|
|
|
18 March 2008 /
09
Rabi-ul-Awal
1429 |
|
تحریر :مزمل ابرار
میلاد النبی کی شرعی حیثیت
میرے پیارے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ،آپ کی عظمت آپ کا حسن آپکی
بے مثال زندگی پر جتنی روشنی ڈالی جائے جتنے مکالمے لکھے جائیں جتنی کتب لکھ دی
جائیں آپ کا حسن وجمال آپکی سیرت و کردار آپ کی شان کاحق ادا نہیں ہوسکتا اور کیسے
ہو جبکہ آپ تو وہ ہیں کہ جن کے بارے میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ جیسے بلند پایہ
انسان نے کہا تھا” واحسن منک لم تری قط عین واجمل منک لم تلد النساء’‘خلقت مبرا من
کل عیب کانک قد خلقت کما تشاء“اور آپ سے حسین وخوبصورت کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
اورآپ سے جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں میرے پیارے آپ تو ہر عیب سے پاک پیدا کیئے
گئے ہیں جیسا کہ آپکی منشاکے مطابق آپکو بنایاگیاہو ، اپنے پیارے نبی کی شان میں
کیابیان کروں میرے نبی کی شان تو رب بیان کرتاہے آپکے اٹھنے بیٹھنے کا تذکرہ قرآن
کریم میں ہے آپکے چہرہ پر انوار کاتذکرہ قرآن کریم میں ہے میرے نبی کا خلق قرآن
کریم ہے میرے نبی کا اخلاق قرآن کریم ہے میرے نبی جس شہر میںپیداہوئے رب تعالی اسکی
قسمیںاٹھاتاہے، میرے نبی کے چہرہ پھیرنے کاتذکرہ قرآن مجید میں ہے الغرض میں اپنے
نبی کی کیاشان بیان کروں میرارب خودآپ کی شان بیان کرتا ہے ۔
محترم قارئین کرام !یقینا میرانبی بڑا اعلی نبی میرانبی سب سے بالا نبی میرے نبی کے
بارے میں ایک بدبخت نے لب کشائی کی تو میرے رب نے پوری سورہ کوثر اتار دی میرے نبی
کی شان میں گستاخی میرے رب کو گوارہ نہیں لیکن افسوس آج کے لوگ میرے نبی کی شان میں
کیاکیاکہتے اور کیاکچھ کرتے ہیں میرا نبی ان سب سے اولی ، ارفع، اعلی اور بلندوبالا
ہے ۔
جی ہاں اسکی ولادت بڑی شان والی اسکی کملی بڑی آن والی اسکا پسینہ بڑی خوشبو والا
اسکی نظر بڑی عظمت والی اسکے ہاتھ بڑے درجات والے اسکی آنکھ بڑی حیاوالی جس نے کبھی
کسی غیر عورت کو نظر اٹھاکر نہ دیکھا جسے حجر و شجر چرند و پرندانسان و حیوان درود
و سلام بھیجیں ہائے افسوس آج چودہ سو سال بعد میرے نبی کی شان میں گستاخی کرنیوالے
زندہ پھریں ۔
جی ہاں محترم قارئین! یہ وہی مہینہ ہے جس میںمیرے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کی پیدائش ہوئی ہر طرف آپکی ولادت کا تذکرہ ہے لوگوں میں بڑے خوشی کے جذبات ہیں ہر
طرف چراغاں کا سماں ہے لیکن اس صورت حال کو دیکھ کر میرادل دہل جاتا ہے کہ آج کا
مسلمان کہاں کھوگیاہے یہ بڑاعجیب معاملہ ہے کہ آج ہمیں علم تک نہیں کہ ہم کیا کررہے
ہیںآئیے دیکھیں کہ ہم کیاکررہے ہیں!
