رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

20 March 2008 /  11 Rabi-ul-Awal  1429

تحریر: سائرہ افتخار
حق مہر
اس کے ذریعہ نکاح کی عظمت و سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے

اصطلاح شریعت میں مہر سے مراد وہ مال یا مالیت رکھنے والی چیز ہے جو عقد نکاح کے بعد بیوی کا حق ہوجاتا ہے اور خاوند پر واجب الا دا ہوتا ہے۔

قرآن حکیم میں مہر کا لفظ استعمال نہیںہوا بلکہ اس کے معنی و مفہوم میں اجور اور صدقات کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں حدیث شریف میں مہر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔قرآن پاک میں نہ صرف یہ کہ مہر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ اللہ تعالی نے اسے اپنی طرف سے عائد کیا ہوا فریضہ بھی فرمایا۔جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:بے شک ہمارے علم میں ہے وہ فریضہ جسے ہم نے لوگوں پر ان کی بیویوں کے سلسلے میں عائد کر رکھا ہے ©(احزاب:50)حدیث شریف میں بھی مہر کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔:ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر زنا کاری کا الزام لگایا جس سے بیوی نے انکار کر دیا پھر میاں بیوی دونوں نے قسمیں کھا لیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے؟کیا تم میںن سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے؟تین مرتبہ یہ فرمایاتو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اسے بطور مہر دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لیے حلال ہوئی تھی۔

نکاح کے وقت مہر کی جو مقدار طے پائے اس پر عملدرآمد کرنا خاوند پر واجب ہے۔مہر صرف شرط پوری کرنے یا دکھاوے کے لیے مقرر نہیں کیا گیابلکہ اس کو ادا کرنا خاوند کے ذمے ہے جب تک وہ اس کو ادا نہیں کرے گا بیوی کا مقروض رہے گا اور ادا کیے بغیر فوت ہو گیا تو مقروض فوت ہو گا مہر خوشدلی سے ادا کرنا چاہیے ارشاد باری تعالی ہے:اور عورتوں کو ان کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو :(النسائ:4)اور :ان کے مہر معروف طریقے سے ادا کرو(النسائ:25)اور خاوندطے شدہ مہر ادا نہ کرے تو بیوی کو حق ہے اسے روکے رکھے اور خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے چلی جائے تو خاوند کو اسے اپنے پاس روکے رکھنے کا حق نہ ہو گا۔

شریعت میں مہر کے مال کی کوئی مقدار مقرر نہیں۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایاکہ :شادی کر خواہ لوہے کی انگوٹھی کے عوض ہی سہی : اسی سے غالباُ وہ مقدار دس درہم مقرر کی ہے:رہی اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار تو حضرت عمر فاروق نے پہلے تو زیادہ مقدار میں مہر مقرر کرنے سے منع فرمایا تھاپھر اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔

حضرت عمر نے فرمایا کہ عورتوں کے زیادہ مہر مقرر نہ کرو ۔آ پ رضی اللہ عنہ یہ فرما کر منبر سے نیچے اترے تو قریش کی ایک عورت سامنے آئی اور کہا کہ اے امیر المومنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے لوگوں کو منع فرمایا ہے؟آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ اس خاتون نے کہا کیا آپ نے اللہ تعالی کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا؟فرمایا وہ کیا؟ کہا سنیے اللہ تعالی نے فرمایا خواہ تم نے ان میں سے کسی کو ایک خزانہ یا مال کا ڈھیر دے رکھا ہوتو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ مجھے معاف فرما عمر سے تو ہر شخص سمجھدار ہے پھر آپ واپس چلے گئے اور اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب میں کہتا ہوں کہ جو شخص اپنے مال میں مہر میں جتنا چاہیے دے اپنے خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا۔ اگرچہ زیادہ سے زیادہ مقدار کی حد مقرر نہیں کی گئی تا ہم اسلام کی ایک عمومی ہدایت ہے کہ ہر معاملے میں اعتدال کی راہ اپنائی جائے۔

اعتدال میں ہی فریقین کی بھلائی ہے مہر کی مقدار کے بارے میں کسی علاقے کے دستور اور اپنی حیثیت کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔اگر افراط یا تفریط سے کام لیا تو اس میں تکلیف پہنچ سکتی ہے جس کا نتیجہ زوجین کے درمیان ناچاقی ہو سکتا ہے۔لوگ لمبی چوڑی رقمیں مہر میں مقرر کر لیتے ہیں ۔ نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم نے کونسا ادا کرنا ہے یا مہر کی رقم اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ مرد کے لیے آسان نہیں ہوتا کہ وہ یہ رقم ادا کرسکے۔ اگر بوقت نکاح مہر کم زیادہ باندھا گیا ہو توبعد میں میاں بیوی باہمی رضامندی سے اس میں دوبارہ کمی بیشی کر سکتے ہیں:اور تم پر کوئی گناہ نہیں اگر آپس میں رضا مند ہو جاﺅ تو مہر کے بارے میں نکاح کے بعد کمی بیشی کر لو۔اگر نکاح کرتے وقت بھول چوک کی وجہ سے مہر مقرر نہ کیا جائے تو نکاح درست ہو جاتا ہے اس لئے ایسی صورت میں مہر مثل ہو گا۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035