|
|
|
16 May
2008 / 10
Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
ام
امینہ بدریہ
سورہ یاسین نے زندگی بد ل دی
قرآنی آیات کی معجزانہ تاثیر دیکھئے کہ آسٹریلیا کی ایک خاتون سورہ ¿ یٰسین کی آیات
کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ ام امینہ بدریہ کی ایمان افروز
داستان قبول اسلام انہی کی زبانی سنےے۔ وہ کہتی ہیں:
”میرے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا۔ وہ پیدائشی لحاظ سے مسلمان تھے لیکن عملی
طور پر ان کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ جبکہ میری والدہ بدھ مت تھیں اور
والد صاحب سے شادی کے وقت کلمہ پڑھ لیا تھا۔ وہ دونوں بعدمیں آسٹریلیا آکر آباد
ہوگئے تھے۔ میرا پیدائشی نام (ٹے نی تھیا) تھا۔ میں نے یونیورسٹی آف نیوانگلینڈ،
آرمیڈیل سے ایم اے اکنامکس کیا اور بزنس مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورسز کے مضامین پڑھے۔
پھر میں بطور ٹیوٹر پڑھانے لگی۔ اسی اثناءمیں میری شادی ہوگئی۔ میرے شوہر کمپیوٹر
گرافکس ڈیزائنر تھے۔ وہ شادی کے وقت مسلمان ہوئے تھے لیکن ان کا اسلام بھی فقط
برائے نام تھا۔ میں نے انہیں کبھی اسلام پر عامل نہیں دیکھا۔
میرے باپ بھی نام کے مسلمان تھے اور انہیں دین کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا نہ
انہوں نے ہمیں کچھ بتایا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم بھی دین سے مکمل طور پر عاری تھے۔ میں
کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں ملحد تھی۔ میں جب اپنے
شوہر کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزار چکی تو ایک وقت مجھ پر ایسا آیا کہ
دنیا سے میرا دل اچاٹ ہوگیا اور میں شدید پریشانی کی حالت میں تھی۔ اس پر میں نے
سوچا کہ مجھے نماز پڑھنی چاہیے جیسا کہ میں نے ایک دفعہ اپنے والد صاحب کو کہیں
پڑھتے ہوئے دیکھا تھا لیکن جب میں نے اپنے شوہر کو اس بارے میں بتایا تو انہوں نے
اس بات کا بہت برا مانا۔ اس نے کہا (نعوذ باللہ ) کوئی اللہ نہیں ہے اور نہ نماز
وغیرہ کچھ ہے۔ دریں اثنا میرے والدین وفات پاگئے تھے۔
تقریبا ًسات سال پہلے آسٹریلیا کی نیوساو ¿تھ ویلز اسٹیٹ کے شہر آرمیڈیل کی ایک
چھوٹی سی مسجد میں گئی جو غیر ملکی مسلم طلبہ کیلئے تعمیر کی گئی تھی۔ وہاں سے میں
نے انگلش ترجمے والا قرآن مجید پڑھنے کیلئے مستعار لیا۔ یہ قرآن مجید خادم حرمین
شریفین الملک فہد بن عبدالعزیز آل سعود (سعودی عرب) کی جانب سے شائع شدہ تھا۔ میں
اسے گھر لے جاکر محض اس کی ورق گردانی کررہی تھی کہ سورہ ¿ یٰسین کی ان آیات کا
ترجمہ میرے سامنے آیا جن میں چاند اور سورج کی حرکت کے بارے میں سائنسی انداز میں
بیان کیا گیا ہے: ”اور سورج اپنی معین راہ پر گردش کر رہا ہے یہ اللہ عزیز و علیم
کی منصوبہ بندی ہے اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ ہر بار
لوٹ کرکھجور کی سوکھی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہ سورج کی یہ مجال کہ چاند کو جا
پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں گردش کر
رہے ہیں۔ “(آیت 38تا40) یہ ترجمہ پڑھنا تھا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میرے
جسم میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ میں نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُمی
تھے۔ یعنی پڑھے لکھے نہ تھے لیکن اتنے بہترین سائنسی انداز میں جو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے بیان کیا ہے تو ضرور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی ہو سکتی ہے۔
بس اس لمحے میرے دل کی دنیا بدل گئی اور میں نے اللہ کی کتاب قرآن عظیم الشان کا
مطالعہ اور اس میں غور وفکر شروع کردیا۔ میں جب بھی اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتی
ہوں پہلے اپنے سابقہ عمل پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتی ہوں اور پھر ان پر پورا
پورا عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں قبول اسلام کے بعد مسجد میں جاتی رہی۔ شروع