لفظ میلاد جس کے لفظی معنی پیدائش یا ولادت کے ہیں اور مولد وقت پیدائش یا جگہ
پیدائش کوکہتے ہیں یقینا یہ خوشی کا وقت ہوتا ہے کہ کسی کے گھر اللہ کی رحمت جنم
لیتی ہے اسی طرح لفظ وفات یا موت یا رحلت یہ بڑاہی دکھ اور پریشانی والالفظ ہے اسکی
غمی کا معیار اس سے پوچھو جسے اللہ نے نور دیکر اس سے لے لیاہو جسے چاند
سامکھڑادیکر لے لیاہو جسے پوری کائنات کی خوشیاں دیکر لے لی ہوں، جسے عرب و عجم کی
روشنیاں دیکر اندھیروں میں چھوڑ دیاہو جسے سہارے دیکر بے سہاراچھوڑ دیاہو،
آئیے دیکھیں کہ ربیع الاول جہاں خوشیوں کا مہینہ ہے اس سے کہیں زیادہ دکھوں اور
غموں کو اپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے : تم فرماو ¿ اللہ ہی کے فضل اور اسکی رحمت اور اس پر چاہیئے
کہ خوشی کریں (سورہ یونس آیت ۸۵)آیت کریمہ میں اللہ تعالی کے فضل ورحمت کے حاصل
ہونے پر خوشی منانے کاحکم دیا گیاہے ،آیئے ہم دیکھیں کہ خوشی منانے کیلئے نبی کریم
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں
جس طرح غمی کے بہت سارے واقعات پیش آئے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں
خوشیوں کے بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے جن میں سے ایک واقعہ بہت ہی مشہور ہے اور
یقینا یہ بہت زیادہ خوشی والاواقعہ ہے دیکھیں کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے کس طرح خوشی کا اظہار فرمایا۔
آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے جن مظالم کے ساتھ نکالاگیاتھا وہ تو ہم سب
جانتے ہی ہیں اس قدر
تکلیف کے ساتھ آپکو مکہ چھوڑنا پڑا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
دن میں بھی نہ نکل سکے بلکہ رات کی تاریکی میں ہجرت کرنا پڑی اور وہ وقت ایساتھا کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کو دیکھتے تھے اور فرمارہے تھے کہ اے مکہ مجھے تجھ
سے بڑی محبت ہے لیکن یہ مشرک مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
مدینہ چلے گئے جوکہ مظالم کی ایک لمبی داستان ہے لیکن پھراللہ تعالی اپنے پیارے نبی
کو اسی دھرتی پر جہاں سے اسے نکالاگیاتھا فاتح اور سردار بناکرواپس بھیجتاہے ۔
یہ وہی مکہ ہے جہاں آپکو کوئی پناہ دینے والا باقی نہ رہا تھا جہاں ہرایک آپکا قاتل
بن چکاتھا جہاں آپکو پناہ دینے کی اجازت نہ تھی جہاں آپکے ساتھیوں
کاجینادوبرکردیاگیاتھاجہاں نماز کی اجازت نہ تھی جہاں قرآن کی تلاوت کی اجازت نہ
تھی جہاں سے آپکے ساتھیوں کو نکال دیاگیاتھالیکن آج میراپیارانبی فاتح بن کر داخل
ہورہاہے آج وہ اپنے دشمن کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرنا چاہے کرسکتاہے آج اس کی شان
بڑی نرالی ہے آج عرب کا بادشاہ اپنے حکم سے جوچاہے کرسکتاہے ۔
لیکن اس خوشی کے موقع پر میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کیاحالت ہے آپ نے
اپنی کملی اپنے سرپر ڈالی ہوئی ہے اونٹ پر سوار ہیں اور اس حالت میں اپنا سر اونٹ
پر جھکارکھا ہے ، بیت اللہ میںداخل ہوتے ہیں طواف کرتے ہیںخوشی پر نوافل اداکرتے
ہیںعام معافی کا اعلان ہوتاہے میرے نبی کا خوشی منانے کا انداز کتنا پیاراہے
کیاآپکو بھی اچھالگا ہے؟جی ہاںجب کبھی خوشی کالمحہ آئے تو ہم بھی سجدہ شکراداکرکے
خوشی کااظہارکیاکریں۔
جی ہاں میرے نبی کے صحابہ کی بھی یہی کیفیت ہے ہر آدمی اپنے رب کے حضور سربسجود ہے
کہ اللہ تعالی نے اتنی بڑی نعمت سے نوازاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے
تو مدینہ والوں نے اسی طرح سجود کرکے خوشی منائی، آپ غزوات میں فتح یاب ہوتے تو
سجدہ ریزہوجاتے، مکہ فتح ہوا تو بھی اسی طرح کیا، یہودی ۰۱ محرم کاروزہ رکھاکرتے
تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کی وجہ دریافت کی توانہوں نے کہا اس روز اللہ
تعالی نے موسی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو فرعون سے نجاد دلائی تھی اس خوشی
