رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

22 June 2008 / 17 Jamadil Akhir 1429

مزمل ابرار(جامعہ الداراسات الالسلامیہ
03217140314


جمادی الثانی

اسلامی سال کے بارہ مہینوںمیںچھٹے نمبرپر جمادی الثانی ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارکہ کے جمادی الثانی میںرونما ہونے والے اہم واقعات کو آپ کے علم میں اضافہ کیلئے یکجا کیاجارہاہے:

٭جمادی الثانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرابھی8برس دومہینے اور دس دن ہی ہوئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کابھی سایہ شفقت اٹھ گیا انکا انتقال مکہ میں ہوا اور وہ وفات سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کوجوآپ کے والدعبداللہ کے سگے بھائی تھے ،آپ کی کفالت کی وصیت کرگئے (تلقیح الفہوم ص ۷، ابن ہشام ج۱ص۹۴۱)

٭جمادی الثانی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۲۱برس دومہینے اور دس دن ہوئی تو ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوساتھ لیکر تجارت کیلئے ملک شام کے سفر پر نکلے اور بصری پہنچے بصری شام کا ایک مقام اور حوران کا مرکزی شہر ہے ۔ اس وقت یہ جزیرة العرب کے رومی مقبوضات کا دارالحکومت تھا ۔ اس شہر میں جرجیس نامی ایک راہب رہتاتھا جو بحیرا کے لقب سے معروف تھا جب قافلے نے وہاں پڑاو ¿ ڈالا تو یہ راہب اپنے گرجاسے نکل کر قافلے کے اندرآیا اور اس کی میزبانی کی حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں نکلتاتھا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے اوصاف کی بناءپر پہچان لیا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا : ”یہ سید العالمین ہیں“ اللہ انہیں رحمت للعالمین بناکربھیجے گا۔ابوطالب نے کہا:آپ کویہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا”تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودارہوئے توکوئی بھی درخت یاپتھر ایسانہیںتھاجوسجدہ کے لئے جھک نہ گیاہواوریہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اورانسان کوسجدہ نہیںکرتیں۔پھرمیںانہیںمہرنبوت سے پہچانتاہوںجوکندھے کے نیچے کری(نرم ہڈی)کے پاس سیب کی طرح ہے اور ہم انہیںاپنی کتابوںمیںبھی پاتے ہیں“اس کے بعدبحیرا راہب نے ابوطالب سے کہاکہ انہیںواپس کردوملک شام نہ لے جاو ¿،کیونکہ یہود سے خطرہ ہے۔اس پر ابوطالب نے بعض غلاموںکی معیت میںآپ کو مکہ واپس بھیج دیا(مختصر السیرة شیخ عبداللہ ص۶۱، ابن ہشام ج۱ص ۰۸۱تا۳۸۱ )

٭غزوہ ذی العشیرہ جمادی الاول وجمادی الثانی ۲ھ نومبر ،دسمبر ۳۲۶ئ : اس مہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ڈیڑھ سو یا دوسومہاجرین تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو روانگی پر مجبور نہیںکیاتھا۔سواری کے لیئے صرف تیس اونٹ تھے ۔ اس لئے لوگ باری باری سوارہوتے تھے ۔مقصود قریش کاایک قافلہ تھاجوملک شام جارہاتھااورمعلوم ہواتھاکہ یہ مکے سے چل چکاہے۔اس قافلے میںقریش کاخاصامال تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طلب میںذوالعشیرہ (ینبوع کی اطراف میں ایک مقام ہے)تک پہنچے لیکن آپ کے پہنچنے سے کئی دن پہلے ہی قافلہ جاچکاتھا۔یہ وہی قافلہ ہے کہ جسے شام سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرفتار کرناچاہاتو یہ قافلہ تو بچ نکلا لیکن جنگ بدر پیش آگئی۔یہ مہم جمادی الاولی کے آخر میں روانہ ہوئی اور جمادی الآخرہ میںواپسی ہوئی اسی وجہ سے اس مہم کے مہینے کی تعیین میں اہل سیر کا اختلاف ہے۔اسی غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومدلج اور انکے حلیف بنوضمرہ سے عدم جنگ کامعاہدہ کیا۔ایام سفر میں مدینہ کی سربراہی کاکام ابوسلمہ بن عبدالاسد مخزومی رضی اللہ عنہ نے انجام دیا ،پرچم سفید تھا علمبردار حمزہ رضی اللہ عنہ تھے۔

