میں نامزد کردہ پارٹیوں کی ہار جیت اور حاصل کردہ نشستوںپر ہوگا۔ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 66 مخصوص نشستوں کے لیے 159،سندھ میں خواتین کی 29 نشستوں کے لیے 83، صوبہ سرحد میں خواتین کی 22 نشستوں کے لیے 59 اور بلوچستان اسمبلی میں خواتین کی 11 مخصوص نشستوں کے لیے مختلف جماعتوں کی 31 خواتین امیدوار میدان میںہیں۔ قومی اسمبلی میں اقلیتیوں 10 نشستوں کے لیے36 امیدوار میدان میں ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں اقلیتیوں کی 8 نشستوں کے لیے 28، سندھ اسمبلی میں 9 نشستوں کے لیے 31، سرحد اسمبلی میں 3 نشستوں کے لیے 21 اور بلوچستان اسمبلی میں اقلیتیوں کی 3 نشستوں کے لیے مختلف جماعتوں کے 16 امیدوار مقابلے میں ہیں۔ پنجاب سے قومی اسمبلی کی148 عام نشستوں کے لئے 1003، سندھ سے 61 نشستوں کے لیے 627، سرحد سے 35 نشستوں کے لیے 262، بلوچستان سے 14 نشستوں کے لیے 143، فاٹا سے 12نشستوں کے لیے183 اور اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 2 عام نشستوں کے لیے 34 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔ پنجاب اسمبلی کی 297 نشستوں کے لیے 2311، سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں کے لیے 1468، سرحد اسمبلی کی 99 نشستوں کے لیے 763 اور بلوچستان اسمبلی کی 51 عام نشستوں کے لیے 541 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔

اٹھارہ فروری کو اسلام آباد میں 2 لاکھ 61 ہزار 697 مرد اور 2 لاکھ 21 ہزار، 104 خواتین، ووٹرز کے لیے 382 پولنگ اسٹیشن اور 1023 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔پنجاب میں 4 کروڑ 44لاکھ 85 ہزار 896 ووٹرز میں 2 کروڑ 44 لاکھ 81 ہزار 520 مرد اور 2 کروڑ 4 ہزار 376 خواتین ہیں۔ پولنگ کے لیے 37 ہزار 636 پولنگ اسٹیشن اور 97 ہزار 270 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔سندھ میں کل ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 95 لاکھ 6ہزار 473 ہے۔ جن میں ایک کروڑ 8 لاکھ 94 ہزار 176 مرد اور ایک کروڑ 61 لاکھ 2 ہزار 297 خواتین ہیں۔ پولنگ کے لیے 13 ہزار 405 پولنگ اسٹیشن اور 39 ہزار 329 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں کل ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 66 لاکھ ایک ہزار 212 ہے۔ جن میں 63 لاکھ 24 ہزار 182 مرد اور 43 لاکھ 37 ہزار 30 خواتین ہیں ۔پولنگ کے لیے 8 ہزار 173 پولنگ اسٹیشن اور 21 ہزار 476 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں کل ووٹرز کی تعداد 43 لاکھ 63 ہزار 610 ہے جن میں 23 لاکھ، 58 ہزار، 971 مرد اور 20 لاکھ 4 ہزار 639 خواتین ہیں۔ پولنگ کے لیے 3 ہزار 457 پولنگ اسٹیشن اور 8 ہزار 332 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں اور فاٹا میں کل ووٹرز کی تعدد 14 لاکھ 10 ہزار 326 ہے جن میں 9 لاکھ 85 ہزار 994 مرد اور 4 لاکھ 24 ہزار 332 خواتین ہیں۔ پولنگ کے لیے ایک ہزار 122 پولنگ اسٹیشن اور 2 ہزار 744 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔

جہاں تک انتخابی نتائج کا تعلق ہے۔ سندھ میںپی پی کو قومی اسمبلی کی 61 میں سے 25 سے 30، متحدہ قومی موومنٹ کو 18 سے22 اور دیگر جماعتیں اور آزاد امیدواروں کو 10 سے 15 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ صوبائی اسبملی کی 130 میں سے پی پی پی کو 60 سے 70، ایم کیو ایم کو 38 سے 43 ،جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو 20 سے 25 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