میں ہم روزہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ (موسی علیہ السلام)ہمارے
بھائی ہیں ہم زیادہ حقدار ہیں کہ یہ خوشی منائیں ۔چنانچہ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے
روزہ رکھا اور فرمادیاکہ اگر اگلے سال زندہ رہاتو دو روزے ۹، ۰۱ یا ۰۱،اور۱۱محرم
کاروزہ رکھوں گا ۔
یہ ہے میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خوشی منانے کاانداز ،جی ہاں آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کی پیدائش سے بڑھ کر کوئی خوشی تو نہیں ہوسکتی ، لیکن اس خوشی میں طریق
نبوی سے نہیں ہٹناچاہئے۔حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوںنے آپ صلی
اللہ علیہ وسلم سے پیرکے روزے کے بارے میں دریافت کیا(کہ آپ اس دن روزہ کیوں رکھتے
ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں اس دن کاروزہ اس لئے رکھتاہوںکہ )یہ
میرا یوم پیدائش ہے اور اسی دن مجھ پر نزول وحی کا آغاز ہوا ،
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیرکے دن آپ کی پیدائش ہوئی اسی دن آپ نبی
بنائے گئے اسی دن آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اسی دن آپ مدینہ پہنچے اسی دن
آپ کی وفات ہوئی۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اسی دن سورہ مائدہ نازل ہوئی اور
اسی دن حجر اسود کو منتقل کیاگیا۔کیا آپ کو بھی میرے نبی کی پیدائش سے محبت ہے تو
پھر پیارے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہر پیر کا روزہ رکھ کر ثواب جزیل کمائیں
کیاخوب خوشی منانے کا طریقہ ہے۔
محترم قارئین !
یہ وہ بات ہے جس پر کسی مسلمان کا اختلاف نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم
ولادت پیرکادن ہے ۔ دوسری بات جمعة المبارک کے بارے میں کہاجاتاہے کہ آدم علیہ
السلام جمعہ کوپیداکیے گئے اسی روزجنت میں بھیجے گئے، اسی روز جنت سے نکالے گئے
اوردنیاپر بھیجے گئے اوراسی روز قیامت قائم ہوگی، لیکن اس کے باوجود ہم جمعہ
کااہتمام اسلئے نہیںکرتے کہ یہ آدم علیہ السلام کا یوم میلاد ہے بلکہ اس لئے کہ
ہمارے پیارے نبی نے اسے یوم عیدکہاہے اور اس کا اہتمام فرمایا ہے اور ہمارے رب
تعالی نے اس کے اہتمام کا حکم قرآن مجید میں دیاہے ، ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے
سچی محبت ہے تو اس پر گہری نظر سے سوچناہوگا کہ کیاکرناچاہیئے؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی بارہ ربیع الاول تو یوم وفات ہے لہذا خوشی نہیں منانی چاہئے
تو محترم یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات کے بارے میں اختلاف ہے البدایة
والنہایہ ، طبقات ابن سعد ، سیرت طیبہ ، اورسیرت محمدیہ میں کئی اقوال
ہیںمثلاپہلاقول :ربیع الاول کے شروع میں ، دوسراقول: دو ربیع الاول میں ، تیسراقول:
صفر کے آخری دو دن سے آپ کی بیماری شروع ہوئی اور۲۱ربیع الاول کوآپکی وفات اور اسی
کوجمہورسیرنگاروںنے جیسے محمد بن سعد اور امام واقدی وغیرہ نے درست کہاہے ، بخاری
شریف کی شرح عمدة القاری کے صفحہ نمبر ۹۹ جلد نمبر ۶۱ میں کئی اقوال ہیںمثلا:۲۱،
،۳۱،۴۱،۵۱ربیع الاول میں وفات ہوئی،بعض نے کہاہے کہ ۲۱ربیع الاول پیر ثابت نہیں
ہوتا، ان سب باتوں میں سے جو مشترک ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات
ربیع الاول میں ہی ہوئی ہے ، اور تاریخوں میںاسی طرح کا اختلاف آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی پیدائش میں بھی پایاجاتا ہے جیساکہ امام طبریؒ نے اور ابن خلدون ؒنے ۲۱ربیع
الاول نقل کیا ہے جبکہ ابوالفداءؒنے دس ربیع الاول اور تاریخ دول العرب والاسلام
میں محمد طلعت عرب بک نے ۹ربیع الاول نقل کیا ہے اور اسے تاریخی اعتبار سے بروز پیر
سے مطابق پیش کیا ہے اور ۲۱ربیع الاول ۱۱ھ بروز پیر جس طرح وفات میں ثابت نہیں ہوتا
اسی طرح ۲۱ربیع الاول بروز پیر اپریل ۱۷۵ یوم ولادت میں بھی مطابقت
نہیںرکھتادورحاضر کے ممتاز سیرت نگار مولانا صفی الرحمن ؒمبارکپوری نے بھی اپنی
