|
|
|
17 July
2008 / 13 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
مزمل ابرار(جامعہ الداراسات الالسلامیہ
03457140314
ماہ رجب اور ہم
پوری کائنات اللہ رب العزت کی تخلیق کردہ ہے زمین ہویاآسمان چرند ہوں کہ پرند ،انسان
ہوکہ حیوان تری ہوکہ خشکی جنگل ہوںیا آبادیاں گِل ہوکہ پتھر دن ہویارات مشرق ہوکہ
مغرب الغرض انسان جب بھی اور جس طرف بھی نظر اٹھائے اللہ تعالی کی تخلیقات کا
مشاہدہ کرتا ہے انہیں میں سے ایک مخلوق زمانہ ہے جسے دن رات کہہ لیں یا ہفتے اور
مہینے شمار کرلیں یاسال اور صدیاں ۔
آج میں آپ کے سامنے جس چیز سے متعلق بات کرناچاہتاہوں وہ سال کے ۲۱مہینوں میں سے
ایک مہینہ (رجب)ہے ، رجب کے لفظی معنی عظمت کے ہیں اور اس کی وجہ تسمیہ غالبا یہی
ہے کہ دورجاہلیت میں بھی اس کی قدر کی جاتی تھی اور اس مہینہ میں جنگ وجدل کوحرام
جانا جاتا تھا، دورجاہلیت میں اس ماہ باقاعدہ نذر وقربانی وغیرہ کا اہتمام
کیاجاتاتھا،یہ مہینہ دورجاہلیت میں بھی حرمت والاتھااوراسلام نے بھی اسکی حرمت
کوبرقرار رکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”بے شک زمانہ گھوم کر
اپنی اس حالت پرآگیاہے جب اللہ تعالی نے آسمانوںاورزمین کوبنایاتھا ،سال بارہ
مہینوں کاہے جن میں سے چارمہینے حرمت والے ہیں تین مہینے مسلسل ذوالقعدہ ،ذوالحجہ،محرم
اورچوتھامہینہ رجب ہے “۔بخاری ومسلم
ماہ رجب کو تقریبا بارہ ناموں سے جانا اور پہچاناجاتارہاہے جن میں : رجب ، الاصم ،
الاصب ، رجم الھرم، المقیم، المعلی، منصل الاسنہ ،شہر العتیرہ شامل ہیں۔
جہاں اسلام نے دورجاہلیت کے بہت سارے رسوم ورواج اورعادات وعبادات کو ختم کیا ہے
وہیں اس مہینے میں کی جانے والی مختلف قسم کی عادات یعنی نذر و نیاز یاصرف اس کے
ساتھ قربانی کا اہتمام کرنا یا یاعبادات جیسے روزے ، تلاوت قرآن کریم،عمرہ کا خاص
اہتمام، نفلی عبادات کے اہتمام کا بھی قلعہ قمع کیاہے ، چونکہ نبی سید المرسلین صلی
اللہ علیہ وسلمہمارے لیئے ہر حال میں نمونہ تھے اورنمونہ ہیں لہذا آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے ثابت شدہ عبادات کو باقی اورجاری وساری رکھاگیاہے ۔ اورجوعبادات آپ صلی
اللہ علیہ وسلمسے ثابت نہیں ہےں وہ مطلوب بھی نہیں ہیں چونکہ اسلام آپ صلی اللہ
علیہ وسلم پر مکمل کردیاگیاہے اورکسی اور کیلئے کوئی خالی جگہ نہیںچھوڑی گئی لہذا
کسی کی رائے یا وضع کردہ عبادت کی گنجائش نہیں ہے ۔
اب ان عبادات کا مختصر ساجائزہ لیتے ہیںجنہیں آجکل ہم اس مہینے میں زیادہ ثواب
کمانے کاذریعہ سمجھتے ہیں:
عمرہِ رجبیہ : رجب کے مہینے میں عمرہ کرنے کوباقی مہینوںمیںعمرہ کرنے پر فضیلت کی
نظر سے جاناجاتاہے جس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چارمرتبہ عمرہ کیا جن میں سے ایک رجب میں
تھا۔
لیکن جب یہی واقعہ ام المومنین عائشہ صدیقہ سیدہ کائنات کے سامنے ذکر کیاجاتاہے
جسکے الفاظ یہ ہیں”قال عروة : یااماہ یاام المومنین ، الاتسمعین مایقول
ابوعبدالرحمن ؟ قالت : مایقول؟ قال : یقول :ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتمر
اربع مرات احداھن فی رجب ۔ قالت : یرحم اللہ اباعبدالرحمن مااعتمرعمرة الا وھو
شاھدہ، ومااعتمرفی رجب قط“ (ترجمہ) مجاہد اورعروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عمر ابوعبدالرحمن سے پوچھاگیاکہ رسول اللہ نے کتنی مرتبہ عمرہ کیا؟
انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چارمرتبہ عمرہ کیا جن میں سے
ایک رجب میں تھا،عروہ رضی اللہ عنہ نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے (آپ
وہیںاپنے گھرمیںموجود تھیں) دریافت کیاکہ ابوعبدالرحمن کیاکہتے ہیں؟ انہوںنے
کہاکیاکہتے ہیں؟ جواب دیاکہ یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے ایک عمرہ رجب
میں کیاتھا؟ام المومنین نے کہا اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے اللہ کے نبی نے جب
بھی عمرہ کیا وہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی
بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا۔اس وقت ابوعبدالرحمن یعنی عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما
بھی وہیں موجود تھے اورخاموش رہے۔ (بخاری کتاب العمرہ ، مسلم کتاب الحج)معلوم ہواکہ
رجب کے عمرہ کو عام دنوں میں عمرے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔
رجب میں نذر یاقربانی جسے دورجاہلی میں عتیرہ کہتے تھے :نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”کنانعتر عتیرة
فی الجاھلیة فی رجب فماتا ¿مرنا؟ قال اذبحوا للہ فی ای شھر کان وبروا اللہ عزوجل
واطعموا“ہم دورجاہلیت میںاپنے کاموں کی نذرکی قربانی کیلئے رجب کو خاص کرتے تھے آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کیافرماتے ہیں اس معاملہ میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایااللہ کے نام پر ذبح کرو جس مہینے میں بھی چاہواور اللہ رب العزت کے لیئے نیکی
کرواور(لوگوں کو) کھلاو ۔مسند احمد ، ابوداو د ، نسائی۔
عامر العقیلی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا”ہم
دورجاہلیت میںرجب میںجانورذبح کیا کرتے تھے، خود بھی کھاتے اوردوسروں کوبھی کھلاتے
تھے“ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لاباس“کوئی ایسی بات نہیں۔ نسائی ،
دارمی،ابن حبان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”لافرع
ولاعتیرة“ (فرع کسی جانورکے پہلے بچے کو کہتے ہیں دورجاہلی میں جانورکے پہلے بچے کی
قربانی بتوںکے نام پرکی جاتی تھی ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایاکوئی فرع نہیںہے اور نہ ہی کوئی عتیرہ(یعنی رجب کی قربانی اور
نذر ونیازاس حدیث سے منسوخ کردی گئی ہے )۔ بخاری کتاب العقیقہ ،مسلم کتاب الاضاحی۔
روزہ:روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے بارہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتاہے ”روزہ میرے لیئے ہے اور میں ہی اسکااجر دونگا“
دوسرافرمان ہے کہ نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا”روزہ ڈھال ہے (جہنم سے بچنے کا
ذریعہ ہے)“آج ہم لوگوں نے روزے کوبھی اپنی مرضی کابنادیاہے جوکہ نبی علیہ الصلاة