پنجاب میں قومی اسمبلی کی 148 میں سے 60 سے 70 پاکستان مسلم لیگ (ق)، 30 سے 40پاکستان مسلم لیگ (ن)، 30 سے 35 پاکستان پیپلزپارٹی اور باقی نشستیں ایم ایم اے، ایم کیو ایم آزاد امیدوار اور دیگر جماعتوں کو مل سکتی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی 297 نشستوں میں سے 140 سے 160 پاکستان مسلم لیگ (ق)، 70 سے 80 پاکستان مسلم لیگ (ن)، 60 سے 70 پاکستان پیپلزپارٹی اور باقی نشستیں ایم ایم اے، ایم کیو ایم آزاد امیدوار اور دیگر جماعتوں کو ملے کا امکان، غالباً متحدہ قومی موومنٹ اپنی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی کی ایک سے 2 اور پنجاب اسمبلی کی 2 سے 3 نشستیں صوبہ پنجاب سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ صوبہ سرحد میں قومی اسمبلی کی 35 نشستوں میں سے 9 سے 13 ایم ایم اے، 8 سے 12 عوامی نیشنل پارٹی، 6 سے 8 مسلم لیگ (ن)، 5 سے 7 پی پی پی ،5 سے 6 پاکستان مسلم لیگ (ق) اور 4 سے 5 نشستیں آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کو ملنے کا امکان ہے۔ صوبہ سرحداسمبلی کی 99 نشستوں میں سے 25 سے 30 ایم ایم اے، 20 سے 25 اے این پی، 15 سے 20 پاکستان مسلم لیگ (ن)، 15 سے 20 پی پی پی، 10 سے 15 پاکستان مسلم لیگ (ق) اور 7 سے 10 آذاد امیدوار اور دیگر جماعتوں کو مل سکتی ہیں۔ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 14 نشستوں میں سے 4 سے 6 پاکستان مسلم لیگ (ق)، 5 سے 6 ایم ایم اے،1سے 2 پی پی پی، 1 سے 2مسلم لیگ (ن) اور 2 سے 3 آذاد اور دیگر امیدواروں کو ملنے کا امکان ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی 51 نشستوں میں سے 10 سے 12 مسلم لیگ (ق) ،10 سے 12 ایم ایم اے، 4 سے 5 مسلم لیگ (ن)، 5 سے 6 پی پی پی اور 10 سے 13 نشستیں آزاد اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں کو ملنے کا امکان ہے۔ فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 میں سے 4سے 6 ایم ایم اے، 3 سے 4 اے این پی اور باقی نشستیں و دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ملنے کا امکان ہے اسلام آباد کی دونوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور مسلم لیگ (ق) کے مابین سخت مقابلے کا امکان ہے۔

یہ تجزیہ موجودہ ظاہری صورت حال پر ہے باقی زمینی فرشتوں اور نادیدہ قوتوں کا کمال کچھ بھی کرسکتا ہے تاہم اگر ملک میں شفاف انتخابات ہوتے تو نتائج اس تجزئیے سے بہت ہی مخلص ہوسکتے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ کہنے کو تو ملک کی تمام جماعتیں صاف شفاف انتخابات کی بات کرنی ہیں مگر عملاً پارلیمنٹ میں پہنچنے یا حکمرانی کرنے والی جماعتوں میں سے کوئی بھی صاف، شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کی متحمل نہیں ہوسکتی ہیں کیونکہ پھر نتائج عوام کی مرضی کے مطابق ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار شفاف ووٹر فہرست تیار ہوئی ہے جس کی شفافیت کا یہ عالم ہے کہ ایک شخص کا نام 2 سے 25 جگہ درج ہے ،ایک اندازے کے مطابق 2007ءکی کمپیوٹرائز ووٹر فہرست میں پونے کروڑ کے قریب ووٹرز کے نام ایک سے زائد باردرج یا بوگس ہیں۔ خود الیکشن کمیشن کی فراہم کردہ فہرستوں میں تضاد ہے۔ 30 اکتوبر 2007ءکو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس رہلیز میں کل ووٹرز کی تعداد 8 کروڑ 4 لاکھ 89 ہزار 370 ظاہر کی گئی۔ اسی طرح اضلاع کے حساب سے جاری کردہ فہرست میں کل ووٹرز کی تعداد 8 کروڑ 10 لاکھ 32 ہزار 13 ووٹ بنائی گئی ہے۔ جبکہ18فروری 2008ءکی پولنگ اسکیم میں 8کروڑ 9 لاکھ 10 ہزار 318 ووٹ بنائے گئے ہیں۔ یہ تینوں فہرستیں الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ میں موجود ہے۔ حکومت مخالف حکومتیں اس عمل کو قبل از انتخابات دھاندلی کا حصہ قرار دے رہی ہیں

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035