کتاب الرحیق المختوم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش ۹ربیع الاول نقل کی
ہے۔ لیکن ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ربیع الاول ہی کی
ہے اور وفات بھی ربیع الاول میںتسلیم کرلیں۔ سوال یہ ہے کہ جب آپکی ولادت اسی مہینہ
میں اور وفات بھی اسی مہینہ میں تو خوشی مناناکیسا؟؟؟؟
تاریخ شاہد ہے کہ یکم ربیع الاول سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ترین بیمار تھے اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تک بلکہ ایک عرصہ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کی وفات کے غم میں گزارا میں کیاکہوں آیئے دیکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کے جانثار صحابہ کرام کیاکہتے ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی
فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایااوران سے کچھ سرگوشی کی وہ رونے لگیں ، آپ نے انہیں
پھر بلایا اور کچھ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان
ہے کہ بعد میںہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایاکہ (پہلی بار) نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایاکہ آپصلی اللہ علیہ وسلم اسی مرض میں
وفات پاجائیں گے ۔ اس غم میں میں رودی ۔ (بحوالہ بخاری شریف جلد۲ /۸۳۶)۔
یہی ربیع الاول کامہینہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدید کرب سے دوچار تھے اسے
دیکھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بے ساختہ پکاراٹھیں ۔
واکَربَ اَبَاہ۔ ہائے اباجان کی تکلیف جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا ”آج کے بعد تمہارے ابا پر کوئی تکلیف نہیں“(بحوالہ صحیح بخاری۲/۱۴۶) کیا کسی
مسلمان کو فاطمہ رضی اللہ عنہاسے محبت ہے کہ وہ اپنے باباکے غم میں کیسے نڈھال
ہورہی ہیں اور آج ہم اسی مہینے میںخوشیاں منائیں کیایہی انصاف ہے ؟؟؟
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جس دن رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں
(مدینہ میں)تشریف لائے تھے اس سے بہتر اورتابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا اور جس
دن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اورتاریک دن بھی میں
نے کبھی نہیں دیکھا۔ (بحوالہ سنن دارمی ، مشکواة شریف ۲/۷۴۵)ہے کوئی محب رسول
یاعاشق رسول جو غمی اور تاریکی کے اس مہینہ میں آج انس رضی اللہ عنہ کیلئے غم
کاساتھی بن جائے؟؟
صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکراورحضرت عباس
رضی اللہ عنہماآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران انصار کی ایک مجلس پر گزرے
۔ دیکھاکہ وہ رورہے تھے ، انہوں نے پوچھا :”آپ کے رونے کا سبب کیاہے“؟ بولے :”ہم آں
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے محرومی پر رورہے ہیں۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر شدت غم میں اس طرح
فرمارہی تھیں ”ہائے اباجان ! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا ۔ ہائے اباجان
! جن کاٹھکانہ جنت الفردوس ہے ۔ ہائے اباجان !ہم جبریل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
موت کی خبردیتے ہیں۔ بحوالہ صحیح بخاری باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
آپصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا ، حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں :”یہ خطبہ سن کر لوگ دھاڑیں مار کر رونے لگے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے : اللہ کی قسم ، جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو
یہ پڑھتے سنا تو میری کونچیں کٹ گئیں ۔ میرے پیروں نے مجھے اٹھانے سے انکار کردیا۔
اور اس وقت مجھے یقین ہوگیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں؟؟