٭ سریہ زید بن حارثہ : جنگ احد سے پہلے مسلمانوں کی یہ آخری اور کامیاب ترین مہم تھی جو جمادی الثانی ۳ ھ میں پیش آئی۔ تفصیل : قریش جنگ بدر کے بعدسے قلق واضطراب میںمبتلاتوتھے ہی مگر جب گرمی کاموسم آگیااورملک شام کے تجارتی سفرکاوقت آن پہنچاتوانہیںایک اورفکردامن گیرہوئی۔جس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ صفوان بن امیہ نے جسے قریش کی طرف سے اس سال ملک شام جانے والے تجارتی قافلے کامیرکارواں منتخب کیاگیاتھا، قریش سے کہا: محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور اسکے ساتھیوں نے ہماری تجارتی شاہراہ ہمارے لیئے پُرصعوبت بنادی ہے۔سمجھ میں نہیں آتاکہ ہم اس کے ساتھیوں سے کیسے نمٹیں۔ وہ ساحل چھوڑکرہٹتے ہی نہیںاورباشندگانِ ساحل نے ان سے مصالحت کرلی ہے۔عام لوگ بھی انہیں کے ساتھ ہوگئے ہیںاب سمجھ میں نہیںآتاکہ ہم کون ساراستہ اختیار کریں؟اگرہم گھروںہی میںبیٹھے رہیںتواپنااصل مال بھی کھاجائیںگے اور کچھ باقی نہ بچے گا،کیونکہ مکے میںہماری زندگی کادارومداراس پرہے کہ گرمی میںشام اورجاڑے میںحبشہ سے تجارت کریں۔

صفوان کے اس سوال کے بعد اس موضوع پرغوروخوض شروع ہوگیا۔آخر اسود بن عبدالمطلب نے صفوان سے کہا:”تم ساحل کاراستہ چھوڑکرعراق کے راستے سفرکرو“واضح رہے کہ یہ راستہ بہت لمباہے۔نجدسے ہوکرشام جاتاہے اورمدینہ کے مشرق میںخاصے فاصلے سے گزرتاہے ،قریش اس راستے ساے بالکل ناواقف تھے اس لئے اسود بن عبدالمطلب نے صفوان کو مشورہ دیاکہ وہ فرات بن حیان کو راستہ بتانے کیلئے راہنمارکھ لے وہ اس سفرمیںاسکی راہنمائی کردے گا۔

یہ قافلہ نئے راستے سے روانہ ہوامگر اس کارواں اور اس کے سفرکے پورے منصوبے کی خبر مدینہ پہنچ گئی ۔ ہوایہ کہ سلیط بن نعمان جومسلمان ہوچکے تھے نعیم بن مسعود کے ساتھ جوابھی مسلمان نہیںہوئے تھے ،بادہ نوشی کی ایک مجلس میںجمع ہوئے (یہ شراب نوشی کی حرمت سے پہلے کاواقعہ ہے)جب نعیم پر نشے کاغلبہ ہواتوانہوںنے قافلے اور اس کے سفرکے پورے منصوبے کی تفصیل بیان کرڈالی۔سلیط پوری برق رفتاری کے ساتھ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور ساری تفصیل کہہ سنائی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا حملہ کی تیاری کی اور سو سواروں کا ایک رسالہ زید بن حارثہ کلبی رضی اللہ عنہ کی کمان میں دے کر روانہ کردیا، زیدرضی اللہ عنہ نے نہایت تیزی سے راستہ طے کیا اور ابھی قریش کاقافلہ بالکل بے خبری کے عالم میںقردہ نامی ایک چشمہ پرپڑاو ¿ڈالنے کے لئے اتررہاتھاکہ اسے جالیا اور اچانک یلغار کرکے پورے قافلے پر قبضہ کرلیا۔ صفوان بن امیہ اور دیگر محافظین کارواں کوبھاگنے کے سواکوئی چارئہ کار نظر نہ آیا۔مسلمانوںنے فرات بن حیان کو اورمزید دوآدمیوں کو گرفتار کرلیا، ظروف اور چاندی کی بہت بڑی مقدار(تقریباایک لاکھ درہم)بطورغنیمت ہاتھ آئی۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس نکال کر مال غنیمت رسالے کے افراد پر تقسیم کردیا۔اورفرات بن حیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کرلیا۔(ابن ہشام ج۲ص۰۵،۱۵)

٭ سریہءطرف یاطرق : یہ سریہ بھی زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میںجمادی الآخرہ ۶ھ میں طرف یاطرق نامی مقام کی طرف روانہ کیاگیا۔یہ مقام بنوثعلبہ کے علاقہ میںتھا۔زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف پندرہ آدمی تھے لیکن بدووںنے خبرپاتے ہی راہ فرار اختیارکی انہیںخطرہ تھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے ہیں اس سریہ میں چاراونٹ ہاتھ لگے ۔

