رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

18 March 2008 / 09 Rabi-ul-Awal 1429

مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565


جذبہ مسلم کی پیدا ہو نہیں سکتی مثال

پنجابی کا مشہور محاورہ ہے: ”تگڑے دی مار تے ماڑے دی گال۔“ جب ایک فریق طاقتور ہو تو دوسرا کمزور فریق طاقت کے جواب میں طاقت نہیں بلکہ گالی گلوچ کا مظاہرہ کرتا ہے، جس کی وجہ اس کی کمزوری ہوتی ہے۔ پھر وہ زبان کے غلط استعمال سے اپنی طاقت کا اظہار کرنے پر اُتر آتا ہے۔

ےہی سلسلہ آج کل مغرب کی طرف سے جاری ہے۔ 14 صدیاں بیت جانے کے بعد جب قرآن کی ابدی حقیقت کا توڑ پیش نہ کرسکے تو صاحب قرآن پر گالی گلوچ اور سب وشتم کرنا شروع کردیا لیکن کیا ےہ ممکن ہے کہ کسی کی توہین کرنے سے اس کی شان میں کمی واقع ہوتی ہو؟

کہا جاتا ہے کہ آسمان کی طرف منہ کرکے تھوکنے سے تھوک اپنے ہی چہرے پر گرتا ہے۔ چاند کی برائی کرنے سے اس کی روشنی گہنا نہیں جاتی اور سورج کو چراغ کہنے سے دھوپ کی حدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ سمندر کو نالہ کہنے سے اس کا سینہ سمٹ نہیں جاتا تو پھر کائنات کی سب سے محترم اور محبوب ذات کے بارے میں اگر کوئی زبان دراز کرکے اپنے لئے جہنم واجب کرلے تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ کم ہوجائے گا؟

جب کوئی شخص چاند، سورج، ستارے اور سمندر کی توہین نہیں کرسکتا تو پھر کیسے ممکن ہے کہ محسن انسانیت کی توہین کرسکے؟ جس کی تعریف وتوصیف کا ذمہ اس کو مبعوث کرنے والے نے خود اٹھا رکھا ہو۔

ابولہب سے لے کر آج تک کتنے ہی گستاخ اٹھے جنہوں نے آپ کی شان میں گستاخی کی جسارت کی لیکن دوسری طرف آپ کے جانثاروں کی محبت وعقیدت میں بھی تو کوئی کمی نہیں آئی کہ ہرگستاخ کو ان شیر دل شیدائیوں کی تلواروں سے کٹنا پڑا۔ ان کے ناپاک وجود سے کرہ ¿ ارض کو پاک کردیا گیا۔ نبی رحمت کے ساتھ جو ایک مسلمان کی عقیدت ومحبت کا عالم ہے اس کو بیان نہیں، صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے

جذبہ مسلم کی پیدا ہو نہیں سکتی مثال
محبت اس کی غیر فانی الفت اس کی لازوال
سربکف رہتا ہے وہ ناموس ملت کے لئے
برق ہے خرمن باطل کے لئے اس کا جلال
اس کی ہیبت سے سیہ کار تھراتے رہے
اس کی سطوت نے کیا اعدائے حق کو پائمال

تحفظ ناموس رسالت اور شاتمان نبی کی ہلاکت وتباہی ملت اسلامیہ کے ہاتھوں ابتداءسے ہی ہوتی آرہی ہے۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس باب میں بے شمارایمان پرور نمونے چھوڑے ۔ تارےخ یہ بتاتی ہے کہ باقاعدہ طور پر تحریک شماتت رسول850ءمیں شروع ہوئی اور 860ءمیں اس کا مکمل قلع قمع ہوگیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا کے مطابق اس عرصے میں53افراد کو واصل جہنم کیا گیا۔ ملت اسلامیہ کے تمام مسالک اس بات پرمتفق ہیں کہ شاتم رسول کی سزا قتل اور صرف قتل ہے۔ اہل محبت کا شیوہ ہے کہ وہ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین برداشت کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جب بھی کوئی آپ پر افترا باندھتا ہے تو ملت اسلامیہ کے خرمن دل میں آگ بھڑک اٹھتی ہے اور وہ شاتمان رسول کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی ہماری محبت کا تقاضا ہے اوراسی تقاضے کی بدولت اسلام کی عمارت کاقیام ہے۔ وہ گھڑیاں کتنی سہانی ہوتی ہیں۔ جب کسی شاتم رسول کے قتل کی وجہ سے پیروان توحید کو سولی پر لٹکایا جاتا ہے اور وہ سینہ تان کر ایمان کی تپش اور شوق شہادت میں سرشار ہو کر دار کی طرف چل دیتا ہے۔ اپنی آنکھوں میں عقیدت کے پھول سجائے مقتل میں پورے قد کے ساتھ کھڑا ہوکر، پیشانی پہ نور سعادت لئے جنت کی خوشبو سونگھ رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے خون کا آخری قطرہ حرمت رسول پر بہا دیتا ہے۔ ایک مسلمان عمر بھرتمنا رکھتا ہے کہ اس کی زندگی اسلام کے کام آجائے اور شان رسالت میں کسی طرح بھی کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ شاعر نے اپنی عقیدتوں کا اظہار کیا خوب کیا ہے:

تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا
سانس لیتا تو اور میں جی اٹھتا
کاش مکہ کی میں فضا ہوتا
ہجرتوں میں پڑاو ¿ ہوتا میں
اور تو کچھ دیر کو رُکا ہوتا
تیرے حجرے کے آس پاس کہیں
میں کوئی کچا راستہ ہوتا
بیچ طائف بوقت سنگ زنی
تیرے لب پہ سجی دُعا ہوتا
کسی غزوہ میں زخمی ہوکر میں
تیرے قدموں پہ جاگرا ہوتا
کاش اُحد میں شریک ہوسکتا
اور باقی نہ پھر بچا ہوتا
تیری کملی کا سوت کیوں نہ ہوا
تیرے شانوں پہ جھولتا ہوتا
چوب ہوتا میں تیری چوکھٹ کی
یا تیرے ہاتھ کا عصا ہوتا
تیری پاکیزہ زندگی کا میں
کوئی گمنام واقعہ ہوتا
چاند ہوتا تیرے زمانے کا
پھر تیرے حکم سے بٹا ہوتا
پانی ہوتا اُداس چشموں کا
تیرے قدموں پہ بہہ گیا ہوتا
پودا ہوتا میں جلتے صحرا میں
اور تیرے ہاتھ سے لگا ہوتا
تیری صحبت مجھے ملی ہوتی
میں بھی تب کتنا خوشنما ہوتا
مجھ پہ پڑتی جو تیری چشم کرم
آدمی کیا میں معجزہ ہوتا
ٹکڑا ہوتا میں ایک بادل کا
اور تیرے ساتھ گھومتا ہوتا
آسماں ہوتا عہد نبوی کا
تجھ کو حیرت سے دیکھتا ہوتا
خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی
اور تیرے پاوں چومتا ہوتا
بچہ ہوتا غریب بیوہ کا
سر تری گود میں چھپا ہوتا
رستہ ہوتا ترے گزرنے کا
اور ترا ہی رستہ دیکھتا ہوتا

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035