ایک اور روایت میں سے معلوم ہوتاہے کہ جب لوگوں کو آپصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا
علم ہواتو ان پر دہشت طاری ہوگئی اورحواس گم کربیٹھے ، بعض خاموش ہوگئے ، اوربعض پر
جنون غالب آگیا، اس وقت حضرت ابوبکر اورعباس رضی اللہ عنہما کے سواکوئی شخص بھی
ثابت قدم نہ رہ سکااور نہ ان سے بڑھ کر کسی کے ہوش وحواس بجاتھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۹بیویاں زندہ
تھی انہوں نے تو اس ربیع الاول میں کوئی خوشی نہیں منائی اوروہ کیسے خوشی مناتیں کہ
ان سے انکی زندگی جداہوگئی ؟لیکن آج میں کیا کروں یہ فیصلہ مجھے خود کرناہے ؟
جی ہاں اگر میلاد مناناجائزہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود مناتے آپصلی اللہ
علیہ وسلم نے اپنی ۳۶سالہ زندگی مبارکہ میں ایک مرتبہ بھی نہ منایا آپ کی وفات کے
بعد اگر میلاد منانا جائزہوتا تو سب سے پہلے فاطمہ الزہرا میلاد مناتی ، عائشہ رضی
اللہ عنہا منا تیں آپصلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات مناتیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میلاد مناتے ، حضرت عمر
فاروق رضی اللہ عنہ میلاد مناتے ، پیارے عثمان جن کے نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے دونور آئے وہ مناتے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت علی المرتضی میلاد
مناتے ، پیارے حسن وحسین رضی اللہ عنہما میلاد مناتے ہائے ساری قوم رورہی ہے آج میں
میلاد منارہاہوں؟ اگر میلاد مناناجائز ہوتا تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ،امام
شافعی ، امام مالک ،امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہم اجمعین میلاد مناتے لیکن
انہیں علم تھاکہ ساری دنیاغم میں اورہم خوشی منائیں یہ ہمارایمان گوارہ نہیں کرتا،
جی ہاں اگر میلاد جائز ہوتا تو حضرت عبدالقادر شاہ جیلانی رحمہ اللہ علیہ میلاد منا
تے آخر انہیں پیارے نبی سے دشمنی تو نہیں تھی بلکہ سچی محبت یہی ہے کہ آپ کی وفات
کے مہینہ میں خوشی نہ منائی جائے !!!
مسلمانو! یہ میلاد مناناوہ بھی نبی کی وفات کے مہینے میںہمیںزیب نہیں دیتا، آو ¿
دیکھو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کی جدائی میں ایک عرصہ
روتے رہے یہاں تک کہ انکی بینائی ختم ہوگئی۔
لیکن آج ہم سے دنیاکاتاج چلاگیا، مردہ دلوں کوجلادینے والی شخصیت، اپنی نظر سے
لوگوں کو جلابخشنے والی شخصیت ،جس پر کائنات کے ذرات بھی درود و سلام بھجیں،جس کے
امتی ہونے پر ہمیں فخر ہو وہ اعلی ارفع اور بلند پایہ ذات جداہوگئی۔فاطمہ رضی اللہ
عنہا ، مسلمانوں کی ۹ مائیں جسکی جدائی پر غم میں نڈھال ہیں جسکے جانے کے بعد جبریل
نے وحی لانا چھوڑ دی ، جسکے بعد بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہنی چھوڑ دی ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاکیاکہنا آپ تو وہ تھے کہ جب حلیمہ سعدیہ رحمتہ اللہ علیہ
کے گھر سے جانے لگے تو وہ آبدیدہ ہوگئی ۔ آپ کے بارے کیاکہاجائے ۔پوچھوام معبدرحمتہ
اللہ علیہ سے آ پ کی کیاعظمت تھی وہ کہتی ہیں کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر
تشریف لائے کچھ قیام کیامیراگھر رحمتوںسے بھر گیا وہ منتیں سماجتیں کرتی رہی کہ
پیارے ذرااورٹھہرجاو ¿، ابھی تمہاری محبت کم نہیں ہوئی ،تھوڑا اور ہمارے ہاں
ٹھہرجاو ¿، جس کے جانے پر پوری کائنات مرجھاگئی۔ میں خوشی مناو ¿ں یاکیاکروں یہ
فیصلہ ہمیں خود کرناہے۔؟؟ یوسف علیہ السلام کی گمشدگی پر یعقوب علیہ السلام ساری
زندگی روتے رہے آج ہم اپنے نبی کی وفات پر غم کے بجائے خوشیاں منائیں ؟۔
اے اللہ ! اے ہمارے پیارے رب ہمیں اپنے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،آپ کے
اصحاب، ائمہ کرام اور تمام مسلمانوںسے سچی محبت کرنے والابنا اورہماری دنیا وآخرت
سنوار دے آمین یارب العالمین ۔
اللھم صل وسلم علی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
|
 |
|
|