٭ قیصر شاہ روم کے نام خط: جمادی الثانی ۷ ھ سریہ حسمی
اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہرقل روم کی طرف ۔اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے تم اسلام لاو سالم رہوگے ۔ اسلام لاو اللہ تمہیںتمہارااجردوباردے گا۔اوراگر تم نے روگردانی کی توتم پر اریسیوں(رعایا)کا(بھی)گناہ ہوگا۔اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آو ¿ جوہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سواکسی اور کونہ پوجیں، اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور اللہ کے بجائے ہمارابعض بعض کورب نہ بنائے پس اگر لوگ رخ پھیریں توکہہ دو کہ تم لوگ گواہ رہوہم مسلمان ہیں(صحیح بخاری )اس گرامی نامہ کو پہنچانے کیلئے دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کاانتخاب ہوا۔ آپ نے انہیںحکم دیاکہ وہ یہ خط سربراہ بصری کے حوالے کردیںاور وہ اسے قیصر کے پاس پہنچادے گا۔ اسکے بعد جوکچھ پیش آیا اس کی تفصیل کیلئے دیکھیئے( الرحیق المختوم ۳۸۴تا۷۸۴،بخاری)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اس کے پاس پہنچا تو اس نے ایک محفل لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھا ،جب خط پڑھ کر فارغ ہواتو وہاں آوازیں بلند ہوئی اور بڑا شور مچا ۔﴾اس محفل کا چشم دید گواہ ابوسفیان جوکہ اس وقت مسلمان نہیں ہواتھاکہتاہے کہ ابوکبشہ کے بیٹے کا معاملہ بڑا زور پکڑ گیاہے اس سے تو بنواصفر (رومیوں)کابادشاہ بھی ڈرتاہے ﴿اور ہرقل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متا ¿ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ، اس نامہ مبارک کا اس پر ایک اثر یہ بھی ہوا کہ اس نامہ مبارک کو پہنچانے والے یعنی دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو مال اور پارچہ جات سے نوازا ۔لیکن جب وہ یہ پارچہ جات لے کر واپس ہوئے تو حسمی نامی جگہ پر قبیلہ جذام کے کچھ لوگوںنے ان پر ڈاکہ ڈال کر سب کچھ لوٹ لیا، دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو گھر جانے کے بجائے سیدھے خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے اور ساراماجرا کہہ سنایا ، تفصیل سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں پانچ سو صحابہ کرام کی ایک جماعت حسمی روانہ فرمائی جنہوں نے قبیلہ جذام پر شبخون مارکر انکی خاصی تعداد کو قتل کردیااور انکے چوپایوں اور عورتوں کوہانک لائے ۔ چوپایوں میں ایک ہزاراونٹ اور پانچ ہزار بکریاں تھیںاور قیدیوں میں ایک سوعورتیں اور بچے تھے۔

سریہ ذات السلاسل : جمادی الثانی ۸ ھ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومعرکہ موتہ کے سلسلے میں مشارف شام کے اندر رہنے والے عرب قبائل کے موقف کا علم ہواکہ وہ مسلمانوں سے لڑنے کے لئے رومیوں کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی حکمت بالغہ کی ضرورت محسوس کی جس کے ذریعے ایک طرف توان عرب قبائل اور رومیوں کے درمیان تفرقہ پڑجائے اور دوسری طرف خود مسلمانوں سے ان کی دوستی ہوجائے تاکہ اس علاقے میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اتنی بڑی جمعیت فراہم نہ ہوسکے۔

اس مقصد کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا کیونکہ ان کی دادی قبیلہ بلی سے تعلق رکھتی تھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ موتہ کے بعد ہی جمادی الثانی میں انکی تالیف قلب کیلئے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ان کی جانب روانہ فرمایا۔ کہاجاتاہے کہ جاسوسوں نے یہ اطلاع بھی دی تھی کہ بنوقضاعہ نے اطراف مدینہ پر ہلہ بولنے کے ارادہ سے ایک نفری فراہم کررکھی ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمروبن عاص کو ان کی جانب روانہ کیا ممکن ہے دونوں سبب اکٹھاہوگئے ہوں۔
بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کیلئے سفید جھنڈا باندھااوراسکے ساتھ کالی جھنڈیاں بھی دیںاور انکی کمان میں بڑے بڑے مہاجرین وانصار کی تین سونفری دے کرانہیںرخصت فرمایا۔انکے ساتھ تیس گھوڑے بھی تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاکہ بلی،عذرہ اوربلقین کے جن لوگوں کے پاس سے گزریں ان سے مدد کے خواہاں ہوں وہ رات کو سفر کرتے اور دن چھپے رہتے تھے۔جب دشمن کے قریب پہنچے معلوم ہواکہ انکی جمعیت بہت بڑی ہے ۔اس لئے عمروبن عاص نے رافع بن مکیث جہنی کو کمک طلب کرنے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو عَلَم دے کر ان کی سرکردگی میں دوسوفوجیوں کی کمک روانہ فرمائی۔جس میں رو ¿ساءمہاجرین جیسے ابوبکر و عمر(رضی اللہ عنہما ) اور سرداران انصار بھی شامل تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ عمرو بن عاص سے جاملےں اور دونوں مل کر کام کریں ،اختلاف نہ کریں ۔ کمک جانے کے بعد یہ فوج مزید آگے بڑھ کر قضاعہ کے علاقے میں داخل ہوئی اور اس علاقہ کو روندتی ہوئی اس کے دور دراز حدود تک جاپہنچی ۔ اخیر میں ایک لشکر سے مڈبھیڑ ہوئی لیکن جب مسلمانوں نے اس پر حملہ کیا تو وہ بھی ادھر ادھر بھاگ کر بکھرگیا۔اس کے بعد عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف ایلچی بناکربھیجاگیا انہوں نے مسلمانوں کی بہ سلامت واپسی کی اطلاع دی اور غزوے کی تفصیل سنائی۔وللہ الحمد والمنة

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com Contact: +92-321-2422035 / +92-321-9235365