شروع میں، میں پردہ نہیں کرتی تھی پھر جب نمازیوں نے مجھے بتایا کہ یہ گناہ ہے تو
اسی دن سے میں نے اپنے گھر جاکر اسکارف لیا اور پہننا شروع کر دیا، نیز اسلام کا
گہرائی سے مطالعہ کرنے لگی۔ میں نے خاصی کوشش کی کہ میں اپنے شوہر کو اسلام کے بارے
میں قائل کرسکوں لیکن وہ نہ مانا، حالانکہ میری اس سے ایک بیٹی کی ولادت بھی ہوچکی
تھی۔ آخر میں نے اس سے کہا کہ اسلام قبول کرلو یا مجھے چھوڑ دو۔
تب اس نے مجھے طلاق دے دی اور مجھ سے اور میری بیٹی سے دستبردار ہوگیا۔ دریں اثنا
میں اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہی جو مجھے میرے مسلمان بھائی اور بہنیں
وقتاً فوقتاً پہنچاتے رہے۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ میں آسٹریلیا سے اسلام کیلئے
ہجرت کرلوں۔ میں نے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے کو ترجیح دی۔ اسلام لانے سے پہلے
میری بیٹی کا نام ”توان وارٹ“ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں اس کا نام تبدیل کر
کے امینہ رکھ دیا۔ میں نے اپنا نام غزوہ بدر کی نسبت سے بدریہ رکھا تھا۔ بیٹی کے
حوالے سے میں ام امینہ کہلاتی ہوں۔ میں نے اپنی بیٹی کو آسٹریلیا کے کسی اسکول میں
بھجوانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہاں تعلیم میں موسیقی اور ان کے پرچم کے آگے ادب و
احترام کیلئے مختلف افعال کی ادائیگی شامل تھی جو مجھے پسند نہیں تھی، لہٰذا میں نے
اپنی بیٹی کو اپنے گھر ہی میں اسلام کی ابتدائی تعلیم و تربیت دی ہے۔
آسٹریلیا میں اکثریت عیسائی مذہب پر یقین رکھتی ہے لیکن الحمد للہ اب لوگ اسلام کی
طرف متوجہ ہورہے ہیں اور خاص طور پر خواتین بڑی تیزی سے اسلام کی طرف آ رہی ہے۔ چند
خواتین نے مسلمانوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں۔ اکثر خواتین اپنے تحفظ اور احترام کیلئے
اسلام کی طرف متوجہ ہورہی ہے جو صرف اسلام عطا کرتا ہے۔ آسٹریلیا کے مسلمانوں میں
اکثریت عمل سے دور ہے لیکن وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو قرآن اور سنت پر مکمل عمل
کررہے ہیں لیکن مجھے بعض اوقات ایسے مسلمانوں کے رویوں سے بہت دکھ ہوتا ہے جو اللہ
کی خاطر حق بات نہیں کہتے بلکہ ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے آسٹریلیا کے اہل اقتدار
کو خوش کیا جائے۔ مثلاً پچھلے دنوں ایک مسلمان ”عالم“ سے انٹرویو کیا گیا تو اس نے
یہ کہا کہ عراق میں جو مسلمان مر رہے ہیں وہ شہید نہیں ہیں۔
آج ہم جہاد کے نام سے بھی ڈر رہے ہیں جبکہ عراق کے لوگ کوئی جارحانہ لڑائی نہیں لڑ
رہے بلکہ اپنی بقا کی جگہ لڑرہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ ان پر جنگ مسلط کی
گئی ہے۔ میں ہر چیز کیلئے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا کرتی رہتی ہوں کہ اے اللہ
تو میری رہنمائی فرما۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ سیدھے راستے کی
درخواست کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اپنے بندے کی رہنمائی فرماتا ہے۔ لہٰذا میں ہر کام
میں صراط مستقیم کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میری
رہنمائی فرماتا ہے۔ میں پاکستانی مسلمان عورتوں سے بھی کہوں گی کہ وہ اپنے دین کی
طرف متوجہ ہوں۔
دنیا کی کچھ حیثیت نہیں ہے یہ چند روزہ زندگی ہے اسے گزر ہی جانا ہے۔ اگر یہ حقیقت
سمجھ لی جائے تو مال، جائیداد ان سب کی حقیقت انسان پر آشکارا ہو جاتی ہے۔ اس لئے
ان کو چاہئے کہ صحیح معنوں میں اسلام کو بطورِ دین قبول کریں اور رسم و رواج سے ہٹ
کر اس پر عمل کرنا چاہیے لیکن میں نے یہاں دیکھا ہے کہ اکثر عورتیں شرعی پردہ نہیں
کرتیں۔ صرف رواجی پردہ کرتی ہیں، جب گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے تو خوب پردہ کرلیتی
ہیں لیکن گھروں میں رشتے داروں کے سامنے پردے کا حق ادا نہیں کرتیں جس کا سارا گناہ
ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہروں کو بھی ہوگا۔ میں ان سے یہی کہوں گی کہ وہ اپنے اللہ
کی طرف رجوع کریں۔ ان شاءاللہ ان کا یہ عمل دنیا و آخرت کی کامیابی کے لئے اجر کا
ذریعہ ہوگا۔ |
 |
|
|