والسلام سے ثابت نہیںہے (یعنی اپنی مرضی کے اوقات خاص کردیتے ہیں کہ یہ ایام روزہ
رکھیں تو زیادہ ثواب ہے اور ان یام میں زیادہ ثواب نہیںجس کی مثال رجب کے روزے
ہیںاور اسکے علاوہ بھی)آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتے
تھے اور اسی طرح ایام بیض (اسلامی مہینے کی تیرہ ، چودہ، پندرہ تاریخ)کا بھی روزہ
رکھتے تھے محبت کا تقاضاہے کہ ہم بھی یہ روزے رکھا کریں نہ کہ اپنی مرضی کے بعض
ایام کو خاص کرلیں۔
جولوگ رجب میں روزے رکھتے تھے عمربن خطاب رضی اللہ عنہ انکے ہاتھوں پر مارتے
اورکہتے کہ کھاناکھاو ¿ اوررجب کو رمضان کے مشابہ نہ بناو۔
اسی طرح رجب کی ستائیسویں رات کومحفل عید معراج منعقد کرنااورقصہ معراج النبی
پڑھنا،ر جب کی ہر رات یا کسی مخصوص رات میں نمازوں کااہتمام کرنا جوکہ نہ تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم سے اور نہ ہی آپ کے صحابہ کرام یاتابعین وتبع تابعین ائمہ محدثین
یامجتہدین سے ثابت ہےں۔بلکہ یہ بدعات میں سے ہیں جن سے اجتناب لازم ہے۔جس طرح ان
اختراعات کو عبادت کانام دیاگیاہے اسی طرح ایک گمراہ فرقے نے رجب کے کونڈوں کے نام
سے کچھ پیٹ کی پرستش کااہتمام بھی کیاہے ۔ جس کا اصل مقصد صحابہءکرام رضی اللہ عنہم
کی دشمنی کااظہار ہے جس دن یہ کونڈے کھِلائے جاتے ہیں وہ درحقیقت امیرمعاویہ رضی
اللہ عنہ کی وفات کا دن ہے جس پر دشمنان صحابہ خوشی مناتے ہوئے کھانے کھلاتے ہیںاور
اس خوشی میں اپنے ساتھ نام نہاد ُسنیوںکوشامل کرنے کیلئے اس دن کے مخصوص کھانے کو
جعفر صادق رحمہ اللہ علیہ کے کونڈوں کانام دیتے ہیں۔ بدعت ایساحسیں خواب ہے جوکہ
عبادت کی شکل میں ہوتاہے اور تمام نیکیوں کو بھسم کردیتاہے، اورعامل کوخبر تک نہیں
ہوتی اور وہ سمجھتاہے کہ میں بھلائی کے رستے پر ہوں۔اللہ تعالی ہمیں بدعات و خرافات
سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین
آخر میں چندسلف صالحین کے فتاوی پر اختتام کرتاہوں :
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی ماہ رجب کی طرف منسوب شدہ عبادات سے
متعلق کہتے ہیں : ان مروجہ عبادات کے غیر مشروع ہونے پر تمام ائمہ کرام متفق ہیں،
معتبر علمائے کرام نے اس بات کو بیان کیا ہے اس طرح کاکام صرف جاہل اور بدعتی ہی
کرسکتاہے۔رجب کے روزوں سے متعلق تمام احادیث ضعیف جھوٹی اور منگھڑت ہیں۔
بحرالعلم حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ماہ رجب کی فضلیت ،
اسکے روزے ، اس کے کسی معین روزے پر اور اسکے قیام (رات میں نفلی نماز)پر کوئی صحیح
یاقابل حجت دلیل ثابت نہیںہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کوئی کام (نیکی سمجھ کرکیا)جوکہ میں
نے نہیں کیا وہ مردود ہے “اللہ تعالی نے فرمایا”جوچیز تمہیں میرانبی دے لے لو اور
جس چیز سے منع کرے رک جاو“اب جوچیز اللہ کے نبی نے نہیں دی ہمیں اس کا اختیار کس نے
دیاہے جبکہ اللہ تعالی فرماتاہے ”اے ایمان والو! میرے نبی سے ایک قدم بھی آگے مت
بڑھو“سورہ حجرات ۔ اللہ تعالی ہمیں کتاب و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی توفیق
عطافرمائے۔ آمین۔
|
 |
|
|